لڑکیوں کی تربیت کے بعض دلچسپ پہلو۔۔۔فروا شیخ

دنیا میں میرا استقبال میرے شایانِ شان کیا گیا۔ یعنی بیٹے کی قسمت ایک بار پھر سے پھوٹنے پر دادی اماں نے آنسووٗں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل سو چل، کبھی میرے آنسو تو کبھی دادی کے۔ کیونکہ بقول شاعر ”آنسو خوشی کے غم کے ہوتے ہیں ایک جیسے“

بچپن میں ہم عمر کزنز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک دادی جان کی آواز کانوں میں پڑتی کہ بٹیا لڑکوں کے ساتھ کھیلنے سے قوتِ سماعت پہ شدید قسم کا اثر پڑتا ہے۔ اور ہم مستقبل میں کانوں میں آلات سماعت لگائے ہونقوں کی طرح خود کوتصور کر کے دل و جان سے کانپ اٹھتے۔ پھر اس کے گھر کے کونوں کھدروں میں گھس کر رب کا شکر ادا کیا جاتا کہ اس نے ہماری قوتِ سماعت کو سلامت رکھا ہے اور ہم ابھی تک دادی جان کی شیریں بیانی کو سن سکتے ہیں۔ دادی کی بے وجہ تنقید، با پ کا حد درجہ غصہ اور ماں کا اس سارے قصے میں عمل دخل کا بالکل نہ ہونا میری شخصیت کے بے شمار عیبوں کی وجہ ہے۔

اپنی زندگی کے بے شمار قضیوں کا ذمہ دار میں اپنے خاندانی ماحول کو سمجھتی ہوں۔ میں عمر کے چھبیسویں سال میں ہوں۔ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ میں نے فیملی کے ساتھ گزارا۔ زندگی اسی اصول پہ کاربند رہ کر گزری کہ بڑے جو کہتے ہیں ٹٹھیک ہی کہتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ بھی ٹھیک ہی کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا کلچر ہے کہ بڑوں کے پاس تجربہ ہوتا ہے چونکہ ان نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہوتے، اس لیے یہ ان کا پیدائشی حق ہے کہ ان کے فیصلوں کو بلا چوں چراں اور من و عن تسلیم کی کیا جائے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی یہ روایت ہے کہ بیٹی کہ پیدا ہوتے ہی اس کے آنے کا غم منانے کے ساتھ ساتھ اس ک جانے کے سامان کی تیاری بھی شروع کر دی جاتی ہے۔ میں نے بھی ہوش سنبھالا تو ماں کو اپنی بیٹیوں کے جہیز کے فکر میں مبتلا پایا۔ ٹھیک ویسے ہی جس طرح میری نانی نے ماں کا جہیز گھنٹوں محنت مزدوری کر کے پائی پائی جمع کرنے کے بعد بنایا تھا۔ نانی دن بھر محنت مشقت اور گھر کا کام کرنے کے بعد بقیہ وقت رب کی خوشنودی کے حصول میں صرف کر دیتیں۔

بالکل اسی طرح جس طرح ان کی ماں نے کیا تھا۔ خدا خدا کر کے بیٹی کی رخصتی کا وقت آیا۔ جہیز کے ساتھ دو، چار نصیحتیں پلے سے باندھ کر فریضہ ادا کیا گیا۔ ان نصیحتوں میں سرِفہرست شوہر کی اطاعت، اور صبر کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین تھی۔ اور یہ بات وہ بھی کان میں پھونکنا نہ بھولیں کہ شوہر کا گھر تمہارا آخری گھر ہے باپ کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اب جیسے ہو سکے نباہ کرنا۔

ماں نصیحتوں کا پلندہ اٹھا کر سسرال آئی اور پھر کبھی میکے میں نظر نہ کی۔ یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ماں کہا کرتی تھیں کہ شادی سے پہلے انہوں نے کبھی گھر سے قدم نہیں نکالا تھا سوائے ایک آدھ بار بیمار ہونے کی صورت میں دوائی لینے کے لیے۔ ماں بھی سادہ لوحی میں اپنی ماں کا پرتو تھی۔ شوہر کی اطاعت اور رب کی شکرگزاری کے سوا دنیا کے کسی بکھیڑے پہ نظر نہ کی۔ اولاد رب کے آسرے، اپنے اپنے تجربات کے ساتھ جوان ہوئی۔

بچوں، شوہر اور سسرال کو کھانا اور دوسری ضروریاتِ زندگی وقت پہ فراہم کرنا ہی زندگی کا مقصد سمجھا۔ یہ ساری باتیں قارئین کے ساتھ شئیر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک عورت کی زندگی پیدائش سے وفات تک دوسرے لوگوں کی اطاعت سے مشروط کر دی جاتی ہے۔ ہم زندگی کے اصل مقصد سے ہی نا آشنا ہے۔ اولاد خصوصاَ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی خاندان اور خاندان سے باہر اچھے کھاتے اوڑھتے لڑکے تلاش شروع کر دی جاتی ہے۔ شادی کی واحد شرط لڑکے کا کماوؑ ہونا ٹھہرتا ہے پھر اس کے ساتھ لڑکی کے پلے ایک نصیحت کے شوہر کا گھر نہیں چھوڑنا۔

میں نے ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں جو شوہر کا گھر تو نہیں چھوڑتیں لیکن اس گھر کا بھی کچھ نہیں چھوڑتیں۔ شوہر کی اطاعت گزاری کرتے کرتے بچوں کی کرکٹ ٹیم تو پیدا کر لی جاتی ہے۔ لیکن پھر اوپر تلے کے بچوں کی ضروریات اور ان کی طبیعت کے حساب سے پرورش کرنا ان کے بس کی بات نہیں رہتی۔ نتیجتا َ کیچڑ میں گندھی ایک ہاتھ میں چپل پکڑے دوسری میں گندی نیکر اٹھائے بچے، بچیاں معاشرے کی کالی بھیڑوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

ہماری زندگی کا مقصد شادی کر کے بچے پیدا کر کے مر جانا نہیں ہے۔ بلوغت کے تقاضوں کے مطابق بچوں کو اچھی اخلاقی، معاشرتی تربیت دینا بھی والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ عورت بحثییت ماں کے تربیت میں اہم ذمہ دار سمجھی جاتی ہے تو ماں کے کاندھوں پہ یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو عمر اور بلوغت کہ لحاظ سے جنسی تعلیم سے بھی بہرہ ور کرے تاکہ وہ چھوٹی عمر کے جنسی استحصال سے بچ سکیں۔ اچھے اور صحت مند سوچ کے حامل معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ اہم زندگی اور شادی کے مقصد کو پہچانیں۔

بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ شادی کے بعد کی ذمہ داریوں کا بھی بتانا چاہیے، اور ان کو سمجھانا چاہیے کہ شادی ضرف ا س لیے نہیں کی جاتی کہ مرنے کہ بعد تمہارا جنازہ ہی شوہر کے گھر سے نکلے۔ بچوں کی تربیت ان کو دیا گیا اچھا ماحول ہی ان کی متوازن شخصیت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اپنی تربیت میں نقائص کے ساتھ ہم اگر یہ توقع کریں گے کہ کوئی بہن بھائی کی زیادتی کا شکار نہیں ہو گی اور کوئی بھانجی ماموں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا نشانہ نہیں بنے گی تو یہ ہماری کج فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *