رینا اور روینا کا قبول اسلام اور نکاح۔۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

سیاستدانوں کی خوابگاہوں تک میں گھس جانے والے رپورٹر اور میڈیا کیا کررہا ہے؟
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کون کرے گا؟

گھوٹکی میں گھر سے فرار ہونے والی دو ہندو بہنیں دائرہ اسلام میں داخل ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق دونوں لڑکیاں گھر سے فرار ہوئیں تو واقعہ مبینہ طور پر اغوا ظاہر کیا گیا۔ لیکن حال ہی میں دو ہندو بہنوں نے اسلام قبول کر لیا۔
دونوں بہنوں کی اسلام قبول کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی۔ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مینگھواڑ برادری نے قومی شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا جس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ٹریفک نظام متاثر ہونے کی وجہ سے مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں پولیس مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچی۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے دہرنا ختم کر دیا۔ڈہرکی تھانے میں دو ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔دونوں بہنوں سے متعلق حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ہندو بہنیں ڈہرکی کے نواحی گاؤں حافظ سلیمان کے رہائشی ہری لعل مینگھواڑ کی بیٹیاں ہیں جن کے نام روینا اور رینا ہیں۔ روینا اور رینا گھر سے فرار ہوگئی تھیں لیکن ان لڑکیوں کے والد نے دونوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔وہ احتجاجاً رو رو کر اپنے سر میں خاک ڈال رہا تھا کہ اس کی بیٹیوں کو اغوا کر کے جبراً  مسلمان اور نکاح کئے گئے ہیں- لیکن بعد ازاں دونوں ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

میاں مٹھو کی درگاہ بھرچونڈی شریف کے دو لڑکوں سے ان کا نکاح بھی کروادیا گیا۔۔۔
یہ پیر میاں مٹھو کا ضلع گھوٹکی ہے جہاں ہر سال ایسے دو تین واقعات تواتر سے ہورہے ہیں جن میں چھوٹی عمر کی کمسن خوبصورت لڑکیاں ہی گھر سے بھاگتی ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد ان کو نمودار کر کے ان کے قبول اسلام اور مسلمان نوجوانوں سے نکاح کا دعوی کیا جاتا ہے- آج تک یہاں کسی مرد یا نوجوان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا- اس حوالے سے لڑکیوں کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آسکا۔

رینا اور روینا کا گھر سے بھاگ جانا اور پھر اچانک میڈیا کے سامنے نمودار ہو کر قبول اسلام کا دعویٰ  اور اس کے فوراً  بعد نکاح ایک مشکوک اور متنازع مسئلہ بن گیا ہے- اگر رینا اور روینا کی عمر واقعی بارہ اور چودہ برس ہے تو ریاستی قانون کے مطابق ان کا نکاح غیر قانونی ہے- بظاہر تصاویر میں دونوں لڑکیاں مطمئن اور بے خوف نظر آرہی ہیں جیسے کہ ان پر کوئی  جبر یا زبردستی نہیں کی گئ ہے- لیکن گھر سے فرار اور اس کے فورا” بعد نکاح اس معاملے کو اس لئے مشکوک بنا رہا ہے کہ یہ دونوں لڑکیاں کچے ذہن کی مالک ہیں اور شاید ان کو محبت اور پیار کے جھانسے کی آڑ میں گھر سے بھاگنے پر اکسایا گیا اور پھر ان سے نکاح کرلیا گیا یعنی اصل محرک دین کی سر بلندی یا غیر مسلم کو مسلمان کرنا نہیں بلکہ ان لڑکیوں کو حاصل کرنا اور ان سے نکاح کرنا تھا- میڈیا والے ویسے تو پاتال تک میں جا گھستے ہیں لیکن اب یہاں کسی کو یہ توفیق نہیں ہورہی کہ پولیس کی نگرانی میں رینا اور روینا کو کسی ٹی وی چینل یا اخبار کے دفتر لا کر ان کا درست موقف بھی جانا جائے کہ ان کے قبول اسلام کے محرکات کیا تھے؟ ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق کیوں اور کیسے ہوئی  یعنی وہ اسلامی تعلیمات اور عقیدے کے بارے میں کیا جانتی تھیں؟ نیز یہ کہ گھر سے فرار ہونے کے بعد وہ کہاں گئیں اور کس کے ساتھ مقیم رہیں؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ملنا لازمی ہیں کیونکہ پے درپے اس قسم کے واقعات سے پاکستان کی اندرون و بیرون ملک شدید بدنامی ہوتی ہے اور پوری دنیا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر انگلیاں اٹھانے لگتی ہے-

آیت مبارکہ ﴿لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ﴾(البقرۃ: ۲۵۶) ‘‘دین اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔’’ کا کیا مطلب ہے؟
چونکہ جبر دین کی روح کے منافی ہے،اس لیے بنیادی طور پر دین میں کسی قسم کا جبر نہیں پایا جاتا۔اسلام میں ارادے اور اختیار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس کی تمام تعلیمات کی عمارت اسی بنیاد پر استوار ہے،لہٰذا کوئی بھی عمل خواہ اس کا تعلق عقائد کے ساتھ ہو یا عبادات و معاملات کے ساتھ اگر اسے جبر کے تحت سرانجام دیا جائے تو اس کا کوئی اعتبار ہے اور نہ ہی وہ قابل قبول ہے،کیونکہ ایسی صورتحال میں کیا گیا عمل ‘‘انماالأعمال بالنیات’’ البخاری،بدء الوحی؛ مسلم، الامارۃ؛ أبوداؤد، الطلاق؛ ابن ماجۃ، الزھد.(اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔) کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔

بحیثیت ایک پاکستانی شہری کے رینا اور روینا کے اغوا کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس کا فرض سب سے پہلے یہ تھا کہ وہ لڑکیوں کو بازیاب کروا کر ان کے والد کے حوالے کرتی کیونکہ دونوں لڑکیاں بالغ نہیں ہیں- ملک میں دین یا مزہب بدلنے کی عمر آٹھارہ برس سے کم نہیں ہونی چاہئے-
ذرا سوچئے کہ اگر بھارت میں دو کمسن نابالغ مسلمان لڑکیاں اپنے گھر سے فرار ہو جائیں، ان کا باپ ان کے اغوا کی رپورٹ درج کروائے لیکن کچھ دن بعد کچھ با اثر ہندو ان لڑکیوں کے ساتھ میڈیا میں یہ دعوی کریں کہ انہوں نے ہندو مذہب قبول کرلیا ہے اور اب یہ ان دو ہندو نوجوانوں کی بیویاں ہیں تو آپ کا کیا رد عمل ہوگا؟ یاد رکھئے کہ ہم اسلام کے نام پر جو گھناونی فصل بورہے ہیں اس کے نتائج انتہائی  بھیانک نکلیں گے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”رینا اور روینا کا قبول اسلام اور نکاح۔۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

  1. پاکستان میں کافی عرصے سے یہ سب ہو رہا ہے کہ ہندو لڑکی۔ نے مسلمان ہو کر اپنی مرضی سے شادی کر لی ہے۔ مگر کبی ایسے نہی ہوا کہ ہندو لڑکوں نے مسلمان ہو گے ہوں اور مسلمانوں نے ان کو اپنی لڑکیا ں شادی کے لیے دیں بہوں یا کوی بھوڑی عورت بیوا۔ طلاق یافتہ یا اندھی مسلمان ہوی ہو۔ اسلام کی نام پر اس طرح کے لوگ اپنی حونیت کو پورا کرتے ہیں۔ اگر اس طرح انڈیا میں مسلمان لڑکی کو ہندو کر کے شادی کر دی جاے تو وہ ظلم ہو گا زبردستی ہو گی۔ اسی طرح یہ بھی صہح نہی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *