توانائی کی مانگ اور زہريلی گيسوں کے اخراج ميں اضافہ

پچھلے سال دنيا بھر ميں توانائی کی مانگ ميں اضافے کے نتيجے ميں زہريلی گيسوں کے اخراج ميں بھی خاطر خواہ اضافہ نوٹ کيا گيا۔ اس سے عالمی درجہ حرارت کو محدود رکھنے کی کوششيں متاثر ہوئيں۔

اقتصادی ترقی اور مختلف خطوں ميں گرمی اور سردی سے نمٹنے کے ليے درجہ حرارت ميں تبديلی کی ضروريات کے تحت عالمی سطح پر توانائی کی مانگ ميں پچھلے سال يعنی سن 2018 ميں 2.3 فيصد کا اضافہ نوٹ کيا گيا۔ يہ انکشاف انٹرنيشنل انرجی ايجنسی (IEA) کی منگل چھبيس مارچ کو جاری کردہ رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔ اضافی مانگ کا ستر فيصد حصہ نامياتی ايندھن سے پورا ہوا۔ آئی ای اے کے ايگزيکيٹو ڈائريکٹر فتيح بيرول کے مطابق پچھلے سال توانائی کی مانگ ميں پچھلی ايک دہائی کا سب سے تيز رفتار اضافہ نوٹ کيا گيا۔

دوسری جانب ’گلوبل انرجی اينڈ سی او ٹو اسٹيٹس رپورٹ‘ کے اجراء کے موقع پر آئی ای اے کے ايگزيکيٹو ڈائريکٹر کا تنبيہ کرتے ہوئے يہ بھی کہنا تھا کہ قابل تجديد ذرائع سے توانائی کے حصول ميں اضافے کے باوجود، عالمی سطح پر زہريلی گيسوں کا اخراج بھی بڑھ رہا ہے۔ فتيح بيرول کے بقول يہ ضروری ہے کہ موسمياتی تبديليوں اور درجہ حرارت ميں اضافے سے بچنے کے ليے اور بھی موثر طريقے سے کام کيا جائے۔ سن 2018 ميں کاربن ڈائی آکسائڈ گيسوں کے اخراج ميں بھی 1.7 فيصد کا اضافہ ديکھا گيا۔ زہريلی گيسوں کے اخراج ميں اضافے کے ايک تہائی حصے کے ذمہ دار براعظم ايشيا ميں کوئلے سے بجلی پيدا کرنے والے نئے تعمير کردہ پلانٹس ہيں۔

آئی ای اے کے ايگزيکيٹو ڈائريکٹر نے خبردار کيا ہے کہ اگر ايشيا ميں کوئلے سے بجلی پيدا کرنے والے پلانٹس کے مسئلے سے نہ نمٹا گيا، تو موسمياتی تبديليوں کے مضر اثرت سے بچنے کے ليے طے کردہ اہداف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کوئلے سے بجلی کی پيدوار بالخصوص چين، بھارت، انڈونيشيا، فلپائن اور ملائيشيا ميں بڑھی ہے۔

نيوز ايجنسياں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *