پولیو ویکسین اور ہماری فکری معذوری۔۔۔علیم احمد

آپ سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن ایک بات آپ سب سے پوچھنا چاہتا ہوں، خاص کر اُن سے جو جاگتے ذہن رکھنے کے دعویدار ہیں:
 
مان لیا کہ پولیو ویکسین کا مقصد ہماری نسلوں کو بانجھ کرنا ہے؛
چلئے یہ بھی تسلیم کرلیتا ہوں کہ پولیو ویکسین دراصل کفار کی سازش ہے۔
اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ پولیو ویکسین پلانے کی غیرمعمولی مہم کے پسِ پشت، اسلام دشمن طاقتیں کارفرما ہیں۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیو، سرے سے کوئی بیماری ہے ہی نہیں؟
اگر ہاں، تو:
کیا پورے پاکستان اور پورے عالمِ اسلام میں ایسے مسلمان سائنسداں موجود نہیں جو پولیو وائرس پر تحقیق کرکے ایسی کوئی ویکسین تیار کرسکیں جو اس بیماری پولیو سے تحفظ فراہم کرے لیکن ہماری نسلیں بانجھ نہ کرے؟
کیا مسلم ممالک میں ایسے تحقیقی ادارے نہیں جہاں یہ کام کیا جاسکے؟
کیا فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ایسے مسلمان مالکان وجود نہیں رکھتے جو اس پولیو ویکسین کو بڑے پیمانے پر تیار کروائیں اور مناسب قیمت پر آبادی کو فراہم کریں؟
کیا سوا ارب سے زیادہ انسانی آبادی کی نمائندگی کرنے والے، 57 مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس قابل نہیں کہ وہ مقامی سطح پر پولیو ویکسین اور دیگر دواؤں پر تحقیق اور ان کی کم خرچ تیاری کیلئے جامع پالیسی مرتب کریں اور اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں؟
ان سوالوں کے جوابات جاننا چاہتے ہیں تو سنئے:
مسلمان سائنسداں موجود ہیں، تحقیقی ادارے بھی ہیں، مسلمانوں کی ملکیت میں چلنے والی فارماسیوٹیکل کمپنیاں بھی ہیں، البتہ اس ضمن میں پالیسی سازی پر کچھ خاص کام نہیں ہوا۔
بہتر ہوتا کہ ہم اپنے حصے کا کام کرتے، تاکہ ہماری نسلیں صحت مند اور محفوظ رہتیں۔۔ کیا یہ من حیث القوم ہماری ذمہ داری نہیں تھی؟
اگر ہم نے پچھلے پچاس ساٹھ سال میں یہ سب کچھ نہیں کیا (اور حقیقتاً نہیں کیا) تو پھر مان لیجئے کہ ہم اسی قابل ہیں کہ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جائیں۔
ہم سازشی نظریات پر خوشی خوشی آمنّا وصدقنا کہتے رہیں، اس خوف میں مبتلا رہیں کہ پولیو ویکسین ہماری نسلوں کو بانجھ کر رہی ہے۔اور نسلی بانجھ پن کے اسی خوف سے ہم پولیو ویکسین پلانے والوں (پولیو ورکرز) کو بے رحمی سے قتل کرتے رہیں؛ تو یقین مانیے کہ یہ ہماری غیرتِ ایمانی کا نہیں بلکہ ہماری فکری معذوری کا ثبوت ہے۔ پولیو زدہ فکر کا ثبوت!
فرصت مل جائے تو سوچ لیجئے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *