• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا پوری کائنات ریاضی کے اصولوں پر قائم ہے ؟۔۔۔نذر محمد چوہان

کیا پوری کائنات ریاضی کے اصولوں پر قائم ہے ؟۔۔۔نذر محمد چوہان

یونانی فلاسفر پائتھاگرس اور اٹالین پولی میتھ ڈیونچی دونوں ہی پورے یونیورس کو ریاضی کے فارمولا کے ساتھ دیکھتے تھے ۔ ڈی ونچی کوڈ بہت مشہور بھی ہوئی  ۔ قبالا کا سارے کا سارا دارومدار بھی نمبروں پر رہا اور عباسیہ دور کے مسلم فلاسفر بھی جہاں ماہر فلکیات بھی تھے تو سب سے پہلے ریاضی کے ماسٹر ۔ دراصل یہ ساری بحث ایک ہی نقطہ پر گھومتی ہے اور وہ ہے پوری کائنات کی ترتیب اور آرڈر ۔ مختلف طریقوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کی گئی  ، سارے علم یہ تو ضرور بتا گئے کے یہ سب کچھ ایک خاص نمونے سے ہے لیکن کسی کے ہاتھ وہ کلیہ نہیں آیا جس سے پوری دنیا یہ سب کچھ سمجھ سکے ۔
بہت سال پہلے میری ملاقات بینکاک میں ایک نابینا شخص سے ہوئی  جو مستقبل کا حال بہت اچھا بتاتا تھا ۔ بالکل سو فیصد درست ، یہاں تک کہ  کسی بھی شخص کا مستقبل پیسہ ، نوکری اور بچوں کے حساب سے کیسا ہو گا ۔ میں نے اسے کہا کہ  میں تم سے اپنا مستقبل نہیں پوچھتا صرف یہ بتا دو کہ  یہ علم ہے کیا؟ اس نے کہا کہ  “تم تو پہلے ہی اس کے ماہر ہو مجھے رات بارہ بجے گھر ملنا “۔ وہاں بنکاک میں اس کے گھر رات کو عجب ماحول ہوتا  ہے ۔ وہ اپنے لان میں کافی سارے incense جلا کر بیٹھتا اور آسمان سے ہمکلام ہوتا  ہے ۔ اس نے کہا کہ  وہ رات کو اپنے علم کی مشق کرتا ہے جو پوری کائنات کے ساتھ جُڑا ہوا ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ  تم کیسے کسی کو بتا سکتے ہو کہ  اس کے کتنے بچے (بیٹیاں اور بیٹے ) ہوں گے؟ اس نے کہا یہ بتانا اس کے لیے سب سے آسان ہے کیونکہ یہ خالصتاً  روح کا معاملہ ہے جو اس کی گرفت میں ہے البتہ وہ کئی  دفعہ مادیت کے معاملات میں خطا کھا جاتا ہے اگر اس سے پیسہ ، گاڑیاں اور گھروں کی بابت  پوچھا  جائے تو ۔

یہاں امریکہ میں ۱۹۹۸ میں ایک فلم ریاضی کے کُلیہ پائی  Pi پر بنی ۔ اس فلم کا نام بھی Pi ہی رکھا گیا ۔ اس کا مرکزی کردار ایک میکس نامی جینیس میتھمیٹیشین ہوتا ہے جو اس کائنات کے کُلیہ کو جاننے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے ۔ وہ جب بچہ تھا تو اس کی والدہ نے اسے کہا کہ  تم نے سورج کی طرف نہیں دیکھنا وہ باز نہ آیا اور چھ سال کی عمر میں سورج کی طرف کافی دیر مسلسل پلک جھپکے بغیر دیکھا ۔ اس سے اس کی آنکھوں کو شدید نقصان پہنچا لیکن اس نے بہت کچھ دیکھ لیا اور infinity تک چلا گیا ۔ میکس روز کمپیوٹر پر بیٹھ جاتا اور اس فارمولا پر سر کھپائی  کرتا کہ  تین چیزیں تو طے ہیں ، کہ  یونیورس کی زبان ریاضی ہے ، اور ہم سب نمبروں کے تابع ہیں اور پوری کائنات ایک نمونہ ، ترتیب ، آرڈر یا pattern پر قائم ۔ رہ صرف یہ گیا جاننا کہ  اس نمونہ کو کیسے تلاش کیا جائے ، نمونہ کی بنیاد کیا ہے؟ ۔

میکس نیویارک کے چائنا ٹاؤن میں رہتا ہے ۔ اس کی زندگی میں صرف تین لوگ آتے ہیں ایک چھوٹی چینی بچی جو اس سے ضرب تقسیم کے سوال پوچھتی اور وہ اسے بتاتا ، دوسری اس کی ہمسائی  ہندو لڑکی اور تیسرا اس کا استاد جو اسی روح کی کشمکش میں تھک ہار کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔ پیسہ اور دنیاوی کنٹرول کے لالچ کے چکر میں دو اور لوگ میکس کا جینا حرام کر دیتے ہیں ایک خاتون جو ایک اسٹاک ایکسچینج  کنسلٹنٹ کمپنی کی نمائندہ ہوتی ہے اور دوسرا یہودی ربی جو اس سے اپنا قبالا جتوانے کے لیے نمبر 216 کا معاملہ پوچھتے ہیں ۔ میکس کے کمپیوٹر میں بھی ایک دفعہ جب کمپیوٹر کریش ہوتا ہے تو نمبر ۲۱۶ ہی آتا ہے لیکن وہ سارا پرنٹ آؤٹ پھینک دیتا ہے ۔ اس کا استاد اسے کہتا ہے کہ  اس نمبر میں کچھ ہے ۔ وہ جب کوڑے میں لینے جاتا ہے تو اسٹاک والوں نے پہلے ہی نکال لیا ہوتا ہے ۔ اسٹاک وائے سمجھتے ہیں کہ  کائنات کا pattern اگر پتہ لگ جائے تو وہ pattern ہی پوری دنیا کی اسٹاک پر بھی لگ جائے گا ، انہوں نے ٹریش سے ڈیٹا نکال کر نمبر ۲۱۶ سے ٹرائی  ماری لیکن اس سے مارکیٹ کریش کر گئی  اور وہ بھی میکس کی جان کے دشمن ہو گئے ۔ ربی تورات کی کاپیاں لیے پھرتے اور میکس کو کہتے کہ  ان کا ربی ایک جو ناپاک تھا مر گیا اس کو کوڈ کا علم تھا اور رب نے وعدہ کیا ہے کہ  پاک یا pure آدمی کے ہاتھ یہ کوڈ پھر دی جائے گی ۔ وہ میکس کو کہتے کہ  گو کہ  وہ پاک تو نہیں ہے لیکن شائد وہ کوڈ دریافت کر جائے ۔

اس ساری فلم میں دو باتیں بہت دلچسپ تھیں ۔ ایک جب میکس مارکیٹ میں اخبار لینے جاتا ہے تو وہاں قرآن شریف کی تلاوت آڈیو پر ہو رہی ہوتی ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت مبارکہ ۱۴۰ کی تلاوت ۔ جس میں رب تعالی فرماتا ہے کہ  یہودی اور عیسائی  اپنے آپ کو ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق اور یعقوب کی اولاد یا نسل سے کہتے ہیں حالانکہ ۔ “کیا تم اللہ سے زیادہ جانتے ہو ؟ اور تم سے زیادہ کون بے انصاف ہو سکتا ہے جو سب جانتے ہوئے اللہ تعالی کی شہادت چھپائے ۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں “

دوسری اس فلم کی بہت ہی خاص بات یہ کہ ، جب یہودی ربی میکس سے ناراض ہوتے ہیں کہ  اسے پتہ بھی لگ گیا ہے لیکن وہ بتا نہیں رہا تو میکس بہت زبردست طریقے سے سمجھاتا ہے کہ  ۲۱۶ صرف نمبر ہے یہ ایک زبان ہے اور زبان کا syntax یا ترتیب جاننی بہت ضروری ہے اس طرح محض نمبر جاننا کچھ بھی نہیں ، بالکل بے معنی اور بے سُود ۔ یہی بات مجھے دس سال پہلے اس رات بنکاک میں نابینے نے کہی تھی ۔ اس نے کہا تھا کہ  اس کے لیے اس عشق میں جلنا پڑتا ہے جس میں صوفیا جلے ۔ نیت کا اچھا ہونا ، مادہ پرستی سے دور رہنا اور کسی بھی لالچ میں نہ آنا سب سے پہلی شرط ہے ۔ بُدھ مت کا موجودہ لاما اور عیسائیوں کا پوپ فرانسز بھی یہ بات اب مان گئے ہیں کہ  وہ شکست کھا گئے ہیں ۔ دلائی  ۸۳ سال کا ہے اور پوپ فرانسسز ۸۲ سال کا ۔ اب اس سچ کی تلاش میں روحانیت کا درس دے رہے ہیں  ۔ beyond religions جانے کا کہہ رہے ہیں ۔ یہی سچ ہے اور کائنات کی اصل حقیقت ۔

کل مجھے پاکستان سے ایک قاری نے ایک اسرائیلی فلاسفر یوول نووا ہراری کی کتاب
21 lessons for the 21 st century ;
پر ریویو کا کہا ۔ میں نے انہیں  یاد دلایا کہ  میرا بائیس ستمبر ۲۰۱۸ کا بلاگ اسی کتاب پر ہے ۔ ہراری نے یہ کتاب اپنے spouse خاوند یعنی gay دوست کے نام dedicate کی ہے ۔ یروشلم سے دور کسی بیابان میں رہتا ہے ۔ فون استعمال نہیں کرتا ،صرف کمپیوٹر استعمال کرتا ہے  ۔ ہراری بھی اس کتاب میں کائنات کے سچ سے رابطہ کی بات کرتا ہے اور مادہ پرستی کی زندگیوں کو رگڑتا ہے ۔ وہ بھی روحانی زندگیوں کی بات کرتا ہے ۔ ہراری کی یہ کتاب امریکہ میں بہت مشہور ہے ۔ اور اسی ہی طرح کی کچھ اور کتابوں ، لٹریچر اور تحریکوں کی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ اکیسویں صدی روحانیت کی ہو گی اور امریکہ سے ہی یہ روحانیت کا انقلاب آئے گا ۔ امریکہ کا ایک بہت مشہور ناولسٹ لکھاری ڈیوڈ فوسٹر ویلیس کے نام سے ہے ، اس کی ایک بہت زبردست saying ہے ؛
“You get to decide what to worship .. “

اور وہ worship ہے اس اکائی  اور oneness کا رقص، بس اس میں آپ آ جائیں ، پیڑ نہ گنیں آم کھانے سے غرض رکھیں ۔ یہی سچ ہے یہی حقیقت ہے اور یہی بلھے شاہ دا “اک نقطہ وِچ گل مکدی اے “ جو تقلید کے باہر ہے ، دراصل سب کچھ تقلید کے باہر روحانی ہے ۔
حضرت سلطان باہو کے اسی طرح کے پیغام والے کلام پر ختم کرنا چاہوں گا۔

پَڑھ پَڑھ عِلم ہزار کتاباں عَالم ہوئے بھارے ہُو
حرف عشق دا پڑھ نہ جانن بھُلے پھرن بچارے ہُو
عشق عقل وچ منزل بھاری سئیاں کوہاں دے پاڑے ہُو
جنہاں عشق خرید نہ باہُو دوہیں جہانیں مارے ہُو
پائتھاگرس کے بارے میں بھی اب کہا جاتا ہے کہ  اس کی کوئی  تعلیم نہیں تھی اور اس نے کوئی  اسکول نہیں بنایا تھا ۔ اپنی ایک انوکھی کائنات کے علم  کی درسگاہ یا خانقاہ تھی ۔ بہت خوش رہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *