غزل۔۔۔۔مظہر حسین سید

اس لیے اب  گلہ تو ہے ہی نہیں

تم میں خوفِ خدا تو ہے ہی نہیں

tripako tours pakistan

رو رہا ہوں میں اپنی میت پر

کوئی میرے سوا تو ہے ہی نہیں

شرم آئے تمھیں مگر کیسے

شہر میں آئنہ تو ہے ہی نہیں

مذہب ِ امن و آدمیت کا

اب کوئی پیشوا  تو ہے ہی نہیں

جم کے توہینِ  آدمی کیجے

کوئی اس کی سزا تو ہے ہی نہیں

دے رہا ہوں عبث دہائی میں

آپ نے سوچنا تو ہے ہی نہیں

اس کے انڈوں  کا کیا کروں مظہر ؔ

Advertisements
merkit.pk

مسئلہ سانپ کا تو ہے ہی نہیں

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مظہر حسین سیّد
مظہر حسین سیّد
شاعر نثر نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply