بڑے ممالک اپنی من مانی بند کریں۔۔۔۔۔ وقار اسلم

امریکہ اور روس کی آپسی چپقلش کا نتیجہ نہ ختم ہونے والا ہے،ملک  شام کو سالہا سال سے  کھنڈرات میں بدلا جاتا رہا اور اس کی وجہ یہ رہی کہ روس نے پہلے اپنی منوانے کی غرض سے چوہدراہٹ ختم ہونے سے بچانے کے لئے بشار الاسد کی حکومت کا ساتھ دیا جب ٹینک اور گولہ بارود کا بے جا استعمال ہوا تو امریکہ نے پہلے ہی اپنی جان سے تنگ آئے نہتے لوگوں کے ہاتھ میں موجود پتھر کھینچ کر انہیں اسلحہ تھما دیا اور یہ معمہ شہریوں اور حکومت کے درمیان جنگ کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے شامی بحران کے حل کے لئے روس کے صدر ولادی میر پوتن کو پلان پیش کیا ہے۔

خبر کے مطابق اس سرکاری شخصیت نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے گذشتہ ماہ اپنے دورہ ماسکو کے دوران پوتن کے ساتھ مذکورہ پلان کا تبادلہ کیا۔ پلان کا ہدف ایران کو شام سے نکالنا تھا اور پوتن نے اس پلان کے ساتھ دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا جس کی روس نے تردید کی ،جو بھی ہو کہیں نا کہیں تو عالمی قوتیں اس خون کی ہولی کے پیچھے کارفرما ضرور ہیں۔ صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جی چاہتا ہے تو القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا  اعلان کر دیتے ہیں ،جی چاہتا ہے تو شام کی گولان پہاڑیوں کو قابض اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں، ہم نے بھی جواب دیا ہے اور آئندہ بھی دیں گے ترکی جواب دینا جانتا ہے۔ ترک صدر نے جرا ت مندی کا ثبوت دیا، کبھی حماص کی موجودگی کا کہہ کر شام کے مسئلے میں نیا بکھیڑا کھڑا کیا جاتا ہے ، جبکہ ایران خود امن پسند ہے اور سعودیہ کی طرح وہ بھی ان دہشتگرد گروہوں سے چھٹکارا چاہتا ہے ۔ تو کبھی کوئی اور بہانہ استعمال کر تا ہے۔

25 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع گولان کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے دستاویزات پر دستخط کر دیئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے وہائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران دستاویزات پر دستخط کیے۔اس اقدام نے امریکہ کی پالیسی کو نصف صدی سے زائد عرصے پیچھے دھکیل دیا ہے۔اب جب امریکی صدر کے الیکشن میں روسی مداخلت کے شواہد نہیں ملے اور امریکا روس سے اچھے دوستانہ تعلقات بڑھا رہا ہے تو انہیں ضرورت ہے کہ یہ ڈرامہ، یہ مکر و فریب کا شور و غوغا  بند کر کے انسانیت کا ہی کچھ پاس رکھ لیں ۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 میں 6 روزہ جنگ کے دوران گولان پہاڑیوں، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کیا تھا۔سلامتی کونسل نے دسمبر 1981 میں قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل کے گولان کی پہاڑیوں پر قبضے کو بین الاقوامی قانون کے منافی کالعدم قرار دیا تھا جو پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے مگر فائدہ کچھ بھی نہیں ہوگا ۔مظلوم فلسطینی پستے رہیں گے اور ان کی آواز بننے والے کسی ایک فلسطینی کی آواز کو بھارت کی حمایت کے ساتھ کلی طور پر جوڑ دیں گے، جس نے کہا تھا کہ بھارت کو اوآئی سی کی رکنیت دی جائے لیکن ہر روز اجڑتے ،اجیرن ہوتے کسمپرسی کا شکار ہوتے خاندانوں کی آنکھوں کو نم کرنے والے مناظر پر نظر ڈال کر ان سے تاسف کا اظہار نہیں کریں گے۔ امریکہ نے اس سے پہلے بھی اپنی من مرضیاں کی ہیں اور اس پر ہر کسی  کی مخالفت مول لینے کے باوجود بھی پیچھے نہیں ہٹا اور اپنی ہٹ دھرمی پر جوں کا توں  قائم رہا۔جس لڑائیوں سے  ان بڑے ممالک نے فائدہ اٹھا رکھا ہے وہ تب ہی ختم ہو سکتی ہیں جب یہ اکیلے فیصلے لینے والے اپنی مداخلت بند نہیں تو کم از کم محدود ہی کردیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *