• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • معروف مبلغ مولانا عیسی خان کیساتھ ایک طویل نشست ۔۔۔۔ امیرجان حقانی

معروف مبلغ مولانا عیسی خان کیساتھ ایک طویل نشست ۔۔۔۔ امیرجان حقانی

مولانا عیسی خان صاحب گلگت بلتستان میں شینا زبان کے سب سے بڑے خطیب ہیں۔ مولانا اپنے مخصوص طرز خطابت اور تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔1978 سے  آج  تک دعوت تبلیغ کیساتھ منسلک ہیں۔اور شینا خطابت پر بلاشرکت غیر مولانا کا راج ہے۔
یہ غالباً 1993 کی بات ہے۔ میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ گوہرآباد میں تبلیغی جماعت کا جوڑ ہوا۔داریل سے مولانا عیٰسی خان صاحب تشریف لائے۔اپنے مخصوص وعظ میں اہالیان گوہر آباد کے دل و دماغ جھنجھوڑ دیے۔مولانا جب طرز لگاتے ہیں تو سامعین مبہوت رہ جاتے ہیں۔بڑے سے بڑا عوامی  مجمع  پر سکوت طاری ہو جاتا ہے۔سامعین منہ میں انگلی دابے بہت ہی غور سے مولانا کو سنتے رہتے ہیں۔
گوہرآباد کے جوڑ میں مولانا نے اپنے کلیدی خطبے کے آخر میں سامعین شرکاء سے ایک وعدہ لیا کہ ،ہرآدمی اپنا ایک بیٹا دینی تعلیم کے لیے وقف کرے گا۔ میرے والدماجد نے بھی بطور وعدہ ہاتھ کھڑا کیا۔ اگلے دن مجھ سے کہا کہ میں نے مسجد میں اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ اپنے ایک بیٹے کو دینی تعلیم دلاوں گا۔چونکہ آپ میرے اکلوتے بیٹے ہیں لہذا کل سے  آپ ہی قاری اشرف صاحب سے حفظ قرآن کا  آغاز کیجیے۔ ۔پھر یوں ہوا کہ میں پہلے ٹائم اسکول جاتا، سیکنڈ حفظ قرآن کیساتھ جڑ گیا۔ درمیان میں کچھ عرصہ یہ سلسلہ منقطع بھی ہوا اور دوبارہ ایسا جڑا کہ 1999 سے تاحال دینی علوم کیساتھ عصری علوم کی تعلیم و تدریس اور ترویج کا سلسلہ جاری ہے۔الحمدللہ!
مشاہیر علما ٕ گلگت بلتستان نامی کتاب کےلیے 2007سے گلگت بلتستان کے علما ٕ کرام کی سوانح عمریاں جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اب تک درجنوں علما ٕ کی مختصر سوانح قلم بند کرچکا ہوں۔ آج مدرسہ صفہ پڑی بنگلہ کے سالانہ جلسے میں مولانا عیسی خان کا خطاب سنا۔ مولانا بہت ضعیف ہوچکے ہیں۔ضعف اور بیماریوں کے باوجود بھی مولانا نے خطابت کے جوہر دکھائے۔ وہ اپنے مخصوں طرز خطابت کے خود موجد ہیں اور انہی پر وہ طرز ختم ہے۔ تقریب کے بعد مولانا سے تین چار گھنٹوں پر مشتمل ایک طویل انٹرویو کیا جو پہلے سے طے شدہ تھا۔یہ انٹرویو بطور تحریر میری کتاب مشاہیر علما ٕ گلگت بلتستان کا حصہ بنے گا۔
مولانا نے بلاکم وکاست اپنی پوری زندگی میرے سامنے رکھی اور میں نے ایک ایک چیز نوٹ کی ۔مولانا کی زندگی کی چوالیس بہاریں دعوت تبلیغ میں صرف ہوئیں۔اور پندرہ سال دینی علوم کی تحصیل میں لگے۔یعنی جب سے ہوش سنبھالا تب سے آج تک دین کی تحصیل اور تبلیغ کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دوران انٹرویو اہل علم کے لیے بہت سے نصائح فرمائی۔انہوں نے فرمایا”علم کی قدر خود علمإ کرواسکتے ہیں مگر افسوس علما ٕ خود علم کو دنیا ، دنیا داروں اور حکومتوں کے دروازے تک لے جاتے ہیں اور انکے پاوں میں رکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں علم اور صاحبان ِعلم کی کیونکر عزت اور قدر کی جاسکتی ہے۔“مولانا نے دعوت تبلیغ میں جڑنے کے بعد سرکاری نوکری سے استعفی دیا۔چار سال بطور اورینٹل ٹیچر اسکول میں پڑھایا پھر تبلیغی سرگرمیوں اور اسفار کی کثرت کی وجہ سے جاب سے استعفی دیا۔سرکاری نوکری کیساتھ داریل پھوگچ میں اپنی مسجد میں تدریس بھی کی۔جو چھ سال جاری رہی۔تبلیغ کی وجہ سے تدریس کا سلسلہ بھی جاری نہ رکھ سکے۔
مولانا مرجع خلائق ہیں۔وسعت قلبی اور امت کو جوڑنا ان کی زندگی کے اساسی مقاصد میں شامل ہے۔وہ دین کی عالمگیریت کے دل و دماغ سے قائل ہیں۔مولانا عامة الناس سے بھی گزارش کرتے رہتے ہیں کہ وہ دینی اداروں اور دعوت تبلیغ کیساتھ جڑیں۔ مولانا نے یہ بھی کہا جو بھی دین کی خدمت اور اصلاح امت کرتا ہے اس کی قدر کرنی چاہیے۔اور مدد کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا”جماعت اسلامی والے بھی دین کی دعوت دیتے ہیں اور نوجوانوں کو دین کی طرف بلاتے ہیں۔ ان سے اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ دین کے کاموں میں معاون ہوتے ہیں جو بہت اچھی بات ہے۔“
مولانا سے انٹرویو کے بعد دعا کی درخواست کی تو میرے حق میں ایک رقت آمیز اور خلوص بھری  دعا فرمائی ۔مولانا مستجاب الدعوات بزرگ عالم دین ہیں۔ اللہ حضرت کی دعا قبول فرمائیں ۔ میرے ساتھ برادرم شیراز عالم بھی تھے۔وہ بھی مولانا کی باتیں غور سے سنتے رہے۔ میں احترام و محبت میں کسی کے ہاتھ نہیں چومتا مگر مولانا میں للہیت اور سوز وگداز اتنا زیادہ ہے کہ فرطِ محبت میں رخصت ہوتے ہوئے بلا اختیار مولانا دامت فیوضہم کے ہاتھ چوم لیے۔حضرت نے بھی کمال شفقت سے رخصت کیا۔ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا محمد یوسف دینی علوم کی تحصیل میں لگا ہوا ہے۔ دارالعلوم غذر کے طالب علم ہیں اور مجھے سے عربی کورس بھی کیا ہے۔مولا! درست معنوں میں یوسف کو اپنے والدماجد کا جانشین بنائے۔یہی مولانا کی چاہت بھی ہے۔ مولانا عیسی خان کی سوانح عمری بطور انٹرویو محفوظ کی  ہے۔ زندگی رہی تو تمام تفصیلات  آپ کے گوش گزار کرونگا۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *