عورت کا اپنا گھر۔۔۔راحیلہ خان

چوتھی منزل تک پہنچتے پہنچتے میری بری حالت ہو گئی  ۔ایک سیڑھی بھی نہ  چڑھی جا رہی تھی وہیں سے ہنستے ہوئے آواز لگائی ۔۔۔لے جاؤ کوئی مجھے ۔ انکو خبر تو پہلےسےتھی کہ ناشتے پر پہنچے گے۔ اتنے طویل سفر سے جو گئے تھے۔ دن کے بارہ بجنے ہی والے تھےمگر معلوم تھا ناشتہ گھر کا ہی کرتےہیں ۔ وہ بھاری بھرکم وجود کے ساتھ لیکن بے انتہاء خوش دروازے پر آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کہ چڑھنے میں مدد کی ۔ ہٹ جاؤ ۔۔۔۔خالہ کو جگہ دو ۔۔۔۔ چاروں طرف بچوں کی چی چاں کو دور کرنے واسطے اس نے بچوں کو گھورا۔اتنا پروٹوکول دے رہی تھی جیسے میں  کوئی اجنبی یا آسمان سے اتری کوئی   شئے  ہوں ۔ میں نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا  مت  ڈانٹو بچوں کو اور باری باری سب کو پیار کیا ۔ چوتھے نمبر پر بچی میری لاڈو تھی اسے گود میں بٹھانے والی تھی کہ اس سے چھوٹا بھائی بھاگتا ہوا میری طرف لپکا ۔۔۔ میں نے فوراً اسکی بہن کو ایک طرف کرکے اشارہ کیا کہ ابھی اسکے بعد تمھاری باری ہے ۔ چھوٹے بچے کو گود میں بیٹھا کر میں نے چوما ۔۔۔ اسکا نام بھی تو میں  نے ہی رکھا تھا ۔۔۔فیصل چھ برس کا ہو چلا تھا ماشاء اللہ ۔۔ بڑی بڑی آنکھوں سے معصومانہ انداز سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسکو ہم کابلے پٹھان کہتے ہیں اسکا لب و لہجہ خالص پٹھانوں والا اور چال ڈھال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اتارو اسکو ۔ دیکھو اسکے پیر گندے ہو رہے ہیں بہن نے بظاہر بیٹے کو بھگانے والے انداز میں کہا۔۔ لیکن مجھے معلوم تھا یہ اسکا لاڈلہ بچہ تھا ۔ یہ پہلا بچہ تھا جس کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی تھی وہ پہلی بار اسپتال میرے کہنے پر گئی  تھی اور میں پوری رات اسپتال میں بہن کے ساتھ اسکی ڈلیوری کے انتظار میں کوریڈور میں بیٹھی رہی تھی ۔۔ لیکن صبح تک جب نارمل ڈلیوری کی امید ختم ہوئی تو میں نے ڈاکٹرز سے کہا تھا سیزیرین کر دیجئے اور ساتھ آپریٹ بھی کر دیجئے مزید بچے نہیں  چاہئیں ۔۔

اس بے وقوف عورت نے میری طرف ناراضگی سے دیکھا لیکن میرے فیصلے ایسے مان جاتی تھی جیسے میں اسکی کرتا  دھرتا  ہوں ۔۔ اسکی حالت ناقابل برداشت تھی یہ اسکی چَھٹی اولاد تھی ۔۔۔۔ پہلا بچہ شادی کے پہلے سال ہی لڑائی جھگڑے کی نظر ہو گیا تھا ۔۔ تب بھی یہ میرے پاس ہی تھی ۔ کیسا عجیب اتفاق ہے ویسے ۔ ڈاکٹر نے کہا ۔۔۔ انکے شوہر کی اجازت کے بغیر یا سسرال میں سے کسی کی اجازت کے بغیر ہم آپریشن نہیں  کرینگے ۔۔۔ بعد میں رپورٹ کرتے ہیں یہ پٹھان لوگ ہیں ۔ انکے مرد آکر لڑتے ہیں بی بی! ڈاکٹر مجھے کچھ اور سمجھ رہا تھا ۔ میں نے کہا آپ کو  سائن چاہئیں  نا خاوند کے آپکو مل جائینگے ابھی انکی حالت خراب ہے آپ آپریشن کیجئے  ۔۔۔ میں انکی بہن ہوں ! اسکے ساتھ ہی بہن کے خاوند کو کال کرکے بلایا ۔۔۔۔اور سگنیچر کروا لئے ۔۔۔اس نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ وجہ وہ جانتا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد میری گود میں ایک صحت مند بچہ تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر میں نے سوچا پال لیتی ہوں بہن تو پہلے ہی چار بچوں میں گھری رہتی ہے ۔۔بچہ بہت پیارا تھا ۔۔۔ میں نے اسکا نام فیصل رکھا ۔ اسکے پہلے بھی دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں گو کہ فیملی تو مکمل تھی۔ جانتی تھی یہ بچہ بہن کا چہیتا ہے اور اسکے بعد ختم شد کا فیصلہ بھی میرا تھا ۔۔۔تو بچے کو اسپیشل ٹریٹ کرتی ہوں ۔۔۔ لاڈیاں کرنے کے بعد مں نے کہا منہ ہاتھ دھونا ہے ذرا ۔۔۔ بہن نے جلدی جلدی باتھ روم کا دروازہ کھولا تولیہ ہاتھ میں پکڑا ۔مجھے غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔کیا ہے بیٹھ جاؤ نا بھئ ۔۔۔ رکھ دو یہاں تولیہ , میں نے تولیہ پاس رکھی لوہے کی چارپائی پر پھینکا ۔۔ اس نے کہا کوئی بات نہیں نا ۔۔۔ تم منہ ہاتھ دھو لو کہو تو میں دھلوا دوں ۔۔۔ اب تمھارے گھر جیسی سہولت نہیں  ہے نا یہاں ۔۔۔اس نے جیسے میرے کسی احسان کا بدلہ چکانا ہو ایسے انداز میں بات کرتی ہے ۔۔ میں نے کہا اللہ پلیز تکلف مت کرو ۔۔ مجھے بھوک لگی ہے تو ناشتہ بناؤ ۔۔۔مجھے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے ۔۔تم ایزی ہو جاؤ۔۔ میں منہ ہاتھ دھو کر نکلی تو وہیں کھڑی تھی ۔ ڈھیٹ , تولیہ پکڑا کے  فرش پر رکھے چولہے کے پاس چوکی پر بیٹھ کر ناشتہ بنانے لگی ۔۔ میں بھی آکر اسکے پاس بیٹھ گئی۔ لاؤ میں پراٹھا بناؤں ۔۔۔ میں نے آفر کی ۔ تو جیسے برا مان گئی  ۔۔۔ میں ہاتھ سے ایسے ہی پکاتی ہوں تم سے نہیں  پکے گا ۔۔۔ جاؤ کمرے میں بیٹھو نا ۔۔۔

کمرے میں بیڈ پر اس نے نئی  چادر منگوا کر بچھائی ہوگی۔مجھے معلوم تھا ۔ میں اسکا دل رکھنے کے لئے چلی گئی ۔ ورنہ میرا دل کرتاتھا کہ اپنی بہن کو کوئی کام نہ  کرنے دوں اسکی جگہ میں سارے کام کر دوں ۔ اندر سے میں نے اسے خوش کرنے کے لئے آواز لگائی ۔بیڈ شیٹ تو بہت اچھی ہے کہاں سے لائی ۔ اسکے کشن کور تو نہیں  چار چار ملتے ۔ تم نے کہاں سے لئے ؟ معلوم تھا ان باتوں پر بہت خوش ہوتی ہے ۔۔ اس نے کہا ۔۔ کھلا فیبرک لائی تھی وہ سہیلی یاد ہے نا تمھیں اس کو کل ایمرجنسی میں دیئے کہ سلوا دو ۔۔۔ انکار نہیں  کرتی وہ ۔۔۔ رات بھر بیٹھ کر سی کر دئیے ۔۔۔ کراچی اچھی جگہ ہے لوگوں کا دل بہت بڑا ہے کہاں ملتے ہی ایسے لوگ! میں نے جواب دیا ۔۔۔ ماضی جیسے آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔۔۔ ہم دونوں جڑواں ہی تو لگتی تھیں نو ماہ کا ہی فرق تھا عمروں میں ۔ ایک ہی چارپائی پر دونوں سوتیں تھیں وہ خاموش طبعیت تھی ۔ سانولی رنگت دبلی پتلی ۔ لمبے سیاہ گھنے بال   اور میں ہر وقت بولنے والی  ۔ اسکے حصے کا بھی کھا جاتی تھی شاید ۔۔۔ یاد نہیں ! اب میں خاموش تھی اور وہ نان سٹاپ بولتی جا رہی ہوتی ہے۔۔۔ اسکے یہاں اولاد ہوتی تو فون کرکے کہتی نام بتاؤ ۔میں تین چار نام بھیجتی اس میں سے کوئی پسند کرتی اور رکھ لیتی۔۔۔ پتا کیا ۔۔۔ جب میں علی حمزہ پکارتی ہوں نا تو ایک آنٹی جو میری لیبر ہے وہ کہتی ہے ۔۔ ہائے باجی ۔۔۔ تم جب ایسے آواز لگاتی ہو نا ۔۔۔ تو نام ایسے دل کو چھوتا ہے کہ کیا بتاؤں ۔۔۔ بہو کے یہاں اولاد نرینہ ہوگی تو یہی نام سوچا ہے ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے پرسکون ہوتی  اور پھر کہتی ۔۔۔ کالونی میں کسی کا نام نہی یہ  دور دور تک حمزہ نام نہیں  ۔۔۔ ایک ہی حمزہ   ہے میرا ۔ سب جانتے ہیں ۔

مجھے لوگ حمزہ کی امی کہتے ہیں ۔ شادی سے پہلے  مجھے یاد ہے ہماری دوستی نہیں  تھی زیادہ ۔اسکا اپنا ایک سرکل تھا ۔میری الگ سے سہلیاں تھیں ۔اسکو ماڈرن لوگ پسند تھے لیکن ماڈرن کے چکر میں دھوکا کھا جاتی تھی ۔ لمبے ناخن ، نیل پالش ، چہرے پر بالوں سے پریشان ،بلیچ کریم ، فٹنگ قمیض ، اچھے جوتے، رنگ برنگے نئے کپڑے ، اسکے شوق تھے ۔۔۔ کتنے معصومانہ شوق تھے۔اے کاش وہ اپنے سارے شوق پورے کرلیتی ماں کے گھر ۔۔۔ یہ خیال دن رات ستاتا تھا ۔۔۔کیسے اس نے ان سب خواہشوں کو دفنایا ہوگا۔ کیسے نیا ماحول بالکل دیہاتی قبولا ہوگا ۔ یاد آئی پھر سے بھولی بسری ۔۔۔۔۔میرا پرپل جوڑا ۔۔۔۔ ایک دن سہیلی کی سالگرہ پر پہن کے گئی  اور واپس آکر ہینگر کر دیا لیکن جلدی میں فٹنگ والی بخیہ کھولنا بھول گئی  ۔۔ جب میں نے جوڑا پہننے  کے لیے  نکالا تو تنگ ۔۔۔ افففف یہ تم نے پہنا تھا نا؟ میں نے جارحانہ انداز میں کہا ۔وہ صاف مکر گئی ۔میں نےکہا امی ۔۔۔ یہ دیکھیں ۔ کس نے لگائی یہ سلائی؟ امی نے خاموش رہنے میں عافیت جانی۔۔۔

پھر اسکی شادی ہو گئی  وہ بھی اسکی ناپسندیدہ جگہ۔۔۔دیہاتیوں سے اسے شدید نفرت تھی ۔ پٹھان اسے بالکل پسند نہ  تھے ۔ وہ لگتی بھی پنجابی ہی تھی اسے پنجاب پسند تھا لیکن مقدر میں وہی تھا جو خدا نے لکھا۔ شادی کی اگلی صبح ڈرتے ڈرتے ہم پہنچے کہ اس نے خوب رولا ڈالا ہوگا   مگر یہ کیا! اسکے چاروں دیور اور ننھی  سی نند اسکے گرد گھیرا ڈال کے بیٹھے تھے ۔۔۔ نان سٹاپ بولنے اور ہنسنے والی ساس ۔۔۔ نے ہنس ہنس کر بتایاکہ ۔۔۔لڑکی تو صبح جاگی ۔۔۔ جھاڑو لگا کر صحن صاف کیا ۔۔۔ کچن سنبھالا ۔۔۔یہ پراٹھے بنا بنا کر بچوں کو کھلائے ۔۔ دیور بیچاروں کو ماں کے ہاتھ کے تو کبھی ٹھیک سے نصیب نا ہوئے تھے بھابھی کو پلکوں پر بٹھا لیا۔۔۔ بھابھی شاید اسی پیار کی بھوکی تھی اسی مان کی بھوکی تھی ۔ خیر ہم نے بھی صد شکر   ادا کیا ۔۔۔ کچھ دن بعد معلوم ہوا امید سے ہے ۔۔۔ لیکن یہ اس کی پہلی عید تھی اعتکاف میں بیٹھ گئی  ۔سارے اسکے دیور چھوٹے چھوٹے ۔ انہوں نے کہاں دیکھی تھی ایسی پاگل لڑکی بھلا۔ میں مارکیٹ گئی  اور اسکے لئے ایک نرم جوتا خریدا   اور ایک جوڑا , آفس سے واپسی پر اسکا گھر راستے میں پڑتا تھا پکڑاتی ہوئی گئی  ۔۔۔۔تقریباً روز یا ہر دو دن بعد اس سے ملنے جاتی ۔۔۔ اسکے بعد اسکا پہلا جھگڑا ہوا ۔۔۔۔ اسکے شوہر نے اسے سرخ جوڑا خرید کر دیا ۔۔۔۔ یہ پہلا تحفہ تھا ۔۔۔ جوڑا اس نے سلوا لیا ۔۔۔لیکن اسکے بازو آدھے تھے اور اوپر نیٹ کے پورے بازو ۔۔۔۔ یہ لوگ ہنی مون پر کہاں جاتے شوہر کی جاب اتنی اچھی نہ  تھی سو اپنے گاؤں لے گیا ۔۔۔ وہاں دودھیال اور ننھیال سے ملاوانے اور گھومانے بھی ۔۔ بہن اب تک گاؤں نہیں  گئی  تھی ۔۔۔۔تو واقف نہ تھی  پردے اور رسم و رواج سے۔شوہربھی لاپروا سا ہی تھا   لیکن یہ گورا چٹا سبز آنکھوں والا چھ فٹا تھا اور بہن سانولی رنگت دبلی پتلی پانچ فٹ بھی بمشکل۔ شوہر کے خاندان کی موٹی بھینس پکی عمروں کی گھر پر بیٹھی اس اٹھارہ برس کی شادی شدہ کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانے لگیں ۔۔۔ ہائے ۔۔۔ اسکا رنگ سفید نہیں  ہے یہ لوگ بھی پٹھان ہیں کیا۔۔۔ ہائے کتنا چھوٹا سا قد ہے اسکا ۔۔۔ ہائے کتنی پتلی سی ہے ۔ کھاتی پیتی نہیں  ہے کیا ! اس نے یہ سب اگنور کیا ۔ بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ ان عورتوں سے اس سے اچھا سننے کو نہ  ملے گا ۔ شوہر کی ایک مامی کہتی ۔۔۔ارے بتاتے تو وہ فلاں تمھاری خالہ کی بیٹی تھی نا ۔۔۔ ارے بتانا تو تھا ۔ وہ چپ کر کے سنتا جاتا ۔  ڈرپوک، پھر اس نے وہ سرخ لال جوڑا پہنا ۔۔۔۔ اور چادر لیکر شوہر کے ساتھ پہاڑوں کی طرف گئی  وہاں تصویروں کا شوق  پورا کیا۔۔۔۔ واپس آئی تو اسکے شوہر کے خاندان نے خوب باتیں کیں ۔۔لڑکی بہت ماڈرن ہے ایسے فحاشی توبہ ۔ نہ  دوپٹے کی فکر نہ  کپڑوں کا خیال ۔۔۔آدھے بازو پہنے اچھلتی پھرتی تھی ۔اسکی ساس نے کہا دفع  مارو   اور ہنسنے لگی ۔۔۔لیکن اسکا جیٹھ  آگ بگولا ہو گیا   کہ یہاں رہنا ہے تو بھائی بیوی کو کنٹرول کرنا پڑے گا ۔۔۔ یہ فیشن ویشن ماں کے گھر پورے ہوتے ہیں۔ ہمارا لڑکوں والا گھر ہے بھائی ۔ شوہر پھر منہ پر تالا لگا کہ بیٹھا رہا  اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔   ہم دوڑے دوڑے گئے ۔۔۔۔ ہوا کیا ۔۔۔۔ ؟ معاملہ سلجھانا تھا رفع دفع کیا ۔۔۔بولے نہیں  رکھی جا رہی واپس لئے چلتے ہیں ۔ہمیں نہیں مروانا بہن کو  اور ساتھ لے آئے ۔ شوہر ایک دو بار آیا ۔معافی تلافی  ہوئی اور   وہ واپس چلی گئی  ۔۔۔ بہت منع کیا کہ جو ایک بار مسئلہ ہوا ساری عمر ہوگا ۔چھوڑو خلع لیتے ہیں ۔سکون کرو ۔۔۔ تو ایک چانس اور دے کر واپس چلی گئی  ساتھ ۔۔۔

اسکے بعد پھر سے لڑائی ۔اب کے بار جیٹھ  صاحب نے تھپڑ جڑ دیا ۔ اب اسکو لے آئے ۔کہا الگ نہیں  رکھتا تو نہیں  بھیجیں گے  ۔۔۔ جاؤ جو کرنا ہے کر لو۔۔ چھ ماہ ہماری طرف ہوئے تو بچہ زندہ نہیں  بچا۔ رو رو کے  حالت خراب کر لی۔ ہم نے سوچا اللہ کی مرضی ۔۔۔ بس اب مت جانا اس گھر واپس ۔تو غصے میں کہا پہلے نکالا کیوں تھا اب تو اسی کے ساتھ رہونگی ۔۔۔بولا پہلے ہمارا فیصلہ مانا اب ۔ایک بار مان لو۔اسکے بعد اپنی مرضی کرنا ۔ کہتی نہیں کھلونا نہیں  کہ  رنگ برنگے مردوں کولبھاتی پھروں ۔ اب اسی پینڈو خاندان کے ساتھ ایسی ہی بن جاؤنگی ۔۔۔ اور کراچی شفٹ ہوگئی ۔۔۔ لڑائی جھگڑے بدستور ۔۔۔۔ سال میں ایک بار آر یا پار والا معاملہ ہوتا ۔۔۔ ۔ یا خدا ۔۔۔۔ یہ کیسی مصیبت آگئی  ۔ ایک چھوٹے بچےکے ساتھ دن بھر اکیلی رہتی ۔ اس نے کسی کو بول کر گارمنٹس کا کوئی کام پکڑ لیا ۔۔۔ شوہر کی تنخواہ سے  تو اخراجات نہیں  پورے  ہوتے  تھے ۔۔۔ اب جو کام پکڑا تو چاروں دیور سینہ تان کر آدھمکے ۔۔ ہم مر گئے کیا؟ بے غیرت سمجھا ہے کیا ؟ تمھاری ماں  والے گھر کے چال چلن چھوڑ دو ۔۔۔ وہ نوکری کرواتی تھی ہم تو کسی آدمی کو دروازے پر آنے نہ دینگے ،سر نا پھاڑ دیں اس بے غیرت کا غیر مرد کا ۔۔اور تمھارا بھی ۔۔۔!!

اب بہن نے ان جیسے جاہلوں کو انکی طرح ٹریٹ تو کرنا تھا تو برقع پہن لیا ۔ نقاب  کرکے باہر  جاتی ۔سہیلی کے گھر انکے گھر وہ فیکٹری والے کام دیکر جاتے گھر لاتی بنا کر بھجواتی ۔۔۔ وقت گزرتا گیا ۔۔۔۔ گزارتی رہی ۔۔۔آہستہ آہستہ شوہر سے کہا جاب چھوڑو اور پتہ کرکے دو یہ کونسی جگہ سے آرڈر ملتا ہے وہ گیا اور تفصیلات آکر بتائی ۔بہن نے آرڈر پکڑنےکا کہا۔تو شوہر گھبرایا  کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ؟ اس نےکہا لاؤ تو  دیکھتے ہیں۔۔ کام کو سر پر سوار کر لیا دن رات ایک کیا ۔۔۔لیبر ڈھونڈی کام بنوایا ۔ اب شوہر بیوی کے کہنے پر چلتا تھا ۔ پہلا چیک ملا تو فون آیا۔ میرا آئی ڈی کارڈ نہیں  چیک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتی اپنے نام کا شوہر کو دے رہی ہوں ۔۔میں نےکہا جاؤ بنک ۔ کوئی ترکیب لڑاؤ اپنا اکاؤنٹ کھلواؤ ۔کہتی ہے نہیں  میرا تیرا کیا کرنا ہے ۔ ہم نے ہی گھر میں استعمال کرنا ہے ۔بہت سمجھایا ۔۔۔پر کہتی ہے نا بھئ یہ پاگل ہیں آدھے سارے ۔۔۔بنک والے کو میرے نام تھوپ دینگے ۔ بس گھر کا خرچ پورا ہو  اور شوہر ریلکس ہو  کافی ہے ۔۔۔ اب اس نے ایک گاڑی بھی شوہر کو پک ایڈ ڈراپ کےلئےلینےکو کہا تاکہ بچت ہو ۔۔۔۔ اور کہا تم ڈرائیونگ سیکھو۔۔۔ اس نے جیسے تیسے دوسرے گئیر سے سٹارٹ کی اور کام چل پڑا ۔۔۔۔ لاہور ملنے آتی تو سارے اپنے نئے کپڑے اٹھا کر میں دے دیتی ہر جو سوٹ اسے اچھا لگتا ۔وہ ایک بار کہتی کہ یہ بہت پیارا ہے میں اس کو جاتے ہوئے چپکے سے اسکے بیگ میں  رکھ دیتی ۔کپڑے جوتے کا اسکا اور اسکے بچے کا ہمارے سر تھا ۔۔۔باقی اسے شوق کوئی اور نہیں  تھا ۔ اب ہم ملنے جاتے تو خوب خاطر مدارت  کرتی ۔ساتھ میں ہر بار میں تنقیدی نظروں سے دیکھتی کہ لگتا ہے پھر سے ۔ کوئی نیوز ہے؟ ایسی جھوٹی تھی کہ صاف مکر جاتی   اور کہتی پتا نہیں  کچھ کھا لیا تھا سو ڈائیریا ہو گیا ہے ۔۔۔ کچھ ماہ بعد فون آتا اور ہنستی رہتی ۔امی اسکا چِھلا کروانے جاتی تو آکر اور تپاتی مجھےکہ لیٹی ہوئی خراب حالت میں لیبر کو کام دیتی اور وصول کرتی ہے ۔۔۔شوہر سہارا دیکر بٹھاتا ہے کہ یہ لکھنا ، اسکا بل بنا دو ۔۔۔۔ میں کہتی امی جان ۔۔۔۔یہ کام ایسے نہیں  ہو جاتے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔۔۔ اپنا کام ہوتو ایسے ہی جانوروں کی طرح دن رات دیکھنا ہوتا ہے ۔۔ دن رات کام ۔۔۔ ساتھ بچوں کی پیدائش ۔۔۔۔۔۔ اس سے وہ تھکتی نا تھی۔۔۔۔ مگر روتے ہوئےکہتی کہ دیکھو کیسے اپنا سکھ چین بچوں کو اگنور کر کر کے کام بڑھایااور آئے دن کبھی ماموں کو بیس ہزار ادھار کبھی خالہ کو دس ہزار ادھار کبھی دوستوں کی دعوتیں کرکٹ کا ایسا بھوت سوار ہے اس پر کہ پوری ٹیم کا خرچہ اٹھاتا ہے ۔۔۔ یہ مفت میں کہاں آتا ہے۔۔ اور ادھار دیکر ایسے بھول جاتا ہے جیسے دیئے نہ ہوں  ۔۔۔ بات کرو تو لڑنےکو آتا ہے کہ تمھارا ہے کیا جو واپسی کا تقاضا  کروں ۔۔۔ ہم پورا مہینہ اس قید خانے میں رہتے ہیں بچوں کوگھومانے نہیں  لیکر جاتا ۔۔۔ نہ  مجھے کبھی فالتو پیسہ دیا ۔۔۔ پوچھتا ہے تم نے کیاکرنا ہے پیسوں کا ۔۔۔۔ میں کہتی جواباً ۔۔۔۔بھگتو بابا اب۔۔۔۔ کس نے کہا تھا بھلا کہ اس کو پیسے کی عادت ڈالو۔۔۔ پھر اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر کمیٹاں ڈالیں کہ اپنا گھر خریدنا ہے۔۔۔ سب بھائیوں کی اور بہن کی شادیاں کروائیں ۔۔۔۔ اس پر بھی لڑائیاں ۔۔۔۔ آخری بچے کی پیدائش پر دن اوپر ہو چلے آرام سے بیٹھی کام کرتی رہی ۔۔۔ حالت دیکھ کر میں ڈر گئی  ۔۔۔ بٹھایا ٹیکسی میں اور اسپتال جاکر کہا ۔۔۔اور بچے بند کر دیں  نہیں چاہئیں  ۔۔۔

کوئی مہینہ بھر بعد معلوم ہوا شوہر نے اپنے چچا کی ایک طلاق یافتہ بیٹی سے شادی کا ارادہ کر لیا ہے ۔۔تاریخ رکھ چکے اور سے کانوں کان بھی خبر نہ  ہوئی ۔۔۔۔پانچ بچوں کو لیکر گاؤں پہنچی تو وہاں بارات کی تیاریاں ۔بچے باپ کی بارات میں تھے اور باپ بے پروا ۔ بہن نے کہا یہ کونسا مولوی ہے جو ایک بیوی اور پانچ بچوں کی موجودگی میں ایک اور نکاح کی اجازت دے رہا ہے ۔مولوی تھوڑا گھبرایا ۔اور کہا ۔۔۔۔یہ نکاح نہیں  ہو سکتا ۔ پہلی بیوی کے ساتھ اختلافات ختم اور پوچھ کر دوسری شادی کی جاتی ہے ۔ شوہر نے بھرے مجمعے میں کہہ دیا اسکو طلاق دے رہا ہوں ۔یہ اچھی بیوی نہیں  ہے ۔۔۔ وہ چپ چاپ بچوں کو لیکر ماں کے گھر آگئی  لیکن زیادہ دن نہ  گزار پائی اور اپنے گھر واپسی  کی ٹھانی ۔۔۔۔وہاں پہنچی تو شوہر کا ہنی مون پریڈ چل رہا تھا ۔اس پر گیٹ بند تھا ۔اسکی لیبر نئی  باجی سے کام لے رہے تھے اور پرانی باجی سے آنکھیں چرا رہے تھے۔ محلہ میں خبر ہوئی ۔۔۔۔ارے باجی واپس آگئی ۔۔۔ ساری عورتیں افسوس کرنے آئیں ۔۔۔ بچے الگ پریشان ۔۔۔پر اس نے سوچ لیا تھا کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔ اپنے ہی گھر کے سامنے کرایہ پر گھر لیا اور مالک مکان کو بولا وہ میرا شوہر ہے اس سے کرایہ لو ۔۔۔ مالک مکان بھی اس کی طرف ہو گیا ۔لیبر کی عورتوں نے گھر جاکر شوہروں کو غیرت دلائی کہ وہ باجی کے شوہر نے تو ایسا ظلم کیا ۔ جاؤ اسکی خبر لو ۔۔۔ سارے مرد گیٹ کے باہر جمع ہوگئے  کہ بھائی ماجرا کیا ہے ۔۔۔۔بیوی تمھاری کی ہم نے پندرہ سال میں بات سنی نہ  منہ دیکھا ۔۔۔ ایسا کیا تھا کہ دوسری لے آئے اور بچے اور بیوی گھر سے باہر ۔۔۔ شوہر بولا  میرے مطلب کی نہیں  تھی ۔۔۔لڑتی بہت تھی ۔ایک دو معاشقے بھی سر ڈال دیئے ۔۔۔۔ اور سب کو کہا کہ چچا کی مظلوم بیٹی ہے طلاق ہو گئی  اسکو ۔۔۔ کیا ہو گیا جواس سے نکاح کر لیا ۔ اس نے روکا میں نے گھر سے نکال باہر کیا ! مردوں نے تو خوب لعنت ملامت کیا ۔۔۔ اور بولے اس کا بھوت جب اترے گا تب عقل ٹھکانے آئیگی ۔۔۔ ادھر ہنی مون چل رہا تھا کاروبار برباد ہو گیا ۔۔۔خراب کام لیکر فیکٹری والوں نے جواب دے دیا ۔۔۔ نئی  باجی نے تنخوائیں بنائیں ۔۔آدھےپیسے گھر بھجواتی آدھے لیبر کھا گئی ۔۔۔۔ چند دنوں میں دیولیہ ہونے والا تھا ۔۔۔ کہ گرتا پڑتا  پہلی باجی کے پاس پہنچا ۔۔۔ میرا تو بیڑہ غرق ہوگیا ۔۔۔۔کام بند ہو گیا ۔  تو نے ضرور بدعا دی تھی جاہل عورت ۔۔ اس غریب میری یتیم چچا کی  بیٹی سے جلتی ہے تو ۔۔۔ بہن مسکراتی رہی ۔۔ معلوم تھا کہ ترلے منتوں پر آئیگا ۔۔۔ چل پھر گھر چل  اٹھ ،وہ بھی پانچ بچوں کو لیکر اٹھی ۔اپنے ہی گھر میں اینٹری ماری ۔۔۔۔ نا خودکشی کی طرف دھیان گیا نہ  بچوں سے فرار کا سوچا ۔۔۔ خدا پر چھوڑ کہ بیٹھی تھی ۔ اب اپنا گھر خریدا  اور میں اس مکان کو دیکھنے آئی تھی جس کے تین پورشن اس نےکرایہ پر چڑھا کر خرچے بیلنس کرنے کے لئے خود کو ایک عدد سوتن کے ساتھ ایک ہی پورشن میں ایڈجسٹ کیا تھا   لیکن یہ مکان اسکے شوہر کے نام تھا ۔۔۔۔ اس نے دکھ بھری نظروں سے مجھے دیکھا ۔ میں نے کہا ۔۔۔ تین بیٹے ہیں نا تیرے ۔۔۔سب کا ایک ایک پورشن ۔ایک پورشن تری سوتن کے بیٹے کا ۔بھئ حق تو پھر حق ہے نا۔۔۔۔ اور ویسے بھی اس سوتیلے بیٹےکو تو نے اپنا دودھ بھی پلا دیا ہے تو وہ بھی تیرا ۔۔۔۔ یہ سن کر خوش ہو گئی   کہ گھر تو واپس میرے پاس ہی آ گیا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *