بڑھتی ہوئی سفید فام نسل پرستی۔۔۔سید عبدالناصر

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کی کم ہوتی ہوئی آبادی اور سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کی بھوک سے پیدا ہونے والی ہجرت (Immigration) نے مغربی ممالک میں بہت سے معاشرتی اور ثقافتی مسائل کو جنم دیاہے۔ مغرب کی وہ کرتا دھرتا لبرل کلاس جس نے بین الثقافتی یورپ (Multicultural Europe) کا منصوبہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ لوگوں کی مذہب سے بڑھتی بیزاری کے سبب اب مغربی اقوام کو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے بیچ میں رہنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوگی۔ لھٰذا مہاجرین کو خوش آمدید کہا جائے اور تیسری دنیا کے ممالک میں موجود ٹیلنٹ کو اپنے ممالک کی پیداوار (Growth) کو بڑھانے میں استعمال کیا جائے۔ اب دنیا بھر کے تیسری دنیا کے لوگوں بالخصوص مسلمانوں نے مغربی ممالک میں ہجرت (Immigration) کے ذریعہ ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے شروع کردئیے۔ جب وہ مغرب کی نئی دنیا میں پہنچے تو ایک طرف انکی اپنی مشرقی ثقافت اور اسلام جس کے سایہ میں انکی پرورش ہوئی تھی تو دوسری طرف مغربی آزادی اور ثقافتی فرق نے ان کے اندرایک ذہنی ہیجان پیدا کردیا۔ اسی اضطراب میں انکی ایک یا دو نسلیں پروان چڑھ چکی تھیں۔ اس کے بعد 70 اور 80 کے عشروں میں مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی مذہبی شناخت اور اسلامی بیداری کی لہر اٹھی اور پھر اسکو خطرہ سمجھنے کی وجہ سے اس کو دبانے کی مغربی روش نے انکے اپنے بین الثقافتی یورپ کے منصوبہ کو خطرات سے دوچار کردیا۔ برطانیہ میں پاکستانی، جرمنی میں ترکی اور ہالینڈ، فرانس اور بیلجئیم میں شمالی افریقی مسلم ممالک (مراکش، تیونس اور الجزائر) کے باشندے اپنی ایک یا دو نسلیں گزارچکے ہیں۔ مزید یہ ہوا کہ استعماری طاقتوں نے اپنے سیاسی اور معاشی عزائم کی تکمیل کے لئے 90 کے عشرہ میں اور 9/11 کے بعد اسلامی ممالک پر جنگیں مسلط کیں اور کچھ اپنے ملک کی افراتفری کی وجہ سے اُن مجبور و مقہور مسلمانوں نے افغانستان، عراق، شام، لیبیا اور صومالیہ سے ہجرت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا۔
اب ایک طرف مغربی اقوام کی آبادیاں تیزی سے کم ہورہی ہیں تو دوسری طرف کثیر تعداد میں آنے والے مہاجرین ہیں جن میں ایک اچھی خاصی تعداد مسلمانوں کی ہے جن کی اولادیں بھی انکے اپنے یورپین لوگوں سے عموماً زیادہ ہوتی ہیں۔ ان حالات میں مغربی یورپی ممالک میں ایک اچھی خاصی تعداد ان مسلمانوں کی بھی پیدا ہوگئی جو مسلمانوں کی معاشرت کو دیکھ کر اسلام لاچکی ہے۔ اس پس منظر میں ایک طرف یورپی شہروں میں آبادی کے تناسب (Demography) میں اتنی تبدیلی آچکی ہے کہ اب وہ واقعی کثیرالاقوامی شہروں کے نقشے پیش کرتے ہیں جہاں جابجا Muslim Ghettos نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ یورپ وہ نہیں جس کا خواب دیکھا گیا تھا بلکہ آج کا یورپ ایک Polarized برِاعظم بن چکا ہے۔ جہاں پر مسلم اور غیر مسلم باشندوں کے کلچر اور معیارِ زندگی کا فرق ایک خوفناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ اب حال یہ ہوچکا ہے کہ لندن کی 15٪ آبادی مسلمان ہے اور اسکا مئیر صادق خان بھی مسلمان ہے۔ Blackburn کی 31٪ آبادی، Birmingham کی 30٪ Brussels کی 25٪ Bradford کی 24٪ Leicester کی 22٪ Marseilles کی 25٪ Paris کی 15٪ اور Manchester کی 16٪ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ روٹرڈیم (Rotterdam), ہالینڈ کا مئیر بھی مسلمان ہے۔ اگر مسلمانوں کی آبادی یورپ میں اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو یہ کہنا مشکل نہیں ہوگا کہ 2050 میں یورپ کی اکثریت مسلمان ہوچکی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرتی تفریق سے وہاں رہنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کرائم کی طرف بھی چلی گئی ہے جس کی وجہ سے وہاں مسلمان ایک طرف اپنی روایات اور ثقافت کی وجہ سے بالکل الگ تھلگ نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اپنے جرائم کی وجہ سے نفرت کا سبب بھی بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں مہاجرت (Immigration) کی پالیسی پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور اس کو یورپی اقوام کی تباہی قرار دیا جارہا ہے۔ آہستہ آہستہ کرسچین قدامت پسند لوگ اور جو غیر مذہبی سفید فام باشندے ہیں ان میں نسل پرستی (Nationalism) زور پکڑتی جارہی ہے۔ یہ سفید فام نسل پرست لوگ اپنی لبرل حکومتوں سے بہت خائف ہیں اور بظاہر اتنی اکثریت بھی حاصل نہیں کرسکتے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے مسلمانوں یا Muslim Immigration کے خلاف کوئی قانون سازی کرسکیں۔ اسلئے اب اندر ہی اندر یہ لوگ ایک آگ میں جل رہے ہیں جن کا غصہ بتدریج بڑھتا جارہا ہے۔ ہالینڈ میں گیرٹ ویلڈرز کی پارٹی کی عوامی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ اور دوسرے یورپی ممالک میں بھی رائے عامہ انکے حق میں کافی ہموار ہوچکی ہے۔ مسلمانوں کی معاشرتی یلغار سے نسل پرست سفید فام باشندے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ یورپ میں اب ایک ایسا طبقہ پروان چڑھ رہا ہے جو یورپ کے مستقبل سے سخت مایوس اور Depressed ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک طرف میڈیا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے جو مسلم دنیا میں دہشتگردی کے واقعات کو اسلام سے جوڑتا ہے تو دوسری طرف امریکہ اور یورپ کے بعض مصنفین اور کچھ عرب عیسائی سرگرم Activists اور بعض مرتد لوگ جن میں عربی مرتدین بھی شامل ہیں (جن کا نام میں یہاں نہیں لینا چاہتا ہوں) جو دہشتگردی کو قرآن اور حدیث اور مسلم تاریخ سے جوڑ کر اپنی قوموں کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ اسلام کوئی دین نہیں بلکہ ایک فاشسٹ سیاسی نظریہ ہے جو اپنی برتری قائم رکھنے کے لئے پوری دنیا کو اپنے زیرِ نگیں رکھنا چاہتا ہے اور اگر مسلمانوں کو موقع مل گیا تو اس مقصد کے لئے یہ پوری دنیا کو تباہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور نھوں نے تاریخ میں ایسا ہی کیا ہے۔ جو لوگ مہاجرت کے حامی ہیں وہ در اصل بزدل اور مردہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرکے اپنی قوموں کو اس بھیانک صورتحال کی طرف لیکر جارہے ہیں۔ اسلئے اپنی نسلوں کی حفاظت کے خاطر انکے خلاف آواز اٹھاؤ اور اپنے شہروں اور ملکوں کی حفاظت کرو ورنہ یہ سب تخت وتاراج کر دیں گے اور ہمہاری عورتوں کو باندیاں بنالیں گے اور ہماری ہزاروں سالہ تاریخ و ثقافت کو تباہ کردیں گے۔
اس خوف کے پیچھے ایک طرف تو براہِ راست میڈیا ذمہ دار ہے تو دوسری طرف ہمارے مسلمان یورپی شہری جو نادان دوست کی حیثیت سے وہاں یورپ میں دعوت و اخلاق کا نمونہ بننے کے بجائے ردِ عمل کی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ وہ اس طرح کے نعرے لگانے سے گریز نہیں کرتے جیسے “شریعت قائم کرو” یا “جو اسلام کی تذلیل کرے اسے قتل کردو” یا “Europe: You will pay. Demolition is on it’s way” ۔ یہ نادان اس طرح کے نعرے کھلم کھلا لگا کرنہ جانے وہاں کیسے اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کی کون اس طرف رہنمائی کررہا ہے۔ وہاں کے ائمہ مساجد کی ذمہ داری اس ماحول میں بہت بڑھ جاتی ہے کہ وہ انہیں حکمت و خیرخواہی سے دعوتِ دین پھیلانے کا درس دیں۔ اس وقت اچھے اخلاق سے ہی مغربی اقوام کے دل جیتے جاسکتے ہیں نہ کہ شدید نفرت اور ردِ عمل کی نفسیات سے اور انکو مزید طیش دلانے سے۔ کرائسٹ چرچ کے واقعہ میں جان بوجھ کر ویڈیو بنانا اور اسکو لائیو دکھانے سے اس طرح کے حملوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوسکتی ہے جو مسلمانوں کے لئے مستقبل میں ایک کرب ناک صورتحال پیداکرسکتی ہے۔ اسلئے مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اب بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور حتی الامکان نفرت کا جواب محبت سے دینے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ غیر مسلموں کے سامنے اسلام کا صحیح تصور سامنے آئے اور انکی غلط فہمیاں ختم ہوسکیں۔
سید عبدالناصر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *