• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • علی اختر کی تحریر پر ہونے والی نکتہ چینی پر رمشا تبسم کاتبصرہ

علی اختر کی تحریر پر ہونے والی نکتہ چینی پر رمشا تبسم کاتبصرہ

ہمارے رویوں میں نکتہ چینی  کیوں ؟

تنقید برائے اصلاح کیوں نہیں؟

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے
ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں
(احمد مشتاق)
ہم زمانہ ء جدید میں بھی ایک قدیم مرض میں مبتلا ہیں”مرضِ نکتہ چینی” اتنا مہلک مرض  کہ آج کے جدید دور میں بھی اسکو جڑ سے نہیں ختم کیا جا سکا کسی بیماری کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے مریض میں قوتِ مدافعت پیدا کی جاتی ہے جو بعض اوقات ڈاکٹر کے مثبت اخلاق سے ہی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اس کے بعد  ادویات  اثر کرنا شروع کرتی ہیں یوں ایک بیماری کو مثبت رویے سے دوا اور دعا کے ذریعے ختم کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔
“مرضِ نکتہ چینی” کا علاج آج بھی نا ممکن ہے کیونکہ ” نکتہ چینی” کرنے والے کسی کی بھی  منفی بات  پر اس نیت سے تنقید نہیں کر رہے ہوتے کہ اس منفی سوچ کو ختم کیا جائے بلکہ ” نکتہ چینی” کا مقصد  اس منفی سوچ والے کو اس مقام پہ لانا ہوتا ہے جہاں وہ شخص یا تو کہنا چھوڑ دے یا گوشہ نشین ہو جائے اور دنیا سے دور ویرانے میں زندگی گزارے اور کسی ایسے اندھیرے میں مبتلا ہو جائے کہ اسکا وجود خاک میں ملنے سے پہلے ہی خاک چھانتا پھرے اور وہ جیتا جاگتا مٹی کا پتلا بن کر وحشی ہو کر در بدر پھرے۔
“انسان خطا کاپتلا ہے” کسی کو کسی بھی شخص کے الفاظ اور سوچ سے اختلاف ہو سکتا ہے اختلاف محض لکھاری کی لکھائی الفاظ اور سوچ سے ہونا چاہئے باقی کسی کی شخصیت ذات عہدہ اور رتبہ اختلاف کی نہ وجہ  بنے نہ ہی تنقید میں انکو نشانہ بنایا جائے۔
سقراط نے ایک بار کہا تھا کہ ”اچھے دماغ کے لوگ خیالات پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ کمزور دماغ کے لوگ، لوگوں پر تنقید کرتے ہیں۔“ لگتا ہے سقراط کو شاید موجودہ انسانوں کے بارے میں اس وقت ضرور کوئی الہام ہوا ہوگا، جس پر انہوں نے ایک طویل عرصہ پہلے آج کے  معاشرے کی اس خوبی سے متعلق پیشن گوئی کر دی تھی۔
اچھا لکھنا ایک آرٹ ہے جبکہ اچھا کہنا اور بولنا  اخلاق اور تربیت کے زمرے میں آتا ہے آرٹ یا فن کی تربیت ہمیں ادارے یا معاشرہ دیتا ہے مگر اخلاقی تربیت کا پہلا لقمہ ہمیں گھر سے نصیب ہوتا ہے  کسی کی آرٹ خراب ہونا غلطی ہو سکتا ہے لاعلمی ہو سکتی ہے آرٹ میں مہارت کی کمی ہو سکتی ہے مگر  غلط بولنا برا کہنا انسان کے اخلاق اور  اس لقمے کی طرف سوالیہ نشان اٹھاتا ہے جو تربیت کی نیت سے اسکو اہلِ خانہ سے دیا جاتا ہے۔
کوئی شخص بیک وقت کسی کے لئے مشعلِ راہ ہو سکتا ہے اور کسی کے لئے ایک برا تجربہ بیک وقت کوئی ایک شخص تمام لوگوں کو نہ  تو عزیز ہو سکتا ہے  نہ ہی ناپسند۔
ایسے میں کسی کی ذرا سی غلطی یا کوتاہی کو اسکی عمر بھر کی نیکیوں یا اچھائیوں کا علم رکھے بغیر برا کہنا  انتہائی غلط ترین رویہ ہے۔
ہم انسان اپنے بڑے سے بڑے گناہ کو بھی غلطی کا نام دینے میں ماہر ہیں اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر دلیلیں دیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارا گناہ شائد نا قابلِ معافی ہے پھر بھی دلیلیوں سے دل و دماغ کو سکون پہنچانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔اور دوسروں کی معمولی غلطی یا کوتاہی یا انجانے میں ہوئی غلطی کو بھی اسکی تمام عمر کا گناہ قرار دے کر اسکی ذات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت واصف علی واصف ؒ کیا خوب فرماتے ہیں کہ”مجھے ان اندھوں پر ترس آتا ہے جنہیں اپنی غلطی نظر نہیں آتی”
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ “تم اپنی ہزار غلطیوں کے باوجود اپنے آپ سے محبت کرتے ہو لیکن دوسروں کی ایک غلطی کی وجہ سے ان سے نفرت کیوں کرنے لگ جاتے ہو یا تو خود غلطی کرنا چھوڑ دو یا دوسروں کو معاف کرنا سیکھ لو”۔

کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا عورت مارچ کے حوالے سے ایک تحریر  جو “علی اختر”  نے لکھی اور مکالمہ پہ شائع ہوئی جس میں خدا کی تخلیق کا مذاق اڑایا گیا عورت ذات کو نہایت حقارت سے پیش کیا گیا عورت کی تذلیل کی گئی ، اسکی مذمت میں بھی کرتی ہوں۔
مرحومہ بانو قدسیہ فرماتی ہیں کہ “اکثر اوقات سچ کڑوا نہیں ہوتا  سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتا ہے” ہم سچ بولنے کے ساتھ ساتھ دراصل دوسرے کو ذلیل کر رہے ہوتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ہماری ذلیل کرنے کی حرکت کو صرف سچ ہی سمجھا جائے ” لہذا لکھاری نے بھی کچھ ایسا ہی کیا انکا نکتہ  صحیح تھا مگر ذلیل کرنے کی حرکت  غلط تھی یا  یوں کہہ لیں کے انجانے میں ایسی حرکت ہو گئی۔
لکھاری لفظوں کا ماہر ہوتا ہے لفظ جادو گر ہوتے ہیں اثر رکھتے ہیں لفظوں کا استعمال انتہائی سمجھداری سے کیا جاتا ہے تاکہ انکا اثر مثبت ہو  ورنہ غلط الفاظوں کا استعمال  لکھاری کی مثبت سوچ  کو بھی   منفی ظاہر کرنے لگتا ہے نصیحت آمیز اور اصلاح کی تحاریر لکھنا خود میں ایک عبادت ہے لکھاری ایک عبادت میں مصروف رہتا ہے جس سے اصلاح ہو برائی کی نشاندہی ہو حق سامنے آئے جھوٹ منافقت سے پردہ ہٹایا جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں موجود کئی سوالات کے حوابات دیئے جائیں۔
بعض اوقات انجانے میں اپنی مہارت استعمال نہ کرتے ہوئے جلد بازی میں  لکھاری اپنی مثبت سوچ کو الفاظوں کے غلط اور بے جا استعمال سے برباد کردیتا ہے
کچھ ایسا ہی اس تحریر کے ساتھ بھی ہوا عورت مارچ اور بے ہودہ پلے کارڈ پر اخبارات میں ۔ٹی وی پر۔مختلف بلاگ میں  اور خاص کر “مکالمہ”میں بہت سی تحاریر شائع ہوئی میں نے خود پلے کارڈ پر تنقیدی تحریر لکھی ہر تحریر میں بہت کچھ کہا گیا بہت ملامت کی گئی  مگر “مکالمہ” کی اس ایک تحریر پر  ہنگامہ برپا ہو گیا۔

اس تحریر کو لکھنے والا صرف ایک شخص تھا ایک شخص غلطی کا پتلا ہو سکتا ہے مگر اس تحریر پر تنقید کرنے والے بے شمار لوگ تھے بے شمار دانشور فہم و فراست کے دعوے دار اور انسانیت کے اعلی درجہ پہ فائز وہ تمام لوگ اور وہ تمام دماغ تنقید کرتے ذاتیات عہدہ، رتبہ، تعلیم و تربیت ماں باپ اور آل اولاد کو نشانہ بنانے لگ گئے۔
ہم کس  طرح کے لوگ ہیں کس طرح کا دل و دماغ رکھتے ہیں کس قدر بیمار ذہن کے لوگ ہیں ہمیں نکتہ چینی کرنی آتی ہے ہمیں گالیاں دینی آتی ہیں ہمیں خود کو برتر ثابت کرنے کے لئے سامنے والے کو زیر کرنا آتا ہے ہمیں تنقید کرتے اخلاقیات کے دائرہ سے نکلتے وقت احساس نہیں ہوتا کہ  جس شخص پر الفاظوں کے نشتر چلائے جا  رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اپنی اس غلطی پر پہلے ہی شرمندہ ہو اور کسی ایک شخص کی نشاندہی سے بھی اسکی اصلاح ہو چکی ہو پھر تمام لوگ ذاتیات پر حملہ کرنا جاری رکھتے ہیں اور مزید بلاوجہ لعن طعن اس شخص کا خود سے اور معاشرے سے اعتبار ختم کر سکتی ہے ہو سکتا ہے کوئی شخص  ایک غلط بات یا ایک صحیح بات کو غلط الفاظوں میں غلطی سے پیش کر رہا ہے وہی شخص کبھی نہ کبھی اپنے الفاظوں سے کسی اندھیرے میں ڈوبتے انسان کے لئے مشعلِ راہ رہا ہو ،ہوسکتا ہے  یہی شخص کبھی  کچھ ایسا لکھ گیا ہو کہ خدا کی پاک ذات اسکو عزیز رکھتی ہو اور ایسے میں آپ کی زبان سے نکلی گالیاں یا بد دعائیں اس شخص کا نقصان کرے نہ کرے مگر آپ بذات خود گنہگار بن رہے ہوں اور اخلاقیات کے درجے سے گر رہے ہوں اور گناہ بھی ایسا کہ آپ کو احساس ہی نہ ہو کہ گناہ ہے اور جب احساس ہی نہیں تو آپ معافی بھی نہیں مانگیں گے اور  جس شخص کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ معافی مانگ چکا ہو یا معافی مانگ لے جیسا کہ علی اختر صاحب نے مانگ بھی لی، ایسے میں آپ ا ﷲ کے حضور کس مقام پہ کھڑے ہونگے ؟ کیا آپ کو احساسِ ندامت ہے؟ آپ اعلی ظرف رکھتے ہوئے اب انکو کہے گئے الفاظ پر شرمندہ ہو کر معافی مانگیں گے؟

واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ “ہمیں تحمل سے دوسرے کے  نکتہء نظر کو سننا چاہیے  اسکی خامی کی اصلاح کرنی چاہیے اس سے محبت کرنی چاہییے  کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اس سے نفرت نہیں کرنی چاہیے   اِسی طرح کسی کا عقیدہ بیمار ہو جائے تو اس کے لئے ززیادہ توجہ اور رحم کی ضرورت ہوتی ہے”۔
ہم بحیثیتِ مسلمان بھی اگر کسی کی غلطی پہ اصلاح کی بجائے اسکو  برا بھلا کہتے ہیں تو افسوس کہ  ہم پر چودہ سو سال پہلے جو تعلیمات  نازل ہوئی انکو آج بھی ہم سمجھنے عمل کرنے سے قاصر ہیں ۔
حضرت امام حسنؒ  اور حضرت امام حسینؒ نے دیکھا ایک بزرگ وضو کر رہے ہیں اور وضو کا طریقہء کار ذرا غلط ہے..
ابھى چاہتے تو سیدھا بھى کہہ سکتے تھے اماموں کے امام تھے لیکن۔۔۔
حضرت امام حسنؒ اور حضرت امام حسین نے کیا کِیا کہ بزرگ سے کہا کہ  یہ میرا بھائی کہتا ہے وضو ایسے کرتے ہیں میں کہتا ہوں اس طرح کرتے ہیں یہ کہتا ہے میرا طریقہ درست ہے میں کہتا ہوں کہ  میرا طریقہ درست ہے ہم دونوں وضو کرتے ہیں آپ ایسا کریں کہ  دیکھیں اور بتائیں کون وضوٹھیک کرتا ہے۔۔
آپ دونوں بھائیوں نے وضو کر لیے تو وه بزرگ بولے اے اماموں کے امام آپ دونوں کے وضو کرنے کا طریقہ درست ہے اور میرا طریقہ غلط۔

لہذا اس ایک تحریر پر نکتہ چینی کی بجائے اگر تنقید برائے اصلاح ہوتی اگر گالی گلوچ اور بد دعاؤں کی بجائے تمام ذہین فہم و فراست والے دلیلوں سے بات واضح کرتے اگر ذاتیات پہ بات کرنے کی بجائے تحریری مواد یا الفاظ کے چناؤ پر بحث کرتے تو شائد نہ صرف اس محترم لکھاری کی اصلاح ہوتی بلکہ ہم سب کو بھی سیکھنے کو ملتا۔
بات صرف اس لکھاری کی نہیں بات “مکالمہ” اور اسکی پوری ٹیم کی ہے انعام رانا کو بہت آرام سے انکے مرتبے، رتبے و تعلیم کا طعنہ دے کر  جاہل  کہہ دیا گیا۔
یہ سوچے سمجھے بغیر کہ  یہی لوگ  کچھ ایسی تحاریر بھی شائع کر چکے ہونگے انکے ہاتھ و نگاہ سے ایسی تحاریر بھی گزر چکی ہونگی جس سے کسی نہ کسی انسان نے اصلاح حاصل کی ،کسی نہ کسی نے راہنمائی لی کوئی ایسی تحریر جو ربِ کائنات کو بھی پسند آ گئی  ہو گی ایسے میں سوچے سمجھے بغیر سب کو ایک صف میں کھڑے کر  کے طعنہ دینا برا کہنا اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں دوسروں کی تذلیل کرتے رہنا انسان کو اخلاقیات کے درجے سے گرا دیتا ہے ایسے میں دوسرا انسان اپنی اصلاح کی بجائے ان طعنوں سے زچ ہو کر اپنی غلطی کوتاہی پر  قائم بھی رہ سکتا ہے۔

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے
(جون ایلیا)

اگر اردو ادب کی بات کی جائے اور کہا جائے  کہ ایسی تحریر شائع کیوں ہوئی یا کیوں لکھی گئی  تو شائد  پڑھنے والوں نے اردو ادب میں سعادت حسن منٹو  کو نہیں پڑھا ورنہ انہیں علم ہوتا کہ  یہ ایک تحریر بہت معمولی سی بات تھی منٹو صاحب کا لکھا ہوا اس تحریر سے زیادہ زہریلا اور  خطرناک ہے جسکے بارے میں  خود منٹو صاحب کہہ گئے ہیں کہ “میرے الفاظ گندے نہیں تمہاری سوچ گندی ہے میرے الفاظ صرف ننگے ہیں۔”
لہذا ہم جس بھی رتبہ جس بھی  مقام پر اور حیات کے جس بھی حصہ میں ہیں  ہم سب سیکھنے سیکھانے، پڑھنے پڑھانے کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں اور  آخری سانس  تک سیکھنے کا عمل جاری رہے گا ایسے میں  کوئی زیادہ سیکھ چکا کوئی کم  اور کوئی ابھی سمجھ ہی نہیں پایا کہ سیکھنا کیا ہے تو کسی کو علم ہی نہیں کے وہ سیکھ کر بھول چکاہے لہٰذا ہمیں ہمارے سخت رویے بدلنے ہونگے۔
نکلنا خُلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
(مرزا غالب)

سو ہمیں  نقطہ چینی کی بجائے تنقید برائے اصلاح کرنی چاہئے ہمیں  لوگوں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے تا کہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا ہوں۔
“عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی, جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
(اقبال)

ہم پر تنقید کی جا سکتی ہے ہم پر ہنسا جا سکتا ہے ہمارا مذاق اڑیا جاسکتا ہے ہمیں مسترد کیا جاسکتا ہے ڈرایا جاسکتا ہے لیکن اگر ہم غلطی کو مان کر ہر قدم پر اپنی اور دوسروں کی  اصلاح کی کوشش جاری رکھیں تو ہمیں اور دوسروں کو  کامیاب ہونے سے اور اس معاشرے کو اخلاقی لحاظ سے بہتر ہونے سے کوئی دنیاوی طاقت نہیں روک سکتی۔

نکتہ چینی اور تنقید برائے اصلاح صرف اس ایک موضوع کے لئے نہیں بلکہ عام زندگی میں ہر پہلو پر ان  باتوں پر عمل کرنا چاہئے اور کسی کی دل آزاری سے بچنا چاہئے۔
علامہ اقبال کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتی ہوں
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
اقبال

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *