باتصویر سائنس۔۔۔وہارا امباکر

کیا آپ بائیولوجی یا میڈیکل سائنس کی کتابوں کو بغیر تصویروں کے پڑھنے کا تصور کر سکتے ہیں؟ نہیں؟ لیکن صدیوں تک اسے بغیر تصویروں کے ہی پڑھا جاتا رہا ہے۔ ساتھ لگی تصویریں اس کتاب سے ہیں جس میں بائیولوجی کو پہلی بار باتصویر دکھایا گیا تھا۔ یہ ویسالئیس کی لکھی کتاب “فیبرک آف ہیومن باڈی” سے لی گئی ہیں۔ میڈیکل کی تعلیم کو باتصویر بنانے کے پیچھے کئی عوامل تھے۔

قرونِ وسطیٰ میں اناٹومی سیکھنے کا طریقہ جالینوس کی کتاب کے ذریعے تھا۔ یہ اس قدر بااثر تھی کہ خود اپنی آنکھوں سے زیادہ اس پر اعتبار کیا جاتا تھا۔ جالینوس نے چوپائیوں کے دماغ کے نیچے رگوں کا جال (ریٹی میرابلس) دیکھا تھا اور کہا تھا کہ انسانوں میں یہ پایا جاتا ہے (نہیں، یہ انسانوں میں نہیں ہوتا) مونڈینو جنہیں عملی تجربہ تھا اور انہوں نے ڈائیسیکشن کے طریقوں پر کتاب لکھی مگر انہیں بھی یہ کسی طرح نظر آ ہی گیا تھا۔ جالینوس کی کتاب پڑھنا اس قدر اثر رکھتا تھا۔ ڈی کیپری وہ پہلے سرجن تھے جنہوں نے جالینوس کی اناٹومی کی مخالفت کرنے کی جسارت کی تھی۔ ویسالئیس کی کتاب اس سے دس برس بعد لکھی گئی۔

ویسالئیس اسی دور کے تھے جو کوپرنیکس کا دور تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ تبدیل ہوتے کلچر کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا تھا۔ قدامت پرست کمزور پڑ رہے تھے۔ اور صدیوں سے چھائے جمود کے ٹوٹنے کا وقت تھا۔

جالینوس نے اپنی کتابوں میں نہ صرف یہ کہ کبھی تصویر ساتھ نہیں لگائی بلکہ خاص طور پر لکھا کہ تصاویر بے کار ہیں۔ اور ان کا ایسا کہنے کی وجہ تھی۔ پرنٹنگ پریس موجود نہیں تھا۔ ایک کاتب کے لئے الفاظ نقل کرنا آسان تھا، تصویریں نہیں۔ ایک سے اگلی اور اس سے اگلی کاپی میں تصویر کیسے نقل کی جائے کہ اصل برقرار رہے؟ یہ چھاپہ خانے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ بغیر اس ٹیکنالوجی کے میڈیکل سائنس بلا تصویر رہ گئی۔ دوسری بڑی جدت مصوروں کی طرف سے آئی تھی۔ اناٹومی کی تصاویر بنائی کیسے جائیں؟ یہ اصل تو بنائی نہیں جا سکتی تھیں۔ وہ کیا شکل ہو کہ بات پہنچ جائے؟ یہ مسئلہ مصوری میں پرسپیکٹو پینٹنگ کی جدت سے حل ہوا۔ مصوروں کی یہ جدت آسٹرونومی کو سمجھنے اور کائناتی فاصلوں کو جاننے اور پیمائش کرنے کے لئے جہاں پر سب سے زیادہ اہم رہی، وہاں پر اناٹومی کو باتصویر بنانے میں بھی مصوری کی اس تکنیک نے مدد کی۔

میڈیکل میں جالینوس کی کتابیں چونکہ صرف الفاظ پر مشتمل ہوتی تھیں اس لئے مفہوم ٹھیک طریقے سے آگے نہیں پہنچتا تھا اور کوئی بھی مطلب نکالا جا سکتا تھا۔ اس کے برعکس ویسالئیس کی کتاب میں یہ دیکھنا آسان تھا کہ بات کس بارے میں کی جا رہی ہے۔ ویسالئیس نے اپنی کتاب میں مروجہ اناٹومی کی کئی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ لیکن سب سے زیادہ اہم چیز یہ تھی کہ اس کو اپنے اگلے آنے والے اناٹومسٹس کے لئے پرکھنے کے لئے کھول کے رکھ دیا۔ جہاں پر جو چیز نامکمل تھی یا غلط تھی، وہ اس غلطی کی نشاندہی آسانی سے کر سکتے تھے۔ مصوری سے آئی پروسپیکٹو پینٹنگ اور چھاپہ خانے نے مل کر اناٹومی کو جمود سے آزاد کر اس کو متحرک سائنس بنا دیا۔ اور جو بدل سکتا ہے، صرف وہی بہتر ہو سکتا ہے۔

نباتیات میں کام کرنے والوں کو بھی یہی چیلنج تھا۔ پودے کی کونسی سٹیج دکھائی جائے؟ پھل اور پھول کے ساتھ پودا دکھایا جائے یا الگ کر کے؟ جس طرح ویسالئیس کی تصویروں نے جسم کے اعضاء کی شناخت کو قابلِ اعتبار بنا دیا تھا، نباتیات نے بھی اسی سے سبق سیکھا۔ اس پر پہلی باتصویر کتاب لیون ہارٹ فکس نے “فیبرک” سے متاثر ہو کر لکھی جس کا نام “پودوں کی تاریخ” تھا اور اس میں 512 ڈایاگرامز تھیں۔ بوٹنی بھی سائنس بن گئی تھی۔

پرسپیکٹو پینٹنگ اور پرنٹنگ پریس سے لے کر کاپرنیکس، ویسالئیس اور فکس میں ایک لمبا عرصہ ہے۔ اس کی تاریخی وجوہات ہیں۔ کلچرل انقلاب کے بغیر علم کا انقلاب نہیں آ سکتا تھا۔ روایتی سوچ سے نکل کر نیا سیکھا جا سکتا ہے۔ نیا سیکھا چانا چاہئے۔ تمام بنیادی عناصر اپنی جگہ پر ہونے کے باوجود سوچ کے اس انقلاب کو آتے آتے ایک صدی لگ گئی تھی۔

فکس نے اپنی کتاب کے دیباچے میں لکھا
“ان تمام تصاویر کے پیچھے بڑی محنت اور پسینہ شامل ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں یہ سب بے کار اور غیراہم قرار پائے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی قدامت پرست یہی اصرار کرتا رہے کہ سائنس پڑھنے کے لئے تصویر ایک فضول شے ہے۔ لیکن وقت کیوں ضائع کیا جائے؟ کون صحیح الدماغ شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک تصویر کسی بھی فصاحت و بلاغت سے بھری گفتگو سے زیادہ معلومات نہیں دے دیتی۔ جو آنکھ دیکھ لیتی ہے، وہ دماغ میں بیٹھ جاتا ہے، الفاظ یہ کام نہیں کر سکتے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل کی کتابیں ایسی ہوں گی”

فکس کی امید ٹھیک ثابت ہوئی۔ ان کا دیباچہ دو الگ بڑی تبدیلیوں کی نوید تھا۔ ہزاروں برس پہلے کے حکماء کی اتھارٹی کے خلاف اور دوسرا ڈایاگرام کی طاقت پر جو کو اب بآسانی کاپی کیا جا سکتا تھا۔ یہ دونوں اجزاء خود آنے والے انقلاب کا کلیدی حصہ تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *