• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

یہ مضمون محترم رؤف کلاسرا کے دو عدد کالمز۔’’کراچی کے میمن کے ساتھ ایک شام ‘‘سے جڑی باقی ماندہ یادوں اور حوالہ جات کو سمیٹنے سجا کر واپس اپنی جگہ رکھنے کے لیے لکھا گیا ہے تاکہ گزرے دنوں کا کچھ تو نشان باقی رہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رؤف کلاسرا صاحب کے ساتھ اب کی دفعہ کل چھ گھنٹے کا ساتھ تھا اور یادوں کا ایک نیا بحریہ ٹاؤن ,کوڑیوں جتنا جرمانہ دے کر زبردستی ،جور جبر سے بس گیا۔
اب یاد کے لگائے ہوئے داغوں کا معاملہ ایسا ہے کہ مانو کورے بدن سی کوری چنریا کا داغ ،”منا ڈے” گائیں تو بھی دھل نہیں پاتا ۔کھوڑی گارڈن کی پرانی کتاب مارکیٹ میں ہم رؤف میاں کو ان کی آتش مطالعہ سرد کرنے لے گئے تھے۔
جن دنوں یہ مارکیٹ جوبن پر تھی ہم تب جایا کرتے تھے ۔ ایک کونے سے لپک کر چوہدری الطاف آتا تھا۔ وہ گتے اور پرانے کارٹن کا بیوپاری تھا۔درمیان سے صدیق دوڑتا آتا تھا۔ دائیں کونے سے حسین چوپڑی بر آمد ہوتا تھا۔ ہم اسے حسین چوپڑی مگر دیگر لوگ اسے چپاتی کہتے تھے ، حسین چپاتی (چوپڑی میمن گجراتی میں کتاب کو کہتے ہیں۔میمنی گجراتی زبان کی بولی ہے, سرائیکی کی مانند مگر سندھی کے قریب اور اردو سے منہ  موڑ کر بیٹھی ہوئی) ۔الطاف شدھ پنجابی،میمنوں سے بھی اسی تسی کرنے سے باز نہیں آتا تھا۔

کھوڑی گارڈن
کھوڑی گارڈن
کھوڑی گارڈن
کھوڑی گارڈن
کھوڑی گارڈن
پہلے یہ دنیائے کتب اب سامان آرائش کا ٹھیلہ
پہلے یہ دنیائے کتب اب سامان آرائش کا ٹھیلہ
پہلے یہ دنیائے کتب اب سامان آرائش کا ٹھیلہ
پہلے یہ دنیائے کتب اب سامان آرائش کا ٹھیلہ
پہلے یہ دنیائے کتب اب سامان آرائش کا ٹھیلہ

ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب آخری دفعہ چیئرمین پی اے آر سی(PARC) بنے تو ویسی ولولہ انگیزی نہ تھی۔مقدمات جو خواجہ سعد رفیق نے ہلہ کی زمین اور شہباز شریف نے ہلہ کی قیمتی مشینری مفت ہتھیانے کی خاطر بنوائے تھے۔ ان مظالم کی کثرت اور مضمرات نے بیوی کی جان لے لی تھی سو وہ کچھ ہراساں اور بددل تھے۔کراچی بہت کم کم آتے تھے اور کھوڑی گارڈن بھی ہم دونوں کا جانا نہیں ہوتا تھا۔حسین چوپڑی سے ملاقات اتوار بازار میں ہوجاتی تھی۔
اب کلاسرا صاحب کے ساتھ بازار کتب فروشاں میں داخل ہوئے تو لگا کہ ناجائز تجاوزات کے معاملے  میں بحریہ ٹاؤن پر تو عنایت ہوگئی تھی مگر   علم کی یہ بستیاں ، یہ دکانیں قطار در قطار مسمار کردی گئی تھیں۔وہاں اب لائن سے سستا میک اپ کا سامان ،جعلی لوشنز،شیلف پر ایکسپائرڈ ہوجانے والے مسکارا، آئی لائنرز اور لپ اسٹک کے ٹھیلے تھے ۔ یہاں عورتیں جوق در جوق یہ سامان آرئش و زیبائش خرید رہی تھیں۔ یہ وہ تمام آئٹمز تھے جن کو لگانے کے بعد ان سے آنکھ ملانے والے اور لبوں کو چومنے والے  مردوں کی آنکھ میں موتیا اور ہونٹ پر کیکٹس اُگ آنے کا بھرپور امکان تھا۔
الطاف کاعزیز اب بھی اس کا پرانے کاروبار سنبھالے ہوئے وہی کارٹنز کا ٹھیلہ لگا تا ہے۔ ہم پہنچے تو وہ فٹ پاتھ پردکان کے باہر بے واچ کی اداکارہ Kelly Rohrbach کا مردانہ ورژن بنا ،صوفی تبسم کی غزل “وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ” ذکر سمجھ کر گارہا تھا۔ہمیں چرچ کے باہر لکھی وہ عبارت یاد آگئی کہ اتوار کے دن عبادت کے اوقات میں کسی کی رفاقت میں مستی کے عالمِ  بستر میں او مائی گاڈ کہنا چرچ جانے کا متبادل نہیں سمجھا جائے گا۔الطاف ذہین تھا۔ اسے یہ بات سمجھاتے تو سمجھ جاتا مگر یہ عزیز ذرا وکھرا لگا۔

بے واچ کی اداکارہ،کیلی روہرباخ

میمنوں گجراتیوں میں رچ بس کر ان پنجابیوں کی حس مزاح بھی بہت macabre (علیل،قبرستانی اور ہلاکت آمیز) ہوگئی ہے۔کراچی میں پارلر والیاں دلہن سے اور سالیاں دولہا سے موت میت والے جوکس ٹھوکنے میں مضائقہ نہیں سمجھتیں۔ہم نے تینوں کا نام لے کر پوچھا کہ دکھائی نہیں پڑتے۔الطاف، صدیق اور حسین چوپڑی۔وہ مسکراکر ہمارے آئی فون پر نگاہ جما کر کہنے لگا۔ملنا ہے؟۔کن پٹی پر دو انگلیوں سے پستول کی نال کا نشان بنا کر کہنے لگا’’ انکل تھوڑے لیٹ ہوگئے ورنہ آپ کا آئی فون دیکھ کر کوئی بھی گینگ وار والا یا یونٹ اور سیکٹر کا لڑکا فون چھین کر آپ کو اوپر کا ویزہ دے دیتا۔ملاقات ہوجاتی۔۔
کلاسرا صاحب کے لیے یہ حس مزاح کٹھور ،یہ انداز تکلم نیا اور مملکت کی بربادی کا یہ ادراک پرانا تھا، سو کہنے لگے ،”چلیں سر اردو بازار چلیں”۔ہم نے کہا بھی کہ کچھ تصویریں لے لیتے ہیں ۔ کہنے لگے کتاب ہمارا دل ہے۔دل کی بربادی کا ایکسرے اور کارڈیوگرام تو ہوسکتا ہے مگر شیئر کرنے والی تصویر نہیں۔
بوجھل قدم اور شکستہ دل ہم دو دوست سر جھکائے کار کی جانب چلے آئے۔ایک عمارت کی اداسی اور بے قدری نے ان کا راستہ روک لیا سو ہم نے کہا اس کی تصویر لے لیں۔

بندر روڈ کی پرانی عمارت۔۔بندرگاہ کی وجہ سے اس کا نام بندر روڈ رکھا گیا

حسین چپاتی کا معاملہ مختلف ہے۔کراچی کے ایک مشہور مصور کو کتابوں کے گودام میں پناہ دی تھی۔ وجہ نہیں بتاتے کہ وہ ان کی طرف کیوں اٹھ آیا۔لیاری میں انہیں شراب بھی مل جاتی تھی اور ماڈل بھی ۔ویسی نہیں جیسی انچولی اور اور ناظم آباد والی ہوتی تھیں۔ چوڑی دار پاجامہ،آملہ سیکا کائی سے دھلے بال، نگاہ بے باک اردو اشعار کے بوجھ سے لچکتی کمر اور نخرہ امراؤ جان جیسا۔اس قیام کی اور ان کے شہ پاروں کی بھنک پنڈی کے ایک فوجی افسر کو کراچی کی تعیناتی میں ملی اور تو شہ پاروں سمیت انہیں لے گیا ۔شہ پارے کئی اہم گھروں کی دیوار وں پر آویزاں ہیں۔ان کے بھی اکثر فن پارے صادقین کے فن پاروں کی طرح جعلی ہیں۔یہ کام ان کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا ۔ کمیشنڈ ورک اگر ان کے شاگرد نے بنایا ہوتا تو وہ نیچے سائن کرکے قیمت لیتے تھے۔ورنہ ان کا اپنا کام خاصا مہنگا ہوتا تھا۔
صدیق کا معاملہ اور تھا۔وہ ہمارے سب سے بڑے مداحوں میں سے  تھا۔
اس کا بیٹا ایک پیر سے معذور تھا ۔باپ کو دو ہی تحفظات تھے ۔ایک اس کے مرنے کے بعد بھائی اس کو سنبھال پائیں گے اور دوسرے اس کی شادی ہوگئی تو اولاد ہوگی کہ نہیں۔
ہم نےدوسرے حوالے سے جو ہم کو اہل طب میں سرکاری حوالوں سے پر اعتماد رسائی میسر تھی اسے سامنے رکھ کر اس کا میڈیکل معائنہ کرانے کو کہا تو باپ بیٹا دونوں شرما گئے۔صدیق نے اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے ہماری وساطت سے ایک بکی سے لاکھ روپیہ قرض لیا اور ایک سر بہ مہر کنٹینر خرید لیا۔پیسے سے ٹوٹا ہوا تھا ۔بکی اپنی طرف کے تھے سو لحاظ کرتے تھے ۔بند کنٹینر بیچنے والا دور پر ے کا رشتہ دار تھا۔کنٹینر کھلا تو کتاب نے کیا نکلنا تھا وہاں تو Laminated Restaurant Menus کی بھرمار تھی۔صدیق سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔حسین چوپڑی اس کا عزیز تھا۔اس کا رونا دھونا سن کر ہمارے پاس لے آیا۔ہم نے تحمل سے بات سنی۔نمونے کا جہازی سائز مینو کارڈ دیکھا ۔پلاسٹک کا دس بائی اٹھارہ انچ کا رنگ برنگا مضبوط کارڈ۔

ایک بد دیانت ماتحت افسر سے تین ہزار روپے منگوائے اور سامنے رکھی فائل کو تکتے رہے۔اس کی پتری والا کلپ نکالا اور کسی کے ساتھ اسے بھیج کر ہزار کلپ ایک روپے کے حساب سے خرید کرکے اس کے بیٹے کو کہا کہ اس کی فائل بنا کر بیچے۔دو گھنٹے میں ہزار فائل چار روپے کے حساب سے بک گئی۔آخری فائل دس روپے کی بکی۔ہول سیل میں آٹھ روپے کی۔ حاصل ہونے والی آمدنی نے اس قابل کردیا کہ دو ماہ میں صدیق کی دو چھوٹی دکانیں تھیں۔
ان سب سے اور اس مارکیٹ سے ہمارا تعارف یوں ہوا کہ ایس ڈی ایم عیدگاہ، عارف الہی کی جیپ کو حادثہ پیش آیا وہ زخمی ہوئے تو ان کا چارج ہمیں دے دیا گیا۔علاقے میں لاء اینڈ آرڈر ہمارا ذمہ تھا ۔اس  سے ملحق لیاری کا علاقہ ہماری اصلی پوسٹنگ تھا۔الطاف کو ایک پولیس والا عزیز لایا تھا۔ تھانے سے اس پولیس والے کے ذمے ایک طوائف کے عزیزوں کو لڑائی جھگڑے میں بحضور علاقہ مجسڑیٹ پیش مزید کاروائی کے لیے پیش کرنا تھا۔چینی کہتے ہیں کہ آپ اگر ایک عقلمند آدمی کو سمندر میں دھکا دیں گے تو جب وہ سمندر سے باہر نکلے گا اس کے ہاتھ  میں مچھلی ہوگی۔ الطاف ذہین آدمی نکلا ۔ اس نے ہمارا حدود اربعہ معلوم کیا ۔ضمانت پر وہ عزیز رہا ہوا تو پولیس اور وہ سب، طوائف کے گلے میں ہاتھ  ڈالے دولہا کی واپسی پر بارات کے رشتہ داروں کی مانند خوشی خوشی سے ٹھاہ ٹھاہ کرتے رخصت ہوگئے۔

لیاری کی ان گلیوں میں کتابوں کے انبار ہوتے تھے
لیاری کی ان گلیوں میں کتابوں کے انبار ہوتے تھے
محترم کلاسرا صاحب
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے،کوئی سائباں نہیں ہے

اس واقعے کے تین چار دن بعد لیاری کے ایم ۔این۔ اے رحیم بلوچ کا فون آیا کہ ہم لوگ کے علاقے والے ۔ ہماری پی پی کے پکے ووٹرز اور آپ کے اپنے  میمن لوگ پریشان ہیں ۔آپ کیسے علاقہ مجسٹریٹ ہو۔ بھٹو نے سندھیوں کو کدھر کا کدھر پہنچا دیا ،ادھر تم لوگ کے اپنے میمن لوگ تمہارے راج میں خوار ہورہے ہیں ۔باباان غریب لوگ کا کچھ کرو۔ ایم کیو ایم والے ان لوگ کا دھندہ کھراب کرتے ہیں۔پڑھے لکھے صاف ستھرا کام کرتے ہیں ۔کتاب بیچتے ہیں ۔ہم نے کہا بھیج دیں مگر یہ تو بتادیں کہ لیاری کو پیرس کب بنارہے ہیں۔وہ ہنسے۔اڑے ام لوگ کا لیاری لالو کھیت جیسا بھی ہوجائے تو ان لوگ کو جنت کا مزہ آجائے گا۔
مارکیٹ ہمارے تین افراد سے روابط کی وجہ سے بچی۔ کے ایم سی میں سب ایم کیو ایم کے اہم لوگ بیٹھے تھے ۔انہیں ہمارے اپنی مرکزی قیادت اور خلائی مخلوق کے بڑوں سے تعلقات اور سرکاری دہشت گرد مزاج کا پتہ تھا۔۔شاہد عزیز صدیقی جو کمشنر کراچی تھے۔فاروق ستار جو اس وقت مئیر کراچی تھے۔ افضل شگری جو ہمارے کرم فرما تھے اور کراچی کے ڈی آئی جی۔مارکیٹ نے بہت دم پکڑا۔ہم نے میاں ا قبال فرید چیئرمن ایف بی آر کو ڈاکٹر ظفر الطاف کے گھر کھانے پر سمجھایا کہ پرانی کتب پر ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ دو ماہ پرانے وینٹی فئیر۔ ٹائم۔ریڈرز ڈائجسٹ، انڈیا ٹوڈے، سٹار ڈسٹ ۔ فیمینا، پاپولر سائنس۔ ووگ ۔کاسمپولی ٹن ، پی۔ سی میگزین ،نیشنل۔ جیوگرافکس ، امریکن آرٹسٹس۔ جیسے مشہور رسالے یہ بیس روپے فی شمارہ کہاں ملیں گے۔سنگاپور کی ایک پوری لائبریری کی کتب کراچی میں کہاں دستیاب ہوں گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیکس بہت ہی کم کردیا گیا۔
کتابوں اور رسائل کا کنٹینر آتا تو صدیق کی بلڈنگ ، محلے میں بہار آجاتی۔لیاری کے لڑکوں لڑکیوں کو دس دن کے لیے روز گار مل جاتا۔زیادہ تر معذور بچے ہوتے تھے۔بورے کھول کر ان میں رسائل اور کتب کو چھانٹ کر جدا کرنا ان کا ذمہ ہوتا۔معذوروں  کو ڈبل اجرت دی جاتی۔

ڈاکٹر صاحب کہتے تھے کہ زندگی کے دو اہم سبق انہوں نے صدیق سے سیکھے۔ پہلا معذوروں کو ڈبل اجرت دینا۔ ہم نے چھیڑا کہ   اسلام آباد میں یہ سہولت تو ہم نے بکثرت دیکھی ،پوچھا وہ کیسے ؟ ہم نے جواب دیا منتخب نمائندوں اور گریڈ بیس سے اوپر کے ذہنی معذور افسران کو   آپ نے جو Wall Flower ( وال فلاور اس بے حد پاکیزہ اور شرمیلی خاتون کو کہتے ہیں جو پارٹی میں دامن چراکر نگاہیں نیچے کیے بیٹھی ہو ں )  بنا کرPerks and Privileges دیے ہیں۔ ایک سے ایک پلم(plum) پوسٹنگز، اچھی اچھی کروڑ پتی گاڑیاں اور بیرونی ممالک کی سیر پے سیر، ہنس دیے۔کراچی کی ایک شاندار رجیوا ( پنجابی میں مال والی )حسینہ افسر کے انداز میں کہنے لگے ۔۔۔Eyedee you and your corny jokes۔ دوسرا سبق ہیجڑوں کے بارے میں تھا ۔ تب یہ موم بتی لبرلز ایسے سرگرم نہیں تھے ۔ہیجڑوں کو ہیجڑہ سمجھا جاتا تھا۔ان کو تحقیر کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا تھا۔

عائشہ خان

ماڈل کم کردیشیاں

کلاسرا صاحب کی خرید کردہ کتابیں

اس دن ہم دکان پر پہنچے تھے۔ڈاکٹر صاحب ہمراہ تھے۔رات کرغزستان کی روانگی تھی۔جمعرات کی سہ پہر تھی۔صدیق ہر بنے سنورے ہیجڑے کو پانچ کا نوٹ دیتا تھا۔فقیروں کو ایک روپے  کا۔ہم نے  چھیڑا  کہ گرل فرینڈز  سے بہت پیار ہے ۔بہت دولت لٹا رہا ہے ۔ہماری بات سن کر اس نے ڈاکٹر صاحب کی جانب بے چارگی سے  شکوہ  سنج نگاہوں سے دیکھا   اور کہنے لگا ،صاحب یہ کوئی آسان کام ہے کہ مرد ہو کے کھلم کھلا عورت بن کر جینا۔ ہم تو جیسے میلے سیلے کپڑوں میں آجاتے ہیں ۔یہ بائی لے( میمنی میں معزز خاتون کو بائی کہتے ہیں لے کے اضافے سے عورت جیسے) لوگ بے چارے سجتے سنورتے ہیں۔دکان پر آکر اچھی اچھی دعا دیتے ہیں کہ اللہ کرے تیری عائشہ خان اور کاجول سے شادی ہوجائے ۔اب آپ سوچو الطاف اور حسین چپاتی کے گٹر جیسے منہ  کو یہ ایکٹریس لوگ منہ  لگائیں گی۔ (دونوں منہ  بھر گٹکا کھاتے تھے )۔ دعا سے ان لوگ کا بھی من خوش ہوجاتا ہے۔ مجھے بولتی ہیں صدیق سیٹھ please marry me ۔ ہاں بول دے نا۔ اللہ بہت برکت دے گا۔ سارا دن ان کی دعا سے دل خوش رہتا ہے سمجھ نہیں آتا ان کو انگلس کون سکھاتا ہے۔کتابیں خرید کر نکلے تو چوراہوں پر تین ہیجڑوں کو ڈاکٹر صاحب نے سو سو روپے دیے مگر حیرت زدہ ہیجڑوں کی سرکار کی لینڈ کروزر اور پیچھے گن مین والی گاڑی دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کو please marry me کہنے کی جرات نہ ہوئی۔

ایک دن ڈاکٹر صاحب کو لیاری کی گلی میں صدیق کے گودام لے گئے تو معاملہ کچھ گھمبیر دکھائی دیا تھا۔وہاں خلائی مخلوق منڈلارہی تھی۔ ہر اک کے ایک ایک کولہے پر کمرکے پیچھے لگی پستول کی وجہ سے کم کردیشیاں کا کولہا لگ رہا تھا ۔دراز قد، متکبر، چٹے لباساں والے ،سب پر بری نظر ڈالتے،نادیدہ قوت سے مرعوب ، گلی میں منڈلاتے، دروازے پر بھی ایستادہ۔
اندر گئے تو ایک بڑے جنرل صاحب Incognito(بھیس بدل کر )کتابیں خریدنے پہنچے تھے۔ہمارے آتے آتے اپنی خریداری مکمل کرچکے تھے ۔انہیں ایک کمرے تک محدود رکھا گیا تھا۔چلے گئے تو علم ہوا کہ سندھ میں متعین ایک بڑے فوجی افسر تھے۔

صدیق نے خصوصی طور پر بچھیا کے گوشت کی بمبئی بریانی اور چقندر اور پیاز کی دہی والا کچومر جسے میمنی اور گجراتی میں چھیریری کہتے ہیں، بنوائی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے رسالوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر بریانی کھائی۔ربڑی، اسکوٹر پر بھیج کر برنس روڈ سے منگوائی گئی تھی۔چائے کی پیایوں کا شمار نہیں۔چھ کارٹن کتابوں کے جمع ہوئے۔بہت سی ٹیکسٹ بکس بھی تھیں۔لگتا تھا کوئی پرانی لائبریری اجڑی تھی۔ بہت سا مال برطانیہ سے بھی آیا تھا ۔اسی وقت لیاری کے گڈز ٹرانسپورٹر نے گدھا گاڑی پر اسے وہاں سے لدوایا اور اسلام آباد بھیج دیا۔پیسے لینے پر صدیق کو تامل تھا ۔ڈاکٹر صاحب بضد ہوئے تو ہماری جانب اشارہ کرکے کہنے لگا۔یہ سامنے کھانچے کی جگہ ہے۔دیوان صاحب مانتے نہیں، ہمارا ارادہ ان کا یہاں مزار بنانے کا ہے۔ بریانی کالنگر میمنوں کا لیوا مکرانی عورتوں کا ۔ بکسے کا مال میرا ہوگا۔رونق ہی رونق۔ وہی قبرستانی macabreحس مزاح ۔

کلاسرا صاحب اور فقیر راہ گزر
مینو کارڈ کی فائل

کلاسرا صاحب کو پہلے دن تو ہم دو دریا جیسی رومانٹک جگہ لے گئے۔کھانا اچھا تھا۔ڈرائیور فقیر محمد آف کالا باغ سے مل کے خوش ہوئے ۔ کہا تھینک یو نہیں کہتا۔ یہ پہاڑی لوگوں کی خاص نشانی ہے۔ہم نے کہا اس کی وجہ سے ہم دو ہزار آٹھ کی سٹی چلاتے ہیں، بیٹا کہتا ہے آپ   کے لیے لیمبورگینی یا آڈی کار بھیج دوں ہم نے کہا اسے بھی اس Mentally Blind (ذہنی نابینا) نے سولہ پہیوں کے ٹرالر کی طرح چلاناہے ۔ جس پر اس نے ڈرائیونگ سیکھی ہے۔ اپنے گرائیں جنرل ایوب کو ان کے دور طمطراق میں صبح کی سیر کے دوران بچپن میں دیکھا تھا ۔ انہوں نے اس سمیت گاؤں کے بچوں کو  چونی دی تھی ۔ انہوں نے پہلی دفعہ کوئی زندہ فیلڈ مارشل دیکھا تھا وہ بھی بغیر سکیورٹی کے۔ اس نے یہ چونی خرچ کرنے کی بجائے سوراخ کرکے گلے میں ڈال لیا تھا، بہت بعد میں کسی مسجد میں وضو کرتے  ہوئے بھول گیا ۔واپس گیا تو وہ لاکٹ نہیں ملا۔اس یاد کے سہارے زندگی گزارتا ہے اور مسجد والی گلی سے بھی نہیں گزرتا۔زیادہ وقت مزارات کے چکر لگاتا تھا ، ہر متولی اور سجادہ نشین سے پوچھتا ہے کہ ہمارےدیوان صاحب کو دفن کرنا ہے، کوئی قبر کی جگہ ہے ۔

کتاب جو ملی

کلاسرا صاحب سے دوسرے دن کتابوں کی مارکیٹ کھوڑی گارڈن لے جانے کا وعدہ تھا۔ اس کی مایوسی کا احوال ان کے دوسرے کالم اور ہماری جانب سے شئیر کردہ تصاویر سے لگالیجیے ۔ ایک دنیا تھی جسے ہم سے سنبھالا نہ گیا۔
ہم نے دل جوئی کی خاطر کلاسرا صاحب کو لالچ دیا کہ چھٹے چھمائے کوئی پرانی کتاب ایسی مل جائے گی کہ وارے نیارے ہوجائیں گے ہمیں سو سال پرانا ایک نسخہ یہاں سے بالزاک کے ڈراموں کا ملا تھا۔ان کی ضد نہاری کھانے کی بھی تھی جب کہ ہمارا ارادہ زخم مندمل کرنے کے لیے ایک ٹونی ریستوراں میں جہاں ایان علی بھی اکثرآیا کرتی تھی وہاں ہنزہ پلاؤ کھلانے کا تھا۔اجلے کرنل باسمتی چاول کے قا لین پر   بیلی ڈانسر کی تھرکتے مچلتے حلوان کباب۔املی پودینے کی چٹنی اور اس پر نمکین لسی کے جس کے پیٹ میں جاتے ہی ایک ایسا دے تالی گربہ ڈانس ہلکورے لینے لگے کہ جودھا بائی کی میکے کی لچکیلی کمر والی راجپوتانیوں کی یاد آجائے جو شہنشاہ اکبر کی آمد پر گاتی تھیں

ترکمان حجرت اکبر آیو ، کیسریو بالم آؤ پدھارو مارے دیس۔( راجپوتانیاں حضرت کو حجرت کہتی تھیں)۔

رؤف کلاسرا صاحب دل و دماغ میں برنس روڈ کی پرانی یادیں جمع کیے بیٹھے تھے۔ دل نہ مانا کہ  ان کی کھوڑی گارڈن کی شکستہ تمناؤں کا رخ کسی پوش جگہ موڑتے ۔انہیں سمجھانا مشکل ہوتا کہ سائیں میڈا نپیئر روڈ ( کراچی کی ہیرا منڈی ) اور برنس روڈ اب وہاں وہ پرانی رونق نہیں۔ داد و ہوس اور لطف دہن کے مراکز میں منتشر ہوکر اب شہر میں پروین شاکر کی شناسائی کی بات کی مانند کو بہ کو پھیل چکے ہیں۔پذیرائی کرنے والے بھی اب ایسے نہیں۔

شیم کینٹ قازقستان
اعلمیہ کی ہم وطن، Photo By augustine ramirez
بیلی ڈانس

ہمارا اب شہر کی نہاری کھانے سے یہ اجتناب ہوتا ہے کہ اس میں بھینس یا اونٹ کا گوشت استعمال ہوتا ہے۔بھینس اور اونٹ کا گوشت   کھانے میں مضائقہ نہیں۔لاہور والے بھی تو سیاست اور طعام کے معاملے میں اب مکمل طور گدھوں پر انحصار کرتے ہیں۔لاہور کی کئی لڑکیاں جو کراچی آتی ہیں وہ اپنے رشتہ داروں اور بوائے فرینڈز کی کار کا دروازہ پچھلی لات مار کر بند کرتی ہیں۔اس دکھ کو یوں سمجھیں،ہمیں حلب ۔شام میں ڈاکٹر ظفر الطاف نے تنگ آن کر ایک کورس پر بھیج دیا، جہاں پورے دن وہاں بیس ڈالر ملتے تھے۔کورس کی خوبی یہ تھی کہ اس میں مرد وں کی تعداد آٹے میں  نمک تھی۔مرد نمک تھے۔ عور تیں اشرفی برانڈ آٹا تھیں۔ اردن کی حسینہ اسمان ہتر ہمیں بڑے لاؤ لٹک سے کہتی تھی کہ تم اکیلے  بھی ہوتے تو ہمارے لیے سالٹ آف دی ارتھ تھے۔ پروگرام میں شمولیت کے لیے قازقستان کی علمیہ بھی آئی تھی۔ہمیں کہتی تھی کہ کورس ختم ہوجائے تو میرے پاس ،شم۔ کینٹ آنا ۔تمہیں گھوڑے کے گوشت کے کباب کھلاؤں گی۔۔کہنے لگی میرے ایک کمرے کا اپارٹمنٹ ہے،نیچے گیرج بھی میرے پاس۔آج کل وہ خالی ہے۔ہم نے پوچھا اور رہن سہن کہاں ہوگاگیرج میں۔کہنے لگی نہیں میرے بیڈ روم میں سونا ۔میں صوفے پر تم پلنگ پر۔اب اگر ہم قازقستان نہیں گئے تو اس میں صوفے کو برا بھلا مت کہیں اس کا الزام آپ   گھوڑے کے گوشت کو دیں۔

کلاسرا صاحب نے کتب خریدیں اور پھر ہمارے ساتھ نہاری کھانے چل پڑے۔ویٹر کی پھرتی ،مسکراہٹ اور چالاکیاں دیکھ کر ہمیں مشکل نہ ہوئی کہ یہ یونٹ یا سیکٹر کے ایس ایس جی گروپ کا ممبر ہے۔ہم نے اپ۔ فرنٹ ہوکر پوچھا تو کھیسانا ہوگیا۔کلاسرا صاحب کو لگا کہ ہم نے کوئی ننگا تار چھولیا ہے۔آرڈر لے کر گیا اور بہت سلیقے اور پیار سے میز پر رکھتے ہوئے ہمارے سامنے انگوٹھے اور انگلی کو موڑ کر انگریزی کا ’’U‘‘ بنایا جس کا مطلب تھا کہ یونٹ کا ہے۔ہم نے کھانے کے بعد ربڑی کا کہا تو پریشان ہوئے۔ سمجھایا کہ کراچی میں ہماری رائے کا ڈاکٹر صاحب ایسے احترام کرتے تھے جیسے کیتھولک عیسائی پوپ کا۔چلتے وقت اس نے ہمیں اپنا جان کر کہا سر میٹرک کی تیاری کررہا ہوں۔ جیب سے نوٹس نکال کر دکھائے تو کیا عمدہ ہینڈ رائیٹنگ تھی کلاسرا صاحب پھڑک اٹھے۔
کلاسرا صاحب کے دوسرے کالم میں ڈاکٹر صاحب سے ہماری ناراضگی کا اور ان کی معذرت کا ذکر تھا۔
سو سوچا اس نکتے کو airbrush کردیں۔یہ لائٹ سے انداز میں کچھ خامیاں اور کوتاہیوں کا مصورانہ ازالہ ہے۔

معاملہ کچھ یوں تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو اپنی ملازمت کے آخری دور میں ایک ہستی بہت اچھی لگ گئی۔جانے کہاں سے اسے اپنے ادارے میں لاکر ٹھونس دیا۔نالائق، نااہل ۔ سندھی کی ایک کہاوت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ   ایک تو میں اچھی نہیں لگتی مگر بیٹھوں گی درمیان میں ۔بالکل ویسی ۔چہ مگوئیاں بہت بڑھیں تو ایک دن یوں ہوا کہ ایک بزرگ نے ہمیں چیتاؤنی دی کہ آپ اس معاملے میں زبان کھولیں گے تو اس بے ہودہ ہستی کا ان کی شخصیت پراثر اتنا گہرا ہے کہ آپ کا یہ پرانا اور احترام کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ہم نے زبان کھولی۔ کسی معاملے میں ہمیں ان کی مدد کرنے کی درخواست کی ۔ہمارا ایک وطیرہ رہا کہ ایسے تمام منسلک افراد کی طنابیں بہت کھینچ کر رکھتے تھے۔کیا مرد ، کیا خواتین۔ہم نے اس کی نہ صرف مدد نہ کی بلکہ ڈاکٹر صاحب کو بھی ڈرایا کہ یہ تعلق بہت رسوائی کا باعث بن رہا ہے۔اس سے پہلے ہم نے یہ کام ضرور کرلیا کہ چیف سیکرٹری کو کہہ کر اپنے لیے سندھ حکومت میں سیکرٹری کے پوسٹنگ آرڈرز جاری کرالیے۔

ڈاکٹر صاحب کو جب اس شخصیت نے ہماری شکایت کی تو وہ ناراض ہوگئے اور ہمیں پاکستان ایگری کلچر کونسل کے صوبائی سربراہ کے عہدے سے ہٹادیا۔ان کا خیال تھا کہ ہم مشترکہ دوستوں کو درمیان میں ڈال کر انہیں احکامات واپس لینے کا کہیں گے۔ایسا نہ ہوا۔ بزرگ سے ملاقات ہوئی تو کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ان کے روکنے کے باوجود ہم نے اس ہستی کو ڈاکٹر صاحب کو سرکاری طور پر کیوں رگیدا۔ہم نے جواب دیا کہ دل نہیں مانتا تھا کہ اتنے محترم، باعلم ،وطن دوست اور پر وقار دوست کو یوں رسوائی اور تحقیر کی کیچڑ میں لوٹتا دیکھیں۔بہت دیر تک دیکھا کیے اور سر پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے ۔اللہ آپ کو اپنا ولی رکھے۔ہم نے سال بھر تک کوئی کلام نہ کیا ۔ اکثر مس کال کرتے تھے مگر ہم جواب نہ دیتے تھے۔ ایک مشترکہ دوست کی زبانی بیٹی کی شادی کی اطلاع ملی تو ہم نے    فون کرکے کہا یہ شادی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک ہم نہیں آئیں گے ۔کہاٹکٹ بھیج رہا ہوں ۔ کب آنا ہے۔ کہا کل چھٹی لے کر بتائیں گے کہ کب کا ٹکٹ بھیجیں۔فون رکھ کر ہم اگلی فلائٹ سے روانہ ہوگئے اور سیدھے گھر پہنچے تو حیران ہوگئے۔اس دن گھر کے سب لوگ جمع تھے۔سب کو جمع کرکے اشک بار ہوئے اور معافی مانگی۔ ہم نے کہا ۔ہمارے لیے سول سروس صرف آپ تھے۔باقی تو تفصیلات تھیں۔

پرانی کتابوں کی مارکیٹ کی بربادی پر کلاسرا صاحب کی طرح ہمیں بھی شدید قلق ہوا ۔ Sidney buchman کا وہ قول بھی یاد آیا جو اسکندریہ کی جولیس سیزر کی افواج کے ہاتھوں لائبریری کو جلائے جانے کے حوالے سے قلوپطرہ سے منسوب ہے ۔جدید تحقیق گو اس کی نفی کرتی ہے قلوپطرہ نے بہ زبانی ایلزبیتھ ٹیلر اپنے ذخیرہء کتب کے جلانے پر کہا تھا۔۔
’’وحشیو تم نے میرا کتب خانہ کیوں جلادیا۔۔جاؤ عظیم سیزر ! جتنا دل کرے اپنے فاتح ہونے پر اتراؤ، لاکھوں عورتوں کی عزتیں برباد کرو۔دولت لوٹو۔کھل کے قتل و غارت گری کا بازار گرم کرو لیکن تمہیں اور تمہارے کسی اور وحشی ساتھی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ انسانی افکار کو برباد کرے‘‘
How DARE you and the rest of your barbarians set fire to my library? Play conqueror all you want, Mighty Caesar! Rape, murder, pillage thousands, even millions of human beings! But neither you nor any other barbarian has the right
to destroy one human thought!148
طے تو یہ تھا کہ ہم رؤف میاں کو ایئر پورٹ چھوڑیں گے مگر ان کے ایک جگر جان، ہم پیشہ دوست کسی اہم مسئلے پر ان سے ملنے ہوٹل آن دھمکے۔ سو یہ عرصہء رفاقت مختصر ہوگیا۔یوں تو ہم اپنے تئیں بہت دلیر بنتے ہیں ۔سب کو کہتے پھرتے ہیں کہ ع
جانے والے دل کو پتھر کرگئے
پھر کسی کے نام پر دھڑکا نہیں
کلاسرا صاحب چلے گئے تو ہم جاکر گھر کے باہر دیوار پر بیٹھے سمندر کی لہروں کو دیکھتے رہے۔ وقت محبت کرنے والوں کو آپ سے چھین کر دور لے جاتا ہے اور سمندر یادوں کو ڈبودیتا ہے۔ چاہے وہ آنکھ سے بہتا ہوا سمندر کیوں نہ ہو۔اب آپ کو پتہ چل گیا نا کہ، دوست ہی دوستوں کے لیے روتے ہیں۔

واپسی اور اداسی

گھر واپس آئے تو بیگم نے پوچھا خیر تو ہے تو رویا رویا لگتا ہے۔یہی سوال ہم سے اماں جی بھی مقابلہ ہار کر آنے پر کرتی تھیں۔ ہم نے کہا یار کلاسرا چلا گیا۔ شرارت سے کہنے لگیں تو مردوں کے جانے پر بھی روتا ہے لگتا ہے تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آئے گی۔ ہم نے کہا آپ جائیں گی تب بھی روئیں گے۔گئیں پرس سے ٹکٹ نکالا اور لہراتے ہوئے کہنے لگیں اوکے ڈارلنگ یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ۔ بیٹے کے پاس ہالینڈ، پھر ریان کے پاس امریکہ۔ سن رمضان آرہے ہیں تو پورے روزے رکھنا۔نو ایکسیوز کہ  بیگم نہیں تو سموسے، بھے جے (گجراتی میں پکوڑے)کون بنائے گا۔کھجور اور پانی سے بھی افطاری ہوجاتی ہے۔
ہم نے چھیڑا کہ شادی اور افطاری میں کوئی تو فرق ہونا چاہیے۔گلے میں ہاتھ ڈال کر کہنے لگیں ظالم تیری شادی تو میکش امبانی کی بیٹی ایشا امبانی کا گرینڈ گالا ڈنر ہے فرق اتنا ہے کہ ایشوریا رائے کی بجائے میں ڈنر پروس(ہندی میں ڈش میں ڈالنے کو کہتے ہیں) رہی ہوں۔چل تنگ مت کر بہن کا فون آرہا ہے۔
ہم نے سوچا شادی کو چالیس برس ہوجائیں تو بیویاں ایسے ہی خود فریبی کا شکار ہوجاتی ہیں۔یقین نہیں آتا تو پروفیسر نویدہ کوثر سے پوچھ لیں ۔ان کی بھی قربان صاحب  سے شادی کو   چالیس برس ہوگئے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. بہت خوب دیوان صاحب۔۔۔
    کلاسرا صاحب کے دونوں کالم کو انتہائ تفصیل اور متعلقہ معلومات کے ساتھ conclude کیا ہے۔۔
    کھوڑی گارڈن کے بارے میں ادھر بھی کچھ ایسے ہی احساسات ہیں۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *