• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بلوچستان میں نشے کے استعمال کے حوالے سے چشم کشا حقائق۔۔۔۔دوستین نور بکش

بلوچستان میں نشے کے استعمال کے حوالے سے چشم کشا حقائق۔۔۔۔دوستین نور بکش

کافی عرصے سے ہمیں سوشل میڈیا میں بلوچستان کے بارے میں سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے کہ بلوچستان میں بہت زیادہ منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔ بلوچ نوجوان نسل اپنے رنگین مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر رہے ہیں۔ جب بھی ہم ایک سے زائد منزل کے گھر کی تعمیر کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہر شخص کے ذہن میں یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ گھر کی بنیاد مضبوط ہونی چاہیے، پھر چاہے اوپر منزل جتنی اونچی تعمیر کروانی ہو، باآسانی تعمیر کروا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہمیں اپنے ملک کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار کرنا ہے تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو ایک اچھے مستقبل کا خواب دکھانا ہو گا اور ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ہوگا۔ اس طرح نوجوان نسل ایک اچھے مستقبل کے خواب کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کا مستقبل بھی سنوار دے گی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا ملک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوگا۔

مگر ایسا تب ہوگا جب ہم سب اپنے ملک میں منشیات کے غلط استعمال سے گریز کریں گے نہ کہ نشہ کے طور پر منشیات کا استعمال کریں گے۔ کسی دانشور نے کیا خوب فر مایا،” اگر تم کسی قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہو تو اس کے نوجوانوں نسل کو نشہ کی لت لگا دو”۔ اقوام متحدہ کے آفس فار ڈرگز اینڈ کرائمز (UNODC) کے مطابق پاکستان میں غیرقانونی منشیات کے استعمال میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کا تذویراتی محلِ وقوع ہے کیوں کہ یہ منشیات کی سمگلنگ کے حوالے سے دنیا کی مصروف ترین راہ گزر ہے جس کی ایک بڑی وجہ پڑوسی ملک افغانستان میں افیون کے پودوں اور حشیش کی کاشت ہے۔

بلوچستان کے دو ممالک ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد متصل ہے۔ یواین او ڈی سی کے پاکستان میں نمائندے سیزر گیڈیش (Guedes Cesar) نے نیوزلینز سے بات کرتے ہوئے کہا:’’ افغانستان تقریباً دنیا بھر کی 90 فیصد پوست کاشت کرتا ہے جو کہ خام ہیروئن ہے اور بلوچستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے روٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔‘‘

یو این او ڈی سی کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی تقریبا 40 فیصد ہیروئن اور حشیش کی سمگلنگ کے لیے پاکستان کا راستہ استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ’’ اگرچہ برآمد کرنے کے لیے قابلِ ذکر افیون پیدا ہوئی لیکن یہ بلوچستان میں بھی استعمال میں آئی۔ ‘‘سیز رگیڈیش کہتے ہیں: ’’دنیا بھر میں کاشت ہونے والی پوست کے 90 فیصد کھیت افغانستان میں ہیں اور پاکستان ایک جنگ زدہ ملک کا پڑوسی ہونے کے باعث اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پاکستان ہیروئن کی فروخت کے لیے کوئی موزوں مقام نہیں ہے لیکن خام ہیروئن کی ایک بڑی مقدار مختلف وجوہات کی بنا پر بلوچستان میں رہ جاتی ہے جس کے باعث منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

یواین او ڈی سی نے حال ہی میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے صوبائی سطح پر پہلی رپورٹ جاری کی جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 15سے 64 برس تک کی عمر کے تقریباً 6.7 ملین افراد منشیات استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ 12ماہ کے دوران ملک کی چھ فیصد آبادی نے منشیات کا استعمال کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریباً 8 لاکھ 60 ہزار افراد یا آبادی کا 0.8 فی صد حصہ مستقل طور پر ہیروئن اور 3 لاکھ 20 ہزار افراد (آبادی کا 0.3فی صد) افیون کے نشے کا عادی ہے۔

افیون کے عادی افراد کی سب سے زیادہ شرح بلوچستان میں ہے جہاں پر آبادی کا 1.6فیصد حصہ ہیروئن ، افیون یا دونوں نشے کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق: ’’ تحقیق کے لیے منتخب کیے گئے منشیات کے عادی افراد کی اکثریت 25 سے 39 برس کے درمیان ہے۔ حشیش 30 سے 34 برس اور ہیروئن کا نشہ 35 سے 39 برس تک کی عمر کے افراد زیادہ کرتے ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق خواتین کی نسبت مرد منشیات کی زیادہ اقسام استعمال کرتے ہیں۔ یہ امکان زیادہ ہے کہ خواتین سکون آور ادویات کے علاوہ ایمفیٹامائین کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ نشہ کے عادی افراد کے علاج کے ضمن میں مردوں کی نسبت خواتین کی بحالی کا امکان زیادہ نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 15سے 64 برس تک کی عمر کے افراد منشیات کی زائد مقدار لیتے ہیں یا اس طریقے سے استعمال کرتے ہیں جو ان کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے جس کے انتہائی مضر اثرات برآمد ہوتے ہیں: ’’ اگرچہ 4.25 ملین افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نشے کے بغیر نہیں رہ سکتے، دوسری جانب علاج اور ماہرانہ رہنمائی کے مواقع محدود پیمانے پر دستیاب ہیں جو سالانہ منشیات استعمال کرنے کے عادی 30 ہزار افراد سے بھی کم کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔‘ اگر منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کوئی علاج دستیاب ہے تو وہ بلامعاوضہ نہیں ہے جس کے اخراجات وہ لوگ برداشت نہیں کرسکتے جنہیں مدد درکار ہوتی ہے۔ ’’ ایک ایسا ملک جہاں ایک چوتھائی آبادی روزانہ 1.25 ڈالرز سے بھی کم پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہے، یہ رکاوٹیں مربوط علاج تک رسائی کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیتی ہیں۔ ‘‘یو این او ایف پی کے سربراہ نے کہا کہ افغانستان ایک مستحکم ملک نہیں ہے جس کے باعث پاکستان سرحد پار سے ہونے والی منشیات کی تجارت سے متاثر ہوتا ہے۔

بلوچستان کے شہروں اور گاؤں دونوں جگہ منشیات حد سے زیادہ فروخت اور استعمال ہو رہی ہے۔ اس کو خریدنے والے افراد نوجوان نسل ہے جو نشہ کی لت میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔ .بلوچستان کے نوجوان خود ہی اپنی زندگیوں کو اندھیرے کی طرف دھکیلتے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں 18 سے 35 سال کے نوجوان منشیات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے مکران ڈویژن (بلیدہ، رودبن ) میں منشیات کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ پہلے نشہ اتنا عام نہیں تھا مگر اب نشہ لوگوں کے لیے ایک ضرورت بن گئی ہے۔ اب نہ صرف شراب کا استعمال زیادہ ہوتا ہے بلکہ ہیروئن، چرس، افیون، بھنگ کے علاوہ کیمیائی منشیات جیسے صمد بانڈ، شیشہ، نشہ آور ٹیکے اور سکون بخش ادویات جیسی خطرناک منشیات کا استعمال سرعام ہو رہا ہے۔ منشیات فروخت کرنے والے افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا مگر اس کو خریدنے والے افراد موت کو خود اپنے گلے لگاتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع کیچ میں منشیات کا استعمال 70 فیصد ہو رہا ہے۔ یاد رہے جس قوم کے نوجوان نشے کے عادی ہو جائیں، اس قوم کو اپنی پہچان کھونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ جس قوم کی نوجوان نسل تعلیم حاصل نہیں کرے گی تو وہ قوم کبھی ترقی یافتہ اقوام میں شمار نہیں ہوگی۔ ترقی یافتہ اقوام میں شمار ہونے کے لیے کسی بھی قوم کی نوجوان نسل کا تعلیم یافتہ ہونا لازمی ہے۔ وگرنہ قوم تاریکیوں میں ڈوب جائے گی۔

ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے خود کو تباہی سے بچانے کا۔ اگر ہم اپنی مدد آپ کے تحت نہیں کریں گے تو کوئی بھی ہماری مدد کو آگے قدم نہیں بڑھے گا لہٰذا ہمیں اپنی موجودہ صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے منشیات کے منفی استعمال کو اپنے ملک سے ختم کرنا ہوگا۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *