چھپا بچہ ۔۔۔ نادیہ ناز

 

بحیثیت انسان دیکھا جائے تو ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بڑا اس میں ایک چھوٹا سا بچہ چھپا ہوتا ہے (اب آپ بچہ چھپنے کا یہ مطلب نہ سمجھیں کہ حقیقی بچہ چھپا ہوتا ہے) بلکہ ایسا طفل جو شرارت،شوخی،مزاح ومذاق کا خواہاں ہو،جو دنیا کے بکھیڑوں سے دور ہے، جو کھیل اور تماش بینی کو پسند کرتا ہے۔  اسی طرح ہر عورت اسی مزاح کی خواہاں ہوتی ہے،اور چاہتی ہے کہ مجھ سے بھی لوگ مذاق و مزاح کی باتیں ایک حد میں رہتے ہوئے کریں،تاکہ میں بھی زندگی کو انجوائے کروں،تاکہ میں بھی خوشیاں دیکھوں،تاکہ اپنے چھپے احساسات  ظاہر کرسکوں،تاکہ اپنی شوخی یا دانشوری ظاہر کرسکوں۔

گھر میں پاپا چھوٹی بیٹی سے دل لگی ، پیار ،مزاح ومذاق کی ساری باتیں کرتے ہیں ،مگر بڑی بیٹی کو یہ سوچ کر اگنور کرتے ہیں یا سنجیدہ ہوجاتے ہیں کہ بڑی ہوگئی ہے۔ بڑے بھائی اور امی جان تو ادب سکھاتے سکھاتے رخصت کردیتے ہیں۔ اگر زہے نصیب دو ہم عمر سال بھر کے وقفے کی بہنیں ہوں تو کسی کی حاجت نہیں رہتی،مگر مرد کی طرح عورت بھی خواہاں ہوتی ہے۔

اسی طرح کسی ایک آدھ کو ایسا شوہر نصیب ہوتا ہے جو مذاق ومزاح سے گھر میں رونق کئے ہو  ورنہ تو بیوی پر رعب جمانے والے مونچھوں کو تاؤ دے کر فخریہ کہتے ہیں” بیوی کو ایسا سیدھا کیا ہے کہ گھر میں گلاس پانی تک خود نہیں پیتا”۔

اب اس صورتحال میں اگر کوئی اسٹیٹس لگاتی ہے کہ سچا پیار نہیں ملاتو جواب آتا ہے کہ 8 بچوں کی ماں ہوکر بھی سچا پیار نہیں ملا تو کیا کہئیے؟
اس دلیل کی تفصیل چار حرف بھیج کر دی جاسکتی ہے۔
اگر بچوں کی کثرت سچا پیار ہے تو کتے بلیوں کی سچے پیار کی نشانیاں ہر درو دیوار پہ پائی جاتی ہیں ،حالانکہ انہیں تو کوئی بھی سچے پیار سے تعبیر نہیں کرتا۔ اب تو فیس بک پر بھی کوئی لڑکی مزاحیہ اسٹیٹس لگاتی ہے تو نیم ملّا نما افراد کہتے ہیں عورت کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں۔

اسی صورتحال میں اگر کوئی بہروپیہ آکر چکنی چپڑی باتیں کرکے اسے ورغلانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو ایک لڑکی کے لیے بے حد مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان یا جہاں غیرت نام کا منجن فروخت کیا جاتا ہے، اسلحہ، چھری ،چاقو سے لیس ہوکر قتل کردیتے ہیں،کہ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
یاد رہے یہ غلطی آپ کی ہے!
مانا کہ یہ اقدام بہت بہت غلط ہےلیکن گھروں میں بیٹیوں سے تعلق برقرار نہ رکھنے کے یہی نقصانات ہیں۔

لہذا تعلق برقرار رکھئیے ورنہ کسی اور سے تعلق جوڑنے کے بعد شرمندگی آپ کی اپنی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *