کیا روحانی علاج ممکن ہے ؟۔۔۔۔نذر محمد چوہان

پچھلے دنوں میں نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں نواز شریف کے روحانی  علاج کرنے کا دعویٰ کیا ۔ اس پر بہت سارے لوگوں نے مجھے اس کی تفصیلات پُوچھیں اور کچھ نے تو ایسا موقف اختیار کیا جیسے انسان روح کے بغیر ہیں ، جسم ہی سب کچھ ہے اور میڈیکل سائنس اور مادیت ہی دنیا کی کامیابی اور علم کا محور ہے ۔ اگر کوئی  اس طرح سمجھتا ہے تو مجھے بالکل کوئی  اعتراض نہیں ۔ اسی سوچ نے ہمارے  ذہن بھی بیمار کر دیے ہیں ۔ اور کینسر جیسے  مرض کو جنم دیا، اس بیماری میں cells ریورس گروتھ پر صرف اسی وجہ سے چلے جاتے ہیں ۔ آج ہی نیوزی لینڈ کی النور مسجد میں اسی طرح کے ذہنی بیمار ایک آسٹریلین نے پچاس کے قریب مسلمان شہید کر دیے  اور یہ سارا تماشا اور قصہ اپنے فیس بک اور انسٹاگرام کے اکاؤنٹ سے براڈکاسٹ کیا ۔ یہ نفرتیں اور عداوتیں ایسے ہی روح کے بغیر والوں کا کام ہے ۔
مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کیا نیگٹو انرجی بھی جسموں یا روح میں سراعت کرتی ہے ۔

میرا ہمیشہ یہی جواب رہا ہے کہ  انرجی صرف ایک ہی ہے اس ساری آکائی  اور oneness کی ۔ اس کو آپ جیسے چاہیں استعمال کر لیں ۔ دراصل اس اکائی  میں آپ اس انرجی کو پورے یونیورس سے استعمال کر سکتے ہیں اپنی بہتری کے لیے ۔ ہوتا کیا ہے کہ  اصل انرجی کا خزانہ انسانی روح میں موجود ہے جو پوری دنیا کی انرجی کے ساتھ منسلک ہے اور بلیو ٹوتھ یا انٹینا کی طرح آپ اس سے ہر وقت لنکڈ ہیں ۔ اصل میں آپ کی نیگٹو یا منفی سوچ اس روح کی روشنی کو مدھم کرتی ہے ۔ حسد ، تکبر ، غرور ، غصہ اور مقابلہ اس روشنی کو ختم کر دیتا ہے جس سے جسم بیمار ہو جاتا ہے ۔ آپ کی روح بیمار نہیں ہوتی بلکہ منفی سوچ اس کو جسم سے غیب کر دیتی ہے جس سے جسم کے cell کینسرس ہو جاتے ہیں اور جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔
اس وقت تمام بیماریوں کے تین قسم کے علاج دنیا میں مروجہ ہیں ۔ ایک تو دوا والا ہے ، جو حکمت ، ایلوپیتھی ، ہومیوپیتھی ، سٹیم اور ورزش وغیرہ کے ذریعے  ممکن ہے ۔ دوسرا نفسیاتی ہے جو placebo effect سے ممکن ہے ۔ آپ اپنے ذہن کو منا لیں کہ  آپ بیمار نہیں ہیں ۔ کسی بھی میٹھی گولی کو کہا جائے کہ  یہ آپ کی دوا ہے ۔ یا آپ کو hypnotize کر دیا جائے ۔ یہ بھی بہت کامیاب علاج کا طریقہ ہے ۔ اس سے بھی منفی خیالات جسم کی جان چھوڑ دیتے ہیں ۔ آپ کا state of mind یکسر بدل دیا جاتا ہے جس سے آپ کی روح منور ہو جاتی ہے اور جسم میں خوشگوار تبدیلی رُونما ہوتی ہے

تیسرا اور سب سے موثر علاج ان سب بیماریوں کا روح والا ہے ۔ یہ کئی  طریقوں سے ممکن ہے ۔ اس میں دعا نمبر ایک پر ہے خاص طور پر اسلامی طریقہ دعا جو قرآن شریف سے لی گئیں مخصوص سورتوں پر مبنی ہے ۔ ان کا ورد بھی کیا جا سکتا ہے ، پانی میں بھی پھونک کر پانی پیا جا سکتا ہے ۔ کچھ بزرگ سیب وغیرہ پر لکھ کر استعمال کا کہتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہاں امریکہ میں مقیم مشہور شیعہ سکالر پاکستانی امریکی ڈاکٹر معصوم حسن عابدی کی ایک ایسی ہی کتاب کا حوالہ دیا تھا ۔ وہ کتاب میں نے پاکستان میں گاؤں کی ایک خاتون کو تحفتا ً دی کہ  وہ گاؤں کے لوگوں کا علاج ان سورتوں کے ورد سے کرے ۔ وہ بتاتی ہے کہ  وہ اچھی خاصی روحانی ڈاکٹر بن گئی  ہے ۔ آج سے پانچ سال پہلے ایک جاپانی  لڑکا مُوٹو شو کراچی میں میرا مہمان بنا ۔ وہ جسم میں انرجی پوائنٹز پر بہت ہی باریک pins لگا کر علاج کرتا تھا ۔ اس سے وہ ساری بیماریوں کی تشخیص بھی کرتا تھا اور بہت precisely جسم کے ہر organ کی کنڈیشن بھی بتاتا تھا ۔ وہ زیادہ توجہ زندگی میں عادات ، حرکات و سکنات بدلنے کی دیتا تھا ۔ کوئی  دوائی  نہیں دیتا تھا ۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ وٹامن سی کھانے کا کہتا ۔ ٹوکیو کے قریب ایک شہر میں اس کا اپنے گھر میں کلینک ہے جہاں ہر وقت ہجوم لگا رہتا ہے ۔ وہ میرے روحانی علم کا بھی بہت بڑا مداح ہے اور مجھے اکثر جاپان بلاتا ہے کہ آؤ اکٹھے لوگوں کا علاج کرتے ہیں ۔

یہ کیسے ممکن ہے ؟ پہلے سب سے تو ذہن میں یہ رکھیں کہ  روح انرجی ہے ۔ پوری کائنات انرجی ہے ۔ ساری ہماری existence ہی صرف اور صرف انرجی ہے ۔ یہ سارا کھیل ہی انرجی کا ہے ۔ جسم تو بہت ہی عارضی ہے اور بدلتا رہتا ہے ۔ جسم ارتقاء اور سائیکل کے تابع ہے انرجی نہیں ۔ کبھی یہ جسم ڈارون کے بقول بندر کی صورت میں تھا پھر انسانی جسم اور شعور کا اس میں داخل ہونا اور اب ہم سب روحانی لوگ مانتے ہیں کہ اگلا ارتقاء پردوں کے پار کی دنیا دیکھنے کا ہو گا ۔ اسے ہی مشہور امریکی بائیولوجسٹ ولسن نے کہا کہ  سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ  ایسا کیوں ہوتا ہے کہ  جسم ایک خاص عمر تک زندہ رہتا ہے ؟ یا اس کو  بیچنا ، جوانی اور بُڑھاپا کیسے آتا ہے ؟ ۔ پھل درختوں پر لگتا ہے توڑ لیا جاتا ہے پھر لگتا ہے ۔ یہ سارا ماجرا روح اور انرجی کا معاملہ ہے ۔

روحانی علاج میں سب سے آسان طریقہ کسی بھی قسم کی عبادت یا مراکبہ ہے ۔ آپ نے اپنے سانسوں کو فوکس کر کے اپنا کائنات کے ساتھ کنیکشن بنانا ہے ۔ اس کے لیے کوئی  بہت ہی خاموش جگہ منتحب کرنا زیادہ مناسب ہے ۔ اگر کمرے میں ہو تو کوئی  incense اور کرسٹل ضرور رکھیں ۔ باہر باغ میں اس یونیورسل انرجی کو فوکس کرنا زیادہ آسان ہے ۔ جسم کو بالکل relax کرنا ہے ۔ یہ آپ سب بخوبی خود بھی کر سکتے ہیں اور کوئی  اور بھی آپ کے لیے چینل بن کے کر سکتا ہے ۔ وہ صرف رہنمائی  اور مدد کرے گا آپ کو کنیکٹ کرنے کی اس یونیورسل فورس کے ساتھ ۔ اس سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ  کیا یہ long distance سے بھی ممکن ہے ؟ بالکل ، بشرطیکہ دونوں طرف بہت اچھی facilities ہوں کمیونیکیشن اور جگہ کی ۔ اگلے دن میں پاکستان سے ایک خاتون کے ساتھ فیس بک میسنجر پر تھا تو اس نے دوران سیشن ہی خراٹے  لینے شروع کر دیے جس سے سیشن بریک ہو گیا ۔ اگر مجھے کسی اچھے پلیٹ فارم سے نواز شریف کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو پھر تو یہاں سے بھی علاج ممکن ہے ۔ دراصل ہم لوگ ، دعائیں اور مختلف عمل ، ایک چینل کا کام کرتے ہیں ۔ آپ یہ سب کچھ خود بھی کر سکتے ہیں ۔ کوشش کریں ، کوئی  ایک دن منتخب کر لیں اور یہ ٹھان لیں کہ  آج کے دن آپ کو کوئی  غصہ نہیں آئے گا ، کوئی  پریشانی نہیں تنگ کرے گی اور آپ رب تعالی کی ہر چیز پر بہت زیادہ شکر گزار ہوں گے ، پوری دنیا سے پیار محبت کے رشتہ میں پروئے جائیں گے ۔ اور پھر نتیجہ دیکھیں ۔

اپنی زندگیوں میں جھوٹ ، منافقت ، کینہ پروری اور مقابلہ سے پرہیز کریں ۔ اس زندگی کو نیچرل فلُو میں لیں ۔ کوئی  چیز مینوفیکچر نہ کریں ۔ ۱۹۹۵ میں نکول کڈمین کی ایک فلم To die for بہت مشہور ہوئی  تھی ۔ اس میں سُزانا نامی خاتون ٹی وی کے ذریعہ مشہور ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ اسے بمشکل سے صرف ریحام خان کی طرح موسم کا حال سنانے کا رول ملتا ہے لیکن بالکل ریحام کی طرح اس کے ambitions آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں ۔ ایک اچھا خاوند بھی اسی خواہش میں قربان کر دیتی ہے اور تین نوجوان بچوں کی اپنے سمیت جان بھی کھو بیٹھتی ہے ۔ یہ فلم ضرور دیکھیں اس دنیا کی بھونڈی اور بیکار شوبازی اور کامیابی کے کھوکھلے اہداف آپ سب پر عیاں ہو جائیں گے ۔

یاد رہے آپ اس دنیا میں کسی ریس میں نہیں ہے جب تک آپ کو کوئی  کتا نہ کاٹے ۔ آپ روز ہر صبح نئی  نویلی دلہن کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور رات کو سو جاتے ہیں ۔ جب آپ کا کسی چیز پر کوئی  کنٹرول ہی نہیں تو اکڑ کیسی ؟ لڑائی  کیسی ؟ صرف جسم کو بیمار کرنے کی ؟ یہ ساری بیماریاں اس طرح روح کی بیماریاں ہیں کہ  ہم نے روحانی زندگیاں چھوڑ دیں ہیں اور مادیت کے چکر میں پڑ گئے ۔ ایک فلم میں ایک کردار کہتا ہے کہ  “کمیونسٹ ریپبلک ، اسلامک ریپبلک ، جمہوری ریپبلک تو ہیں ، کاش کوئی  روحانی ریپبلک بھی معرض وجود میں آئے ۔ مجھے تو ایسا ممکن نظر آتا ہے اور اگلا ارتقاء انشاء اللہ اسی کا ہو گا اور یہ امریکہ سے ہی ہو گا ۔ بہت خوش رہیں ۔ میرئی  دعا ہے کہ  آپ سب فکر اور پریشانیوں سے بہت دور رہیں ۔ یہی جسم کو بیمار کرتی ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *