چلو مسجد چلتے ہیں شہید ہونے کے لیے ۔۔۔محمد فیاض حسرت

آئیے ہم بھی، شہادت کے لیے سب چلتے ہیں
اب کے ہم ، اس واسطے رخ مسجدوں کا کرتے ہیں

( فیاض حسرت )

اب وہ وقت گیا کہ کسی کو شہید ہونے کی تمنا ہوتی تو وہ سرحدوں کا رخ کرتا، اب تو شہید ہونے کے لیے مسجدوں کا رخ کیا جاتا ہے ۔ اے مسلمانو! چلو ہم بھی شہید ہونے کے لیے مسجدوں کا رخ کرتے ہیں ۔ اب تو سرحدوں سے زیادہ مسلمان مسجدوں میں شہید ہونے لگے ہیں ۔ خدایا تو گواہ رہیو کہ جیسے تیرے محبوب کے زمانے میں مشرکین مسجدوں میں جا کر مسلمانوں سے انتقام لیتے تھے اب بھی وہی لوگ ، ویسے ہی لوگ تیرے بندوں سے مسجدوں میں ہی جا کر انتقام لیتے ہیں ۔وہ لوگ ، ظالم لوگ کتنے ہوشیار ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ تیرے بندے کا تعلق اب براہِ راست تجھ سے جڑ گیا ہے اب اُسے تیرے سوا کچھ نظر نہیں آتا ، اب اُسے بندوقوں سے چلتی ہوئی گولیوں کی آوازیں نہیں سنائی دیتی ، اب اُسے جسم پر بے سمت گولیاں لگنے کا بھی اثر نہیں ، اُس کے جسم سے خوں اچھل اچھل کے  گرتا  ہے لیکن اُس کا دھیان اس طرف نہیں جاتا ، وہ جانتے ہیں کہ جب تیرا بندہ تیری طرف متوجہ ہو گیا تو پھر اُسے کسی کی توجہ کا خیال نہیں رہتا ۔ وہ جانتے ہیں کہ کچھ بھی ہو لیکن تیرا بندہ اُس وقت انتقام کا جواب نہیں دے گا ۔ خدایا تو گواہ رہیو کہ تیرے بندے ایسی عاجزی کہ تیرے آگے سجدہ ریز تھے اور ان کا خون بہایا گیا ۔ خدایا دیکھ تیرے بندے تیرے آگے ایسے سجدہ ریز ہوئے کہ اپنے سر حشر کے دن ہی اٹھائیں گے ۔

آہ !نیوزی لینڈ میں بستے بچاس سے زائد مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کے دوران بے دردی سے شہید کر دیا گیا ۔صرف شہید ہی نہیں کیا بلکہ وہ دردناک مناظر پوری دنیا کو دکھائے ۔ اور وہ ظالم انسانیت کا لبادہ اوڑھے دنیا کو یہ دکھا رہے ہیں کہ ہم کتنے بہادر ہیں، ہم کتنے جرات مند ہیں کہ مسلمانوں کو مسجدوں میں شہید کرتے ہیں ۔او ظالمو ! تم بہادر نہیں بزدل ہو ، تم بزدل ہی نہیں انسانی شکل اوڑھے کوئی بد ترین ، خونی جانور ہو ، تمہارے اور شعور سے عاری کسی مخلوق  سے بھی کسی نچلے درجے کے ہو ۔
ایسے شر پسند لوگ انسانوں کے لیے ہی نہیں پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں ۔ اب کسی صورت میں بھی ان شرپسندو ں کے اندر سے شر ختم نہیں کیا جا سکتا یہ لوگ ہر وقت دنیا کے لیے خطرہ بنے رہیں گے ۔ عالمی سطح کا قانون بنایا جائے جس پہ عمل ہر صورت ہو اور وہ قانون صرف اس بات کا ہو کہ ایسے لوگ جن کے اندر شر کا کوئی بھی عنصر شامل ہو انہیں فوراً پھانسی دے دی جائے ۔ جس طرح وہ چند لمحوں میں کئی مظلوم لوگوں کی جانیں لے لیتے ہیں اسی طرح ان کی جانوں کو بھی پھانسی کی نذر کیا جائے ۔ اس معاملے میں اُن شر پسندوں کے ساتھ کوئی بھی کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتی جائے ۔
پاکستانی نژاد نیوزی لینڈ کا  شہری جو اُس حملے میں موجود تھا کا اپنے ساتھیوں سے معذرت نامہ ۔ میرے عزیز دوستو! میں شرمندہ ہوں کہ میں چاہ کر بھی تمہاری جانیں نہ بچا پایا لیکن تمہاری جانوں کو بچانے کے لیے میں نے ہر کوشش کی پر میں ناکام رہا ۔ میں شرمندہ ہوں آپ سب سے اور میں شرمندہ ہوں اپنی جان سے کہ چند گولیوں کی نذر  میری جان ہو گئی ورنہ میں نے یہ ٹھان لی تھی کہ اُس دہشتگرد کی ساری گولیاں اپنے سینے پر کھاؤں گا اور تمہیں بچا لوں گا۔ میں شرمندہ ہوں کہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر بھی آپ کی جانوں کو بچا نہ پایا ۔
(16 مارچ 2019)

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *