• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • صحافت، صحافی، مالکان لابیاں اور اسٹیبلشمنٹ۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

صحافت، صحافی، مالکان لابیاں اور اسٹیبلشمنٹ۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

ڈاکٹر توصیف احمد خان اپنے مضمون ’’اخبارات اور اسٹیبلشمنٹ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ووٹ کے ذریعہ وجود میں آئے۔ مسلم لیگ کی ہندوستان تقسیم کرنے اور پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں اخبارات نے اہم کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ کے ترجمان اخبار روزنامہ ڈان اور روزنامہ منشور کے علاوہ نوائے وقت، زمیندار، پاکستان ٹائمز، روزنامہ انجام اور روزنامہ جنگ سندھ کے اخبار الوحید وغیرہ نے پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح ذاتی طور پر بھی آزادیء صحافت کے زبردست حامی تھے۔ انہوں نے 1940ء تک آزادیء صحافت کی تحریک کے لئے ایک قانون دان اور پاارلیمنٹیرین کی حیثیت سے آواز اٹھائی۔ ہندو قوم پرست راہنما تلک کے اخبار ’’کیسری‘‘ اور ’’بمبئی کرانیکل‘‘ کے دفاع میں اپنی خدمات پیش کیں۔ انہوں نے انڈین لیجسلیٹو کونسل سے محض اس لئے استعفٰی دیا کہ حکومت نے کونسل کی روداد شائع کرنے پر الہٰ باد سے شائع ہونے والے ایک اخبار کے خلاف تادیبی کاروائی کی تھی۔ وفاقی کابینی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور اسٹیبلشمنٹ کے اعلی عہدے داروں کے مابین ایسی ہی ایک میٹنگ میاں نواز شریف کے دور میں بھی ہوئی جس میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے شکہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے سول ادارے جب بھی کسی دہشت گرد کو پکڑتے ہیں تو ایجینسیوں کے افراد ان کو یہ کہہ کر چھڑانے پہنچ جاتے ہیں کہ یہ ہمارے تزاویزاتی سرمائے ہیں اور سول انتظامیہ مجبور ہو کر انہیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ انگریزی اخبار ڈان میں صحافی سرل المیڈا کی جانب سے 6 کتوبر 2016ء کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی اس روداد سے متعلق خبر شائع کی گئی جس میں دعوی کیا گیا کہ اس اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر عسکری اور سیاسی قیادت میں اختلافات سامنے آئے۔ اس خبر کے شائع ہونے پر سیاسی اور عسکری قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔ سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ دانشور طبقہ، طلباء، ملازم پیشہ افراد اورعوام نے بھی اس خبر کی اشاعت پر تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور ہر خاص و عام میں زیر بحث قومی سلامتی کے مبینہ طور پر منافی اس خبر کو کسی نے ’’ڈان لیکس‘‘ کا نام دیا تو کہیں میمو گیٹ سے مماثلت کی بناء پر ’’نیوز گیٹ‘‘کے نام سے بھی پکارا گیا۔ خبر کی اشاعت کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس دورن وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں قومی سلامتی سے متعلق حساس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داران کا تعین کر کے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ سیاسی و عسکری قیادت کی ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکاء اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حیران کن طور پر پلوامہ حملہ کے بعد دوبارہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں وہی تھیں جن کے بارے کاروائی نہ ہو سکنے کی وجہ سے سول اور ملٹری قیادت میں اختلافات کی نشاندہی سیرل المیڈا نے کی تھی۔ اگر تین سال پہلے ان تنظیموں کے خلاف کاروائی کی جا رہی تھی تو پھر پلوامہ حملہ کے بعد ان کے خلاف کاروائی کیوں کی جا رہی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد جو قوانین پاکستان میں نافذ العمل ہوئے وہ پاکستان انڈیپینڈنٹ ایکٹ کے زمرہ میں آتے ہیں۔ ان میں وہ قوانین بھی شامل تھے جنہیں قائد اعظم سیاہ قوانین قرار دیا کرتے تھے۔ مگر پاکستان بننے کے بعد حکومت نے ان سیاہ قوانین کو اخبارات کی آزادی کو کچلنے کے لئے استعمال کیا۔ مثال کے طور پر اپریل 1948ء میں روزنامہ امروز میں شائع ہونے والی ایک خبر کی بیاد پر روزنامہ امروز لاہور کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض اور اخبار کے پبلشر امیر حیدر کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح قائد اعظم نے مشرقی پاکستان کے اپنے پہلے دورہ کے دوران ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب  کرتے ہوئے اردو کو قومی زبان بنانے کا اعلان کیا جس پر مشرقی پاکستان میں شدید ردعمل ہوا۔ اس تقریر پر سندھی اخبار ’’الوحید‘‘ نے شدید تنقید کی جس پر اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ 1949ء میں سول اینڈ ملٹری گزٹ میں کشمیر مسئلہ پر ایک خبر چھپی کہ پاکستان اور انڈیا اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ کشمیر کے جس حصّہ پر جس کا  قبضہ ہے، اُسے تسلیم کر لیا جائے۔ حکومت پاکستان نے اس خبر کی تردید کر دی جسے اخبار نے نمایاں جگہ پر شائع بھی کر دیا۔ مگر اسٹیبلشمنٹ مطمئن نہ ہو سکی اور اُس کی ایماء پر ایڈیٹروں کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کانفرنس نے مشترکہ اداریہ میں مطالبہ کیا کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ پر پابندی لگا دی جائے۔ مشرقی پاکستان کے اخبارات نے یہ اداریہ شائع نہیں کیا اور صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مزاحمت کی۔ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کی وجہ سے ایڈیٹروں کی تنظیم دو حصوّں میں تقسیم ہو گئی اور سول ایند ملٹری گزٹ پر پابندی لگا دی گئی۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اخبارات کو غیر جمہوری پالیسیوں کی حمایت پر ہمیشہ کے لئے آمادہ کر لیا اور خاص طور پر اردو اخبارات اسٹیبلشمنٹ کے ہم نوا بن گئے۔

بنگال سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے دور حکومت میں 19 جنوری 1953ء میں کراچی کے علماء کنونشن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور قادیانی افسروں اور وزیروں کو برخواست کرنے کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ پھر مارچ میں لاہور میں اینٹی قادیانی فسادات بھی پھوٹ پڑے۔ حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لئے لاہور میں مارشل لاء نافذ کیا۔ خواجہ ناظم الدین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس منیر کی قیادت میں ٹربیونل قائم کیا تاکہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کرکے حکومت کو رپورٹ کرے۔ ٹربیونل نے اپنی تفصیلی  رپورٹ میں الزام لگایا کہ لاہور میں ہونے والے ان فسادات کو ہوا دینے کا بنیادی کردار اخبارات آفاق، مغربی پاکستان اور زمیندار نے ادا کیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اخبارات کو اس مقصد کے لئے محکمہ تعلیم کے خواندگی پراجیکٹ سے رقوم فراہم کی گئیں۔ اس سلسلہ میں ان اخبارات کو  ملنے والی رقم اور اس وقت کے حکومت پنجاب کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ انوار احمد کے اعترافی بیانات بھی اس رپورٹ میں شامل تھے۔ ممتاز دانشور حضرات کہتے ہیں کہ سول اور ملٹری بیوروکریسی اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ ایک بنگالی وزیراعظم کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ وہ بنگالی وزیراعظم اپنی کارکردگی سے اس اسٹیبلشمنٹ کے اختیار کو تہہ و بالا کر دے گا۔ لہذا اس کو دباؤ میں لانے کے لئے پنجاب میں اینٹی قادیانی فسادات کو ابھارا گیا۔ ان فسادات کے خاتمہ کے بعد پہلے بنگالی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔

جنرل ایوب خاں نے 17 اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء نافذ کیا اور صرف دس دن بعد یعنی 27 اکتوبر کو اپنے دیرینہ دوست صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے جبری بے دخل کرکے خود صدارت کا عہدہ سنبھال لیا۔ جنرل نے اخبارات پر سنسرشپ عائد کی مگر اخباری مالکان کی اس یقین دہانی پر سنسر شپ ختم کر دی کہ وہ حکومت کے دئیے ضابطہ اخلاق کی پیروی کریں گے اور حکومت کے خلاف تنقید کرنے سے گریز کریں گے۔ پھر 1959ء میں حکومت نے آزاد اخبارات پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر فوج کی نگرانی میں قبضہ کر لیا اور اس ادارہ کے اخبارات پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز، ہفت روزہ لیل و نہار اور کھیلوں کے ہفت روزہ اسپورٹس ٹائمز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ حکومتی قبضہ آزادیء صحافت پر براہ راست حملہ تھا مگر روزنامہ ڈان، جنگ، نوائے وقت جیسے بڑے اخباروں نے اپنے اداریوں میں حکومت وقت کے ان احکامات کو سراہا۔ جنرل ایوب نے اقتدار کے 10 سال مکمل کر لئے تو بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل ستوڈنٹس فیڈریشن نے احتجاجی تحریک شروع کر دی جو مغربی و مشرقی پاکستان میں پھیل گئی۔ اس تحریک کے نتیجہ میں جنرل ایوب مستعفی ہوئے مگر اقتدار عوامی نمائندوں کے سپرد کرنے کی بجائے اپنے فوجی ساتھی جنرل یحیٰ کے حوالے  کر گئے۔ جنرل یحیٰ   کی بے ہودہ پایسیوں اور ناقص حکمت عملی سے مشرقی پاکستان الگ ہوا اور مقامی کمانڈر میجر جنرل نیازی نے انڈین جنرل اروڑہ کے آگے اپنے 90 ہزار ساتھیوں سمیت ہتھیار دال دئیے۔ حکومت نے مارچ 1971ء سے دسمبر 1971ء تک اخبارات پر سنسر شپ عائد کی مگر مغربی پاکستان کے اخبارات کے مالکان نے فوجی حکومت کے احکامات پر من و عن عمل کرنے کی یقین دہانی کروائی اور سنسر شپ ختم کروا لی۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ مغربی پاکستان کے عوام کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد پتہ چلا کہ مشرقی پاکستان ایک الگ ملک بن چکا ہے جس کا نام بنگلہ دیش ہے۔

جب 1972ء میں پیپلز پارٹی نے وفاق اور صوبوں میں حکومتیں قائم کیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی نے سندھی زبان کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دینے کا بل پیش کیا۔ دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان نے اس بل کی مخالفت کی۔ اس مہم میں اردو اخبارات روزنامہ جنگ، روزنامہ جسارت اور نوائے وقت نے سندھی زبان کے بل کے خلاف لسانی عصبیت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ روزنامہ جنگ میں معروف شاعر رئیس امروہوی کی ایک طباع آزاد نظم ’’اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے‘‘ کو صفحہ اول پر سیاہ حاشیوں کے ساتھ شائع کیا گیا، منفی خبریں شائع کی گئیں اور خصوصی طور پر مخالفانہ اداریہ و کالم بھی لکھوائے گئے۔ ملک کی قدیم قومی زبانوں کی مخالفت اور اردو کو پہلے بنگالی اور پھر سندھی کے مقابلہ میں لانے کی پالیسی کو لسانی حقوق کے ماہرین اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کی پیروی قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو اخبارات نے اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی پیروی کرکے ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا تو دوسری طرف بنگال، سندھ، بلوچستان اور پختونخوا  کے عوام میں احساسِ محرومی پیدا کر دیا جس کی قیمت عام پنجابی مزدور کو آج ان علاقوں میں اپنی جان دے کر ادا کرنی پڑتی ہے یا ماں، بہن کی غلیظ گالیاں کھا کر۔

بھٹو حکومت نے 1976ء کے آخر میں ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا جس میں مخالف سیاسی جماعتوں نے انتخابی اتحاد قائم کر لیا۔ 1977ء میں ہونے والے ان انتخابات کے نتیجہ میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی مگر جنرل ضیاء اور امریکی اشارہ پر اپوزیشن نے انتخابی دھاندلیوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ بالآخر حالات اتنے خراب ہو ہی گئے کہ جنرل ضیاء کو مارشل لاء لگانے کا جواز مل گیا حالانکہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں کامیاب ہو چکے تھے جس میں دوبارہ انتخابات کروانے کے لئے بھٹو حکومت کی آمادگی بھی شامل تھی۔ فوج نے مارشل لاء لگا کر آئین کی خلاف ورزی کی تھی اور جنرل ضیاء آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر غدار بن چکا تھا مگر روزنامہ جنگ، روزنامہ حریت، روزنامہ نوائے وقت، پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز نے نمایاں طور پر جنرل ضیاء کے مارشل لا لگانے اور اقتدار سنبھالنے کا خیر مقدم کیا۔ اخبارات نے جنرل ضیاء کے اسلامی نظام کے نفاذ کو ملک کے لئے نجات کا راستہ قرار دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اصلی اسلام کی بجائے ایک جعلی تشریح کردہ اسلامی نظام کے متعارف کروانے کی وجہ سے پاکستان تباہ و برباد ہو چکا ہے اور لاکھوں جانوں کے علاوہ کھربوں روپے کے نقصانات کروا کر بھی اس دوزخ سے باہر نہیں نکل سکا جسے جنرل ضیاء نے کھودا تھا۔

پیپلز پارٹی اور دوسری جمہوری پارٹیوں کی کوششوں سے 1980ء کی دہائی میں جمہوریت کی واپسی کا سفر شروع ہو چکا۔ اس سفر کے دوران اخبارت کے مالکان کی طرف سے حکومت نوازیوں کے باوجود کچھ صحافی ہمیشہ موجود رہے جنہوں نے عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ صحافت کو اونچائی کی منزلوں پر لے جانے والوں نے صحافت میں ایک اعلی معیار قائم کر دیا اور سنسر شپ کی پابندیوں کے باوجود بھی عوام کی سیاسی بیداری میں حتی المقدور کوششیں جاری رکھیں۔ مگر اُس وقت سے اب تک کی صحافت میں بہت تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز میں ہوش ربا اضافہ نے صحافت بالخصوص رپورٹنگ کے شعبہ کے معیار کو شدید متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر صحافی اس کوشش میں مصروف نظر أتے ہیں کہ کسی طرح ان کی خبر ایسے کِلک کر جائے کہ ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے یا کسی ایسے ادارہ سے جڑ جائے جو اس کے لئے مفادات نچھاور کرتا رہے۔ یہ صاف نظر آتا ہے کہ ایڈیٹر کی بالادست حیثیت کو کمرشل ازم اور مخصوص مفادات کے لئے بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ بات نہایت تکلیف دہ ہے کہ صحافیوں کی اکثریت مالکان کی خوشنودی اور اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بننے کے لئے اپنے پیشے سے شدید بے انصافی کر رہی ہے۔

یہ رویہ صحافت کی اصل روح سے شدید متصادم ہے۔ صحافت ہمارے یہاں ریاست کے پانچویں ستون کی طرح معاشرہ میں موجود رہی ہے۔ صحافیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت گرانے یا چلانے کا سلسلہ تو جنرل ایوب خان کے زمانے سے جاری ہے لیکن جنرل ضیاء اور میاں نواز شریف نے اسے باقاعدہ اور منظم طریقے سے استعمال کیا۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں صحافیوں کی تنظیموں کے ٹکڑے کئے گئے اور پھر انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ نواز شریف کے دور میں صحافیوں اور تنظیموں کو باقاعدہ خریدا گیا اور پھر یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس کے باوجود بھی صحافت نے اپنا تقدس قائم رکھا تھا۔ جنرل مشرف کی طرف سے صحافت کو ملنے والی آزادی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ عشروں پر محیط حکومتی جبر کے بعد ملنے والی اس آزادی کا صحیح استعمال کیا جائے گا اور قوم تک سچ پہنچایا جائے گا۔ مالکان کی طرف سے ایسا کوئی دباؤ نہیں ہو گا کہ سیاسی صورتحال اور اس طرح کے دیگر معاملات پر صحافی بےلاگ تبصرے کرنے یا واقعات کی حقیقی رپورٹنگ نہ کر سکیں۔ اس صحافتی آزادی کے بعد میڈیا پروفیشنلز کی ایسی تربیت ہونی ضروری تھی کہ انہیں اپنے پیشے کی اخلاقی حدود و قیود کا احساس ہو جاتا, کوئی صحافی اپنی خبر کو کوئی خاص سمت دینے کے لئے کسی حکومتی, اپوزیشن یا دوسری شخصیات پر ذاتی حملے نہ کرتا۔ لفافہ جرنلزم کا بھی سوال نہ اٹھتا اور مفادات کے حصول کے لئے مخصوص طرز کی صحافت نہ کی جاتی۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے اکثریتی چینلز, اخبارات اور جرائد خاندانی جائیداد اور کاروبار کی طرح چلائے جا رہے ہیں۔ مالکان یا تو خود ہی ایڈیٹرز بنے ہوئے ہیں یا اپنے کاسہ لیس صحافیوں میں سے کسی کو انہوں نے نمائش کے لئے ایڈیٹر بنایا ہوا ہے۔ کچھ بڑے میڈیا گروپوں نے تو اپنے خاندان میں ہی سارے نیوز گروپ کی اہم ذمہ داریاں بانٹی ہوئی ہیں۔

صحافت میں کمرشل ازم کا فروغ:

ہمارے ملک کے بڑے میڈیا گروپوں نے اخبار نویسی کی عشروں پرانی روایات کو تبدیل کرتے ہوئے ایسے پیشہ ور ایڈیٹرز اور چیف ایگزیکٹو انتظامیہ میں شامل کر دئیے ہیں جو صحافت کی روح کو سمجھنے سے تو نابلد ہیں مگر اپنے ادارہ کے لئے بزنس لانے کے فن میں ماہر ہیں۔ ایسا کرنے سے اخبارات اور میڈیا چینلز پیسہ تو کما رہے ہیں مگر وہ صحافت کو پیشہ کی بجائے انڈسٹری میں تبدیل کر چکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ان نئے آنے والے بزنس گریجوایٹس نے میڈیا گروپوں کی آمدنی کو 10 گنا سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے مگر اس عمل کے دوران صحافتی اصول و ضوابط بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔ اس وقت میڈیا گروپوں میں کچھ ایسے لوگ بھی فیصلہ کن پوزیشنوں پر براجمان ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے نمائندگان ہیں۔ میڈیا گروپوں پر اثر انداز ہونے کے لئے یا تو انہوں نے ان کے شئیرز خریدے ہوئے ہیں یا انہیں اپنی پارٹی کی عوامی مقبولیت اور سوشل میڈیا پاور کے ذریعہ دبایا ہوا ہے۔ ایسا ہو جانے کی اجازت دینے کے پیچھے مالکان کی صرف ایک ہی غرض ہے اور وہ ہے منافع۔ کئی مالکان اور ورکنگ جرنلسٹس پوری طرح واقف ہوتے ہیں کہ کسی صحافی کی مخصوص خبروں کے پیچھے کیا راز ہے مگر وہ چپ سادھے رکھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی صحافی بولنے کی کوشش کرے تو اسے مخصوص پیغام پہنچا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی نوکری بچائے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہے۔

تین، چار عشروں پہلے بزنس اور اشتہارات کا سیکشن, ایڈیٹوریل سیکشن سے ذرا دور ہی رہتا تھا کیونکہ انہیں صاف پتہ ہوتا تھا کہ انہیں وہاں خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔ حتی کہ اشتہارات کی طرف سے اگر کوئی پریس ریلیز بھی آتی تو ایڈیٹوریل والے اسے بغیر پڑھے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے۔ اشتہارات والے کہتے رہ جاتے کہ کاروبار بھی بہت ضروری ہے مگر ایڈیٹوریل والوں نے کبھی توجہ نہیں دی۔ آج کل اخبارات میں ایک نئی اصطلاح متعارف ہوئی ہے کہ ان میں کوئی باقاعدہ ایڈیٹر ہی نہیں ہے۔ اس کی جگہ انہوں نے چیف ایگزیکٹو کی اصطلاح متعارف کروائی ہے یعنی یہ میڈیا ہاؤس نہیں بلکہ کوئی انڈسٹری ہے۔ سنا ہے وہ اخباری کالمز فروخت کرتے ہیں۔ یہ لفافہ جرنلزم کی زندہ مثال ہے کہ کوئی بھی چاہے وہ پیسہ دے اور اپنا کالم چھپوا لے چاہے وہ جیسا بھی لکھا ہو اور کسی بھی مقصد کے لئے لکھا گیا ہو۔

کواپریٹو سیکٹر نہ صرف چھوٹے بلکہ بڑے اخبارات کو بھی مختلف معاشی معاملات پر ڈکٹیٹ کرواتا ہے کہ انہیں اس معاملہ پر کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا۔ ٹیلی ویژن اینکرز کو بھی مکمل ہدایات ملتی ہیں کہ شو میں کیابات کرنی ہے اور کیا نہیں۔ کواپریٹو سیکٹر کے درمیان مقابلہ بازی بھی میڈیا کو متاثر کرتی ہے۔ کوئی اپنی حمایت میں بات کروانا چاہتا ہے تو کوئی اپنے مخالفین کی کمزوریوں پر میڈیا مہم کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ کے مشہور صحافی لارڈ ناتھ کلف کا کہنا ہے کہ ’’خبر وہ ہے جسے کوئی چھپانا چاہتا ہے، بقیہ تو سب اشتہار ہیں‘‘۔

کواپریٹو اور شئیر سیکٹرز میں بیرونی کھلاڑی بھی شامل ہوتے ہیں جو بالآخر صحافت میں مداخلت شروع کر دیتے ہیں۔ ایک دو میڈیا گروپ ایسے بھی ہیں جن میں ایک خفیہ ادارہ کی سرمایہ کاری کی خبریں آ رہی ہیں۔ یہ رجحان بہت خطرناک ثابت ہو گا اور ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے ہمارے میڈیا گروپوں کا حشر بھی جھاگ اڑاتے انڈین میڈیا ہاؤسز کی طرح ہو جائے جو ہر وقت حکومتی اور انڈین فوج کے اشارہ پر ناچتے ہیں، انہیں خصوصا’’پاکستان کے خلاف بات کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ سرمایہ دار کے لئے صحافت کے قواعد و ضوابط، تہذئب و ثقافت کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ انہیں صرف اس بات میں غرض ہوتی ہے کہ میڈیا اُن کی پراڈکٹ اور ان کیمقاصد کا باڈی گارڈ بنے چاہے اس کے لئے اخلاق و کردار اور تہذیب و ثقافت کی دھجیاں بکھیرنی پڑیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بہت سے صحافی بہتر آمدنی کے لئے ایک میڈیا گروپ سے دوسرے میڈیا گروپ میں چلے جاتے ہیں مگر معدودے چند ہوں گے جنہوں نے اصولی مؤقف پر اپنے ادارہ سے استعفی دیا ہو۔ کبھی وقت تھا کہ صحافی غلامی کرنیکی بجائے استعفی دینے کو ترجیح دیا کرتے تھے اگرچہ یہ شعبہ ملازمت کی عدم دستیابی یا نہایت کم یابی کے لئے بھی بہت بدنام رہا کرتا تھا۔ اب مگر صورتحال بدل چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صحافیوں نے اس معاملہ پر سمجھوتہ کرلیا ہے کہ وہ مالکان کے رحم و کرم پر ہیں۔ جنرل (ر) مشرف کے دور اقتدار میں لگنے والی ایمرجنسی کے خلاف صحافیوں نے البتہ خوب جنگ لڑی اور پابندیوں کو مسترد کر دیا۔ یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا کہ تمام صحافی حکومت کے اس قدم کے خلاف متحد ہو گئے تھے جس کا مقصد اُن کی آواز کو دبانا تھا۔ احتجاج نے وقتی طور پر آزادء اظہار رائے کے پرانے جذبے کو زندہ کر دیا تھا۔ لگتا تھا کہ تمام صحافیوں نے پکا معاہدہ کر لیا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کے خلاف اٹھائے کسی بھی اقدام کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔ اس وقتی ابال کے بعد پھر حالات تبدیل ہو گئے اور اب پھر میڈیا ویسی ہی پابندیوں کا شکار ہونے کی طرف چل پڑا ہے جو جنرل ضیاء دور میں پاکستانی پرنٹ میڈیا پر مسلط تھیں۔ صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جو طریقہء ہائے کار بنائے جا رہے ہیں اُن کی اکثریت کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے دکھائی دیتا یے مگر کوئی شخص اس مسئلہ پر آواز اٹھانے والا نظر نہیں آتا۔ سب سے زیادہ بڑا مسئلہ کواپریٹو سیکٹر سے ہے جو اس بات کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے کہ کون اور کیسا کالم لکھا جائے گا یا کیسی ڈاکومنٹری بنے گی اور چلائی جائے گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج خبر اشتہار کی پشت پر لکھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافی بھی مختلف لابیوں کاحصّہ بن چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے کوئی کسی سیاسی جماعت سے منسلک نظر آتا ہے تو دوسرا کسی خفیہ ادارہ کے پیرول پر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ان لابیوں میں مختلف سرمایہ داروں جیسے ملک ریاض، میاں منشاء، عبدالکریم الڈھیڈی اور دوسرے کئی صنعتکار بھی شامل ہیں۔

صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے طریقے:

انڈین صحافت کے برعکس پاکستان میں معاملہ مختلف ہے۔ انڈیا میں وہاں کی خفیہ ایجنسی راء مخصوص میڈیا گروپوں میں شئیرز خریدتی ہے اور پھر وہ اپنی مرضی سے اس گروپ کی پالیسی ترتیب دیتی ہے۔ شئیرز خریدنے کے علاوہ راء وہاں کے صحافیوں کو بھی مراعات, کیرئیر اور دوسری ترغیبات سے اپنے اشاروں پر نچاتی ہے۔ ہمارے یہاں میڈیا گروپوں کو اشتہارات کے کوٹہ میں کمی بیشی کرکے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے صحافی تیار کئے جاتے ہیں جن کو کچھ خبریں دے کر ان سے اپنی مرضی کی زاویہ نگاری کروا لی جائے۔ آزاد میڈیا گروپس میں صورتحال بہت عجیب ہے کہ جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے صحافیوں کو گھیرنے اور تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی, اس نے ہمارے یہاں کے کچھ میڈیا گروپ مالکان کو حیران کر دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں وہ زیادہ اہم ہیں اس لئے جو بھی سیٹنگ ہو گی وہ ان کے ذریعہ ہو گی مگر جب اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست ایسے صحافیوں سے معاملہ فہمی کر لی جنہیں قارئین کی زیادہ تعداد پڑھتی ہے تو مالکان کو یوں محسوس ہونے لگا کہ شاید ان کی وہ اہمیت ہی نہیں ہے۔ مالکان تو خود اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر چلنے کو تیار رہتے تھے تاکہ اشتہارات میں کمی بیشی کا سلسلہ ان کے مفادات کے تحت چلتا رہے مگر اسٹیبلشمنٹ نے عوامی رائے پر اثرانداز کر سکنے والے صحافیوں سے سیٹنگ کر لی۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے مالکان نے ایک نیا نظام وضح کیا کہ وہ صحافیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں پریشان کرنے لگے جس کے لئے ان کے پاس جواز یہ ہوتا کہ حکومت نے ان کے اشتہارات میں کمی کر دی ہے یا ان کے اشتہارات کی ادائیگی میں شدید تاخیر ہے, اس لئے وہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔ بعض اداروں نے بیک جنبش قلم صحافیوں کو نوکری سے نکالنا شروع کر دیا اور اسے ڈاؤن سائزنگ کا نام دیا گیا۔ یہ وطیرے منظور شدہ ورکنگ جرنلسٹس ایکٹ کی کھلی حلاف ورزی ہیں جو صحافیوں کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی اور نوکری کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

صحافت کی آزادی بھی آزادیٗ اظہار رائے ہی کی طرح کا اخلاقی تصور ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کا غیر ذمہ دارانہ اور بغیر کسی واضح سوچ والا رویہ ان کے مضامین اور ان کے ڈراموں، ٹیبلوز، ٹاک شوز وغیرہ کی کہانیوں اور ان کے موضوعات سے چھلکتا ہے۔ رپورٹرز، اینکرز بغیر کسی تصدیق کے یک طرفہ مؤقف پر مبنی کہانیاں، نتائج کی پرواہ کئے بغیر بھیج دیتے ہیں۔ اکثر اوقات اہم خبروں کا موزوں فالواپ نہیں ہوتا اور غیر اہم باتیں کور سٹوری یا مین لیڈ بن جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ خبروں میں حقائق کے منافی باتیں بھی ہوتی ہیں جو یقینا’’کسی کے کہنے پر ہی شامل کی جاتی ہیں ورنہ صحافی اتنا بیخبر نہیں ہوتا کہ اسے صحیح اور غلط خبر کا پتہ ہی نہ چلے۔

ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم کی طرف سے نامور صحافیوں کو وقتاًًً فوقتاًًً بھاری رقوم اور ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ اور گھر دئیے جانے کے انکشافات کے بعد ایک دو صحافی عدالت میں گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے صحافیوں کو منظر عام پر لایا جائے اور ہاؤسنگ سکیم کی طرف سے دیے جانے والے ’تحفوں‘ کے بارے تحقیقات کی جائیں۔ کچھ دن یہ شور شرابا مچا مگر اس کے بعد یہ جھاگ کی طرح ایسا بیٹھا کہ پھر کسی نے اس پر بات کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ انسداد کرپشن سے متعلق ایک کمیٹی نے اس پر ایک رپورٹ ترتیب دے لی ہے جس میں اس معاملہ پر ایسے نتیجہ دیا گیا ہے کہ:۔
’’حالیہ برسوں میں پاکستانی میڈیا میں کرپشن نے جڑیں جما لی ہیں۔ انفرادی صحافیوں اور مخصوص میڈیا گروپس کی کرپشن کے ذریعہ مخصوص لوگوں سے رقم یا دیگر مفادات کے بدلہ ان کے نقطہء نظرکے مطابق خبریں دی جاتی ہیں۔ خاص طور پر ایک ادارہ کی حمایت یافتہ سیاسی جماعت اور مخصوص صنعتی اداروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر خاص افراد کی ہدایت کے تحت خبریں شائع اور نشر کی جاتی ہیں۔ صنعتی گروپوں، ایک ادارہ کے افسران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور الیکشن کے امیدواروں سے معاملات طے کر کے ان کے حق میں رائے ہموار کی جاتی ہے‘‘۔

خبر کو ہمیشہ غیر جانبدار، منصفانہ اور ایماندارانہ ہونا چاہئیے مگر ہوتا یہ ہے کہ سرکاری محکموں، اشخاص یا صنعتی گروپوں سے اشتہارات یا دیگر صورت میں معاملات طے کر کے خبر کو تبدیل کر دیا جاتا ہے جبکہ خاص سیاستدان کو ادارتی صفحات فروخت کرتے یا کسی خبر کو گھٹا یا بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح قاری یا ناظر کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ اشتہار کون سا ہے اور نیوز رپورٹ کون سی ہے۔

بدعنوانی صرف سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور صنعتی گروپوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میڈیا نے بھی تو اپنے چہرے پر سیاہی ملی ہوئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ رپورٹرز اور نمائندگان اپنی خبر کو خاص مفاد کے لئے تبدیل کر دیتے ہیں۔ مدیروں کے معاملات میں بہت زیادہ شفافیت ہونی چاہئے۔ اُن کے معاملہ میں ایمانداری بہت اہم ہے مگر اس کے ساتھ ہی اخبار اور چینل چلانے کے لئے یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اخبار میں چھپا ہوا ہر لفظ اور نیوز شوز میں بولا گیا ہر لفظ قاری اور ناظر کے لئے اکثر و بیشتر متبرک سچ کا مقام رکھتا ہے اور اپنے مباحثوں اور مکالموں میں خبروں کے حوالے دے کر اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ایسا یقین رکھنے والے لوگوں کو سچ کی بجائے زہرآلود سچ یا جھوٹ بیان کیا جائے گا تو سوچیں صحافی کتنا ظلم کما رہے ہوں گے۔ راقم ایسے کئی صحافیوں کو جانتا ہے جو صاحب اقتدار طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے حقائق کو توڑموڑ کر پیش کرتے ہیں اور طاقت کا توازن تبدیل ہوتے ہی یو ٹرن لے لیتے ہیں۔ میں نے ایسے ہی ایک صحافی سے بات کی جو ایک مشہور روزنامہ میں پارلیمنٹ کی ڈائری لکھنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہمارے وزیر اعظم صاحب کئی بیانات اور وعدوں پر یو ٹرن لے سکتے ہیں تو ان کے اپنے مؤقف اور اپنی ہمدردیوں میں لئے جانے والے یوٹرن پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئیے۔ ویسے بھی مختلف سیاسی جماعتیں جب حکومت میں آتی ہیں تو وہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے اشتہارات کا ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی آمدنی کا بڑا حصّہ ان اشتہارات سے ہونے والی آمدنی پر چلتا ہے۔ اس لئے جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو میڈیا مالکان اپنی ہمدردیاں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جب اتنے بڑے ادارے اپنی پالیسی تبدیل کر لیتے ہیں تو ان جیسے عام صحافی پر ہمدردیاں تبدیل کر لینے پر اعتراض کیسا‘‘۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئیے کہ وہ ایسا کوئی خودمختار ادارہ بنائے جو اشتہارات کی تقسیم کار کا کوئی فارمولہ اخذ کرے اور میڈیا ہاؤسز میں اشتہارات کی تقسیم کا نظام تشکیل دے۔ یہ ویسے بھی عوام کے خون پسینہ کی کمائی ہے، اس لئے اس کے خرچ کا طریقہ کار وزیر اطلاعات کی پسند و ناپسند کے زیراثر نہیں بلکہ میرٹ پر ہونا چاہئیے تاکہ کوئی کسی کا زیراحسان نہ رہ سکے اور میڈیا کے ذریعہ صرف سچ کی ہی ترویج ہو سکے۔ سچ بولنا ویسے بھی آپ کے عوام کی طرف رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر میڈیا ہاؤسز عوام دوست ہیں اور آپ حقیقت میں عوام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ آپ میں واقعی ایسا حوصلہ ہے کہ اُن کی باتیں سن سکیں تو لوگ آپ پر یقین کرنا شروع کر دیں گے۔

صحافیوں کے لئے ان کے کام کی وجہ سے بڑھتے خطرات:

سب جانتے ہیں کہ آزادانہ اور غیر جانبداری سے کام کرتے وقت صحافیوں کو گورنمنٹ اور مالکان کی ناراضگی کا خطرہ اٹھانا پڑتا ہے۔ مالکان کے پاس وہ طاقت ہوتی ہے جس سے وہ صحافیوں کو پریشرائز کر سکتے ہیں اور ہدایات نہ ماننے والے صحافیوں کو برخواست بھی کر سکتے ہیں جبکہ حکومت مالکان کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ صحافیوں کو تنگ کریں تاکہ انہیں ہدایات پر چلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اداروں کی پالیسیاں بھی صحافیوں پر حملوں کی ایک وجہ بنتی ہیں۔ اگر کسی ادارے کا جھکاؤ کسی سیاسی گروہ یا کسی ایک غیر ریاستی ادارے کی جانب نہیں ہے تو اس کے ورکرز بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 10 برس میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے 100 سے زائد صحافیوں اور میڈیا ملازمین میں سے اب تک صرف 3 کے مقدمات میں قاتلوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف عدم کارروائی پر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کی جاتی۔ سینئیر صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب تک صحافیوں پر حملوں میں ملوث ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے سزا نہیں دی جائے گی، انھیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مگر ان تمام خدشات اور خطرات کے باوجود ملک کی جامعات میں صحافت کے طالب علم اسی شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔

معلومات کے حصول میں پیدا ہونے والی آسانیاں اور مشکلات:

خبروں کے حصول میں پائی جانے والی رکاوٹوں کی وجہ سے صورتحال پر مایوسی ظاہر کرنا درست رویہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس کام کی ابتداء پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں آئین میں ترمیم کے ذریعہ ہو چکی ہے۔ فی الحال آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت صرف آزادی اظہار رائے کو بنیادی انسانی حقوق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی سے متعلق مکمل اور جامع قانون سازی خیبر پختونخوا اسمبلی نے شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قانون کی شکل میں 13 اکتوبر2013ء کو کی جو جنرل مشرف دور وفاقی حکومت 2002ء کے قانون کی شکل میں اتنی جامع اور مکمل نہیں تھی جبکہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے 12دسمبر 2013ء کو سرکاری دستاویزات تک رسائی کا قانون منظور کیا جسے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے پورے ملک میں رائج کر دیا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری دستاویزات جیسے ریکارڈ، میمو، معاہدہ، نقشہ، سرکلر، اکاؤنٹینسی، پریس ریلیز، رپورٹ، کتابچے، الیکٹرانک معلومات ای میلز، رپورٹ کسی بھی دستاویز کی سی ڈی، آڈیو ویڈیو سرکاری ریکارڈنگ، اعلانات، تصاویر، نیوز کٹنگ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک عوامی ادارہ معلومات کی ایسی درخواست رد کر سکتا ہے جن کے قبل از وقت افشاء کے نتیجے میں معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ سیکشن 18 کے تحت ایک عوامی ادارہ ایسی معلومات فراہم کر نے کیلئے درخواست رد کر سکتا ہے جس کے افشاء کر نے سے ایک عوامی ادارے میں آزادانہ مشاورت یا تبادلہ خیال کے ذریعے پالیسی مرتب کرنے کے عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس طرح سیکشن 19 کے تحت ادارہ ایسی درخواست کو مسترد کر سکتا ہے جس سے کسی کی ذات کے بارے میں اطلاع لینی ہو۔ ابھی یہ محدود ہے مگر اب یہ تمام صحافی برادری کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ اس قانون کو بڑھاوا دیں اور درست معلومات لے کر عوام تک سچ اور زمینی حقائق پہنچانے کے فریضہ میں اپنا کردار ادا کریں۔

تکلیف دہ صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب صحافی اپنے کیرئیر کو بڑھانے کے چکر میں سمجھوتے کر لیتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اصولوں کو توڑ کر اطاعت گزاری کبھی بھی کامیابی کا مترادف نہیں ہو سکتی۔ اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہو تو صلاحیت سے بھی زیادہ عزم اور حوصلہ مدد دیتا ہے۔ صحافت کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کامیاب خواتین و حضرات کی زندگی دیکھیں تو ان میں سے اکثریت اسی عزم و حوصلہ والے قبیلہ سے تعلق رکھنے والی تھی۔ نہ وہ کسی کے راستہ پر چلے اور نہ انہوں نے اپنے راستہ کو چھوڑا۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے کسی مشکل کو اپنے لئے مسئلہ نہیں بننے دیا۔ اکثر اوقات انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی اور جب بھی انہیں کوئی بات کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے صرف بامقصد گفتگو ہی کی۔ کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے محفوظ رہ کر کھیلا مگر کسی بھی پیمانے پر پرکھیں تو یہ ثابت ہوگا کہ انہوں نے کامیاب زندگ گزاری اور کامیابیوں کی اونچائیوں کو چھوا۔

آج کل کے صحافی 4 عشروں پرانی اخلاقی و صحافتی اقدار جیسی کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، اس کے بارے کچھ کہنا مشکل ہے مگر عام خیال یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر اپنے بارے میں بہت سوچتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہر وقت اخلاقیات اور اصولوں کے بارے میں بات کرتے ہیں مگر اپنے لئے اُن کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کا مادی انعام کیا ہوگا۔ تبدیلی یقیناًًً قانون فطرت ہے اور تبدیلی کے بغیر ترقی بھی ناممکن ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ہر وقت برپا پونے والی یہ تبدیلیاں صحافیوں کی وجہ سے آ رہی ہیں، جو وہ اس کا انعام وصول کرنے کے خواہش مند ہیں؟۔

قابل اعتماد ذرائع سے معلومات لینا یا حکومتی اداروں سے خبر حاصل کرنا انتہائی ذمہ داری کا کام ہے۔ سیاسی رپورٹنگ میں اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ خبر سچی ہے یا سنی سنائی بات، اس کا اندازہ ہی نہ لگایا جا سکے۔ خبر حاصل کرنے کے ذریعہ کی شناخت ظاہر کئے بغیر اسے بھروسہ کے قابل سمجھنا ایک پیشہ وارانہ روایت ہے مگر جہاں خبر کا ذریعہ بالکل واضح نہ ہو یا غیر مستند ہو، وہاں قابل یقین، مستند ذرائع کے مطابق جیسی اصلاحات کا استعمال کر کے (جن میں خبر کا ذریعہ نہیں بتایا جاتا) اُسے اپنے اندازہ کی لمبی شاہراہ پر نمایاں خبر کا درجہ دینا پیشہ وارانہ دیانت نہیں ہے۔ آج کے اخبارات اور نیوز چینل دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ خبروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور فرضی کہانیوں کو سچی خبریں بنا کر پیش کرنا ہر میڈیا ہاؤس کی روایت بن چکی ہے۔ خبروں کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر خبر کو اس کے ذریعہ، خبر دینے والے کے مقام و مرتبہ اور جس حد تک ممکن ہو، اُس کی شناخت کو ظاہر کر کے ہی پیش کیا جائے۔ جہاں پر ذریعہ کو صیغہ راز میں رکھنا مقصود ہو وہاں پر رپورٹر اور کاپی ایڈیٹر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر طرح سے تسلی کر لیں کہ خبر درست ہے۔ ایڈیٹر، سٹاف اور قاری کو ان اصولوں کا پتہ ہونا چاہئے اور اگر ان اصولوں کو توڑا جائے تو جرم کرنے والوں اس کی سزا ملنی چاہئے تاکہ جھوٹی خبروں کو روکا جا سکے۔

میڈیا پر آنے والے زیادہ تر تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ ہر مسئلہ پر حتمی رائے قائم کر لینا اس طبقہ کا فیشن بن چکا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر واقعہ کو مخصوص حقائق پر ہی پرکھتے ہیں اور کبھی بھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس کا ہر زاویہ سے مشاہدہ کریں۔ جس خوشحالی اور سیکورٹی کے حصار میں وہ رہتے ہیں، شاید آزادانہ سوچ اں کے لئیے ممکن ہی نہیں رہی۔ ان کے فلسفہ کا اصول یہ ہے کہ ’’میں اُس نے لئے گاؤں گا جس کی روٹی کھاتا ہوں‘‘۔ وہ اپنے پاس موجود وسائل کو محفوظ رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کی انہیں دوسروں کے مصائب اور قربانیوں کا ادراک نہیں اور وہ انہیں پسند نہیں کرتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دیگر  لوگ تو ان اصولوں کی پیروی کریں مگر خود وہ اپنی عیش و عشرت والی زندگی سے باہر نہ نکلیں۔

صحافیوں کی قربانیاں اور آج کے دور کے صحافی:

پاکستانی صحافت نے پچھلے 71 سالوں میں اپنے بے باکانہ کردار سے جنرل ایوب, جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے سخت اور پر آشوب ترین دور کا جوانمردی سے مقابلہ کیا۔

بیباک، ایماندار، مخلص اور پیشہ ور صحافیوں کی اس فہرست میں کئی درخشاں ستارے ہیں جیسا کہ آرد شیر کاؤس جی، آغا شورش کاشمیری، آغا مسعود حسین، ابوعلیحہ (علی سجاد شاہ)، احمد بشیر، اے حمید، ارشاد احمد حقانی، ڈاکٹر توصیف احمد خان، الطاف گوہر، ایاز امیر، ایلس فیض، ایم بی نقوی، باری علیگ، تاج حیدر، جاوید چوہدری، حامد میر، حسن نثار، حمید نظامی، حیدر جاوید سید، خالد حسن، رؤف کلاسرا، رئیس احمد جعفری، رئیس امروہوی، رحیم اللہ یوسفزئی، رضا علی عابدی، زاہدہ حنا، سلیم صافی، سہیل وڑائچ، شاہد مسعود، شیری رحمن، ضیاء الدین احمد سلہری، طاہر مرزا، ظفر علی خان، ظفر اقبال مرزا، عارف نظامی، عطاء الحق قاسمی، علی سفیان آفاقی، فاروق قیصر، مبشر حسن، مبشر لقمان، مجید نظامی، مظہر عباس، منو بھائی، منہاج برنا، مہدی حسن، مہر بخاری (عباسی)، میر خلیل الرحمٰن، نجم سیٹھی، احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، یاسر پیر زادہ، سید محمد عامر الحسینی، وجاہت مسعود، عمار کاظمی، مظفر عثمانی، سرل المائڈا، شاہ زیب خانزادہ، عاصمہ شیرازی، پارس خورشید، ارشد شریف، غلام حسین، اظہار الحق، نزیر ناجی، عباس اطہر، نواز رضا، ثقلین امام اور کئی دوسرے صحافی جنہوں نے صحافت میں اپنی کارکردگی سے ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی ان کے پڑھنے والے ان کی تحاریر سے منسلک ہیں۔

ان تمام بڑے ناموں اور ان کی طرف سے آزادء صحافت کے لئے دی گئی قربانی کو ذہن نشین کریں اور اس کا موازنہ ملک پاکستان میں رائج صحافت کے اصولوں، آزادی صحافت کی اہمیت، صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں درپیش مشکلات، صحافی بننے کے معیار اور صحافت کی آزادی کی اصل روح کے ساتھ کریں تو ہم ایک دلچسپ صورتحال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ وہ یہ کہ ملک پاکستان میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ صحافی اگر آزاد رہ کر کچھ لکھنا یا بولنا چاہے تو اس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ اخبار اور نیوز چینل مالکان ہیں۔ صحافی حضرات کو اخبار اور چینل کی غیر اعلانیہ، غیر تحریری مگر صاف اور واضح پالیسی پر چلنا پڑتا ہے۔ بعض ادارے سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ وہ سچی خبروں اور آئینہ دکھانے والے صحافیوں کا وزن برداشت نہیں کر سکتے۔ ان حالات کے پیش نظر اگر یہ کہنا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے تو یہ یقیناً بہت بڑا جھوٹ ہو گا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے کالموں اور پروگراموں میں سیاسی لوگوں کو گالیاں دینے کو صحافت سمجھ لیا ہے۔ ہم دو پارٹیوں کے رہنماؤں کی لڑائی کروا دینے کو آزادی صحافت سمجھتے ہیں۔ ہم کسی بھی شخص پر بے بنیاد الزام لگا کر اسے بلیک میل کرنے کو صحافت کی خدمت قرار دیتے ہیں۔ ہم اپنے کالموں اور پروگراموں میں کسی بھی ایشو کا یک طرفہ موازنہ کر کے اپنی رائے دوسروں پر تھوپ دینے کو صحافت کا اعلی درجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم جسے پسند نہیں کرتے، اُس کی رائے کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنا صحافت کی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ملک پاکستان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ملک میں صحافی بننے کا کوئی بھی نظام اور معیار موجود نہیں ہے۔ اتنے اہم پیشے کے لئے ٹریننگ اور تعلیم کا کوئی معیار مختص نہیں کیا گیا ہے۔ ان پڑھ، جاہل اور گنوار اور لوگ خود کو صحافی کہتے دکھائی دیتے ہیں اور کسی بھی شخص کی جھوٹی سچی خبر لگا کر یا چلا کر اسے بلیک میل کرنا صحافت کی خدمت سمجھتے ہیں۔ ملک پاکستان میں صحافت کی پہچان صرف ایک اخبار یا چینل کا کارڈ ہوتا ہے اور جو لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ ایک تھرڈ کلاس اخبار کی نمائندگی حاصل کر کے ایک ہی جھٹکے میں معتبر بن جاتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کارڈ پر لکھا ہوا اپنا نام تک نہیں پڑھ سکتے لیکن خود کو صحافی کہلوانا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر یہ دو نمبر اور گھٹیا لوگ کوئی جرم کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو اخبار بڑی سی سرخی لگا کر اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیتے ہیں اور کسی حکومتی اور غیر حکومتی ادارے کی جرات نہیں ہوتی کہ اس پر ہاتھ ڈال سکیں۔

اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے لئے کسی مثالی ضابطہء کار کا سوچنا مشکل کام ہے۔ اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر ادارہ اپنے لئے ایک سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) وضح کرے جس میں وہ اپنی پالیسی کھل کر بیان کرے۔ اس میڈیا گروپ میں کام کرنے والے تمام صحافیوں کو تحریری معاہدہ ملازمت کے ذریعہ پابند کیا جائے کہ وہ اس پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے اور مختلف خبروں کو اپنے مخصوص زاویہ دینے پرہیز کریں گے۔ اس معاہدہ میں یہ بات بھی یقینی بنائی جائے کہ مالکان صحافیوں کو یک دم برخواست نہ کر سکیں اور اگر کسی صحافی کے خلاف کسی طرح کی شکایت ہو تو اس کے ازالہ کے لئے کوئی تنظیم ہونی چاہئے جو صحافیوں کے لئے ضابطہء اخلاق کی پابندی کروانے میں بااختیار ہو۔

فی الوقت صحافیوں کی ملازمت کے تحفظ کے لئے جو معاہدہ ہے وہ ویج بورڈ 7 ہے مگر اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد تو دور کی بات ہے، اسے نافذ ہی نہیں کیا جا سکا۔ صحافیوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لئے تو یہ معاہدہ کوئی کردار ہی ادا نہیں کرتا، اس لئے اسے غیر قانونی ہی تصور کر لیجئے۔ اس صورتحال کو تمام صحافتی تنظیمیں جانتی ہیں مگر کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور اپنی صحافی برادری کے لئے دادرسی طلب کریں۔

آزادیء صحافت کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں، غیر سیاسی تنظیمیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے اس ضمن میں بات کی جائے تو ان سب کا دعوی یہی ہوگا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہرممکن اقدامات کریں گے مگر عملی طور پر بات وہیں کی وہیں ہی کھڑی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ ن کی راہنما مریم نواز شریف، تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات نعیم الحق، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، مسلم لیگ ق کے مونس الہی ہوں یا دوسرے کوئی اور رہنما، پچھلے سال کے عالمی یوم صحافت پر سب نے اپنے بیان میں تقریبا’’یہی کہا تھا کہ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں بہت سارے صحافی قتل کئے گئے یا انہیں کسی دوسرے طریقے سے نشانہ بنایا گیا لیکن تقریبا ان تمام مقدمات میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس طرح کی بلا روک و ٹوک جرائم کی روک تھام ضروری ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے تو یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی صحافیوں کے مقدمات کی پیروی کے لئے ایک غیرجانبدار اسپیشل پراسیکوٹر جنرل مقرر کرے گی اور اس طرح کے واقعات کے متاثر صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کی امداد کے لئے جرنلسٹس پروٹیکشن فنڈ قائم کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ صحافیوں پر حملے کرتے یا جرائم میں ملوث ہیں وہ آزادی اظہار اور مثبت خیالات سے خوفزدہ ہیں۔ پیپلز پارٹی ایسے عناصر کو بے نقاب کرے گی اور انہیں قانون کی گرفت میں لائے گی۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ان کی پارٹی نظریئے اور امن امان کے نام پر اظہار آزادی پر لگائی جانے والی دانستہ عائد قدغن ہٹا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلومات اور خیالات کی آزادنہ ترسیل شہریوں کو تقویت دیتی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا کے لوگ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں بے خوف و خطر ادا کر سکیں۔

اختتام کرتے ہوئے عرض یہ ہے کہ خود پر پابندی کوئی بھی پابندی نہیں ہے۔ اس کے لئے باضابطہ قانون ہونا چاہئے۔ پابندی کے ذریعہ آپ کسی چیز کو تبدیل نہیں کر سکتے، صرف اُسے کچھ وقت کے لئے دبا سکتے ہیں۔ لہذا خیالات اور سوچ کو مزید پھیلانا چاہئے جس کے لئے پابند میڈیا کی بجائے آزاد میڈیا کا ہونا بہت ضروری ہے چاہے اس کے غلط استعمال کا کتنا بھی خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *