تحریکِ انصاف کی درویشی۔۔۔محمد اظہار الحق

SHOPPING

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس پر بھی ردعمل خاموشی کی شکل میں ہوا تو یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہو گا!! اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان ایک اور نازک موقع پر خاموش رہے ہیں۔ اور اُس خاموشی کو ، معاف فرمائیے گا۔ نرم ترین لفظوں میں بھی مجرمانہ خاموشی ہی کہا جائے گا۔ آج تک قوم یہ نہیں جان سکی کہ ناصر درانی پنجاب حکومت سے کیوں الگ ہو کر گھر چلے گئے۔ اتنے دعوئوں کے باوصف کیا مجبوری تھی کہ وزیر اعظم منقار زیر پر رہے۔ جو درد رکھتے تھے قوم کا، ملک کا اور وزیر اعظم کے مشن کا۔ انہوں نے بہت آوازے دیے۔ چیخے چلائے مگر بنی گالہ کی وسیع و عریض حویلی سے کوئی جواب آیا نہ اس مغلیہ محل سے جہاں وزیر اعظم کا دفتر واقع ہے ؎ یاں لب پہ لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں واں ایک خامشی تری سب کے جواب میں نتیجہ نکالنے والوں نے نتیجہ نکال لیا کہ وزیر اعظم بے بس ہیں۔ جس طرح ساری دنیا یہ راز نہ اگلوا سکی کہ لاکھوں کروڑوں اربوں کھربوں کنکروں میں ایک ہیرا بزدار نامی کیسے انہوں نے تلاش کر لیا‘ اسی طرح ناصر درانی کے ضمن میں بھی انہوں نے چپ سادھ لی ؎ کب تلک پتھر کی دیواروں پہ دستک دیجیے تیرے سینے میں تو شاید کوئی دروازہ نہیں مگر کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جو راز نہیں رہ سکتے۔ یہی وہ راز ہوتے ہیں جو ’’اوپن سیکرٹ‘‘ کہلاتے ہیں! نشانیوں پر غور کرنے سے سب کچھ معلوم ہو جاتا ہے۔ منیر نیازی نے مقدس آیت کا کس خوبصورتی سے ترجمہ کیا ہے۔ رات دن کے آنے جانے میں یہ سونا جاگنا فکر والوں کو پتے ہیں اس نشانی میں بہت یہ اندازہ لگانا کون سا راکٹ سائنس کا سوال ہے ! اور یہ بوجھنا کون سا مشکل ہے کہ وزیر اعظم کی مجبوری کیا ہے؟ پر ان کے کہاں جلتے ہیں؟۔ قرطبہ اور غرناطہ سے لے کر بغداد اور نیشا پورتک اور جہانگیر کے آگرہ تک۔ قسمتوں کے فیصلے کہاں ہوتے رہے؟ اور یہ زور آور مطلق العنان بادشاہ کس مقام پر بے بس ہو جاتے رہے؟ سب سے بڑا صوبہ ۔ پاکستان کا تین چوتھائی حصہ۔ چمکتے ہوئے ہیرے اور دمکتے ہوئے موتی مسٹر بزدار کو سونپ دیا گیا۔ ناصر درانی نے تاریخ کی چادر اوڑھی اور چلے گئے۔ پیچھے کیا رہ گیا؟ بیورو کریسی کی سربلندی! نوکر شاہی کی من مانیاں! افسروں کی فرعونیت! اب اس شتر بے مہار کو قابو کرنے والا کوئی بھی نہیں نظر آ رہا۔ اور اب جو انکشاف کیا گیا ہے کیا اس پر بھی وزیر اعظم چپ سادھ لیں گے؟ تحریک انصاف کے اپنے ایم پی اے نے کھلم کھلا‘ ببانگ دہل‘ الزام لگایا ہے کہ ایک سی پی او‘ ایس ایچ او کی تعیناتی کے پانچ لاکھ اور منتھلی تین لاکھ لے رہا ہے۔ یہ الزام درست ہے تو کیا تحریک انصاف کی حکومت مجرم کو عبرت ناک سزا دے گی؟ اور اگر یہ محض بہتان ہوا تو الزام لگانے والے اورثابت نہ کرنے والے کو نشان عبرت بنائے گی؟ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ سول سروس اصلاحات کے خیمے میں جس اونٹ کو وزیر اعظم نے داخل کیا وہ آزمایا ہوا ہے۔ تصدیق نہیں ہو سکی مگر اڑتی سی خبر ہے کہ اس اصلاحات کمیشن سے ایک سرکردہ بیورو کریٹ الگ ہو گیا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ محض نوکر شاہی کے ایک مخصوص گروہ کے مفاد کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اگر فی الواقع ایسا ہی ہے اور ارباب قضا و قدر نے اس پر بھی کوئی ردعمل نہیں ظاہر کیا تو ماتم کا مقام ہے! لگتا ہے یہ کوئی منظم ریاست نہیں بس کسی صحرا کا قبائلی نظام ہے۔ یہی کچھ تو شریفوں کے عہد میں ہو رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر گتکا کھیل رہا تھا۔ آج بھی وہی ’’فری فار آل‘‘ ہے ! قومی اسمبلی کے سپیکر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔ گویا وزارت خزانہ انہی کے پاس ہے! کچھ دن پہلے صدر مملکت نے پالیسی بیان دیا کہ قومی ایئر لائن کو نجی شعبے کی تحویل میں نہیں دیا جائے گا۔ صدر مملکت سے کوئی مودبانہ استفسار کرے کہ کیا یہ آپ کے دائرہ اختیار میں ہے؟ اور کیا ایسے فیصلے ماہرین اقتصادیات نہیں کرتے؟ ہوابازی کا ایک الگ شعبہ ہے، الگ وزارت ہے جو حکومت کا حصہ ہے۔ آپ ریاست کے سربراہ ہیں؟ آپ کیسے طے کرسکتے ہیں کہ کون سا ادارہ‘ کون سا شعبہ پبلک سیکٹر میں رہے گا اورکون سا پرائیویٹ سیکٹر میں؟ بچے کو بھی معلوم ہے اور اندھا بھی دیکھ رہا ہے کہ ڈھیر ساری یونینوں نے قومی ایئر لائن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کسی کو سزا دی جا سکتی ہے نہ برطرف کیا جا سکتا ہے۔ دوسری ایئر لائنوں کے مقابلے میں اس کی حیثیت صفر سے نیچے ہے اور آپ اس دارالامان کو‘ اس یتیم خانے کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ ہڑتالیں کرو۔ کھائو پیو‘ سیاست کرو! کچھ نہیں ہو گا۔ ہمیشہ حکومت کے داماد ہی رہوگے! شاید چراغ حسن حسرت نے کہا تھا کہ اورکوئی کام نہ ہو تو گملوں کی ترتیب بدل دیا کرو۔ یعنی بیکار مباش کچھ کیا کر۔ صدر مملکت نے تازہ مصروفیت یہ ڈھونڈی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کو دعوت طعام دی ہے۔ اس دعوت طعام میں یہ طے کیا جائے گا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ صدر صاحب کو شاید معلوم نہ ہو کہ عالمی سروے کی رو سے جن ملکوں کو قرآنی اصولوں پر سب سے زیادہ عمل پیرا پایا گیا ہے ان میں آئر لینڈ سرفہرست ہے۔ اس کے بعد ڈنمارک اور لگزمبرگ کا نمبر آتا ہے۔ اب یہ تحقیق کرنے والوں کا کام ہے کہ دریافت کریں آئر لینڈ ڈنمارک اور لگزمبرگ نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل سے کب رابطہ کیا تھا اور کونسل نے کون سا ’’کھل جا سم سم‘‘ والا ڈبہ انہیں عطا کیا تھا؟ اور کیا یہ نیک کام بھی کونسل نے سرکاری خزانے سے ڈنر کھا کر کیا تھا؟ کابینہ کے ارکان صف آرا ہو چکے۔ میمنہ جہانگیر ترین کی قیادت میں شمشیر بکف ہے۔ میسرہ کی کمان شاہ محمود قریشی کے پاس ہے۔ قلب میں خود عمران خان ہاتھی پر سوار‘ چتر شاہی کے سائے تلے جنگ آزما ہیں! مگر عام پاکستانی کا اس لشکر سے کیا تعلق؟ اسے کون سی اپنی نشست کابینہ میں محفوظ کرنی ہے! اسے اتنا ہی معلوم ہے کہ جہانگیر ترین صاحب کو لازماً کسی جرم کی بنا پر نااہل قرار دیا گیا ہے تو پھروزیر اعظم مجرم کو مجرم کیوں نہیں سمجھتے؟ کیا یہ ریکارڈ پر نہیں کہ نااہل ہونے کے بعد نواز شریف نے پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت کی تھی تو تحریک انصاف نے اس پر اعتراض کیا تھا؟ یعنی ؎ تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی یوں لگتا ہے انصاف اور غیر جانبداری آج کی امت مسلمہ کے نزدیک سے بھی ہو کر نہیں گزری! ’’کفّار‘‘ کے ملکوں میں پارٹی کا سربراہ مجرم ثابت ہو تو ارکان خود اسے دروازہ دکھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ’’قانون پسندی‘‘ یہ ہے کہ ایک نااہل شخص مسلم لیگ نون کا اب بھی اوتار ہے اور دوسرے نااہل شخص کے بغیر تحریک انصاف کا دم گھٹتا ہے۔ عدالتوں کی تضحیک اور کیا ہو گی؟ اتنی حیلہ بازی تو بکے ہوئے نام نہاد فقہا بھی نہیں کرتے تھے۔ ارے بھائی! کیا بائیس کروڑ انسانوں میں زراعت کا ماہر ترین صاحب کے علاوہ اور کوئی نہیں؟ کیا زراعت میں ترقی نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، آئر لینڈ، ہالینڈ، ڈنمارک اور کئی دیگر ملکوں نے ترین صاحب کے علم اورتجربے کے بغیر نہیں کر لی؟ اصل بات وہی ہے جو اقبال کہہ گئے ؎ براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے ہوس سینوں میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں وزیر اعظم کی خوش نیتی پر کس کافر کو شک ہے! مگر خلق خدا بہر طور پریشان ہے کہ ؎ خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری تو کیا تحریک انصاف کی درویشی محض عیاری ہے؟؟

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *