• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسائلم کیلئیے ہتھکنڈے کیوں استعمال ہوتے ہیں۔۔۔انعام رانا

اسائلم کیلئیے ہتھکنڈے کیوں استعمال ہوتے ہیں۔۔۔انعام رانا

مجھے برطانیہ میں بطور وکیل کام کرتے ہوے اس سال دس برس ہو گئے۔ اسائلم میری کچھ “ایکسپرٹیز” میں سے ایک ہے۔ کم و بیش چار سو سے زائد اسائلم کیسز کر چکا ہوں سو کئی قسم کی کہانیوں سے واقف ہوں جو ظاہر ہے اپنی پروفیشنل حدود کی وجہ سے ڈسکس نہیں کرتا۔ البتہ اس ایشو پہ کچھ نظر سے گزرے تو دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ آج محترم رضوان خالد چوہدری کے توجہ دلانے پر برطانیہ میں مقیم ایک صاحب کا مضمون نظر میں آیا۔ عنوان ہی توجہ کھینچ لینے والا تھا کہ “برطانیہ میں اسائلم کیلئیے استعمال کئیے جانے والے ہتھکنڈے”۔ سوچا کچھ نیا ملے شاید تو تفصیل سے پڑھا۔ 

پہلے تو معلوم ہوا کہ آدھے سے زائد مضمون ہی عنوان سے غیر متعلقہ تھا اور جانے کیوں سٹوڈنٹ ویزہ اور پالیسیاں غیر ضروری تفصیل سے ڈسکس کی گئی تھیں۔ خیر پھر اسائلم کی بھی باری آئی مگر اس سے قبل ہی اندازہ ہوا کہ مضمون نگار نے سنی سنائی پہ لکھا ہے کیونکہ امیگریشن لا کے بارے میں فاش غلطیاں تھیں۔ چونکہ یہ غلطیاں قارئین کو کنفیوز یا مس گائیڈ کر سکتی ہیں سو انکا ذکر بھی ضروری ہے۔ 

پہلے تو صاحب مضمون نے لکھا کہ ورک پرمٹ پہ سیٹلمنٹ نہیں ہو سکتی اب۔ یہ بات غلط ہے۔ اگر تنخواہ کا مخصوص لیول دکھایا جائے تو ورک ویزہ یا ٹائر ٹو پہ پانچ سال بعد سیٹلمنٹ ہو سکتی ہے۔ 

پھر فرمایا کہ کیونکہ اب بریگزٹ ہو گیا تو لوگ یوروپین کے فیملی ممبر بن کر یہاں نہیں رہ سکیں گے۔ یہ بھی غلط ہے۔ جو یورپی انتیس مارچ دو ہزار انیس تک یوکے میں سیٹل یا پری سیٹل سٹیٹس پہ پورا اترتے ہیں انکے تمام یورپی رائیٹس قائم رہیں گے یعنی وہ پہلے ہی کی مانند اپنا فیملی ممبر یوکے میں سپورٹ کر سکیں گے اور بلا بھی سکیں گے۔ کچھ شرائط شاید بدل جائیں مگر ابھی تک تو ایسا کچھ نہیں۔ 

تیسری غلطی فرمائی کہ بزنس ویزے پہ لوگ آ سکتے ہیں بتلایا۔ مضمون نگار کو شاید معلوم نا تھا کہ جس بزنس ویزے کا ذکر وہ کالم میں فرما رہے ہیں وہ سکیم ختم ہو چکی ہے۔ اسکی جگہ نئی سکیمز آ گئی ہیں۔ دعا ہے کہ کوئی انکو پڑھ کر بزنس ویزہ ہی اپلائی نا کر دے۔ میرا اپنے دوست کو مشورہ ہے کہ میری فرم کا فیس بک پیج فالو کر لیں تاکہ معلومات سے اپڈیٹ رہا کریں۔ 

پھر فرمایا کہ اسائلم انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اسائلم جنیوا کنونشن ۱۹۵۱ کے تحت دیا جاتا ہے۔ گو یہ کنونشن انسانی حقوق کے چارٹر کے آرٹیکل چودہ کی بنیاد پہ ہی قائم ہوا تھا مگر اسائلم دیا کنونشن کے تحت جاتا ہے۔ خیر یہ تو بہت تکنیکی نکتہ ہے۔ 

مضمون چھاپنے والی سائیٹ کو خیر ان باتوں کا کیا پتہ ہو گا اور انھوں نے انگلینڈ مقیم ہونے کی وجہ سے صاحب تحریر کی معلومات پہ انحصار کر لیا۔ لیکن بہتر ہوتا اگر صاحب تحریر کچھ ریسرچ فرما لیتے۔ گو وہ وکیل نہیں ہیں مگر ایسے پروفیشنل معاملات پہ لکھتے پوے احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ غلطی لوگوں میں گمراہی کا باعث بنتی ہے۔ بہتر ہوتا ہے اگر سنی سنائی کے بجائے کسی پروفیشنل دوست سے جو موضوع کے متعلق جانتا ہو معلومات لے لی جائیں۔ 

خیر مضمون کا مزیدار حصہ وہ تھا جہاں صاحب مضمون “منافق پاکستانیوں” پر شدید غصہ میں تھے کہ وہ اپنے ملک میں تو مخالفت کرتے ہیں مگر برطانیہ میں ہم جنس پرست بن کر یا قادیانی بنیاد پہ اسائلم لے لیتے ہیں۔ پھر اعلی اخلاقی بنیادوں پہ فائز ہو کر فرمایا کہ “گو میں ذاتی طور پہ ہم جنس پرستی وغیرہ کو برا سمجھتا ہوں مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا نا ہی تبدیلی دین سے۔ البتہ “اگر آپ اتنے ہی کٹر مذہبی ہیں تو یہاں قیام کیلئیے پھر یہ راستہ کیوں چن رہے ہیں”۔  یہاں صاحب مضمون پھر سنی سنائی پہ یقین کرنے کی وجہ سے غلطی کر گئے۔ 

یہ سچ ہے برطانیہ میں قادیانی بنیادوں پہ لوگ اسائلم لیتے رہے۔ لیکن جیسا مضمون سے لگ رہا ہے، اسکے برعکس اب ایسا نہیں ہوتا، دراصل ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ میں خود احمدی حضرات کے اسائلم کیسز کر چکا ہوں تو یہ بات مکمل ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں۔ دراصل بہت سی شکایات کے بعد حکومت برطانیہ اور جماعت احمدیہ نے کچھ پروٹوکولز سیٹ کئیے تھے اب سے تیرہ چودہ سال قبل۔ چنانچہ اگر کوئی بھی قادیانی ہونے کی بنیاد پر اسائلم یا پروٹیکشن کی درخواست دے تو سب سے پہلے اسکی ڈیٹیل ویری فیکیشن کیلئیے احمدیہ مرکز برطانیہ بھیجی جاتی ہے۔ یہاں سے وہ تفصیل لوکل جماعت جو کہ درخواست دہندہ کے شہر میں ہوتی ہے اسے بھیجی جاتی ہے۔ چنانچہ گراونڈ لیول سے یہ ویریفیکیشن آتی ہے کہ آیا یہ شخص واقعی قادیانی ہے؟ اگر ہے بھی تو کیا واقعی اسے جان کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا؟ بلکہ مجھے میرے ایک احمدی کلائنٹ نے بتایا کہ انکے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے بلاوجہ اسائلم ڈالنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوے مذہبی بنیادوں پہ روکا جاتا ہے کہ کھوٹی اپلیکیشن کی وجہ سے کسی سچے اسائلم سیکر کا رستہ نا رک جائے جو واقعی ہی “پرسیکیوشن” کا شکار ہو۔ ایسے میں کسی مسلمان کا قادیانی بن کر اسائلم لینا ممکن ہی نہیں۔ 

یہ سچ ہے کہ بہت سے مسلمان ہم جنس پرست بن کر اسائلم لیتے ہیں۔ زیادہ تعداد انکی اس لئیے ہے کہ زیادہ تر اسلامی ممالک میں ہی یہ جرم ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کئی نوجوان جھوٹ بول کر یہ اسائلم لیتے ہیں۔ لیکن سب ہی جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے اور نا ہی سب بقول مضمون نگار دراصل قادیانیوں اور ہم جنس پرستوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ بھی دراصل اکثر یہاں رہ کر صاحب مضمون جیسے ہی ہو جاتے ہیں کہ “سانوں کی”۔ 

اچھا اک قصہ سنئیے۔ ہم سکاٹ لینڈ میں پڑھ رہے تھے تو میرے دوست وکیل مزمل مختار بطور ٹرانسلیٹر اک اسائلم ایکسپرٹ گوری کے ساتھ کام کرنے لگ گئے۔ بتانے لگے کہ اک دن اک پاکستانی کا انٹرویو تھا جس میں یہ بطور مترجم تھے۔ بعد از انٹریو گوری وکیل نے کہا “مزمل یہ سب جھوٹ بول رہا تھا فقط اسائلم لینے کیلئیے”۔ مزمل شرمندہ سے ہوا ہی چاہتے تھے کہ پھر بولی “مزمل وہ بالکل درست کر رہا تھا۔ جس غربت کا شکار وہ اپنے ملک میں تھا، اچھے مستقبل کیلئیے وہ چاہے جھوٹ بول کر “پکا” ہونے کی کوشش کرے، وہ غلط نہیں ہے”۔ یہ بتاتا چلوں کہ وکیل صاحبہ کمیونسٹ تھیں۔ 

جو بات اس گوری کو سمجھ آ گئی وہ ہمارے اعلی اخلاقی اقدار کے مالک پاکستانی مضمون نگار کو سمجھ نا آ سکی۔ وہ مضمون نگار، میں خود یا کوئی بھی جھوٹا سچا اسائلم سیکر خوشی خوشی ملک نہیں چھوڑتا۔ یہ حالات ہوتے ہیں جو ہمیں اپنی دھرتی ماں کی آغوش چھوڑنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ وہ ممالک جن کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ہماری دھرتی غربت اور جہالت کی گہرائیوں میں گری، وہ ممالک اپنی ترقی یافتہ زمین پہ نیشنل سٹیٹ کی تختی لگائے باڈر محفوظ کئیے ہوے ہیں۔ ایسے میں اپنی دھرتی، اپنے گھر والے، اپنے دوست چھوڑ کر ایک غیر سرزمین پہ آنے والے مجبوروں، جو ذمہ داریاں ادا کرنے اور اپنے گھر والوں کا بہتر مستقبل تلاش کرنے نکلتے ہیں، ان پہ اس قدر غصہ درست نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ مضمون نگار یا میں خود کسی نا کسی سکیم پہ پورا اترتے تھے اور “ہتھکنڈہ” استعمال کئیے بنا ہی برطانیہ سیٹل ہو گئے ہیں اور ہر وقت “پاکستانیوں سے مایوس رہتے ہیں”۔ مگر وہ لوگ جو محنتی ہیں مگر مجبور ہیں اور ہتھکنڈے استعمال کئیے بنا کوئی اور حل نہیں پاتے، ان سے ہمدردی رکھئیے۔ وہ بھی ہمارے اپنے ہیں اور حالات کے شکار۔ 

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اسائلم کیلئیے ہتھکنڈے کیوں استعمال ہوتے ہیں۔۔۔انعام رانا

  1. قانونی معاملات اور ضرورت کے معاملات الگ ھیں اور ضرورت کے معاملات کی وجہ سے بہت سے اخلاقی معیارات قایم نھیں رھتے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *