عورت مارچ: حقوق یا کچھ اور؟ ۔۔۔ بلال محمود

بندہ جتنا بھی چپ رہے کبھی نہ کبھی بول ہی پڑتا ہےـ۔ میں کافی دنوں سے کوشش کر رہا تھا کہ نہ بولوں لیکن آخرکار بولنے پر مجبور ہوں۔ جناب عالی کجھ دنوں سے عورت مارچ اور ہراسمینٹ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آج کشمالہ طارق صاحبہ کے حوالے سے ایک خبر پڑھی۔ محترمہ یہاں تک فرماتی ہیں کہ لڑکی کو گڈ مورننگ میسج بھیجنا بھی ہراسمینٹ ہےـ۔ یہ تمام بحث عورت مارچ کے بعد شروع ہوئی۔ 

خواتین کے عالمی دن پر یہ مارچ تھا کس لیے؟ اس کا مقصد کیا تھا؟ اگر اس کا مقصد عورت کے حقوق کی پاسداری ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ تو ہر جگہ ادا ہوتے ہیں۔ میرے سامنے تو ابھی تک ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا کہ جس میں عورت کے حق کو دبایا گیا ہوـ۔ اگر یہ مارچ عورت کے آگے آنے اور مرد کے ساتھ برابری کے لیئے ہیں تو وہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ عورت مرد کے ساتھ خوب مقابلے میں ہے اور کندھے سے کندھا ملا کر نہ صرف چل رہی ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو عورت مردوں سے بھی آگے۔ 

اب اس مارچ میں جس طرح کی تصاویر اٹھائی گئیں ہیں ان سے تو بالکل نہیں لگ رہا کہ آپ ان جیسی کسی چیز کے لیے بات کر رہی ہیں۔ دیکھیں بات یہ ہے کہ ہم زمانہ جاہلیت سے کافی نکل چکے ہیں اور وقت کے سات مزید بہتری بھی آئے گی۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ کسی عورت کا حق کوئی مار لےـ۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ ایک آدھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر ایسا ہوتا ہے لیکن کیا وہ آپ کے اس مارچ سے صیح ہو جائے گاـ؟ دیکھیں ان کو ایسا نہ کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا اور اس کے لیے ان کی اصلاح کرنا ہو گی ناکہ بینر اٹھائے عورت مارچ پر نکل آئےـ۔ 

جس مقصد کے لیے آپ عورت مارچ کر رہی ہیں وہ تو پہلے سے موجود ہےـ۔ مطلب ملک کا قانون بھی ہے اور شریعت بھی۔ ہم بھی ہیں اور آپ بھی لیکن اگر آپ کچھ اور کرنا چاہ رہی ہیں تو اس کے لیے میں یہی کہوں گا کہ ہمارا معاشرہ ہمارا ملک اسلامی تعلیمات پر بنا ہےـ۔ کچھ ایسے فرائض ہیں جو خدا اور رسول کی طرف سے عائد ہیں اور جنہیں پورا کرنا بھی فرض ہے اور نہ کرنا اللہ کی گرفت میں آنا ہےـ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ غلط ہیں بس آپ کا طریقہ غلط ہےـ۔ اگر آپ ان لوگوں کو تعلیم و آگاہی دیں تو وہ زیادہ اثر انداز ہو گا بجائے اس کے کہ آپ یہ طریقہ اختیار کریں۔ آپ ایک بیوی کو کہہ رہی ہیں شوہر سے بولو اپنے موزے خود اٹھائے تو جناب عالی شوہر کی خدمت کرنا تو اللہ نے فرض کیا ہے عورت پر اور آپ اس کو نافرمان بنا رہی ہیں؟ ایسا کرنے سے آپ اس رشتے کے پیار میں دراڑ ڈال رہی ہیں؟ آپ کہہ رہی ہیں کہ میرا جسم میری مرضی تو کیا مطلب اس کا؟ یعنی آپ وہ چاہتی ہیں جو اسلام آباد میں کچھ دن پہلے ہوا تھا سڑک پر گاڑی میں؟ یا آپ ساحل سمندر پر سن باتھ لینا چاہتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے ملک، ہمارے معاشرے کے کچھ اصول ہیں اور ان کے مطابق تو ایسا کرنا ناجائز ہےـ۔ کبھی آپ نے اس عورت جس سے آپ موزے نہ اٹھانے کا کہہ رہی ہیں پوچھا ہے کہ اس کی ایسی کون سی ضرورت کون سا حق ہے جو اسی کے شوہر نے ادا نہ کیا ہو جس پر آپ اسے ایسا کرنے کا کہہ رہی ہیں؟ آپ کے ایسا کرنے سے اور کچھ نہیں صرف دراڑ ہی آئے گی اور اس کی ایک مثال مرد مارچ ہے جو کجھ دن پہلے کراچی میں ہواـ۔ 

مقابلہ کریں، اس سے کوئی آپ کو نہیں روک سکتا لیکن ایک مثبت طریقے سے۔ یہ آپ کن چکروں میں پڑی ہوئی ہیں؟ دنیا میں عورت کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میری تو آپ سے یہی التجاء ہے کہ اپنے آپ کو آگے لائیں اپنے ملک اور معاشرے کی بہتری کے لیے ناکہ بگاڑ کے لیے۔ شکریہ۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *