پاکستان میرے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔۔۔اسد مفتی

اپنے شہر لاہور میں 6 ہفتے گزارکر ابھی ابھی پلٹا ہوں ،ایمسٹر ڈیم پہنچتے ہی سب سے پہلے میں نے صاف ستھری ہوا کا ذخیرہ جو کہ آکسیجن سے مالا مال تھی ،اپنے سینے میں اتارا کہ ابھی میرے سینے میں بہت سے سوال زندہ ہیں ،جنہیں مزید زندہ رہنا ہے،کہ ابھی ہماری  منزل نہیں آئی۔مجھے پاکستان میں صاف ستھری ہوا نہیں مل رہی تھی،صاف شفاف پانی تو بہت دور کی بات ہے۔ماضی میں روٹی،کپڑا ،مکان کی فراہمی کا وعدہ کرنے والی پیپلز پارٹی چار بار برسرِ اقتدار آنے کے باوجود بس کبھی کبھار اس وعدہ کو دہراتی رہی اور بس۔۔۔۔۔لیکن آج کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ کشور حسین شاد باد میں اب روٹی کپڑا مکان ان تینوں اشیاء کی فراہمی کے خطرے پر گزارہ نہیں ہوگا،اب جو بھی پارٹی سیاسی نعرہ دے گی یا انتخابی منشور بنائے گی اس میں روٹی کپڑا مکان کے ساتھ ساتھ پینے کے لیے محفوظ اور صاف پانی اور سانس لینے کے لیے صاف ستھریہوا و فضا فراہم کرنے کا وعدہ بھی شامل کرنا ہوگا۔

میں نے اپنے دورہ ء پاکستان کے دوران دیکھا کہ ایک عام آدمی فضائی آلودگی کے علاوہ فلورائیڈ آمیز پانی استعمال کرنے سے مختلف بیماریوں کا شکار بنتا جارہا ہے،میرا ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار اور باخبر دوست جو گاؤں میں پینے کے پانی کی سہولت تک سے محروم ہیں ۔جبکہ ہزاروں گاؤں ادویات ملا پانی پینے پر مجبور ہیں ،شعیب نے مجھے تجویز پیش کی کہ تم کیوں نہیں یہاں “آکسیجن کلب”کھول لیتے۔۔۔اس سے کم از کم متمول طبقہ صاف ستھری ہوا کے حصول کے لیے تمہارے آکسیجن کلب پہنچ جائے گا۔اس نے بتایا کہ متمول طبقہ دیگر ضروریات زندگی کی مانند ہوا اور پانی بھی خریدنے کو تیار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر ماہ صرف لاہور میں کروڑوں روپے کی منرل واٹر کی تجارت ہورہی ہے۔میں چونکہ اپنے نظریات کا غلام ہوں اس لیے مجھے ایسے متمول طبقہ جو کہ شاید آبادی کے 2 فیصد حصے پر بھی مشتمل نہ ہو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔میری دلچسپی اور تمام تر ہمدردی عوام کے لیے روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ صاف ستھری آب و ہوا اور صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ہے جس میں بدقسمتی سے غیر معمولی کمی ہوتی جارہی ہے۔

ستم ظریفی دراصل یہ ہے کہ عہدہ اور حکومت وہ مرکزی ہو یا صوبائی اس وقت ہوش و حرکت میں آتے ہیں جب کوئی مسئلہ عوامی زندگی کے لیے جان لیوا بن جاتا ہے ابھی میں نے اوپر پانی کا ذکر کیا ہے،پاکستان میں پانی کی قلت ایک بڑے مسئلے کی صورت میں ابھری ہے۔جس کے تدارک کی فوری ضرورت ہے،ورنہ ناقبلِ تصور مسائل پیدا ہوں گے۔اس وقت پاکستان میں بڑی کمپنیاں ہمارا پانی ہمیں ہی بیچ کر ہم سے دودھ کی قیمت میں پیسہ وصول کر رہی ہیں ،یہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں کروڑوں روپے کی پانی کی تجارت کرکے پاکسانیوں کو لوٹ رہی ہیں اور 2020 تک یہ تجارت 25 گنا بڑھ جائے گی۔۔

ہم نیوکلیائی طاقت بن چکے ہیں ،لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہزاروں دیہاتوں ،قصبوں اور شہروں میں پانی اور بجلی کل بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے۔اور مستقبل میں اس کا امکان بھی نظر نہیں آرہا۔وہ ملک جو دیہاتوں میں بستا رہا اچانک شہروں میں بسنے کی کوشش کررہا ہے،دیہاتوں کو اربابِ اختیار کو کوئی دلچسپی نہیں ،پاکستان میں وہ سیاستدان جو دیہاتوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں انہیں بھی دیہاتوں میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی اور وہ شہروں کی سیاست اور ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔مجھے ڈر ہے کہ آج بہت سے لوگ جو نیسلے کی بوتل خرید کر پانی پیتے ہیں اور اسے اپنا لائف سٹائل قرار دیتے ہیں ،لیکن کل جب بوند بوند پانی کو ترسیں گے تو کوئی سٹائل کام نہ آئے گا۔کیا اس وقت کے تصور سے کسی کو خوف نہیں آتا؟

میں یہی کچھ سوچتا ہوا واپس ایمسٹر ڈیم آگیا ہوں ،دوستو،یاروں ،سجنوں ،تقریبوں محفلوں کا تذکرہ کرنا ابھی باقی ہے۔پاکستان لاہور سے دہلی اور دہلی سے ایمسٹرڈیم کی دس گھنٹے کی پرواز میں جہاں میرا دھیان اور بہت سی باتوں کی طرف گیا وہاں میں نے سوچا کہ مغربی دنیا کی ماڑدن ٹیکنالوجی کا کیا عجب احسان ہے کہ اس نے انسان کے قابو میں ایسی سواری دے دی ہے جس کو رواں کرنے کے لیے دریاؤں پر پُل بنانے کی ضرورت نہیں ،جس کی راہ میں پہاڑ اور سمندر حائل نہیں ہوتے۔آبادیوں کی ناہمواریاں جس کا راستہ نہیں روکتیں ،وہ زمین کا سہارا لیے بغیر ہوا کے ودش پر ادھر سے ادھر اڑتا ہے اور تمام سواریوں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آدمی کو منزل تک پہنچادیتا ہے۔تاہم عام ذوق کے برعکس میرے لیے ہوائی جہاز کوئی پسندیدہ سواری نہیں جب بھی میں ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اڑن جیل میں بند ہوگیا ہوں کہ میری طبعیت میں آزادی پسندی بہت زیادہ ہے۔

زندگی بھر دھکے کھانے کے بعد آج بھی خوش قسمتی یا بدنصیبی سے میں ذہنی کشادگی،روشن خیالی اور آزادی ء فکر کی جانب ہی رہنا پسند کروں گا ،ایسی کوئی زندگی مجھے عذاب معلوم ہوتی ہے جس میں میرے اوپر خارجی پابندیاں لگی ہوں ،خواہ اس پابندی کا مقام کوئی شاندار ماحول یا عالی شان بنگلہ یا دلفریب جنت ہی کیوں نہ ہو،ہوائی جہاز کی بس ایک خصوصیت کے سوا کہ وہ تیزی سے سفر طے کرا دیتا ہے۔،باقی ہر جگہ میرے ذوق کے خلاف ہے،آپ کار میں چل رہے ہوں تو اس کو کسی بھی جگہ روک سکتے ہیں باہر آجاسکتے ہیں ،ٹرین میں یہ نفسیاتی طو پر اطمینان ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روکا جاسکتا ہے،مگر ہوائی جہاز کے اندر داخل ہونے کے بعد بس زنجیر میں بندھ جاتا ہے۔

یہاں تک کہ وہ خود ہی اعلان کردے کہ منزل آگئی ہے اب آپ  باہر نکلنے کے لیے آزاد ہیں ،ورنہ اڑتے جہاز کو روکنا تو کیا بازو تک باہر نہیں نکال سکتے،ہوائی جہاز کی ایک خوبی اور ہوائی سفر کی  ایک خوبصورت بات جس کا ذکر کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جہاز میں مسافروں کے لیے فلم،گانے اور موسیقی کا انتظام ہوتا ہے۔ مگر اس طرح کا نہیں کہ گلا پھاڑ پھاڑ کر یا ریکارڈ بجا کر نیندیں اور سکون برباد کیا جارہا ہو۔ورنہ ملک عزیز میں تو صبح کی نیند تک حرام ہوکر رہ جاتی ہے ،جہاز میں یہ سب کام ہینڈ سیٹ کے خاموش انتظام کے تحت ہوتا ہے۔جس سے آپ کے ارد گرد سکون میں ذرا برابر خلل بھی نہیں پڑتا۔جو شخص سننا چاہتا ہے وہی سنتا ہے جو نہیں سننا  چاہتا اس کے کان اس طرح سے محفوظ رہتے ہیں گویا یہاں گانے اور موسیقی کا کوئی وجود ہی نہیں ۔یہاں مجھے اپنے سری لنکا کے دورے کی یاد آرہی ہے۔ مسلمانوں کو سری لنکا میں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن یہ دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ وہاں اذان لاؤڈ سپیکر پر نہیں دی جاتی،میں نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ اگر ہم اجازت چاہیں تو اجازت مل جائے گی لیکن ہم نے خود اس کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اس کا مطالبہ کریں گے،ہماری پانچوں اذانیں تودس منٹ میں ختم ہوجائیں گی لیکن دوسرے مذاہب کی منا جاتی گیت،کیرتن تو گھنٹوں چلیں گے جس سے گھنٹوں نیندیں حرام ہونگی۔میرے حساب سے ہوائی جہاز ہو یا ھرتی،جدید تہذیب نے جس قسم کے آداب کو دنیا میں رواج دیا ہے،یہ آداب دو مشینی اصولوں پر قائم ہے،اپنی ذات کی تکمیل اور وہ اس طرح کہ دوسرے کی ذات کو کوئ یگزند نہ پہنچے اور یہی مہذب مغربی معاشرہ کی ترقی کا بنیادی اصول ہے۔
پاکستان سے آتے ہوئے میں نے چار گھنٹے “حاصل “ کیے،پاکستان جاتے ہوئے چار گھنٹے “کھو”دیے۔۔۔چونکہ میں حسابی کتابی آدمی نہیں ہوں اس لیے نہیں جانتا کہ نفع میں رہا یا نقصان میں ،
میرا ایک شعر ہے،۔۔۔۔
اگر پیدا کیا ہے یہ جہاں میرے لیے اس نے
تو پھر کیوں مجھ کو اپنے طور پر جینے نہیں دیتا

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *