تعلیم ہی سب کچھ ہے۔۔۔اے وسیم خٹک

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنے تعلیم کے شعبے کو بہتر نہ کرلے تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ہے۔ کسی بھی فلاحی مملکت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے بد قسمتی سے آج پاکستان تعلیم کے شعبے میں دنیا کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ ملک میں نظام تعلیم انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور اس وقت بھی وطن عزیز میں انگریزوں کا قائم کردہ وہی تعلیمی  سٹرکچر نافذ ہے۔ جس کے ذریعے سے ہم صرف کلرک ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی ڈھانچے کی اسی خرابی کے نتیجے میں آج ہم سائنس اور تحقیق کے شعبے میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی طبقاتی نظام تعلیم موجود ہے ایک طرف او لیول اور کیمرج سسٹم کے اسکولز ہیں جن سے صرف دولت مند طبقے کے بچے ہی فیض یاب ہوسکتے ہیں تو دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جو غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی پہنچ میں تو ہیں مگر ان سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے تمام لوگ بخوبی واقف ہوں گے اکثر سرکاری سکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہوتی ہیں یا پھر ان میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے میز اور کرسیاں تک موجود نہیں ہوتیں اور بہت سر کاری سکول تو اساتذہ تک سے محروم ہوتے ہیں۔ سہولیات کے فقدان اور ناقص معیار تعلیم کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباءتعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں امیر اور غریب کے تعلیمی معیار کے اسی فرق کے نتیجے میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا طالبعلم آگے نہیں  آپاتا اور پورے ملک پر یہی امیر طبقہ راج کرتا رہتا ہے جسے نہ تو غریب عوام کے مسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی آبادی کی ایک تہائی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو تو ایسے میں والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے بھاری فیسوں کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں ۔ جس کے باعث غریب طبقے کے طلبا ءاپنے تعلیمی سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتے اور معاش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ ملک میں ایسی قانون سازی کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو اپنی من مانی اور بھاری فیسیس وصول کرنے سے روکا جا سکے اور وہ سرکاری طور پر طے شدہ فیس ہی طلباءسے وصول کر سکیں ۔تدریس کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ایک اہم کام ریسرچ ہے ریسرچ کے لئے آزاد ذہن ناگزیر ہے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وطن عزیز میں جو ریسرچ ہوتی ہے اس کے موضوعات اور طریقے سب مغربی ممالک سے لئے جاتے ہیں یہ رویہ ”آزاد ذہن“ کے بجائے ”غلامانہ ذہن“ کی علامت ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے دائرے میں تحقیق اسی وقت اپنے قریبی سماج کے لیے مفید ہوسکتی ہے جب اس کے موضوعات اس سماج کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہوں ۔

موجودہ دور میں تعلیم اور ہنر کو کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی میں جو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس کی نہایت واضح اور روشن مثال ہیں وطن عزیز میں اس حوالے سے اب تک جو کوششیں کی گئیں ان میں اس بنیادی نکتہ کو نظر انداز کیا گیا کہ غیر ممالک کے تجربات اور نظریات کو یہاں لاگو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مملکت خداداد ایک نظریاتی ریاست ہے اور یہاں کے عوام کا مزاج ان غیر ملکی اور خاص طور پر مغربی تصورات کو قبول نہیں کرتا۔ اس کو حالات کی ستم ظریفی کے سوا کیا نام دیا جائے کہ تعلیم کے نام پر بعض عناصر نے کاروبار چمکانا شروع کر دیئے جس سے تعلیم و تدریس کا شعبہ ایک مشن کی بجائے انڈسٹری کی صورت اختیار کر گیاپاکستان میں انقلابی تبدیلی لانے کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کاوشیں قابل تعریف ہیں جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیوں کی تعداد اٹھانوے سے بڑھ کر132 ہو گئی ہے اور یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح میں بھی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

2002ء تک پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنے والے طلباءکی تعداد صرف تین ہزار تھی جبکہ گزشتہ برسوں میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد دس ہزارسے بڑھ گئی ہے۔جس میں بےروز گارڈاکٹر بھی موجود ہیں ـ جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کربھی جاب سےمحروم ہیں ۔اسی طرح 2002ءمیں تحقیقی مقالوں کی تعداد آٹھ سو پندرہ تھی اس میں کافی بہتری آئی ہے اور ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت ایچ  ای سی کے سکالر شپس پر دو ہزار سے زائد طلباء بیرون ملک پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جبکہ ہزاروں طلباء ملک کے اندر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کیلئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اگر ترقی کی یہ شرح اسی طرح برقرار رہی تو آئندہ دس سال سے زائد عرصے میں پاکستان دنیا کے نقشہ پر  تعلیمی معیار کے لحاظ  واضح طورپر نظر آئے گا،حکومت نے خواندگی کی شرح میں اضافے کیلئے معیاری پرائمری اور ثانوی و اعلی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کا عزم کر رکھا ہے، کوئی بھی قوم مستحکم انسانی وسیلے کی بنیاد اور تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔

موجودہ حکومت نے 2020 کے اواخر  تک نوے فیصد سے زائد خواندگی کے حصول کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی تحقیق اور فنی و پیشہ وارانہ تعلیم کے فروغ کیلئے نجی شعبے کی کاوشوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ فنی تعلیم اور انسانی وسیلے کامیاب ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی سطح پر جدید علم اور مہارت کا حصول اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ قوموں کی بقااور ترقی کیلئے تیزی سے بدلتی ہوئی اور مسابقتی دنیا میں اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ترقی کیلئے درست علم اور صحیح لوگ بنیادی اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور یہ مسابقتی معیشت میں ترقی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں نے علم کی اہمیت کی بنیاد پر ہی عالمی برادری میں مقام حاصل کیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اور بالخصوص سائنس وٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ مستقبل کے چیلنجوں سے مثبت طریقے سے اور ذمہ داری کے ساتھ نمٹنے کیلئے پاکستان کو تیار رہنا ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام مرداور خواتین سخت محنت کریں تاکہ تمام شعبوں اور بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کا مقابلہ کیا جا سکے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو بری طرح انداز کیا جاتا رہا ہے مختلف ادوار میں تعلیمی پالیسیاں تو تیار کی گئیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا جبکہ مختلف حکومتیں اس اہم شعبے کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کرتی رہیں اور اس وقت مختلف شعبوں میں قومی سطح پر ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ بھی تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

تعلیم کا معاشرے کی اخلاقی سماجی اور اقتصادی ترقی میں بہت اہم کردار ہے جبکہ انسانی وسائل اور صلاحیت بھی اس سلسلے میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ہمارے ملک میں عمومی تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جاتی رہی ہے لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انڈسٹری میں جس تعلیم کی ضرورت ہے کیا وہ تعلیم ہم اپنے طلباءکو دے رہے ہیں اس سلسلے میں مارکیٹ کی ضرورت اور ہمارے انسانی وسیلے کی ترقی کی پالیسیوں اور پروگراموں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے ۔ حکومت ملک میں خواندگی کی شرح بڑھانے کیلئے تعلیم کے شعبے میں ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اس سلسلے میں پرائمری اور ثانوی تعلیم کا معیار بہتر بنایا جارہا ہے اور اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو فروغ دیا جارہا ہے۔ حکومت نے 2020 کے ّآخر تک نوے فیصد سے زائد خواندگی کے حصول کا ہدف مقرر کر رکھا ہے لیکن یہ ہدف ایک مخصوص وقت میں حاصل کرنا تنہا حکومت کیلئے ممکن نہیں اور اس کیلئے نجی شعبے کی موثر شرکت کی ضرورت ہے دوسری جانب غیر ملکی ادارے یو ایس ایڈ نے تعلیم کے شعبے میں حکومت پاکستان کا کافی حد تک ہاتھ بٹایا ہے اور اسی طرح ایجوکیشن کے لئے ملالہ فنڈ سمیت دیگر ڈونرز ایجنسیاں بھی حکومت کی خاطر خواہ مدد میں مصروف ہیں انصاف کے نام پر آنے والی حکومت نے کچھ حد تک تعلیمی نظام میں بہتری لانے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور وزیرتعلیم کے زیرک پن کافی اچھے نتائج لائے گا ایک طرف تو تعلیم کے شعبے میں کام ہورہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے ہر صوبے میں طلباءکو الگ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ گلی اور محلوں میں جو بے شمار نجی سکولز قائم ہیں ان میں بھی ہرسکول کا اپنا ایک الگ ٹیکسٹ بورڈ قائم ہیں اور ہر صوبے کا الگ الگ نصاب ہونے کی وجہ سے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستان کو دنیا میں ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں فوری طور پر اصلا حات کرنا ہوں گی نصاب کو بہتر بنانا ہوگا اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ کرنا ہوگاضرورت اس امرکی ہے کہ ہم پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کریں تاکہ طبقاتی فرق کو ختم کیا جاسکے اور تمام جگہ طلباءکو ایک ہی طرح کا نصاب پڑھائیں تاکہ منتشر قوم کو یکجا کیا جاسکے۔ تمام سرکاری سکولوں اور کالجوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباءبھی بہتر طور پر تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیں۔حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر بلکہ ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں اور تعلیمی ماہرین کی مشاورت سے ایک ایساتعلیمی نظام وضع کریں جس کے ذریعے سے پاکستان بھی سائنس اور تحقیق کے میدان میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی برابری کر سکے دنیا کی جو قومیں اپنے تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرتی ہیں ان کا دنیا میں دیر تک اپنا وجود برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے اور وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی  ہیں ،تعلیمی نظام میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *