سیاستدانوں کی پسندیدہ لاشیں۔۔۔رمشاتبسم

“خدا کے لوگوں نے میرے لوگوں کا خون پی کر نجات پائی” (جون ایلیاء)

ایک مشہور ڈائیلاگ ہے”سیاست تو لاشوں پہ ہی ہوتی ہے”  سیاست میں کوئی خونی یا انسانی رشتہ نہیں ہوتا ۔صرف ایک رشتہ  ہے اور وہ  رشتہ صرف ریاست کی طاقت یعنی اقتدارکی کرسی ہے  اس کرسی تک پہنچنے کے لئے چاہے کسی اپنے کا خون بہایا جائے یا کسی اپنے کی موت  کا سہارا لے کر سیاست کی جائے چاہے کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے یا پھر کسی کی موت  پہ واویلا مچا کر  طاقت کی کرسی پر پہنچنے کی کوشش کی جائے ,موت کے کھیل میں ہاتھ خون سے نہ بھی رنگے جائیں   پھر بھی  ہونے والی اموات پہ افسوس  کی بجائے ان اموات  کا سہارا لے کے تنقیدی رویہ اختیار کر کے کسی کو زیر اور خود کو بَرتر کر کے اقتدار کی طرف  راستہ آسان کر لیا جاتا ہے۔

کرسی کا نشہ دنیا کے مہنگے  سے مہنگے نشے پہ بھاری ہے کوئی بھی  دنیاوی  نشہ آپ کو چند لمحے کے لئے  مسرور کرتا ہے اور پھر نشہ اترنے کے بعد کچھ لمحے سکون رہتا ہے اور پھر نشے میں کمی کی شدت ہوتے ہی دوبارہ نشہ کر لیا جاتا ہے۔جب نشے کی لت  بہت بڑھ جائے  اور جسم کو لاغر کرنے لگے تو انسان  سدھ بدھ کھو کر  در بدر ٹھوکریں کھاتا ہے نہ کسی رشتے کی پرواہ نہ کسی غمی خوشی کا علم صرف اور صرف ایک چاہ تھوڑا نشہ اور کچھ سکون اور ایسے ہی  دربدر ہوتے یہ لوگ ایک دن کسی سڑک کسی راہ پہ دم توڑ دیتے ہیں۔

سیاست کا بھی ایک نشہ ہے کرسی  کی بھی ایک لت ہے، دن بہ دن جیسے اسکا نشہ بڑھتا ہے  انسان لاغر ہونے کی بجائے طاقت ور  ہونے کے طریقے ڈھونڈتا ہے  یہ نشہ صرف بڑھتا ہے اور بڑھتا ہی جاتا ہے اس میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، طاقت کا نشہ  اس قدر ظالم ہے کہ یہ نشے میں مبتلا لوگ  دربدر نہیں ہوتے نہ کسی سڑک پہ  نشے کی تلاش میں دھکے کھاتے نظر آ تے ہیں اور نہ ہی سدھ بدھ کھو کر  حال و بحال ہوتے ہیں، اس نشے میں مبتلا لوگ لاشیں نہیں بنتے بلکہ لاشوں پہ سیاست کرتے ہیں انکی سیاست کی دکان  گرم رہنے کے لئے  ہر وقت کسی نہ کسی لاش   کا ہونا ضروری ہے انکی سیاست اور مردہ خانہ  ایک برابر ہے مردہ خانہ میں لاشوں کو محفوظ کیا جاتا ہے انکو کچھ عرصے کے لئے گلنے سڑنے سے بچانے کے لئے کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں اورسیاست میں بھی لاش کے وجود کو  اس وقت  تک  زندہ رکھا جاتا ہے جب تک اپنی سیاست کی دکان کو اس لاش کے وجود  سے فائدہ پہنچتا رہے اکثر یہ  لاش  کچھ  زیادہ  عرصے کے لئے فائدہ پہنچاتی ہے یا پھر  نئی لاش پرانی لاش پہ حاوی  ہو جاتی ہے اور اس طرح نئی لاش کو پسند کرتے ہوئے اس سے ہونے والا فائدہ  زیادہ محسوس ہوتے ہوئے پرانی لاش پہ نہ صرف مٹی ڈال دی جاتی ہے۔

خریداری  میں  کپڑے جوتے پسند کر کے  ریٹ لگایا جاتا ہے  مگر سیاست کی خریداری میں کسی ایک مکمل حادثہ یا  بیک وقت ہونے والے حادثوں یا کسی حادثےکے ایک کردار  کی لاش پسند کی جاتی ہے اسکی درجہ بندی کی جاتی ہے  پھر کس لاش پہ کتنی  سیاست ہو گی کونسی لاش یا کونسا  حادثہ ہمیں ریاست کی کرسی تک پہنچا سکتا ہے کونسی لاش مخالفین کو زیر اور ہمیں مشہور کر سکتی ہے کونسی لاش پہ واویلا مچانے میں فائدہ ہے اور کونسی لاش پہ  خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی ہے۔مخالف سیاسی جماعت کی طاقت اور ساکھ  کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں سیاسی  شکست دینے کے لئے ریاست میں سیاست کرنے والے لاشوں کا انتخاب بخوبی اور  بہت سوچ بچار سے کرتے ہیں، کوئی ایک غلط فیصلہ یا ایک غلط لاش  انہیں  زیر بھی کرسکتی ہے اس لیے موت تو برحق ہے مگر کسی کی موت پہ سیاست  کے لئے  من پسند لاش چننا اور نازک حالات میں بھی اس لاش کو تازہ رکھنا اور اس  وقت تک تازہ رکھنا جب تک کوئی اس سے بھی  زیادہ اہم اور  زیادہ ریٹنگ والی لاش سامنے نہیں آتی سیاسی نشئی خوب جانتے ہیں۔
جون ایلیاء نے کیا خوب کہا ہے کہ
“سب خدا کے وکیل ہیں لیکن
آدمی کا کوئی وکیل نہیں”
بعض لاشوں کا انتخاب فرقہ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے کہ فرقہ واریت  پہ سیاست کی جائے اور  بعض لاشوں کا انتخاب   صوبوں کے  لحاظ سے کیا جاتا ہے کہ مخالف پارٹی کے صوبے کی لاش کو کس طرح سے اپنے مفاد اور مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے  مختلف مواقع اور حالات کی نزاکت اور ضرورت کے تحت مختلف صوبوں, رنگ و نسل, مذہب, فرقہ, رتبہ, مرتبہ, امیری اور  غریبی  مختلف   لاشوں کو استعمال کر کے سیاست کرنا بھی ایک سائنس ہے  کسی انتہائی نازک حادثے  پر سیاست میں اگر عروج اور مخالف کو   زوال مل سکتا ہے اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ غلط موقع پہ غلط لاش کا انتخاب آپ کے ہی خلاف ہو کر آپکی  تذلیل اور ناکامی کا باعث بن جائے لہذا انتہائی  منصوبہ بندی   کر کے ہی سیاست میں لاشوں پہ سیاست کی جاتی ہے اسی وجہ سے کئی بار فوری طور پہ کسی حادثے کی صورت میں کسی بھی پارٹی کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا بلکہ کچھ وقت لیا جاتا ہے پھر سوچا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے مکمل سوچ بچار سے طے کیا جاتا ہے کے اس معاملے کو کس طرح کس پارٹی کےخلاف کیسے استعمال کرنا ہے اور کب تک  اس معاملے میں گرم رہنا ہے اور اس عرصے میں  کتنا  زیادہ سوشل میڈیا استعمال کر کے لوگوں میں آگ لگانی ہے اور کتنی بار ٹی وی پہ نظر آ کر تیز و تند جملوں سے مخالف پارٹیوں کو آڑے ہاتھوں لینا ہے مکمل سکرپٹ رائٹنگ میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے لہذا پارٹیوں کی طرف سے بیان سامنے آنے  میں کچھ تاخیر ہو جاتی ہے۔اسی طرح ماڈل ٹاؤن کی لاشیں کچھ حکمرانوں کے لئے پسندیدہ رہی۔ جن پہ خوب واویلا مچایا گیا۔کسی کو انصاف سے غرض نہیں تھی۔بلکہ اپنی سیاست چمکانے کے لئے یہ لاشیں کچھ دلچسپ تھیں ۔سب سے زیادہ لاشوں پر عمران خان نے سیاست کی۔جس وقت وہ معصوم  زینب کے لئے آواز اٹھا رہے تھے سیاست چمکا رہے تھے عین اسی وقت خیبر پختونخوا  میں  سات سالہ بچی اسما کا قتل اور ریپ ہوا مگر عمران خان صاحب  نہ صرف مکمل خاموش رہے بلکہ جیو نیوز کے نمائندے نے جب اسما کیس کے متعلق سوال کیا تو عمران خان صاحب نے قہقہہ لگا کر کہا تم جیو کے ہو میں جواب نہیں دوں گا۔نقیب ﷲ کی لاش پر بھی عمران خان بھرپور سیاست کرتے رہے ہیں ۔مگر ساہیوال کی لاشیں نہ حکمران جماعت کے لئے دلچسپی کا باعث تھیں  اور نہ ہی دوسری سیاسی جماعتوں کے لئے۔۔۔ لہذا ساہیوال واقعہ میں سے کسی کی بھی لاش کسی حکمران کو پسند نہ آئی۔ عثمان بزدار کو گود لے کر اسکی تعلیم و تربیت پر توجہ دیتے ہمارے  وذیراعظم ہر دن لاہور تشریف لاتے ہیں۔تا کہ بزدار کی تعلیم و تربیت مکمل کر سکے۔اور ان کو لگنے والے حفاظتی  ٹیکوں میں کہیں  ناغہ نہ ہوجائے۔ لہذا عمران خان کا پورا دھیان صرف عثمان بزدار  پر ہے۔ہر دو ہفتے بعد پولیوں کے قطرے پلانے عمران خان خود تشریف لاتے ہیں۔ مگر معصوم بچوں کے سامنے انکے والدین کو گولیوں سے بھون دیا گیا مگر حکمران کا کوئی بیان  یا حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔

میرا مشورہ ہے کہ عثمان بزدار صاحب کو ایک ہی بار  دو تین لیٹر پولیوں کے قطرے اور حفاظتی انجیکشن لگا دیئے جائے۔ تا کہ عمران خان اس نو مولود بچے کی پریشانی چھوڑ کر عوام کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دے سکیں۔ اسکے ساتھ ساتھ مرغیوں۔کٹوں۔بکریوں سے اقرار نامہ حاصل کیا جائےاور اشٹام پیپر بنوا لیا جائے جس میں وہ  انسانوں کی بہبود کی خاطر اپنی بہبود کو کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کرنے پر تیار ہیں۔تاکہ عمران خان صاحب  مرغیالوجی, کٹیالوجی, بکریالوجی  کی  سوچ و بچار سے نکل کر انسانوں کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دے سکیں۔فرقہ عمرانی میں ابھی کافی حد تک کمی کا رحجان ہے  مگر کہیں نہ کہیں  ایک دو عمران خان کے چاہنے والے سانس لیتے نظر آتے ہیں۔جو  یقیناً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ  ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا اس لئے عمران خان کو طعنہ نہ دیا جائے۔انکے لئے عرض ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے جواب دہ ہیں۔ماضی کے سیاست دانوں کی حرکات سے مثالیں لا کر عمران خان صاحب کو  صحیح ثابت کرنے کی کوشش اب بند کر دیں۔لازمی نہیں کہ  ماضی میں جو کچھ  ہوا  اب عمران خان بھی وہی کریں گے۔اب عمران خان صاحب  پچپن روپے  خرچے والے جہاز میں سوراخوں والی قمیض پہن کر  جھولے لینا اور عوام   کو چکر دینا بند کر دیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *