نفاست , نظریہ اور شاکر”کنکھجورا”۔۔۔۔علی اختر

راقم پاپے ، ڈبل روٹی لے کر بیکری سے نکلا تو سامنے سے آنے والے آدمی کو دیکھ کر ٹھٹک گیا ۔ گندی ڈھیلی ڈھالی جینز اور کریم کلر کی میلے کالر والی شرٹ میں ملبوس بھاری بھرکم سیاہ رنگت ولا آدمی جو ایک بچے کا ہاتھ تھامے اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے برابر والے پان کے کیبن پر لیجا رہا تھا ۔ راقم کا دل کہہ رہا تھا کہ  چہرہ کچھ شناسا ہے ۔ لیکن اسے دیکھا کہاں ہے ؟ ۔ “شاکر” دل کے کسی گوشے سے آواز آئی۔ “نہیں وہ نہیں ہو سکتا ” اگلے ہی لمحے دل نے اپنی ہی تجویز رد کردی۔ پھر بھی تجسس کے ہاتھوں مجبورمیں اسکے سر پر پہنچ گیا ۔ “بات سن یہ پان پکڑ اور سیدھا گھر جائیو اور پان صرف دادی کے ہاتھ میں دیجیو اور کسی کو دیے تو۔۔۔ ” وہ بچے کے ہاتھ میں پان دیتے ہوئے ہدایات دے رہا تھا اور میں بالکل عقب میں موجود اسکے چہرے پر نظریں گاڑے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا ۔

“شاکر” میں نے دھیرے سے پکارا ۔ “جی بھائی ” اس نے میری جانب نظر اٹھائی ۔ ماتھے پر چوٹ کا نشان صاف نظر آرہا تھا ۔ اب تو شک کی کوئی  گنجائش ہی نہیں بچی تھی ۔ “ابے کنکھجورے” میں نے جوش سے کہااور وہ بھی راقم کو پہچان کر بغلگیر ہو گیا ۔

صاحب مضمون اور “شاکر” پرائمری  سکول میں ساتھ پڑھتے تھے ۔ پہلی جماعت میں ایک مرتبہ جب شاکر تین دن  سکول سے غیر حاضر رہا تو اسکے بھائی  نے گھر سے آکر بتایا کہ  پرسوں بارش کے دوران شاکر کی ٹانگ پر “کنکھجورا” چپک گیا تھا جس سے اسے بخار ہو گیا ہے ۔ بس پھر کیا تھا  سکول واپسی پر اسکا نام شاکر سے تبدیل ہو کر کنکھجورا ہو چکا تھا ۔ پرائمری کے اگلے چار سال اسے اسی اسم مبارک سے پہچانا اور پکارا گیا ۔ شاکر کے دادا علی گڑھ سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور شاکر کے والد انکی اکلوتی اولاد تھے۔ پڑھے لکھے انسان تھے ۔ ایک بک اسٹور چلایا کرتے ۔ تین لڑکے تھے جن میں شاکر سب سے چھوٹا تھا اور سب سے لاڈلا بھی۔ باقی دو بڑے بھائی  کالج میں پڑھتے تھے اور شام کو اپنے والد کے ساتھ دکان پر بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔ میں جب اپنے ابو کے ساتھ سال میں ایک مرتبہ نئی  کاپیاں کتابیں لینے اردو بازار جاتا تو شاکر کے والد دور ہی سے سفید نفیس کرتے پاجامہ میں کھڑے نظر آجاتے اور میں ابو کو بتاتا کہ  یہ میرے دوست کی دکان ہے تو ابو بھی وہیں سے کتابیں دلاتے ۔ اسکے بھائی بھی مجھے پہچانتے اور اپنے والد کو بتاتے کہ یہ بچہ شاکر کے ساتھ پڑھتا ہے اور میں اس جان پہچان   کے بعد ابو کی جانب فخریہ دیکھتا۔

“ابے کہاں ہے آج کل اور کیا کھاتا ہے ویسا کا ویسا ہی ہے ۔ چل میرے ساتھ چائے پی ایک کپ ” اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہوٹل کی جانب چلنا شروع کر دیا اور میں پرانی یادوں کے حصار سے باہر نکل آیا۔ جہاں پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھتے ہی اس نے روڈ پر پیک تھوک کر آواز دی “خان ! دو کٹ” اور پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ گو ہم کئی  سال بعد ملے تھے پر تھے تو بچپن کے ساتھی تو تھوڑی ہی دیر میں اسکول کے اور ساتھیوں کا ذکر چھڑ گیا ۔ “ابے وہ شانی یاد ہے؟” اس نے پوچھا۔ “کونسا شانی” میں نے ذہن پر زور دیا۔ “شانی “ٹینشن” اور کون یار”اسکی وضاحت پر مجھے یاد آگیا “ہاں ہاں کیوں کیا ہوا اسے” ۔ “ہونا کیا تھا پچھلے سال رینجرز نے چھاپ دیا ۔ ” اس نے لاپرواہی سے بتایا ۔ “جیل کاٹ کے آئے تھے جناب لیکن عقل نہیں آئی۔ میں نے کہا بھی تھا کہ  رکشہ چلا لو لیکن وہی دو نمبری کی عادت ۔ آخر ڈکیتی مارتے ہوئے کام میں آگیا “. وہ بولتا چلا جا رہا تھا اور میں خاموشی سے صرف سن رہا تھا ۔

چورانوے کی بات ہے ہم چوتھی جماعت میں تھے شاکر بہت زیادہ چھٹیاں کرتا تھا اور پھر وہ سالانہ امتحانات کے دوران بھی اسکول نہیں آیا ۔ اب وہ کبھی مجھے اسکول سے واپسی میں راستے میں کھیلتا ہوا  نظر آتا۔ کپڑے گندے ہوتے پیر میں چپل بھی نہیں ہوتی اور کبھی جب میں شام کو اپنے گھر کی گیلری میں کھڑا ہوتا تو وہ مجھے جھانکڑ لے کر پتنگ لوٹتے بچوں کے ہمراہ کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگتا دکھائی  دیتا میں گیلری سے ہی اسے آواز دیتا اور وہ مسکرا تے ہوئے ہاتھ ہلاتا ۔ اب مجھے اردو بازار میں شاکر کے والد کی دکان بھی نہیں دکھتی تھی ۔ ابو کہتے تھے کہ  دکان یہیں تھی پر اب وہ کسی اور کی دکان ہے ۔

“ابے چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے” اس نے میز پر رکھے کپ  کی جانب اشارہ کیا تو میں نے کپ اٹھا لیا۔ “اور سنا تو کرتا کیا ہے ۔ پڑھ لکھ تو گیا ہوگا بہت ” اس نے جے ایم کی پڑیا منہ میں خالی کرتے ہوئے پوچھا ۔ “ہاں نوکری کرتا ہوں ” میں نے مختصر جواب دیا ۔ “شادی وادی کی؟ ” ۔”نہیں اب تک نہیں کی” ۔ ” ابے اب نہیں تو کیا بڑھاپے میں کرے گا “. “تیری ہو گئی ” میں نے الٹا سوال کیا۔ “تو اور کیا اب تک انتظار میں بیٹھتا ۔ یہ بچا میرا ہی بڑا لڑکا تھا۔ اس سے چھوٹا بھی ہے ایک ۔ ابے کیا بتاؤں میری شادی کے لیئے بارات ماڈل کالونی جانی تھی “حقیقی” کا ہولڈ تھا وہاں ۔ “سعود ٹنٹا” ٹیرر تھا وہاں کا ۔ میں نے بارات میں سب ساتھی بھائیوں سے بول دیا تھا کے “فلی لوڈ” ہو کے چلیں ۔ کیا بتاؤں کتنی ٹینشن میں شادی ہوئی تھی “. وہ پھر نان اسٹاپ شروع ہو گیا۔

سن دو ہزار پانچ میں میں نے نوکری شروع کی تو مصطفی کمال کراچی کے ناظم اور ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ہوا کرتی تھی۔ اس وقت کبھی کبھار میں ایم کیو ایم کے یونٹ پر شاکر کو بیٹھے دیکھتا ۔ لوگ عزت سے شاکر بھائی بولتے تھے۔ پتا چلا کہ چورانوے میں دونوں بڑے بھائی “اے پی ایم ایس او” میں شمولیت کی بنا پر اٹھا لیئے گئے تھے ۔ ایک کی لاش مل گئی تھی جبکہ دوسرے کا کبھی پتا نہیں چل سکا ۔ والد کو دو جوان بیٹوں کے نقصان نے توڑ کے رکھ دیا تھا ۔ وہ چارپائی سے لگ گئے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ تحریک کے لیئے قربانیاں دینے کی وجہ سے شاکر کو تنظیم میں عہدہ مل گیا تھا لیکن تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کسی جگہ فٹ نہیں کرایا جا سکتا تھا ۔ اب تحریک میں ویسے بھی مفاد پرست رہ گئے تھے ۔ پڑھے لکھے سلجھے ہوئے لوگ اس جانب سے کنی کترا کر نکلتے تھے ۔ مہاجروں کے حق ، کوٹہ سسٹم اور الگ صوبہ محض ووٹ لینے کا ایک بہانہ رہ گیا تھا ۔ ململ کے نفیس کرتے پہننے والے، پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے پاکستان کی بیوروکریسی میں سب سے آگے رہنے والوں کی اگلی پشت گندی جینز پہنے گالیاں دیتی نظر آتی ۔ پان کی گلوریوں کی جگہ گٹکا لے چکا تھا اور قلم کی جگہ  ہتھیار۔ لکھویوں، انبالویوں، علیگیوں کو بڑی ہی عمدگی کے ساتھ پے در پے آپریشنز اور اس وقت کے میسر میڈیا پر کامیاب پراپیگنڈہ کے ذریعے لنگڑوں ، ٹنٹوں، مینٹلوں، کنکٹوں میں تبدیل کیا جا چکا تھا ۔ افسانہ نگار، غزل گو ، استاد ، معمار اور نوابزادے اب بھتہ خور ، دہشت گرد ، را کے ایجنٹ کے نام سے پہچانے جاتے لیکن حیرت ہے کہ اس سب کے باوجود پاکستان کی معاشی شہ رگ پر یہی قابض تھے اور فی الوقت اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر بھی ۔

“اور سنا آج کل کیا مصروفیات ہیں ” میں نے چائے ختم کرتے ہوئے سوال کیا ۔ “بس یار ! تجھے تو پتا ہی ہے اس تنظیم کے چکر میں بہت برائی  لے لی اب تو ویسے بھی بھائی  صرف تصویریں بنوانے کے لیئے رہ گئے ہیں اور اب تو فاروق بھائی کو بھی سائیڈ لائن کر دیا ہے ۔ یہ روپوشیاں اور جیلیں کاٹنے کی بھی اب ہمت نہیں” “تو اب کیا نظریہ تبدیل ہو گیا ؟” میں نے طنزیہ سوال کیا ۔ ” ابے نظریہ رہا ہی کہاں ۔ اب تو یس سر رہ گیا ہے بس ” وہ بالکل مایوسی کے انداز میں بولا ۔ “تو اب کیا سوچا ہے ؟۔” “اب” وہ کچھ دیر کے لیئے رکا ۔ “ابھی تیرے بھائی  نے گول مارکیٹ پر حلیم بریانی کا سیٹ اپ ڈالا ہے ۔ ایک بجے شروع کرو اور آٹھ ، نو بجے تک فارغ ۔ اپنے دونوں حرامخور لونڈوں کو بھی ساتھ لگایا ہوا ہے ۔ تجھے تو پتا ہے ماحول کا ۔ ہنر بھی ہاتھ آرہا ہے اور نظر کے سامنے بھی رہتے ہیں ” ” تو کیا بچے اسکول نہیں جاتے” میں نے فکرمندی سے سوال کیا۔ “ابے بھگا بھائی ۔ ہمارے باپ دادا نے پڑھ  لکھ کے کونسا ہاتھی کے پچھواڑے پر تیر چلایا تھا جو انہیں اسکول بھیجوں ۔ بس اپنی محنت مزدوری کرلیں کافی ہے ” ۔

میں پھر ملنے کے وعدے کے ساتھ رخصت ہو کر بائیک پر بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ  آ ج وزیراعظم صاحب نے اپنی کابینہ میں موجود ایم کیو ایم کے دو وزرا کو نفیس اور نظریہ کو اپنا نظریہ قرار دیا ہے۔ ایم کیو ایم میں اس نظریاتی ہم آہنگی کو پیدا کرنے کے لیئے بہت سا وقت ، ایک لمبا پراسس ، پلاننگ، انسانی خون اور دو نسلوں کی بربادی درکار تھی ۔ میری بات پر شک ہو تو میرے شہر کا دورہ کریں اور میرے لوگوں کو دیکھیں، کنکھجورے اور کنکٹے دیکھیں ، دیکھیں کہ  کس طرح عربی اور فارسی کے استادوں کے گھر میٹرک فیل ٹارگٹ کلر اولادیں پیدا ہوئیں ، عزیز آباد کے قبرستان دیکھیں، گھروں کے ٹینکوں سے برآمد ہوتا اسلحہ دیکھیں، را کے ایجنٹ اور جناح پور کے نقشے دیکھیں ، پرچیاں اور بوریاں دیکھیں، دیکھیں کہ ایک سیاسی پر امن جماعت کو تشدد کی راہ پر کیسے ڈالا گیا، پسندیدہ لوگوں کی تقرری اور نا پسندوں کا علی رضا عابدی والا انجام دیکھیں ۔ شاید آپ کو یقین آ جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *