غذائی دل شکنی (طنز و مزاح )۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

SHOPPING
SHOPPING

دل شکنی کرنے کا کوئی ایک خاص طریقہ مرؤج نہیں بہتیرے ہیں اور غذائی دل شکنی بھی ان میں سے ایک ہے لیکن اگر دل شکنی ایک بڑا گناہ ہےتو مجھے معلوم نہیں کہ ایسےمیسنے لوگوں کی بخشش کیسے ہوگی کہ جو یہ کام اس ڈھنگ سے کرتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی سوائے اسکے کہ جسکی دل شکنی کی گئی ہو اور جسے کرپانا بھی کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ صرف انہی سے ہوسکتی ہے کہ جوکسی محفل طعام میں اس طرح آناً فاناً چپ چاپ دو نوالے منہ میں رکھ کے ہاتھ دھونے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں کہ انکا یہ عمل سراسر اک سازش معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابھی ڈھنگ سے دوسرے کھانا شروع بھی نہیں کرپائے ہوتے کہ ادھر وہ ٹشو یا نیپکن سے منہ پونچھ کے مصروف خلال ہوجاتے ہیں جبکہ عام کلیہ یہ ہے کہ جب تک کسی دعوت میں مہمان کی جھپٹی گئی غذا کی مالیت میزبان کو لفافے میں دیئے گئے مال کے برابر نہ ہوجائے اور کھانے والا کھاتے کھاتے نڈھال نہ ہوجائے وہ کھانا اس مہمان پہ حلال نہیں ہوتا اور ایسے حلال کی نوبت آنے سے قبل کوئی خلال بھی جائز نہیں ہوتا ۔۔۔ اور بالخصوص کسی ننھی منی سی غذائی جھڑپ پہ تو خلال کی حیثیت محض اک بھپتی یا تعلی سے زیادہ ہرگز نہیں ۔

مت پوچھیے  کہ برابر میں بیٹھے کسی بھی غذائی تقوے میں مبتلاء کسی فرد کے خوراکی محتاط روی کے مظاہرے سے ان لوگوں کے دلوں پہ کیا گزرتی ہے کہ جو صرف کھانے ہی کے لیئے زندہ ہیں ۔۔

ہمارے ایک ایسے ہی واقف جو محض کھانے ہی کی خاطر نجانے کب سے بار زندگی اٹھائے پھرتے ہیں اور نہایت آزاد خیال بھی ہیں ایک دن ایسی مذہبی تنظیم کی بس  میں سوار ہوتے دیکھے گئے کہ جسکے نام میں دعوت کا لفظ شامل تھا ۔ اس منظر کو دیکھ کے بہت سوں کو بہت حیرت بھی ہوئی تاہم تین چار دن ہی میں یکسر پلٹے ہوئے یعنی بہت لبرل لبرل معلوم ہوئے ۔ جس پہ جب ان سے پوچھا گیا کہ ” اب یہ باتیں کیسی؟ آپ تو فلاں مذہبی تنظیم کا حصہ بن گئے تھے ؟؟ “ تو بڑی جھنجھلاہٹ سے اسکا جواب انہوں نے یوں دیا کہ ‘ میاں بس دعوت کے نام سے ذرا غلط فہمی سی ہوگئی تھی ، کسی کو ایسے مغالطے والے نام قطعاً نہیں رکھنے چاہئیں۔۔“ ہمارے یہ پرخور دوست اپنے جیسے اور بہت سے خوش خوراکوں کی طرح اپنے ہر کھانے کو آخری سمجھ کے کھاتے ہیں اور بوقت طعام انکا انگ انگ توانائی سے لبریز اور آخری نوالے تک سرفروشی سے سرشار ہوتا ہے ۔۔ لیکن وہ غافلین جن کا قصور محض یہ ہو کہ وہ ایسے کسی محتاط و تقویٰ شعار کے ساتھ ہی کھانے کی میز پہ بیٹھ گئے ہوں تو پھر کیوں اس سنگین ٍغفلت کی یہ کڑی سزا نہ بھگتیں‌ کیونکہ کسی دعوت میں اس طرح کے غذائی تقوے کا عمل وافر طور پہ حاضرین میں اک گونہ ناقابل نظراندازی تقابل سا پیدا کرتا ہے جس سے بھرپور خدشہ رہتا ہے کہ آس پاس موجود غذائی مجاہدین میں عرصہء دراز سے شرمساری کے سلائے گئے امکانات جاگ سکتے ہیں اور یوں کم خؤری کا یہ مظاہرہ انہیں ہزیمت سے دوچار کرکے انکے ولولوں کو جس بری طرح پامال کرتا اور اور انکے بلند ارادوں کو انتہائی پست کرتا ہے وہ سراسر انکی دل شکنی کا موجب ہوتا ہے

SHOPPING

ہماری دانست میں کسی تقریب طعام کی ساری رونق ہی بسیارخوروں کے دم سے ہے کیونکہ انہی کی وجہ سے ڈشوں کی آوت جاوت ہے اور انکی   بدولت پلیٹیں خوب بجتی اور کھڑکتی ہیں اور دور دراز تک اس غذائی معرکے کی خبر جاتی ہے جن سے میزبان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے اور اسکی روح کو وافر سکون میسر آتا ہے اور یوں تقریب کا حقیقی مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے ۔۔ اسی لیئے بسیار خوروں کی تالیف قلب اور تسکین معدہ کے پہلو کو نظر انداز کرنے کی غلطی کبھی نہیں کی جانی چاہیئے اور انکی بددعاؤں سے بچنے اورانکی دل شکنی کے امکانات رفع کرنے کے لیئے ہونا یہ چاہیئے کہ ہر تقریب طعام میں ایسے کم خور تقویٰ شعار لوگوں کے لیئے بالکل اسی طرح سے مخصوص ٹیبل الگ تھلگ لگادی جایا کرے کہ جس طرح چند وی آئی پی مہمانوں کے لیئے بھی بہرحال لگائی ہی جاتی ہے کہ جن سے میزبان کے کئی کام پڑتے ہیں اور وہ بعد میں ان سے اس موقع پہ کی گئی انکی خصوصی عزت کرنے کی قیمت کسی نہ کسی موقع پہ وصول کرکے ہی دم لیتے ہیں ۔ جہاں تک ان کم خور لوگوں کا معاملہ ہے تو اپنی غذائی اور سماجی عاقبت برباد کرنے کے ذمہ دار ایسے لوگ خود ہی ہوتے ہیں کیونکہ کچھ اور ہو نہ ہو لیکن انکے ساتھ یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایسا کم خور فرد بہت تیزی سے اپنے دوست اور حامی کھوتا چلاجاتا ہے اور بالآخرایک دن کسی دعوت کی میز پہ یکہ و تنہا بیٹھا پایا جاتا ہے ۔۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ بھی ہرگزنہیں کہ وہ اکیلا ہوکے اداس اور مجہول سا بیٹھا ہوتا ہے ، بلکہ وہ اس موقع پہ بھی حسب معمول بڑے انہماک سے بغل میں دبی کوئی کتاب یا جیب میں موجود کوئی کتابچہ نکال کے پڑھتا دیکھا جاتا ہے جس کا موضوع عموماً کم ‘خوراکی کے فوائد’یا ‘بادی غذاؤں کے نقصانات’ وغیرہ وغیرہ ہی ہوا کرتا ہے-

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *