گھوٹکی کا واقعہ، حقائق اور ہمارا رویہ۔۔۔ محمد سمیع سواتی

ارض وطن ایک بار پھر مغرب پرو سماج کے دلدادہ اداروں اور این جی اوز کے نرغے میں ہے۔ ان کیلئے کسی غیر مسلم نوجوان خاتون کا بہ رضا و رغبت قبول اسلام شدید نا پسندیدہ عمل بن چکا ہے۔ مادر پدر آزادی کا یہ علمبردار طبقہ نکاح کے پاکیزہ بندھن سے بیزاری کا اعلانیہ اظہار کرچکا ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ لبرل فاشسٹ اسلامی ناموں سے شناخت میں بھی عار محسوس کرتے نظر آرہے ہیں، یہ ان کا حق ہے اپنے لئے وہ جو بھی طرز زندگی پسند کریں، مگر خود ان کے اپنے لبرل نظریات کے مطابق ان کو اس بات کا کوئی حق نہیں کہ دوسروں پہ فسطائی ہتھکنڈوں کے ذریعہ اپنا ایجنڈا مسلط کریں۔ سخت الفاظ کے لئے معذرت، مگر افسوس کہ ان کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ جس بات کی وہ مذہبی طبقے کے تئیں وہ سخت مخالفت کرتے ہیں، خود اس عمل  سے  پوری ڈھٹائی سے شغل فرماتے ہیں۔ اگر مذہبی طبقے کے لئے بقول ان کے اپنی رائے مسلط کرنا غلط ہے تو کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہی طرز عمل وہ اختیار کریں تو کس اصول سے وہ جائز ہو جائے گا؟؟

ہم اظہار رائے کی آزادی کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں، وہ جو رائے رکھیں اور نظریہ اپنائیں، آزاد ہیں، مگر کیا انقلاب فرانس کا یہ لبرل اصول وہ بھول گئے ہیں کہ آپ اپنی آزادی ضرور انجوائے کریں، مگر اپنی ناک کی حد میں۔۔۔ جہاں میری ناک کی حد شروع ہوگی، آپ کی آزادی کی حد وہاں ختم ہوگی۔۔۔ آزادی اظہار انجوائے کرتے ہوئے میرے عقیدےاور نظریہ حیات پہ حملہ کرنا تو میرے بھائی آپ کا حق اور آزادی کے دائرے میں نہیں آئے گا نا۔۔۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ اس طبقے نے آزادئ اظہار کے نام پہ ہمیشہ اسلامی تعلیمات و احکامات کو ہی ہدف تنقید اور نشانہ تمسخر بنانے کو فن کی معراج سمجھا ہے جو سراسر لبرل اصولوں کے ہی منافی اور کھلی نا انصافی ہے۔

آجکل ہمارے ان لبرل بھائیوں جن میں معذرت کے ساتھ بیشتر شوقیہ اور بڑی تعداد کمرشل لبرلز کی بھی ہے، گھوٹکی کی دو سابقہ ہندو لڑکیوں کے اپنی مرضی سے قبول اسلام کے واقعے کو لے کر کہیں بالواسطہ اور کہیں بلا واسطہ اسلامی تعلیمات اور اقدار پہ حملہ آور ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ حقائق کو یکسر نظر انداز کرکے اس بات پہ اصرار کر رہے ہیں کہ ان لڑکیوں کو با لجبر اغوا کرکے مسلمان بنایا گیا ہے اور یہ عمل ان سے شادی کرنے کے لئے روا رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا بودا الزام ہے کہ سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ اسلام نے اپنے دور عروج میں کبھی غیر مسلموں کو بالجبر مسلمان نہیں کیا تو آج کے اس گئے گزرے دور میں یہ کیسے ممکن ہے؟ پھر جب ہر شخص ماضی کی نسبت زیادہ شعور رکھتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی پہ زبردستی اپنا مذہب مسلط کر دیا جائے؟ مگر آفرین ہے کہ اس قدر خلاف عقل بات کو یہ حضرات عقل کے نام پہ ہی آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشفقانہ برتاو سے متاثر ہو کر کم عمری میں جید صحابہ کرام نے اسلام قبول کیا۔ یہ لوگ شاید اسے بھی جائز تسلیم نہیں کریں گے۔

اگر اس سنہرے دور پر ہم ایک طائرانہ نظر دوڑائیں تو ہمیں امیر المؤمنین حضرت علی 10 سال، حضرت عمیر ابن ابی وقاص 16 سال ، حضرت معاذ ابن عمرو جموح 13 سال، حضرت زید بن ثابت ، 11 سال ، حضرت انس بن مالک 8 سال، حضرت ابوسعید خدری 13 سال،حضرت عمیر بن سعد (رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین) 10 سال کی عمر میں اسلام کی دولت سے مالا مال اور ایمان سے منور نظر آتے ہیں، یہ چند نام ہیں، ورنہ ایسے صحابہ کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

آئین پاکستان ہر شہری کو اپنی مرضی سے شادی کا حق دیتا ہے۔ اقلیتوں پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ آج گھوٹکی کی دو نو مسلمہ بہنیں اس حق کا استعمال کرتی ہیں تو اسے اغوا اور زبردستی مذہب بدلنے سے جوڑا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ لوگ مرضی کی شادی کے سب سے بڑے علم بردار سمجھے جاتے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

محض ایک جھوٹے الزام پہ چھاپے مارے جا رہے ہیں، گرفتاریاں ہورہی ہیں، میڈیا پر طوفان بدتمیزی بپا ہے، سوشل میڈیا پر مخصوص ذہنیت کے حامل لوگ لڑکیوں کے ہندو خاندان سے تعلق کو بنیاد بناکر اسلامی تعلیمات کیخلاف زہر افشانی کر رہے ہیں۔

ایک لمحے کیلئے سوچئے اگر یہ عمل کسی مسلم لڑکی سے سرزد ہوا ہوتا تو اس کے والدین کیساتھ ہمدردی کیلئے کوئی کھڑا نظر نہ آتا۔ آخر اس دو رنگی کو کیا نام دیا جائے؟

بے شرمی، بے حسی اور ظلم و زیادتی کی حد یہ ہے کہ گھوٹکی کی ان دو نو ں مسلم بہنوں کی عمریں جعل سازی سے 20 ، 22 سے کم کرکے 14 اور 16 سال کردی گئی ہیں، تاکہ کم سنی ثابت کی جاسکے۔
کیا اس تاریک رویئے کے حامل سوکالڈ روشن خیالوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو یکسر پامال کرکے ایسے ہر واقعے میں معروضی حقائق کی مخالف سمت ہی کھڑے ہوں گے جس میں مذہب کسی بھی درجے میں ایک عامل کے طور پہ شامل ہو؟

دنیا کے کئی ممالک سے غیر مسلم خواتین پاکستان آکر اسلام قبول کرکے شادیاں کر رہی ہیں۔ ان ملکوں نے تو آج تک اپنی کسی شہری کے اغواء کا الزام پاکستان پر نہیں لگایا، کل نیو یارک سے ایک لڑکی کرسٹیلا پاکستان آئیں اور سندھ کے شہر ماتلی بدین پہنچ کر اسلام قبول کیا اور مقامی مسلم نوجوان سے شادی کرلی، ایسے بے شمار واقعات ریکارڈ پر ہیں کہ مختلف ممالک سے لڑکیاں پاکستان آکر برضا و رغبت مسلمان ہونے کے بعد شادیاں کر لیتی ہیں، کیا ان ممالک کے میڈیا نے کبھی شور شرابا کیاہے کہ ان لڑکیوں کا مذہب زبردستی تبدیل کیا گیا ہے؟

گذشتہ ہفتے ایک پندرہ سالہ لڑکی نے پسند کی شادی نہ کروانے پر سگے باپ کو گولیاں مار کر قتل کیا۔ کیا اس عمل کی مذمت کی توفیق بھی ان حلقوں کو ہوئی؟

گھوٹکی کے واقعے میں براہ راست دین اسلام اور مسلمان کو ہدف بنایا جارہا ہے، جو سراسر نا انصافی ہے۔ حقائق تو یہ ہیں کہ گڈاپ سے لیکر کشمور تک صوبہ سندھ میں لاکھوں غیر مسلم آباد ہیں جن میں سب سے زیادہ آبادی ہندو کمیونٹی کی ہے، آپ حیران ہوں گے کہ سندھ کی ہندو کمیونٹی میں اسلام کی طرف شدت سے رغبت پائی جاتی ہے، مگر ایسے افراد کی آزادی اظہار اور عقیدہ رکھنے کے حق کی راہ میں ہندو کمیونٹی کی پنچایتیں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ جس کے نتیجے میں اسلام کی تڑپ دل میں لئے بے شمار ہندو نوجوان خوفزدہ ہیں کہ ان کے خاندانوں کو دشمنی کی بھینٹ نہ چڑھا دیا جائے، اس لئے وہ خاموشی سے مذہبی جبر سہنے پہ مجبور ہیں۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اگر کمیونٹی کے جبر کا شکار ایسا کوئی ضرورت مند ہندو نوجوان کسی این جی او سے مدد طلب کرے تو کیا حق کی جد و جہد میں اس کی مدد کی جائے گی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔

اسلام قبول کرنے کی امنگ ہندو کمیونٹی میں اس لئے بیدار ہوئی ہے کہ وادی مہران کے مسلمانوں نے یہاں محبت اور پیار بانٹا ہے۔ ان سے رواداری سے پیش آئے ہیں اور کبھی ان کے ساتھ مذہب کی بنیاد پہ نفرت کا رویہ نہیں رکھا ہے۔ انہیں وہ انسانی احترام دیا ہے جو ان کے مذہب کے طبقاتی سماج میں انہیں میسر نہیں ہے۔

گھوٹکی کی دو بہنوں کا حالیہ واقعہ بھی ہندو کمیونٹی کی اسلام اور مسلمانوں کی طرف رغبت کا تسلسل ہے، مگر اسلام دشمن ، قوم پرست ، ہندو کمیونٹی کے با اثر وڈیروں کی ایماء پر ہمارے شوقیہ اور کمرشل لبرلز میدان میں کود پڑے ہیں، ہمیں نہیں لگتا کہ ایک حقیقی لبرل کی اپروچ اس حد تک جانبدارانہ ہو سکتی ہے۔۔۔

ہم ایسے تمام حضرات کو کھلے دل سے دعوت فکر دیتے ہیں کہ اگر وہ واقعی فکر مند ہیں اور سچائی جاننا چاہتے ہیں تو اسلام کو ہدف ملام بنانے کے بجائے سنجیدگی سے سوچیں کہ یہ بچیاں گھروں سے کیوں فرار ہو رہی ہیں؟ صرف ہندو کمیونٹی کی بات نہیں، ہمیں پورے معاشرے کے متعلق سوچنا چاہئے کہ جوان بچیوں کے گھر سے فرار کا عمل روکنے کے لئے سوچیں۔ بیٹی کسی کی بھی ہو بیٹی ہونی چاہئے۔ چاہے وہ مسلم کی ہو یا غیر مسلم کی۔ گھوٹکی والے معاملے میں افسوسناک امر یہ ہے کہ مجموعی طور پہ ہمارے میڈیا کا کردار وہ نہیں جو ہونا چاہئے۔ ہم میڈیا کے بھائیوں کو ذمہ  دارانہ رپورٹنگ کی دعوت دیتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ دونوں فریق انسان ہیں اور دونوں کے ہی حقوق ہیں۔ کسی ایک طرف ان کا جھکاو دوسرے فریق کے لئے مسائل پیدا کر سکتا ہے جس کا نتیجہ معاشرے میں بے امنی اور انتشار کو ہی ہوا دے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *