• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں پر پابندی کے محرکات۔۔۔گہرام اسلم بلوچ

تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں پر پابندی کے محرکات۔۔۔گہرام اسلم بلوچ

حکومت اور حاکمِ وقت آ ج کل اس طرح حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں، کس پر ہاتھ ڈالیں۔ گزشتہ روز حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبا سیاست پہ پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے معاشرے کے لکھے پڑے باشعور سیاسی کارکن، صحافی حضرات، طلبا قائدین یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کوئی ان حکومتی انگوٹھا چھاپ کو بتلائے کہ اس ملک کی تاریخ میں طلبا سیاست ہو، ٹرید یونینز ہوں یا مزدور یونینز ہوں یا ترقی پسند اور جمہوری جماعتیں ہوں، کب حکومت کی خواہش یا ان کی آشیرباد سے یا ان کی رضا و منشا اور انہیں خوش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ملکی ڈکٹیرشپ کے دور میں بحالی جموریت کے، ایم آر ڈی کی تحریک ہو یا ملکی و بلوچستان سطح پر طلبا تنظیموں کی جدوجہد ہو، انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں ایوبی دور ہو، ضیا کا دور ہو یا بھٹو کا آمریت نما جمہوری دور ہو، جمہوری پرامن سیاسی ماحول کے قیام کے لیے طلبا تنظیموں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ معاشرے سے جہالت، تنگ نظری، مذہبی جنونیت اور انتہاپسندی کی سوچ کی حوصلہ شکنی کرنے میں، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن یا دیگر ترقی پسند طلبا تنظیموں نے شعوری طور پر نوجوانوں کی سیاسی رہنمائی کی ہے۔

آج ان ہی طلبا تنظیموں اور کیمپس پالیٹکس کی مرہون منت ہے کہ بلوطستان کی سیاست اور طلبا تنظیموں سے تربیت یافتیہ سیاسی رہنماؤں کو ملکی سیاست میں وزن سے سنا جاتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس لیے کہ ان کی تربیت ایک ایسے پلیٹ فارم سے ہوئی ہے جن کی بلوچ جدید قوم پرستی اور ملکی جمہوری سیاست میں طلبا تنظیموں کا ایک کلیدی کردار رہا ہے۔

اس ملک کے حکمرانوں کا یہی المیہ ہے کہ ان کو خبر ہی نہیں ہے کہ ان کے معاملات کہاں سے خراب ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہم جو بھی کرنا چاہیں، اپنی مرضی کریں، کوئی ہمارے سامنے رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ جب چاہیں طلبا کا استحصال کریں۔ ایسا تو آج سے کئی سال پہلے کرنے والوں کو کس حد تک سیاسی مزاحمت اور مشکلات کا سامنا ہوتا تھا، آج تو اس سو سے فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔ آج گلوبلائیزیشن کا دوور ہے۔ نوجوان یادہ متحرک ہیں اور شعور رکھتے ہیں۔

ہر مسلط کردہ فیصلے کو قبول کرانا اتنا آسان نہیں، جتنا موجودہ باصلاحیت شاطر حکومتی صاحبِ ثروت چیزوں کو ترتیب دیتے ہوئے سمجھ رہے ہیں۔ اگر طرزِ حکمرانی اتنا آسان ہوتا تو آج ستر سال بعد بھی اس طرح کی عجیب وغریب چیزیں نظر نہ آتیں۔ اس سے قبل مرحوم ضیا الحق نے طلبا سیاست کے عروج سے گھبرا کر طلبا یونین پہ پابندی عائد کی۔ اسی دن سے تعلیمی اداروں میں مذہبی انتہا پسندی اور جنونیوں نے پرامن تعلیمی ماحول کو خراب کرنے اور معاشرے کو جہالت اور پسماندگی کی جانب دھکیل دیا دیا، جو حکمرانوں کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

کل اس نوٹیفکیشن کے بعد نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جس طرح ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر اس کو واپس نہیں لیا گیا تو طلبا کی یہ آواز بلوچستان سے نکل کر ایک ملک گیر طلبا تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس دو دن کے دوران میرے ٹویٹر اکاؤنٹ پہ سب ٹوئیٹس اس حوالے سے آ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس بار نوجوان اور طلبا تنظیمیں اپنے وجود کی خاطر شاید بڑے پیمانے پر اتحاد و اتفاق کے ساتھ طلبا تحریک کا آغاز کریں۔ اور اگر اس تحریک کا ملکی سطح پر میڈیا اور صحافی حضرات سوشل ایکٹوسٹس نے بھرپور ساتھ دیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ تحریک ملک بھر میں طلبا یونینز کی بحال تک کامیابی سے ہمکنار ہو۔

آج یہ ایک تنظیم کا نہیں بلکہ تمام طلبا و طلبا تنظیموں کے وجود کا مسئلہ ہے۔ ان عظیم تر مفادات کی خاطر تمام طلبا تنظیموں کو ایک ہونا ہوگا۔ اگر اس مسئلے پہ طلبا تنظیموں نے کوتاہی دکھائی تو اس کا ازالہ مشکل ہے۔ جس طرح طلبا یونین کی بحالی ابھی تک ممکن نہیں ہوئی، اسی طرح اس اقدام کے بعد بلوچستان میں بی ایس او سمیت تمام طلبا تنظیمیں بے اثر ہوں گی۔

ایک بات ہم ضرور ذہن نشین کر لیں کہ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں، اس دور میں بلوچ اور مظلوم عوام کی آخری امید اور سہارا بی ایس او جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیں اس لیے دی ہیں کہ یہ تنظیم لاکھوں بے بس و نادار انسانوں کی آواز ہے۔ بلوچ نوجوانوں کے غرور و بلوچ قوم پرستی کی سیاست کی مادر تنظیم کا زوال شروع ہوا تو تاریخ ہمارے عہد کو اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جائے گا۔

حکومت کا یہ ناروا اقدام دراصل اس وقت جاری ہوا جب گزشتہ دنوں حکومت بلوچستان کی جانب سے ایجوکیسن ڈیپارٹمنٹ میں شعبہ تعلیم کے کچھ پبلک سروس کمیشن کی معیار کی آسامیوں کو بجائے کمیشن میں دینے کے عام کلرکس کی آسامیوں کی طرح مشتہر کر کے اپنے ووٹرز و سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کی کوشش کی، جس کے خلاف ایک سیاسی تنظیم بی ایس او پجار کے رہنماوں اس حکومتی عمل کو کرپشن کے زمرے میں لا کر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت کے فیصلے مطابق حکم امتناع جاری ہوا۔ دوبارہ پیشی کے دوران کی نیوز کے مطابق بھی معزز عزت مآب ججز کے ریمارکس مفادِ عامہ کے حق میں تھے اور کانسٹی ٹیوشنل پیٹیشن داخل کرنے والے بھی زیادہ متحرک نظر آ رہے تھے۔

اس کے فورآ بعد نہ جانے حکومت نے کیا سوچ کر، مجبور ہو کر آخری ہتھیار کا سہارا لے کر بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں طلبا تنظیموں پہ پابندی عائد کرنے کا اپنی طرف سے فرض پورا کیا۔ اب حکومت کس حد تک اس پہ قائم رہ سکتی ہے اور طلبا تنظیمیں کس حد تک اپنی بقا کا دفاع کریں گے، یہ آنے ولا وقت بتائے گا۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *