پیغام پاکستان ۔۔۔ چند سوالات ۔۔۔۔۔آصف محمود

بہاولپور میں ایک استاد کا قتل خبر دے رہا ہے کہ معاشرے میں انتشار فکر کتنا شدید ہو چکا ہے۔ اس سانحے کے صدمے سے کچھ سنبھلا تو یاد آیا ایک نیشنل ایکشن پلان ہوتا تھا اور ایک پیغام پاکستان ۔ نیشنل ایکشن پلان پارلیمان نے دیا ۔ آج اہل سیاست میں سے کسی کو نیشنل ایکشن کے فکری پہلو یاد ہوں تو حقیقی معنوں میں ایک بریکنگ نیوز ہو گی ۔ پیغام پاکستان ، بتایا جاتا ہے کہ ، سینکڑوں جید علماء کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا اور مدارس کے تمام وفاق اس پر متفق تھے۔مجھے نہیں معلوم ان ایک سو اسی جید علماء اور چار وفاقوں میں سے کسی نے کبھی پیغام پاکستان پر بات کرناگوارا کی ہو، جمعہ کا کوئی خطبہ یا کسی محفل میں ایک مختصر سا کوئی بیان؟ تب ایوان صدر میں ایک تقریب سجائی گئی تھی اور خواجہ آصف سے لے کر احسن اقبال تک اہل سیاست قطار اندر قطار وہاں موجود تھے ، اس کے بعد نہ کبھی خود ممنون حسین صاحب نے پیغام پاکستان پر کوئی بات کی نہ اہل سیاست کو یاد رہا کہ اس تقریب کا مضمون کیا تھا ۔ سماج کی فکری تہذیب سے بے نیازی کا یہ منطقی نتیجہ ہے جو بہاولپور میں ہمارے سامنے آیا۔

برادر م خورشید ندیم کے ادارہ علم و تحقیق نے پیغام پاکستان کے حوالے سے اگلے روز اسلام آباد میں اہل صحافت کے لیے ایک نشست کا اہتما م کیا جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایااز اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاء الحق نے اظہار خیال فرمایا ۔ پیغام پاکستان کا مسودہ چونکہ ادارہ تحقیقاتی اسلامی نے تیار کیا تھا اور اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل اسے لے کر چل رہی ہے تو اشتیاق ہوا کہ ان صاحبان علم کی بات سنی جائے ، ان کی خدمت میں کچھ سوال رکھے جائیں ، کیا عجب الجھنیں کچھ دور ہو جائیں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب اور برادرم خورشید ندیم کا کہنا تھا پیغام پاکستان ایک بیانیہ ہے اب اسے پالیسی بننا چاہیے اور پالیسی یہ تب ہی بن سکتا ہے جب پارلیمان اس کی روشنی میں قانون سازی کرے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ انہیں کس نے یہ خبر دی کہ پیغام پاکستان ایک بیانیہ ہے؟ بیانیہ تو بہت دور کی بات ، اہل وطن کی غالب اکثریت کو تو شاید معلوم ہی نہ ہو پیغام پاکستان کیا چیز ہے۔ نیز یہ کہ اس پیغام پاکستان میں آخر وہ کون سی ایسی نئی چیز ہے جو پاکستان کے آئین اور قانون میں موجود نہیں اور جس پر قانون سازی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ انسانی جان اور مال کے تحفظ سے لے کر پرائیویٹ آرمی یعنی نجی جہاد تک سب کی ممانعت تو آئین میں ویسے ہی موجود ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ فکری جمود کا شکار معاشرے کیا صرف قانون سازی سے درست ہو سکتے ہیں؟

ڈاکٹر ضیاء الحق صاحب کا کہنا تھا جب ہم نے یہ دستاویز تیار لی تو ہم نے سوچا اس کی اونر شپ کس کو دی جائے۔ کیا یہ اونرشپ پارلیمان کو دی جائے یا یہ اہل مذہب کو سونپ دی جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ غور و خوض کے بعد طے ہوا کہ چونکہ فی نفسہ یہ مسئلہ مذہبی ہے تو اس کی اونر شپ اہل مذہب کو دی جائے۔ میں ایک طالب علم کے طور پر یہ بات سن کر حیران اور پریشان رہ گیا کہ ایک یونیورسٹی کے ایک ذیلی ادارے کا ڈائرکٹر جنرل کہ رہا ہے کہ میں نے سوچا اس کی اونرشپ پارلیمان کو دی جائے یا کسی اور کو۔ سوال یہ ہے کہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائرکٹر جنرل کیا پارلیمان کو اپنا ایک ذیلی ادارہ سمجھتے ہیں ؟ کیا اس رویے کے ساتھ معتدل سماج کی تشکیل کی جا سکتی ہے؟ انہیں یہ خیال کیسے آ گیا کہ پوری پارلیمان کے بارے میں آئی آر آئی کا ڈی جی فیصلہ کرے گا؟ پارلیمان کے بارے میں اگر ہمارے اہل علم بھی اس نفسیاتی گرہ کا شکار ہیں تو پھر معتدل جمہوری سماج کی تشکیل کیسے ممکن ہو سکے گی؟ کیا اس رویے کے ساتھ آپ توقع رکھ سکتے ہیں کہ پارلیمان اس کی اونرشپ لے گی؟

ایک الجھن یہ ہے کہ جب سینکڑوں جید علماء اس پر دستخط کر چکے اور چاروں وفاق بھی اس پر متفق ہیں تو کیا وجہ ہے انتہا پسندی کو روکنے کے لیے کسی عالم یا کسی مذہبی رہنما نے کبھی پیغام پاکستان کا حوالہ نہیں دیا۔ اگر چاروں وفاق اس پر متفق ہیں تو اسے کسی وفاق کے نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا ۔ اہل مذہب اگر ایک چیز کو درست سمجھتے ہیں اور اس پر دستخط کر چکے ہیں تو اب اس بات کا بر سر منبر کھل کر اظہار کیوں نہیں کرتے۔ کیا فہم دین کے باب میں قوم کی رہنمائی ان کا دینی فریضہ بھی نہیں ہے۔

میری رائے میں پیغام پاکستان کا تعلق قانون سازی سے زیادہ اس سماج کی فکری تہذیب سے ہے۔ جب تک یہ کام نہیں ہو گا انتہا پسندی اور انتشار فکر سے نجات ممکن نہیں ۔ بہاولپور میں ایک استاد کا قتل بتا رہا ہے کہ یہاں اہل فکر مدارس کے باب میں متفکر رہے لیکن جدید تعلیمی اداروں کی حالت زیادہ پریشان کن ہے۔ انتشار فکر نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، اب جدید اور قدیم کی بحث بے معنی ہو چکی ہے۔ اس انتشار فکر سے نکلنا ہو گا اور پیغام پاکستان اس کوشش کا ابتدائی اور پہلا با معنی نقش ہے جس میں اداروں کی تطہیر اور تعمیر کی بات بھی کی گئی اور اس کی روشنی میں اگلے مرحلے میں ’ ڈی ریڈیکلائزیشن آف کیمپسز‘ کے منصوبے پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ آئی آر آئی نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ اس ضمن میں مشاورت شروع کر رکھی ہے۔ معلوم نہیں آگے چل کر یہ کوشش کیا صورت اختیار کرتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ادارہ تحقیقات اسلامی کی یہ کوشش بہت مبارک ہے۔

یہ کوئی آسان کام نہیں ۔ جامعات میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے جتھے بنا رکھے ہیں ۔ان جتھوں کا ناامہ اعمال ہمارے سامنے ہے۔ ’’ ڈی ریڈیکلائزیشن‘‘ کے اس عمل میں یہ گروہ مزاحمت کریں گے ، یہاں ریاست کو قوت کے ساتھ بروئے کار آنا ہو گا۔لیکن یہ عمل حکیمانہ انداز میں آگے نہ بڑھا تو نقصاندہ بھی ہو سکتا ہے۔ توازن کا قائم رہنا ضروری ہے ۔ ’ڈی ریڈیکلائزیشن ‘ کی یہ کوشش رد عمل میں سیکولر انتہا پسندی کی طرف نہ چلی جائے اس کا خاص خیال رکھنا ہو گا ۔کیونکہ اس صورت میں ’ ریڈیکلائزیشن‘ بھی بڑھ جائے گی اور فکری انتشار بھی ۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور ادارہ تحقیقات اسلامی نے بھاری پتھر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صف نعلین میں کھڑے ہم طالب علم کامیابی کی دعا ہی کر سکتے ہیں ۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *