ایران کی پاک بھارت مسائل پر ثالثی کی پیشکش

ایران کی پاک بھارت مسائل پر ثالثی کی پیشکش
طاہر یاسین طاہر
ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور مشرق وسطیٰمیں قیام امن کے لیے ایران کے کردار کو تسلیم نہ کرنا بجائے خود ایک زیادتی ہو گی۔یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک خطے اور دنیا میں امن قائم نہیں ہو گا،دنیا میں غربت،بے روزگاری اور نفرت بڑھتی رہے گی۔پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں اور ایک دوسرے کے شدید حریف بھی۔مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے سفارتی و قریبی تعلقات میں ایسی آہنی دیوار ہے جس کے سائے تلے گولہ و بارود کے ڈھیر ہیں۔پاکستان و بھارت دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اور خدانخواستہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ جنگ بالکل روایتی نہیں ہو گی بلکہ خطے میں ایسی تباہی پھیلے گی کہ چشم فلک نے پہلے نہ دیکھی ہو گی۔اس لیے نہ صرف دونوں ممالک کے امن پسند افراد بلکہ دنیا بھر کے انسان دوست ادارے،افراد اور ممالک ،جنگوں کی مخالفت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ہولناک جنگیں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتیں،اور انسانی المیہ رونما ہوتا ہے۔تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے کنی کترائی ہے اور جب کبھی مذاکرات کی میز پر آیا بھی، تو مذاکرات کو سود مند بنانے کے بجائے انھیں لٹکائے رکھنےکے سفارتی طریقے ہی اپنائے۔یہ امر بھی واقعی ہے کہ دونوں جانب کے انتہا پسندانہ رویہ کے حامل چند افراد بھی پاک بھارت تعلقات کو درست سمت اختیار نہیں کرنے دیتے اور تناو کی کیفیت کو برقرار رکھتے ہیں۔بے شمار واقعات اس بات کے شاید ہیں کہ جب بھی کوئی پاکستانی فنکار،یا گلوکار بھارت میں کنسرٹ کرنے گیا تو اسے بھارت کے انتہا پسندانہ گروہوں اور تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملیں،جبکہ بھارت سے آنے والے فنکاروں و گلوکاروں کو پاکستان میں پذیرائی ملتی ہے۔اڑی سیکٹر پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاک بھارت تعلقات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔اڑی سیکٹر پر حملے کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا اور بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو شارٹ نوٹس پر ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔
یعنی حالات اس قدر کشیدہ ہوئے کہ فنکاروں تک کو نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دوسری طرف بھارتمیں پاکستانی اور پاکستان میں بھارتی فلم و ڈراموں پر پابندی عائد ہو چکی ہے۔لائن آف کنٹرول پر بھارت مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،جبکہ بھارت یہ دوعویٰ بھی کر چکا ہے کہ اس نے پاکستانی سرحد کے اندر سرجیکل سٹرائیک کی ہے،جس کے جواب میں پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت نے بھارتی جھوٹ کا بھانڈا پھوڑا۔بھارت پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کی خواہش بہت پرانی پال رہا ہے مگر اس کے عزائم میں پاک فوج حائل ہے۔ بھارت پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت سے آگاہ ہے۔یہ بھارت ہی ہے جو اعلانیہ کہتا ہے کہ وہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں مداخلت کر رہا ہے ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ساری زیادتی بھارت ہی کرتا ہے مگر بھارت کا رویہ انتہائی جارحانہ ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ خطے میں امریکی تھانیدار کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کو اپنےزیر نگیں رکھے۔پاک بھارت تعلقات میں تناو اور پاک بھارت جنگوں کا طویل سماجی پس منظر بھی ہے۔یہ بات بھی افسوس ناک ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت نے کبھی عمل نہ کیا اور نہ ہی عالمی برادری نے بھارت پر اس حوالے سے کوئی دباو ڈالا۔عالمی برادری کے کشمیر ایشو کے حوالے سے بھارت کی خاموش حمایت بھی ایک المیہ ہے۔یہ بات طے ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر،کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہو گا خطے میں امن کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔چین،روس اور ایران،جو خطے کے قابل ذکر ممالک ہیں وہ بھی بھارتی رویے اور علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔افغانستان میں بھارتی مفادات اور افغان بھارت گٹھ جوڑ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ایسے میںایران نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر دونوں ملک آمادہ ہوں تو ایران اس دیرینہ تنازعے میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔
جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے پاکستان اور انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ایران کی جانب سے پاکستان اورانڈیا کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی یہ پیش کش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کی جانب سے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے انڈیا میں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان دونوں ممالک کے کام آسکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’تینوں ممالک مستقبل کے لیے بین الاقوامی جمہوری نظام کے مشترکہ خیالات رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے بہترین دوست پاکستان اور انڈیا کے درمیان بہتر تعلقات کی امید رکھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو ایرانی ثالثی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے ۔عالمی برادری کے فیصلہ ساز اداروں اور ممالک کو بھی اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ دنیا میں امن کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کا ثمر بار کیا جا سکے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اپنی ہٹ دھرمی کے باعث کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو بارود کی خوراک نہیں بنانا چاہیے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply