پازیب۔۔۔۔۔۔ پشتو کہانی کا اردو ترجمہ:فیروز آفریدی

جمیل اپنی بیوہ ماں کا فرمان بردار اکلوتا بیٹا تھا۔ گاؤں سے پرائمری اسکول تک پڑھنے کے بعد جمیل مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ کیوں کہ ماں کو اکیلا چھوڑ کر شہر جانا اس کے لئے مشکل تھا۔ جبکہ شہر میں تعلیمی اور رہائشی اخراجات اٹھانا بھی اس کی بیوہ ماں کے بس سے باہر تھے۔ مجبوراً جمیل نے ماں کے ساتھ مل کر کھیتوں میں کام کرنا شروع کیا اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے لگا۔
جمیل کی ماں ایک باہمت خاتون تھی۔ پورے گاؤں اور رشتہ داروں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیوں کہ اپنے اکلوتے بیٹے کی خاطر اس نے دوسری شادی نہیں کی اور بھری جوانی بیوگی میں عزت کے ساتھ گزاری وہ اپنی محنت مشقت کرتی تھی لیکن کسی کے سامنے اس نے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
جمیل جب ذرا بڑا ہوا اور اس کی مونچھیں نکل آئیں تو ماں نے اپنے رشتہ داروں میں جمیل کے لئے رشتے کی بات چلائی۔ جس پر سبھی نے کہا۔
آپا!
آپ جس لڑکی پر انگلی رکھیں گی وہ آپ کی ہی رہے گی۔ اور آخر کار جمیل کی ماں نے زیبا کا انتخاب کرلیا۔
مہینے بعد جمیل اور زیبا کی شادی سادگی سے انجام پائی۔ زیبا خوبصورت تو تھی ہی اوپر سے بے حد سمجھدار   بھی تھی۔ زیبا نے بہت جلد اپنی خوش اخلاقی سے ساس اور شوہر کا دل مٹھی میں کرلیا۔ دونوں ماں بیٹا زیبا کی ایک مسکراہٹ پر مر مٹتے تھے۔ جمیل چاہتا تھا کہ وہ زیبا کو خوشحال رکھیں۔ اسے ہر آسائش مہیا کریں  لیکن مفلسی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں تھا۔ دو تین مہینے جیسے تیسے ہنسی خوشی گزر گئے۔
اب جمیل کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونے لگا۔
گاوں کے کچھ لوگ شہر جاکر مزدوری کرنے معمول سے آتے جاتے تھے جو چند مہینے گزار کر پیسے کما کر واپس آجاتے تھے۔ جمیل نے بھی اپنی قسمت آزمانے کا سوچا تاکہ وہ اپنی ماں اور بیوی زیبا کے لئے کپڑے اور گھر کی باقی چیزیں خرید کر لا سکے۔ ساتھ ہی اس کے من میں یہ خواہش بھی جاگی کہ وہ اپنی بیوی کے لئے چاندی کی ایک خوبصورت پازیب خریدے جس میں زیبا چھن چھن کرکے گھومتی رہے تو کتنا اچھا لگے گا۔
رات چارپائی پر جمیل گہری سوچ میں گم تھا۔ جمیل کا چہرہ پڑھنے کے بعد زیبا نے ان سے اداسی کا سبب پوچھ لیا؟
جمیل نے زیبا کی طرف کروٹ لیتے ہوئے اسے اپنی پریشانی بتائی۔
زیبا میں چاہتا ہوں کہ ہماری زندگی میں آسائشیں آجائیں۔ میں آپ کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے لئے خوبصورت کپڑے لے کر آؤں۔ بہت ساری رنگ برنگی چوڑیاں اور دیگر سولہ سنگھار کی چیزیں بھی۔
لیکن گاوں کی محنت مزدوری سے کچھ بھی تو نہیں بچتا۔ تم سے جدائی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اگر تم مجھے اجازت دے دو تو میں شہر چلا جاؤں گا اور وہاں دو تین مہینے کی محنت مزدوری کرنے کے بعد واپس آجاوں گا۔
زیبا نے جمیل کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ میرے لئے آپ کا پیار ہی سب کچھ تو ہے۔ مجھے تمہارے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ جمیل نے زیبا کے خشک ہونٹوں کو چومتے ہوئے کہا۔ لیکن اس میں میری بھی تو خوشی ہے۔ زیبا نے حامی بھرتے ہوئے جمیل کی بات کاٹ دی۔ اگر تم گھر کے مستقبل کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو پھر میں تمہیں نہیں روکوں گی تاکہ کل کو لوگ یہ نہ کہیں کہ دلہن نے اپنے شوہر کو شہر جانے نہیں دیا۔ میں تمہاری جدائی خوشی سے سہہ لوں گی۔ لیکن صبح ماں سے ضرور پوچھ لینا کیوں کہ ماں کا فیصلہ ہمارے لئے حرف آخر ہے۔
جمیل نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ہاں ماں کی اجازت کے بغیر تو میں ایک کام بھی نہیں کرسکتا۔
صبح چائے پر جمیل نے ماں کو مشکل سے راضی کرلیا چوں کہ جمیل کی ماں کو دن بدن برے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس لئے ماں نے اپنے بیٹے کو تین مہینے کے لئے شہر جانے کی اجازت دے دی۔ گاوں سے تین اور لڑکے بھی کام کرنے کے لئے پہلی بار شہر جارہے تھے جہاں گاوں کے باقی لوگ سڑک بنانے والے ٹھیکیدار کے ساتھ کام کرتے تھے۔ جمیل بھی ان کے ساتھ گاوں کے باقی لوگوں کے پاس کام پر پہنچ گیا اور یوں وہ بھی اس ٹھیکدار کے پاس کام کرنے میں مشغول ہوگیا۔
دن بھر مزدور پتھروں کی ہتھوڑے سے تھوڑ پھوڑ کر کے اس کا روڑا بناتے تھے اور شام کو کام ختم کرنے کے بعد زیر تعمیر سڑک کے کنارے نصب خیموں میں سوجاتے تھے۔
یہ سڑک شہر سے باہر بن رہی تھی۔ مزدوروں کو جمعے کے دن چھٹی ملتی تھی۔ چھٹی کے دن جمیل کپڑے دھوتا  تھا  اور جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ شہر کی طرف نکل جاتاتھا اور شہر کے بازار میں مختلف چیزیں دیکھ کر دل میں سوچنے لگتا  کہ جب واپس جاوں گا تو یہ شال ماں کے لئے اور یہ سرخ جوڑا زیبا کے لئے خریدوں گا۔
ہر ہفتے بعد جمیل کو ٹھیکدار سے معاوضہ مل جاتا تھا اور دوسرے لڑکوں کی دیکھا دیکھی وہ بھی تھوڑی بہت چیزیں خرید کر اپنے خیمے میں لاتے اور بیگ میں رکھ لیتے تھے۔ ریکسین کا چمکدار بیگ بھی اس  نے یہیں شہر آکر خرید تھا جسے وہ ایک چھوٹا سا تالا بھی لگا دیتا تھا۔
محنت مزدوری کرتے ہوئے جمیل کو تین مہینے ہونے والے تھے گاوں کے کچھ لڑکے واپس جانے کی باتیں کررہے تھے۔ جمیل کو بھی ماں اور زیبا کی یاد ستانے لگی تھی اس لئے اس نے بھی جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یوں تو جمیل نے گھر کے لئے باقی چیزیں پہلے سے خرید رکھی تھیں بس زیبا کے لئے پازیب خریدنے کی خواہش باقی تھی جسے جلدی خریدنے کے لئے وہ بے چین ہورہا تھا۔ گاؤں واپس جانے سے ایک دن پہلے جمیل اپنے ایک دوست کے ساتھ شہر چلا گیا اور ایک سنار کی دکان سے چاندی کا باریک اور خوبصورت پازیب خرید لیا۔
پازیب خریدنے پر وہ اتنا خوش تھا جیسے اس کے ہاتھ کسی خزانے کا ٹکڑا لگ گیا ہو۔
جمیل نے بہت احتیاط سے پازیب کو کئی اخباروں اور کپڑوں میں تہہ در تہہ کرکے لپیٹ لیا اور بیگ میں سنبھال کر رکھ لیا اور جب واپس جانے کا وقت آیا تو تصور میں زیبا کا خوبصورت کھلا ہوا چاند سا مکھڑا دل میں اتر آیا ہوا۔ پورے سفر میں جمیل آنکھیں بند کرکے زیبا کے خوبصورت پاوں میں پازیب کی جھنکار محسوس کرتا رہا۔ آخر وہ گھڑی آن پہنچی جب جمیل دوستوں کے ساتھ اپنے گاوں میں داخل ہوا۔
گاوں کے بچوں نے ان کو دور سے آتے ہوئے دیکھا تھا اس لئے سب اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگ گئے اور اپنی ماوں بہنوں کو بتانے لگے کہ شہر سے فلاں فلاں  لوگ واپس آگئے ہیں۔ جمیل کے دوستوں کے گھر والے اپنے گھروں سے نکل کر ان کے استقبال کے لئے  آگے بڑھے۔ لیکن جمیل کو دیکھ کر سب لوگ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ (پخیر راخلے) خوش آمدید کہنے لگے۔ جمیل گاؤں کے لوگوں میں اپنی ماں اور بیوی کو تلاش کرنے لگا لیکن دونوں نظر نہیں آئے۔ جمیل نے سوچا شاید ماں کو خبر نہ ہو، یا ہوسکتا وہ زیبا کو لے کر میکے چلی گئی ہوگی۔
جمیل بھیڑ سے الگ ہوکر گھر کی طرف بڑھا لیکن کچھ لوگ اس کے پیچھے دھیرے دھیرے چلنے لگے۔ جمیل گھر کے دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ جمیل نے اپنے پیچھے آنے والے لوگوں کو حیرت سے دیکھا اور پھر پریشان ہوکر گھر میں داخل ہوا ۔ سامنے ماں برتن دھو رہی تھی بیٹے کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر ماں نے دوپٹے سے اپنے ہاتھ خشک کیئے اور بے تابی سے بیٹے کو گلے لگا کر ماتھے پر چوم لیا۔ برآمدے میں چارپائی پر اپنا بیگ رکھنے کے بعد جمیل نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ لیکن زیبا اسے نظر نہیں  آئی ۔
برآمدے میں ماں کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتے ہی جمیل نے پوچھا ماں زیبا کہاں ہے؟
بیٹا اندر ہے شاید لیٹی ہے۔ ماں نے جواب دیا
جمیل نے دل میں سوچا شاید مجھ سے شرما رہی ہوگی اس لئے جلدی سامنے نہیں آرہی ہے۔
پانی پینے کے بعد جمیل نے اپنا بیگ کھولا اور ماں کو کپڑے شالیں اور دیگر گھر کی ضروری چیزیں دکھانے لگا۔
آخر میں جمیل نے زیبا کے لئے خریدی  ہوئی  پازیب ماں کو دکھائی۔ جمیل سے مزید رہا نہیں گیا اس نے کمرے کی طرف زیبا کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ زیبا اب باہر بھی آجاؤ دیکھو میں تمہارے لئے شہر سے کیا لے کر آیا ہوں۔
اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔ جمیل نے سوچا اب تو اسے اٹھ جانا چاہیئے۔ جمیل نے ماں سے کہا چلو ماں اپنے ہاتھ سے اپنی بہو کے پاؤں پر یہ پازیب باندھ لینا۔
جمیل اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھا اور جب کمرے کی چوکھٹ سے اس نے اپنا پاؤں اندر رکھا تو زیبا نے جلدی سے اپنا چہرہ کمبل میں چھپا لیا۔ جمیل نے زیبا سے کہا دیکھو تمہارے لئے میں کتنا خوبصورت پازیب لے کر آیا ہوں۔ جمیل یہ کہہ ہی رہا  تھا  کہ ماں کا ضبط ٹوٹ گیا اور زور سے چیخیں مار کر رونے لگی۔
ماں کیوں ۔۔ کیا ہوا ہے زیبا کو؟ گھبراتے ہوئے جمیل نے پوچھا۔

ماں نے ہچکی لیتے ہوئے کہا۔
بیٹا!
گاوں کے اسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں زیبا کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں ہیں۔
اب یہ پازیب نہیں پہن سکے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *