پیسہ،مذہب اور اقتدار۔۔۔۔نذر محمد چوہان

جنرل ضیاء کُھلے عام کہتا تھا کہ  ان تین چیزوں سے پاکستانیوں پر تاحیات حکومت کی جا سکتی ہے ۔ بہت درست کہتا تھا ۔ اس نے دانشور ، جرنلسٹ ، بینڈ ماسٹر ، رقاصاؤں اور اداکاروں کو پیسہ سے نوازا اور خریدا ۔ ہر مسلک کے مولوی کی دکان سجائی،  مولویوں کو پورے موج میلہ کے مواقع دیے ۔ مفت حج اور عمرہ کروائے اور دنیاوی عیاشی کے بھی مواقع فراہم کیے ۔ اسلامی مدرسوں کی بنیاد رکھی جہاں سے فتنہ، فساد اور جنگ کی ٹریننگ دی گئی ۔ اقتدار میں ہر اس شخص کو شامل کیا گیا جو بہروپیا ہو ،چند ٹکوں کا مالک اور بینڈ باجے کا شوقین ۔ یہ سارا کچھ قدرت کے بالکل مخالف تھا ۔لہذا ضیاء کی بتیسی سے بمشکل یہ پتہ لگایا گیا کہ  اسی ظالم کی مسخ شدہ لاش ہے ۔
جنرل ضیاء کی باقیات نے اس کے مرنے کے بعد اقتدار سنبھال لیا اور پیپلز پارٹی جو بنیادی طور پر بھٹو نے ایک نظریاتی جماعت کے طور پر سیاسی پارٹی بنائی  تھی وہ بھی جتنی دیر اقتدار میں رہی جنرل ضیاء والا ہی طبلچی فارمولا استعمال کیا ۔ نئی  صدی ایک اور جنرل کو لے کر آئی  جس نے ناچ گانے  کو مذہب پر فوقیت دینے کی کوشش کی لیکن منہ کی کھانی پڑی کیونکہ سارے کا سارا مافیا جو اقتدار میں حصہ دار تھا اس کی دکانداری مذہب کے ذریعے ہو رہی تھی ۔ نواز شریف جنرل ضیاء کا منہ بولا بیٹا جب تیسری دفعہ وزیراعظم بنا تو یہ فارمولا اس کے اپنے گھر کی لونڈی تھی ۔ تمام لبرلز کے منہ میں مناسب مقدار میں ٹافیاں اور چاکلیٹ ڈالی گئیں ، مولویوں کو مناسب چارہ ڈالا گیا اور اقتدار میں شمولیت ہر اس شخص کو دی جو لینڈ مافیا سے منسلک تھا خود بھی پیسہ بناتا تھا اور باقیوں کو بھی کھلاتا تھا ۔


عمران خان نے اس سارے نظام کو اُلٹانے کی ٹھانی اور ایک یکسر مختلف ایجنڈا متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ۔ عوام جوک در جوک اس کے دھرنوں میں شامل ہوئے بغیر یہ سوچ کر کہ  اس کی تو نہ ٹریننگ اور نہ زندگی ،ان قدرتی اصولوں پر ہوئی  جن کی یہ بات کر رہا ہے یہ کیسے اس کو نافذ کر سکتا ہے ۔ ایسے نظام کو نافذ کرنے کے لیے اچھے کردار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہی ہوا ، اسی جیسی اس کی ٹیم ۔ زلفی بخاری کی ذرا جیمز بانڈ والی آنیاں جانیاں دیکھیں اور ڈاکٹر شہباز گل کی کوٹ لکھپت جیل کے اندر کی کہانیوں پر کمنٹریاں سنیں ۔ نوازے قیدی نے آج کتنے انڈے کھائے اور کتنی مرغیاں ۔ کاش کوئی  یہ بتانے والا ہوتا کہ  اس اربوں کے لُٹیرے نے آج کتنے ڈنڈے کھائے اور کتنی ذلت اُٹھائی ۔
بہاولپور سانحہ جہاں ایک استاد کو چُھریوں کے وار کر کے مارا گیا یہ اوپر بیان کردہ کہانی کا نتیجہ ہے ۔ کل ایک دوست نے امجد ثاقب کی اخوت کے دفاتر میں تصویر لگائی ،ایک ہارورڈ کے گروپ کے ساتھ ۔ کوئی  امجد ثاقب سے یہ پوچھے کہ  جناب آپ نے دانش اسکول شہباز شریف سے بنوائے اربوں روپیہ ضائع کروا دیا ، ان کا دورہ کیوں نہیں کروایا گیا ؟ اخوت ایک بینظیر اِنکم  سپورٹ پروگرام کی طرح کا گھِسا پِٹا بیکار پروگرام ہے جو لوگوں میں مچھلیاں بانٹ رہا ہے پکڑنی نہیں سکھا رہا ۔
ہم پاکستانی پیسہ اور تھانیداری کے ماسٹر ہیں ۔ ڈبل شاہ سے لے کر ملک ریاض ہو یا ہمارے حکمران ، ہماری سماجی تنظیمیں ہوں یا این جی اوز ، سب کے سب اس غلاظت میں لت پت ۔ کسی کو کسی قسم کی ملک سے غرض نہیں ، کوئی  ان کا احتساب نہیں، کوئی  ان سے پوچھنے والا نہیں ۔ ان کا ایک ہی منشور ، مزید قرضے لو ، بھیک مانگو اور ٹوپیاں بدلنے کا کھیل جاری رکھو ۔ سارے کے سارے فرعون کے بھی باپ ۔ وزیر خزانہ کہتا ہے معاشی معاملات کنٹرول میں ہیں بس ذرا مہنگائی برداشت کرنی پڑے گی ۔ ملک ریاض جس کو جیل میں ہونا چاہیے تھا اور بحریہ کی کالونیاں سرکار کو ضبط کر لینی چاہیے تھیں  وہ ۴۶۰ ارب دے کر پھر لُوٹنے کے کھیل میں شامل اور اقتدار کا کھیل کھیلے گا ۔ حرام کے پیسے سے حرام کے کام ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس کی تمام اسکیموں کی نیلامی کروائی  جاتی ، انٹرنیشنل بڈنگ ہوتی ، ہزاروں باہر کی کمپنیاں لے سکتی تھیں ۔ لیکن  نہیں۔۔۔
کیا پاکستان میں یہ نظام چلتا رہے گا ؟ کیا پیسہ ، مذہب اور اقتدار کی بجائے کوئی مجھ جیسا پیار ، محبت اور بھائی  چارہ والے پاکستان کی بنیاد رکھ سکے گا ؟ فی الحال تو بہت ناممکن ، میں خود باہر سیاسی پناہ لیے بیٹھا ہوں اور آٹھ کروڑ نوجوان پاکستانی بالکل اس وقت کنفیوزڈ بیٹھے ہیں ۔ ان سب کو اس خوفناک سُرنگ سے باہر کسی قسم کی روشنی نظر نہیں آ رہی شاید انہوں نے اسی سُرنگ میں مر جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ۔ پاکستان پائندہ باد ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *