ہفتہ، 19 اکتوبر 2019ء

  • صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ’’قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار‘‘۔۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ/حصہ اول

’’قصیدہ بانت سعاد اور لاہور کی تلوار‘‘۔۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ/حصہ اول

گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں ہوتی جاتی تھی تو بائیں جانب کھڑکیوں میں سے کھجوروں کے جھنڈ نظر آنے لگتے تھے تو کم از کم تین چار مسافر ضرور پکار اٹھتے تھے کہ لو بھائی جان شاہدرہ آ گیا ہے اور جب ریل گاڑی راوی کے پل پر پہنچتی تھی تو ’’ لو بھائی جان لاہور آ گیا ہے‘‘ کے نعرے لگتے تھے۔ کھجور کے ان جھنڈوں میں ان پاکستانی فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی جن میں عرب ماحول دکھانا مقصود ہوتا تھا۔ ہیرو عرب لباس زیب تن کئے رباب بجا رہا ہے اور ہیروئن چہرے کو ایک نقاب میں پوشیدہ کئے ٹھمکے لگاتی۔’’حبیبی ہیا ہیا‘‘ گا رہی ہے۔ اکثر اس دوران کھجوروں سے پرے ایک سڑک پر سے کوئی تانگہ یا بس بھی گزر جاتی تھی لیکن اتنی باریکیوں میں کون جاتا تھا۔ کہتے ہیں دو افیونی ذرا جھوم سے گئے۔ جذباتی ہو گئے اور کہنے لگے‘ یار فیقے زندگی کا کچھ پتہ نہیں۔ حج نہ کر آئیں۔ چنانچہ بمشکل اٹھے اور اپنے تئیں مکہ مکرمہ کا خ کر لیا۔ صبح سویرے لاہور سے شاہدرہ کے اس کھجوروں کے جھنڈ تک پہنچے تو ان میں سے ایک کجھوروں کے درخت دیکھ کر ہراساں ہو گیا۔ ساتھی سے کہنے لگا یار کہیں مکہ پیچھے تو نہیں رہ گیا۔ دوسرا کہنے لگا۔ چلو خیر ہے۔ مدینے ہو آتے ہیں۔ ان زمانوں میں جی ٹی روڈ سے مقبرہ جہانگیر تک کوئی آبادی نہ تھی۔ صرف ایک ریلوے پھاٹک حائل ہوتا تھا۔ اور اب ان زمانوں میں کھجوروں کا شائد ایک آدھ درخت کہیں موجود ہو ورنہ بسوں اور ویگنوں کے ہجوم اور خلق خدا مکوڑوں کی مانند رینگتی ہوتی۔ مقبرہ جہانگیر کا پورا منظر بے ہنگم آبادیوں میں دفن ہو چکا ہے۔ البتہ مقبرے کے صدر دروازے تک پہنچے تو یقین آیا کہ شہنشاہ صاحب یعنی نور الدین جہانگیر بادشاہ غازی کا شائد سراغ مل ہی جائے۔ اس صدر دروازے کے دائیں جانب پارکنگ سے پرے مقبرے کے ایک شکستہ برج کے قریب ایک بہت قدیم کنواں اب تک موجود ہے جس کی لوگوں کو خبر ہی نہیں۔ امکان یہی ہے کہ یہ ان کنوئوں میں سے ایک ہے جو مقبرے کے تالابوں اور فواروں کو پانیوں سے سیراب کرتے تھے۔ اب تو اس کنوئیں میں کاٹھ کباڑ ڈھیر ہے‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار یہ کنواں مغلیہ عہد کی ایک شاندار اور نہائت پرشکوہ عمارت ہے جس کی جانب آثار قدیمہ والوں کا دھیان کبھی نہیں گیا۔ چھوٹی نانک شاہی اینٹوں سے تعمیر کردہ اس کنویں کا گھیر اتنا بڑا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ اس کی تہہ میں ابلنے والے پانیوں کی فراوانی اتنی وسیع ہوتی ہو گی کہ اس پر ایک گول تالاب کا گماں ہوتا ہو گا۔ کنویں کے اندر جھانکئے تو آپ کو اینٹوں میں تعمیر کردہ محرابی طاقچے نظر آئیں گے جن میں چراغ جلتے ہوں گے۔ اب ان طاقچوں میں کوڑا کرکٹ بھرا ہے اور وہ زوال پذیر ہیں۔ اس کنویں کا طرز تعمیر بہت منفرد اور شاہانہ انداز کا ہے کہ اسے بھی تو جہانگیر کے مقبرے کی مانند شاہجہان نے بنوایا ہو گا۔ ذرا توجہ درکار ہے۔ بہت کم لاگت سے اسے بحال کیا جا سکتا ہے اور تب یہ نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لئے حریت اور سرخوشی کا منبہ بن جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ کاٹھ کباڑ تلے ابھی تک اس کے قدیم پانی دن کی روشنی دیکھنے کے لئے ترستے ہیں۔ صدر دروازے کے اندر داخل ہوئے تو کم از کم میری آنکھوں میں گئے زمانوں کی ایک دھند پھیل گئی۔ بہت طویل زمانوں کے بعد میں اس قدیم عمارت میں داخل ہو رہا تھا۔ ان زمانوں میں اہل لاہور کی آئوٹ ڈور تفریح اور رومان کے تقریباً تین اہم ٹھکانے تھے۔ لارنس گارڈرن‘ شالیمار باغ اور مقبرہ جہانگیر۔ ایک پرانے عاشق مزاج لاہوریے کا کہنا ہے کہ میں اسے لاہوریا تسلیم کرنے سے انکاری ہوں جو کبھی جوانی میں کسی لڑکی کے ساتھ چوری چھپے لارنس گارڈن نہ گیا ہو۔ وہاں پوشیدگی کے کافی سایہ دار اور مخفی سے گوشے ہیں۔ اسی طور مقبرہ جہانگیر میں بھی اس نوعیت کی سہولت شاہجہان کی سرائے کی درجنوں محراب دار کوٹھڑیوں کی صورت حاصل تھی۔ ان کے اندر دن کے وقت بھی شب کی سیاہی کا سماں ہوتا ہے جو نہائت مفید ثابت ہوتا ہے۔ دائیں جانب بلند محرابی دروازے کے پار جہانگیر کامدفن‘ بائیں جانب ایک قدیم گنبدوں والی مسجد کے پار آصف جاہ کا اجڑا ہوا گنبد اور درمیان میں وہ سرائے ‘ لگ بھگ سو محراب دار کمروں پر مشتمل۔ اب بھی رہائش کے قابل اور سرائے کے درمیان میں ایک وسیع میدان نما سبزہ زار جہاں گئے زمانوں میں کاشغر اور سمر قند کے قافلے اترا کرتے تھے۔ ان میں سے بیشتر کی منزل مغل سلطنت کا تخت دہلی ہوا کرتی تھی اور چند ایک صرف طویل مسافتوں کے بعد لاہور میں اپنا آخری پڑائو ڈال دیتے تھے۔ اور وہ کون سی مصنوعات تھیں شہر لاہور کی ساختہ جن کی پوری سنٹرل ایشیا میں دھوم تھی اور جن کے حصول کے لئے یہ غیر ملکی سوداگر اگلی سویر شہر لاہور کی گلیوں کے پر اشتیاق مسافر ہو جاتے تھے۔ یہ شہر نیل کی سب سے بڑی منڈی تھا جسے انڈیگو کہا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطاق دور جدید کے سب سے مقبول پہناوے’’نیلی جین‘‘ کی نیلاہٹ کا ماخذ بھی لاہور کا نیل ہے۔ دیگر بے شمار نادر دستکاریوں کے سوا لاہور شہر کے کاریگر دنیا کے بہترین ہتھیار بنانے اور ڈھالینے میں ماہر تھے۔ کمانیں بنانے والوں کا محلہ کمانگراں تھا اور تیربنانے والے کاریگر’’محلہ تیر گراں‘‘ کے باشندے تھے۔ ان تیروں کے توازن کے لئے چڑیوں کے پر استعمال کئے جاتے تھے چنانچہ ’’محلہ چڑی ماراں‘‘ کی نسبت یہی ہے۔ لیکن یہ چڑیوں کے شکاری لوگ ظلم کرنے والے نہ تھے۔ چڑیاں جال سے پکڑ کر ان کے پر نوچ کر انہیں آزادکر دیتے اور آئندہ موسموں میں یہی چڑیاں بال و پر کے ساتھ پھر سے ان کے رزق کا سبب بن جاتیں۔ دنیا میں دو شہر ایسے تھے جہاں کی ڈھالی ہوئی تلواروں کی دھار پر ململ کا ایک دوپٹہ گرایا جاتا تو وہ دو نیم ہو جاتا۔ ایک دمشق اور دوسرا لاہور۔ البتہ لاہور تلواروں کی تزئین کے حوالے سے دمشق پر سبقت رکھتا تھا۔ دنیا میں ہتھیاروں کے ایسے عجائب گھر ہیں جہاں لاہور کی ساختہ تلواریں نمائش پر ہیں اور ان کے دستوں پر جو گل بوٹے نقش ہیں ان پر لاہوری نقاشوں کے نام کھدے ہوئے ہیں۔ ایک روائت کے مطابق قصیدہ بانت سعاد میں بھی رسول اللہؐ کو ایک ہندی تلوار سے تشبیہ دی گئی جس پر حضورؐ نے اس کا متبادل تجویز کر کے تبدیل کرنے کا حکم فرمایا تھا اور ہندی تلوار سے مراد ہی لاہور کی تلوار ہوا کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب لاہور ٹیلی ویژن سے پاکستان کے چنیدہ نثر نگاروں کے بارے میں ’’داستان گو‘‘ نام کا پروگرام یوسف کامران کی میزبانی میں شروع ہوا ‘اور میں اگرچہ ابھی فکشن میں مکمل طور پر بالغ نہ ہوا تھا‘ مجھے بھی اس مختصر فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ یوسف کامران جو کہ ایک انتہائی خوبرو اور بے مثال میزبان تھا۔ میرا پروگرام ریکارڈ کرنے کے لئے مجھے اسی شاہجہان کی سرائے میں لے آیا تھا کہ بقول اس کے ایک آوارہ گرد کے پس منظر میں تاریخی قدامت کی پرچھائیاں ہی اس کی شخصیت کو اجاگر کر سکتی ہیں۔ ’’داستان گو‘‘ میں میری دو تحریروں یعنی ’’فاختہ‘‘ اور ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے کچھ حصے ڈرامائی شکل میں پیش کی گئیں ’’فاختہ‘‘ کے کردار میں شائد ثمینہ احمد اور شاید شعیب ہاشمی تھے کہ یادداشت ساتھ نہیں دے رہی۔ البتہ ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کی پاسکل کے روپ میں سلیمہ ہاشمی بہت خوبصورت لگی تھی البتہ سنان کے روپ میں جمشید انصاری ایسا تھا جیسا کہ وہ ہوا کرتا تھا۔ جیسے تاج محل کی پہلی جھلک ایک بلند محرابی دروازے میں سے ظاہر ہو کر آنکھیں سفید کر دیتی ہے ایسے مقبرہ جہانگیر کی عمارت بھی اس نوعیت کے شاندار صدر دروازے میں سے ایک ساکت تصویر کی مانند نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان زمانوں میں جب کہ مقبرے کے چاروں طرف درجنوں تالاب اور سینکڑوں فوارے اس کی تزئین کرتے تھے اسے تاج محل اور قطب مینار کے بعد ہندوستان کی سب سے پرشکوہ عمارت قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ ذاتی طور پر مجھے اس رائے سے خفیف سا اختلاف ہے کہ تاج محل کا ہندوستان پاکستان میں کیا دنیا بھر کی کسی عمارت سے موازنہ کرنا یا کسی فہرست میں شامل کرنا’’ابر کے رخسار پر ایک آنسو‘‘ تاج محل کی شان میں گستاخی ہے۔ (جاری)
بشکریہ 92 نیوز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *