• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جہاں استاد بھونکتا اور جاہل فرماتا ہے ۔۔۔روبینہ فیصل

جہاں استاد بھونکتا اور جاہل فرماتا ہے ۔۔۔روبینہ فیصل

قصور اس اٹھارہ انیس سال کے بچے ( میں اس کا نام جانتی ہوں مگر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے نقشِ قدم پر چلتے ہو ئے میں اس ظالم کا نام نہیں لوں گی ) کا بھی نہیں جس نے استاد کو یہ کہہ کر چھریوں سے حملہ کر کر کے مار دیا کہ” وہ اسلام کے خلاف بھونکتا ہے” ۔قصور، اس صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کے استادِ محترم خالد حمید شہید کا بھی نہیں جس نے پاکستان جیسے ملک میں تدریس کے شعبے کو چُنا اور انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ انسانیت کا سبق دینے کا فیصلہ کیا ۔۔ توقصور کس کا ہے ؟
کیا قصور اس معاشرے کا ہے جو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بغیر لائٹوں کے ایک چھکڑا سی سائیکل کی صورت ٹوٹی پھوٹی سڑک پرچلتا جا رہا ہے یہ جانے بغیر کہ منزل ہے کہاں ؟
میں اس بچے کو “بے قصور” کیوں کہہ رہی ہوں جس نے اس عظیم انسان کو شہید کر دیا جو کوزہ گر تھے،جو لوہے کو کندن اورپتھر کو تراش کر ہیرا بناتے تھے۔ استاد کا درجہ اسلام میں روحانی باپ کا ہے،ستم ظریفی دیکھئے اسی اسلام کے نام پر مار دیا گیا ۔
کہا جاتا ہے کہ علم سکھانے والے کے لئے ساری کائنات ۔۔اللہ تعالی،فرشتے، آسمان و زمین کی تمام مخلوقات،پانی کے نیچے تیرتی مچھلیاں اور بلوں میں چھپی چیونٹیاں تک۔۔دعائے خیر مانگتی ہیں۔ استاد کو ثواب ، صبح و شام ملتا ہے ۔ اور وہ تو تھے بھی صوم و صلوتہ کے پابند ، حج بھی ادا کر رکھے تھے اورجو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ٹھیک سے نباہ رہے تھے، جس کی گواہی ان کے طالبعلم دیتے ہیں ۔ وہ طالبعلوں کے لئے ڈھال تھے ۔ سود و زیاں کے اس کاروباری زمانے میں ایسے آشفتہ سر بھی موجود ہیں ۔ میں خالد حمید کی زندگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتی ہوں مگر جس چینل کو دیکھو ،جس خبر کو اٹھا لو ، وہیں پر مارنے والے وحشی جانور کا نام، پتہ ، بہنوں کی تعداد ، کس محلے میں پڑھ لکھ کر جوان ہوا ، آبائی گاوں ،سب مل گیا مگر شہید ہونے والے پروفیسر کے بارے تفصیلات بس یہی کہ بیٹے نے ایف آئی آر کٹوائی ۔
عمران خان کو پسند کرنے کی ایک سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ وہ پہلا سیاستدان تھا جو خود ایچی سن اور آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہو نے کے باوجود ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کی بات کیا کرتا تھا ۔ ۔ جیسے یہاں کینیڈا میں تعلیمی نظام ہے ، ایک ریفیوجی ٹیکسی چلانے والے کا بچہ اور وزیر اعظم کا بچہ ایک ہی سکول میں جا تے ہیں ۔ یہاں ایچی سن، حسن ابدال ، گھوڑ اگلی اور چیف کالجز کے گریجویٹس کی طرح ، غرور سے سر اٹھائے, سرکاری سکولوں میں پڑھنے والوں کو” کم تر انسان “نہیں سمجھتے ۔
پاکستان میں فر فر انگریزی بولتے بچے، اردو میڈیم سکولوں کے بچوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔قابلیت،” علم “سے نہیں بلکہ انگریزی زبان بولنے سے ناپی جاتی ہے ۔ اگلا سلسلہ یہ ہے کہ اردو میڈیم بچے ، مدرسے کے پڑھے بچوں کو دوسرے سیارے کی مخلوق جانتے ہوئے انہیں غبی اور کند ذہن سمجھتے ہوئے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ احساسِ کمتری ، دھتکارے ہو ئے بچوں کی شخصیت کا حصہ بن جا تا ہے ۔
مجھے یاد آیا ، میں بی کام کر نے کے ساتھ ساتھ امی کے ٹیوشن سنٹر میں نویں دسویں کے بچوں کو پڑھایا کرتی تھی ۔اس سنٹر میں کوئی آٹھ بہن بھائی آیا کرتے تھے ، چھوٹی چھوٹی عمر میں ٹخنوں سے اوپر شلواریں، داڑھیوں اور حجابوں کے ساتھ ۔۔ان میں دو جڑواں بھائی تھے ، جو مجھ سے پڑھتے تھے ، ایک ہنسنا چاہتا تھا ، دوسرا اس کو ڈانٹ دیا کرتا تھا ۔ چہرے پر اتنی سختی ہو تی تھی کہ میں گھبرا جاتی تھی ۔ ہوم ورک کے لئے اصرار کرنا مجھے جان کا عذاب لگتا تھا ۔ ان کا انداز ایسا ہو تا تھا جیسے وہ دنیا کے برتر ترین انسان ہوں اور میں دوپٹہ سر پر نہ رکھنے کی وجہ سے استاد ہو نے کے باوجود ان کے سامنے ایک حقیر مخلوق ہوں ، اسی کلاس میں ایک انگلش میڈیم کی بچی بھی ہو تی تھی ، اسے انگلش میں مجھ سے باتیں کرتے دیکھ کر وہ غصے میں آگ بگولہ ہو جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ ان کے گستاخ رویے کی شکایت مجھے امی سے کرنا پڑتی تھی ۔۔ اپنے کالج کی پڑھائی کے ساتھ یہ اضافی ذمہ داری جسے میں ان بچوں کے آنے سے پہلے بہت انجوائے کیا کرتی تھی ، ان کی وجہ سے مجھے عذاب لگنے لگ گئی تھی ۔میری مقبولیت کی وجہ سے امی مجھے اس جاب سے رخصت نہیں کرسکتی تھیں ۔۔۔ آج جب اس بچے کا یہ” وحشیانہ فعل “پڑھا تو مجھے وہ بچے یا د آگئے ۔۔ مجھے پاکستان کا وہ تین تہوں میں چلتا ہوا نظام تعلیم کا بکھیڑا یاد آگیا ،میں تب بھی اتنی ہی شدت سے یہ فرق محسوس کیا کرتی تھی اور آج بھی پاکستان میں بڑھتی ہو ئی نا انصافی ، مادیت پرستی اور شدت پسندی کی انتہاؤں کو چھوتے ماحول  کی بڑی وجہ اسی تفریق کو سمجھتی ہوں ۔
جب مدرسے یا سرکاری سکول کا پڑھا ، ایسے مخلوط تعلیم والے ماحول میں جاتا ہے تو نوجوان عمر کے تقاضے بھی اس کے ساتھ ہو تے ہیں ، اس کی غربت بھی اور اس کا تعلیمی بیک گراؤنڈ بھی۔ اس کے برعکس فر فر انگریزی بولتے ، پرا عتماد لڑکے لڑکیاں ، لائق ہو ں یا نہ ہوں مگر مقبول اور دل پسند ضرور ہو جاتے ہیں اور آپس میں ان کی دوستیاں ، ایسے پیچھے رہ جانے والوں کو گھٹن کا شکار کرتی ہیں ۔ پھر یہ نا آسودہ بچے مذہب میں فرار ڈھونڈتے ہیں ۔ اور اس جنت کے خواب دیکھنے لگ جاتے ہیں جس کا وعدہ انہیں مولوی ایسی ہی بنیاد پرستی سکھا کر کرتا ہے ۔ اس طرح ڈپریشن کا شکار یہ بچے قتل جیسے بھیانک عمل سے باآسانی گذر جاتے ہیں کیونکہ بندوں یا خدا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے اس سے اچھا راستہ انہیں اور کوئی نہیں نظر آتا ۔۔ کبھی سوچئیے کسی امیر کا بچہ کیوں نہیں مذہب کی بے حرمتی کے پیچھے لال پیلا ہوتا ؟ اگر بچوں کو آرٹ ، میوزک ، اور زندگی سے محبت کرنے کے راستوں پر لگایا جائے ، اگر مادیت پرستی ان کے مساموں سے نچوڑ لی جائے تو معاشرہ مختلف شکل لے سکتا ہے ۔ کبھی میوزک کو حرام اور کبھی ڈانس کو کنجر خانہ کہہ دینے سے آپ کسی کا نہیں اپنی نسل کا خانہ خراب کر رہے ہیں ۔
دیا سلائی سے گھر روشن بھی کیا جا سکتا ہے اور جلایا بھی جا سکتا ہے ۔ یہ بچے دیا سلائی ہیں ،ان کواصلی اسلام کی روح سمجھا کر نہ صرف اپنے گھر میں بلکہ پوری دنیا میں روشنی پھیلائی جا سکتی ہے نیوزی لینڈ کی مسجد میں شہید ہونے والے نعیم رشید اور ان کے بیٹے طلحہ ہمارے اسلام کی وہ شکل ہیں جو آج ہمیں اپنے بچوں کو ازبر کروانے کی ضرورت ہے ۔ انسانوں کی موت کی وجہ یا خود موت بننے کی بجائے انسانوں کو بچانے والا مسلمان ۔۔ آج میرا سر فخر سے بلند ہے کہ نعیم رشید اور طلحہ جیسے سپوت اسلام کے نام لیوا تھے ، مسجدوں میں بیٹھنے والے میرے وہ قابلِ فخر بھائی اور بیٹے تھے جو موت سے ٹکرا کر دوسروں کو بچاگئے ۔۔۔ یہ ہے اسلام کا سبق ۔ انسانیت کی بقا ۔۔ انسانیت کی معراج ، انسانیت کے لئے امن اور محبت کیونکہ اللہ محبت ہے ،ہمارے رسول پاک محبت ہیں ، ہمارا دین محبت ہے ۔۔ نفرت تو شیطان کا دوسرا نام ہے ، جو نعیم شہید کی بیوہ نے کہا :”مجھے ترس آتا ہے اس قاتل پر جس کے دل میں نفرت تھی ، ہمارے دلوں میں محبت ہے اس لئے ہم امن میں ہیں اور خوش ہیں” ۔ عنبرین ایک عظیم عورت اور رول ماڈل ہے ان سب ماؤں کے لئے جنہوں نے اپنے بچوں کو مسلمان اور اچھا انسان بنانا ہے۔ ان خاتون کے چہرے پر جو اطمینان کی روشنی تھی ، وہ کئی سیاہ دلوں کو منور کر نے کی طاقت رکھتی ہے ۔ایسی روشنی کی پاکستان میں ضرورت ہے ۔ ملک کے محسن سائنسدان کی قبر کے کتبے پر سیاہی پھیرنے والوں کی نہیں ، استاد پر چھریاں چلانے والے وحشیوں کی نہیں ،عبادت گاہوں کو جلانے والوں کی نہیں۔
خان صاحب !! نظامِ تعلیم یکساں کرنے کا وعدہ پورا کریں ورنہ استادوں کو چھریوں سے کاٹا جاتا رہے گا اور جاہل منبروں سے فرماتے رہیں گے۔دیر مت کریں ورنہ غربت اور احساسِ کمتری کے مارے ہو ئے بچے ، ان جاہلوں کے فرمانوں کو اسلام سمجھ کر اسلام کو پوری دنیا میں رسوا کرتے رہیں گے۔ان دیا سلائیوں سے روشنی پھیلائیں ، بھسم کرنے والی آگ نہیں ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”جہاں استاد بھونکتا اور جاہل فرماتا ہے ۔۔۔روبینہ فیصل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *