فیسبکی چور، جھوٹے لکھاری اور مکالمہ.۔راجہ محمد احسان

ایک دن کسی پوسٹ پر ایک خاتون مردم دشمنی میں اپنی تحریر سے راکٹ برسائے جا رہی تھیں جو کبھی ہمارے دائیں کبھی بائیں کبھی سامنے اور کبھی پیچھے آ کر پھٹتا ۔ اصل کہانی تو جب شروع ہوئی جب ان کا ایک راکٹ ہمارے سر پر آن پھوٹا،بڑی جلن اور سڑان ہوئی جو ہم سے برداشت نہ ہو سکی مجبوراً ہم بھی اپنی لنگوٹ کس کر آستینیں چڑھائے میدانِ کارزار میں اتر پڑے ۔ بھلا کب تک ہم جیسا گبرو جوان ایک آہوِ بدمست کے چونچلے اٹکھیلیاں اور چوکڑیاں برداشت کر سکتا تھا ۔ ہم نے پہلی ہی بار ایٹمی حملہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کمنٹ داغ دیا۔۔

“جب عورت مرتی ہے تو اس کا جنازہ مرد اٹھاتے ہیں اس کا جنازہ مرد پڑھتے ہیں اس کی تدفین یہی مرد کرتے ہیں جب پیدا ہوتی  ہے تو یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتے ہیں اسے باپ کے روپ میں سینے سے لگاتے ہیں بھائی کے روپ میں اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں شوہر کے روپ میں محبتیں دیتے ہیں اور بیٹے کے روپ میں اس کے قدموں میں اپنی جنت تلاش کرتے ہیں واقعی بہت ہوس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کی ہوس اتنی بڑھتی ہے کہ اپنی ماں ہاجرہ کی سنت کی پیروی کرتے ہیں اور صفاء و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں اسی عورت کے لیے سندھ فتح کرتے ہیں ،اسی عورت کی عصمت کی حفاظت کے لیے اندلس فتح کرتے ہیں قبرستانوں میں مقتولین کے نوے فیصد مرد  عورت کی عصمت کی حفاظت میں قتل ہو کر موت کی نیند سو گئے واقعی سچ کہا آپ نے مرد ہوس کا پجاری ہے ۔وہ چار روپ میں ماں بہن بیوی بیٹی کی حفاظت کرتا ہے اور جب کوئی عورت اس کے سامنے بے پردہ آتی ہے ،  جلوے دکھاتی ہے تو پھر مرد مرد نہیں رہتا ہوس کا پجاری بن جاتا ہے۔۔ جناب آپ گوشت  سنبھال کر نہیں رکھیں  گی تو بلے تو آئیں گے اب قصور تو بلوں کا ہے کہ انھیں گوشت چھوڑ کر گھاس کھانی چاہیے، واقعی قصور مرد کا ہے جب اس کی بہن ،بیوی، بیٹی ایسی بے پردہ ہو تو وہ خود اسے  ہوسزدہ  ذہنیت سے بچائے۔  مگر آج کی آزاد خیال عورت چاہتی ہےکہ گوشت تو کھلا ہی رکھا جائے بس بلوں پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ آج سے گوشت کھانا چھوڑ دیں یا ان کے منہ سی دئیے جائیں “۔

tripako tours pakistan

دشمن کے تمام تر حساس مقامات کو ایک ہی بار نیست و نابود کر چکنے کے بعد ہم نے بغور اپنے کمنٹ کا جو مطالعہ کیا تو خود ہی عش عش کر اُٹھے اور دل ہی دل میں کہنے لگے احسان میاں آج 65ء کی جنگ میں کی گئی  ایوب خان کی تقریر کا تم نے حق ادا کر دیا اور دشمن کی توپوں کے دہانے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرد کر دیے ۔۔۔۔۔۔اب کیا تھا ایوب خان نے کہا تھا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرد نہ پڑ جائیں،اب تو وہ سرد ہو چکی تھیں لہذا ہم نے یہ کمنٹ فوراً کاپی کر کے نہ صرف اپنی وال پہ پوسٹ کیا بلکہ دشمن کی سبکی کے لیے ان سبھی گروپس  میں پوسٹ کیا جن میں چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہمیں گھسیڑ دیا گیا تھا اور پھر چین سے بیٹھ گئے یہ بات اگست 2016ء کی ہے۔

یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن جس طرح تحریکِ آزادیء پاکستان ہائی جیک ہوئی جس طرح تحریک ِ خلافت ہائی جیک ہوئی، جس طرح دھرنوں کا فیشن چل نکلا ہے، ویسے ہی کچھ فیسبکی چوروں نے ہمارے ایٹمی حملے کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کر لیا اور ہم خوابِ خرگوشاں کے مزے لے رہے تھے ۔ ایک دن ہمارے ایک دوست نے یہی پوسٹ کی جو کسی اور شخص کے نام سے منسوب تھی۔ ہمارے 14 طبق تو ہیں نہیں نالائق سے بندے ہیں لیکن جو دو چار طبق تھے وہ سبھی روشن ہو گئے۔ سرچ کرنے پہ پتہ چلا کہ یہ پوسٹ تو دوچار ماہ میں وائرل ہو چکی اور اس کے سینکڑوں دعویدار ہیں ۔ جہاں تک ممکن ہو سکا ہم ان پوسٹوں پر گئے اور اپنا سکرین شاٹ پیش کر کے اس پوسٹ کی ملکیت کا دعویٰ کیا لیکن ہمارا پالا ایسے ڈھیٹ اور ندیدے چوروں سے پڑ چکا تھا جو نہ صرف ہمیں جواب دینے سے کتراتے بلکہ ہمارے کمنٹ اور سکرین شاٹ فوراً ڈیلیٹ کر دیتے ۔آخرکار ہمیں ہی اپنی تلوار میان میں رکھنا پڑی اور اس تسلی کے ساتھ کہ  فیسبک پر کی گئی  پوسٹ پر وقت اور تاریخ تحریر ہوتی ہے تو ہماری پوسٹ ہماری ہی ہے کیونکہ اس سے پہلے کے وقت کی کسی کے پاس یہ پوسٹ ہو نہیں سکتی اور یہی بات کمنٹ میں کر کے ہم نے سیز فائر کر دیا۔

آج میرے جیسی شمسہ ارشد نامی ایک اور مظلوم اپنا رونا ایک گروپ میں رو رہی تھیں کہ ان کی پوسٹ چوری ہوئی ہے ،ہم نے انھیں دلاسہ دینے کی خاطر کہا ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے پھر سے اپنے ایٹمی حملے کی کھوج شروع کی ، اب کی بار جو کھوج کی تو فیسبک کے نتائج نے میری آنکھیں اس حد تک کھول دیں کہ ان پر کسی تربوز یا فٹبال کا گمان ہونے لگا۔میں نے جن گروپوں میں اپنے ایٹمی حملے کی جھلکیاں  پیش کی تھیں  سوائے ایک سوئے ہوئے محل نما گروپ کے سبھی گروپوں سے وہ پوسٹ ڈیلیٹ ہو چکی تھی جبکہ کچھ سائنسدانوں نے اپنی 2013ء اور 2015ء کی پوسٹوں میں ترمیم کر کے پوری کی پوری میری پوسٹ ڈال دی ہے اور اوپر تاریخ وہی پرانی یعنی 2013 اور 2015 ہی درج ہے ۔

ایک بڑا سا زمین کے مدار جتنا بڑا چکر میرے سر میں آیا میرے ارد گرد سبھی چیزیں گھوم گھوم کر ،جھوم جھوم کر ،شکلیں بنا بنا کراور  ناک  بھوں چڑھا چڑھا کر   مجھ پر ہنسنے بلکہ ہنہنانے لگیں یا خدا یہ تو علی بابا کے چالیس چوروں کے بھی باپ نکلے ۔۔میرے اندر اطمینان کے سارے بت کرچی کرچی ہو کر دھڑام سے زمین بوس ہوگئے۔

اوپر سے خدا کا کرنا کیا ہوا کہ گھومتے گھماتے      خان نشرح وہاں آ نکلیں، فیسبک پہ کھوج لگانے کا یہ طریقہء کار ان کے لیے بھی نیا تھا۔ فوراً سے انھوں نے بھی اپنی ایک پوسٹ کی کھوج لگائی تو فیسبک نے انھیں مدھوشی کی نیند سے جگانے کے لیے ان کی پوسٹ کے مالکانہ حقوق رکھنے والے بیسیوں افراد کی بھری بالٹی ان پر انڈیل ڈالی ۔بیچاری انگلیاں منہ میں دبائے کھسیانی اور روہانسی سی ہنسنے والے ایموجی پوسٹ کرنے لگیں میں جانتا ہوں کہ فیسبک کی مہربانی سے وہ جو ہمیں اپنی ہنسی دکھا رہی تھیں وہ بالکل ویسی  ہی ہنسی تھی جیسی صدر بش کے چہرے پر تھی  جب انھیں سکول میں خفیہ ادارے کے بندے نے 9/11 کی اطلاع دی تھی ۔۔۔ان چوروں کی کارستانیاں اور ڈھٹائی اور گھٹیا پن کے شکار ہمارے عزیز زریاب شیخ بھی رہے ہیں۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ  اس نے انعام رانا اور ان کی ٹیم کے توسط سے ہمیں مکالمہ جیسا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جہاں ہماری تحریروں کے مالکانہ حقوق ہمیں ہی ملتے ہیں اور اللہ کے اس “انعام” کی ناشکری پر اس سے معافی مانگتا ہوں کہ مکالمہ سے پہلے اپنی تحریریں فیسبک جیسے چور بازار میں چوری ہونے کو چھوڑ دیا کرتا تھا۔

ہم سب کو مل کر اس چوربازاری کے خلاف مکالمہ کے پلیٹ فارم سے جہاد کرنا ہو گا اور ہر اس اچھے لکھاری کو مکالمہ کی راہ دکھانی ہو گی جو ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے اپنی توانائیاں برباد کر رہا ہے ۔حال ہی میں مکالمہ کی سالگرہ بھی منائی گئی ہے ،میں  اس موقع پر مکالمہ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مکالمہ کے مصنفین اور قارئین سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے اردگرد نظر رکھیں اور اس قافلے کے وہ افراد جو پیچھے رہ گئے ہیں یا جنھیں اس قافلے میں ہونا چاہیے لیکن مکالمہ سے تعارف نہ ہونے کی بناء پر تنہا سفر میں  چوروں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں انھیں مکالمہ سے متعارف کرائیں تا کہ وہ فیسبکی چوروں کی دست درازیوں سے محفوظ رہیں۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *