• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • چین اور ترکی کا اپنے جنگی طیارے پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

چین اور ترکی کا اپنے جنگی طیارے پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد: چین اور ترکی نے اپنے جنگی طیارے پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، دوست مملک کے جنگی طیارے یوم پاکستان کی پریڈ میں حصہ لیں گے، جبکہ آذر بائیجان اور سعودی عرب کے فوجی دستے بھی پریڈ میں شرکت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دوست ممالک چین اور سعودی عرب نے یوم پاکستان کی پریڈ میں بھرپور انداز میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا کہ یوم پاکستان پریڈ کے خصوصی مہمانوں میں آذربائیجان کے وزیردفاع کرنل جنرل ذاکر حسن عوف، بحرین کی فوج کے کمانڈر جنرل شیر محمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور سلطنت اذف عمان کے سرکاری عہدیداران بھی شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آذر بائیجان اور سعودی عرب کے فوجی دستے پریڈ میں شرکت کریں گے، جبکہ آذر بائیجان، بحرین، سعودی عرب اور سری لنکا کے پیراٹروپرز بھی شریک ہوں گے جو فری فال جمپ کا مظاہرہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ترکی کے ایف 16 اور چین کے جے 10 طیارے فضائی کرتب دکھائیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے یوم پاکستان کی مناسبت سے نیا پرومو جاری کر دیا گیا ہے۔ یوم پاکستان کی پریڈ کا سلوگن ‘پاکستان زندہ باد’ ہوگا۔ پاک فوج اور وفاقی حکومت کی جانب سے یوم پاکستان کی پریڈ کو تاریخی بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply