• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پرانے پاکستان اور نئے پاکستان کی صحافت پر ایک نظر ۔۔۔۔ غیورشاہ ترمذی

پرانے پاکستان اور نئے پاکستان کی صحافت پر ایک نظر ۔۔۔۔ غیورشاہ ترمذی

1980ء کی دہائی سے اب تک صحافت میں بہت تبدیلیاں ہو چکی ہیں- اس عشرہ کے وسط میں جب راقم نے کالج جانا شروع کیا تو اخبارات سے ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ  آج تک اخبار پڑھنے کے نشے  سے چھٹکارا نہ مل سکا- 1990ء کے عشرہ کے وسط میں کچھ ایک دو سالوں کے لئے اخبارات میں نوکری کرنے کا بھی موقع ملا مگر الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے کافی سال پہلے بسلسلہ ملازمت بیرون ملک روانگی سے کاغذ پر چھپے اخبارات کے نشہ کی جگہ انٹرنیٹ ایڈیشن کے نشے نے لے لی- غرضیکہ کم و بیش پچھلے 35 سالوں کے دوران صحافت سے تعلق کا سلسلہ جاری و  ساری ہے-

ان سالوں کے بعد آج جب اپنے یہاں کے شعبہ صحافت پر نظر ڈالوں تو مایوسی ہوتی ہے کہ نہ صرف کوالٹی اور درست سمت کے تعین میں بلکہ ان اخلاقی اقدار کے احیاء میں بھی جو کبھی اس پیشہ کا خاصہ تھیں, ہمارے بیشتر صحافی اب کوئی دلچسپی نہیں رکھتے- اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز میں ہوش ربا اضافہ نے صحافت بالخصوص رپورٹنگ  کے معیار کو شدید متاثر کیا ہے- زیادہ تر صحافی اس کوشش میں مصروف نظر  آتے ہیں کہ کسی طرح ان کی خبر ایسے کلک کر جائے کہ ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے یا کسی ایسے ادارہ سے جڑ جائے جو اس کے لئے مفادات نچھاور کرتا رہے- یہ صاف نظر آتا ہے کہ ایڈیٹر کی بالادست حیثیت کو کمرشل ازم اور مخصوص مفادات کے لئے بہت محدود کر دیا گیا ہے- یہ بات نہایت تکلیف دہ ہے کہ صحافیوں کی اکثریت مالکان کی خوشنودی اور اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بننے کے لئے اپنے پیشے سے شدید بےانصافی کر رہی ہے-

یہ رویہ صحافت کی اصل روح سے شدید متصادم ہے- صحافت ہمارے یہاں ریاست کے پانچویں ستون کی طرح معاشرہ میں موجود رہی ہے۔ صحافیوں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت گرانے یا چلانے کا سلسلہ تو جنرل ایوب خان کے زمانے سے جاری ہے لیکن جنرل ضیاء اور میاں نواز شریف نے اسے باقاعدہ اور منظم طریقے سے استعمال کیا۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں صحافیوں کی تنظیموں کے ٹکڑے کئے گئے اور پھر انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ نواز شریف کے دور میں صحافیوں اور تنظیموں کو باقاعدہ خریدا گیا اور پھر یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس کے باوجود بھی صحافت نے اپنا تقدس قائم رکھا تھا۔ جنرل مشرف کی طرف سے صحافت کو ملنے والی آزادی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ عشروں پر محیط حکومتی جبر کے بعد ملنے والی اس آزادی کا صحیح استعمال کیا جائے گا اور قوم تک سچ پہنچایا جائے گا- مالکان کی طرف سے ایسا کوئی دباؤ نہیں ہو گا کہ سیاسی صورتحال اور اس طرح کے دیگر معاملات پر صحافی بےلاگ تبصرے کرنے یا واقعات کی حقیقی رپورٹنگ نہ کر سکیں- اس صحافتی آزادی کے بعد میڈیا پروفیشنلز کی ایسی تربیت ہونی ضروری تھی کہ انہیں اپنے پیشے کی اخلاقی حدود و قیود کا احساس ہو جاتا, کوئی صحافی اپنی خبر کو کوئی خاص سمت دینے کے لئے کسی حکومتی, اپوزیشن یا دوسری شخصیات پر ذاتی حملے نہ کرتا- لفافہ جرنلزم کا بھی سوال نہ اٹھتا اور مفادات کے حصول کے لئے مخصوص طرز کی صحافت نہ کی جاتی- مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے اکثریتی چینلز, اخبارات اور جرائد خاندانی جائیداد اور کاروبار کی طرح چلائے جا رہے ہیں- مالکان یا تو خود ہی ایڈیٹرز بنے ہوئے ہیں یا اپنے کاسہ لیس صحافیوں میں سے کسی کو انہوں نے نمائش کے لئے ایڈیٹر بنایا ہوا ہے- کچھ بڑے میڈیا گروپوں نے تو اپنے خاندان میں ہی سارے نیوز گروپ کی اہم ذمہ داریاں بانٹی ہوئی ہیں-

ہمارے ملک کے بڑے میڈیا گروپوں نے اخبار نویسی کی عشروں پرانی روایات کو تبدیل کرتے ہوئے ایسے پیشہ ور ایڈیٹرز اور چیف ایگزیکٹو انتظامیہ میں شامل کر دئیے ہیں جو صحافت کی روح کو سمجھنے سے تو نابلد ہیں مگر اپنے ادارہ کے لئے بزنس لانے کے فن میں ماہر ہیں- ایسا کرنے سے اخبارات اور میڈیا چینلز پیسہ تو کما رہے ہیں مگر وہ صحافت کو پیشہ کی بجائے انڈسٹری میں تبدیل کر چکے ہیں- یہ سچ ہے کہ ان نئے آنے والے بزنس گریجوایٹس نے میڈیا گروپوں کی آمدنی کو 10 گنا سے بھی زیادہ بڑھا دیا ہے مگر اس عمل کے دوران صحافتی اصول و ضوابط بہت پیچھے رہ چکے ہیں- اس وقت میڈیا گروپوں میں کچھ ایسے لوگ بھی فیصلہ کن پوزیشنوں پر براجمان ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے نمائندگان ہیں- میڈیا گروپوں پر اثر انداز ہونے کے لئے یا تو انہوں نے ان کے شئیرز خریدے ہوئے ہیں یا انہیں اپنی پارٹی کی عوامی مقبولیت اور سوشل میڈیا پاور کے ذریعہ دبایا ہوا ہے- ایسا ہو جانے کی اجازت دینے کے پیچھے مالکان کی صرف ایک ہی غرض ہے اور وہ ہے منافع- کئی مالکان اور ورکنگ جرنلسٹس پوری طرح واقف ہوتے ہیں کہ کسی صحافی کی مخصوص خبروں کے پیچھے کیا راز ہے مگر وہ چپ سادھے رکھتے ہیں- اگر ان میں سے کوئی صحافی بولنے کی کوشش کرے تو اسے مخصوص پیغام پہنچا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی نوکری بچائے اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہے-

تین, چار عشروں پہلے بزنس اور اشتہارات کا سیکشن, ایڈیٹوریل سیکشن سے ذرا دور ہی رہتا تھا کیونکہ انہیں صاف پتہ ہوتا تھا کہ انہیں وہاں خوش آمدید نہیں کہا جاتا- حتی کہ اشتہارات کی طرف سے اگر کوئی پریس ریلیز بھی آتی تو ایڈیٹوریل والے اسے بغیر پڑھے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے- اشتہارات والے کہتے رہ جاتے کہ کاروبار بھی بہت ضروری ہے مگر ایڈیٹوریل والوں نے کبھی توجہ نہیں دی- آج کل اخبارات میں ایک نئی اصطلاح متعارف ہوئی ہے کہ ان میں کوئی باقاعدہ ایڈیٹر ہی نہیں ہے- اس کی جگہ انہوں نے چیف ایگزیکٹو کی اصطلاح متعارف کروائی ہے یعنی یہ میڈیا ہاؤس نہیں بلکہ کوئی انڈسٹری ہے- سنا ہے وہ اخباری کالمز فروخت کرتے ہیں- یہ لفافہ جرنلزم کی زندہ مثال ہے کہ کوئی بھی چاہے وہ پیسہ دے اور اپنا کالم چھپوا لے چاہے وہ جیسا بھی لکھا ہو اور کسی بھی مقصد کے لئے لکھا گیا ہو-

انڈین صحافت کے برعکس پاکستان میں معاملہ مختلف ہے- انڈیا میں وہاں کی خفیہ ایجینسی راء مخصوص میڈیا گروپوں میں شئیرز خریدتی ہے اور پھر وہ اپنی مرضی سے اس گروپ کی پالیسی ترتیب دیتی ہے- شئیرز خریدنے کے علاوہ راء وہاں کے صحافیوں کو بھی مراعات, کیرئیر اور دوسری ترغیبات سے اپنے اشاروں پر نچاتی ہے- ہمارے یہاں میڈیا گروپوں کو اشتہارات کے کوٹہ میں کمی بیشی کرکے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- اس کے علاوہ ایآسے صحافی تیار کئے جاتے ہیں جن کو کچھ خبریں دے کر ان سے اپنی مرضی کی زاویہ نگاری کروا لی جائے- آزاد میڈیا گروپس میں صورتحال بہت عجیب ہے کہ جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے صحافیوں کو گھیرنے اور تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی, اس نے ہمارے یہاں کے کچھ میڈیا گروپ مالکان کو حیران کر دیا- وہ سمجھتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں وہ زیادہ اہم ہیں اس لئے جو بھی سیٹنگ ہو گی وہ ان کے ذریعہ ہو گی مگر جب اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست ایسے صحافیوں سے معاملہ فہمی کر لی جنہیں قارئین کی زیادہ تعداد پڑھتی ہے تو مالکان کو یوں محسوس ہونے لگا کہ شاید ان کی وہ اہمیت ہی نہیں ہے- مالکان تو خود اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر چلنے کو تیار رہتے تھے تاکہ اشتہارات میں کمی بیشی کا سلسلہ ان کے مفادات کے تحت چلتا رہے مگر اسٹیبلشمنٹ نے عوامی رائے پر اثرانداز کر سکنے والے صحافیوں سے سیٹنگ کر لی- اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئےمالکان نے ایک نیا نظام وضع  کیا کہ وہ صحافیوں کو تنخواہوں کی ادائیگی میں پریشان کرنے لگے جس کے لئے ان کے پاس جواز یہ ہوتا کہ حکومت نے ان کے اشتہارات میں کمی کر دی ہے یا ان کے اشتہارات کی ادائیگی میں شدید تاخیر ہے, اس لئے وہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں- بعض اداروں نے بیک جنبش قلم صحافیوں کو نوکری سے نکالنا شروع کر دیا اور اسے ڈاؤن سائزنگ کا نام دیا گیا- یہ وطیرے منظور شدہ ورکنگ جرنلسٹس ایکٹ کی کھلی حلاف ورزی ہیں جو صحافیوں کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی اور نوکری کا تحفظ فراہم کرتا ہے-

یہ حقیقت ہے کہ بہت سے صحافی بہتر آمدنی کے لئے ایک میڈیا گروپ سے دوسرے میڈیا گروپ میں چلے جاتے ہیں مگر معدودے چند ہوں گے جنہوں نے اصولی مؤقف پر اپنے ادارہ سے استعفی دیا ہو۔ کبھی وقت تھا کہ صحافی غلامی کرنےکی بجائے استعفی دینے کو ترجیح دیا کرتے تھے اگرچہ یہ شعبہ ملازمت کی عدم دستیابی یا نہایت کم یابی کے لئے بھی بہت بدنام رہا کرتا تھا۔ اب مگر صورتحال بدل چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صحافیوں نے اس معاملہ پر سمجھوتہ کرلیا ہے کہ وہ مالکان کے رحم و کرم پر ہیں۔ جنرل (ر) مشرف کے دور اقتدار میں لگنے والی ایمرجنسی کے خلاف صحافیوں نے البتہ خوب جنگ لڑی اور پابندیوں کو مسترد کر دیا۔ یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا کہ تمام صحافی حکومت کے اس قدم کے خلاف متحد ہو گئے تھے جس کا مقصد اُن کی آواز کو دبانا تھا۔ احتجاج نے وقتی طور پر آزادئ اظہار رائے کے پرانے جذبے کو زندہ کر دیا تھا۔ لگتا تھا کہ تمام صحافیوں نے پکا معاہدہ کر لیا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کے خلاف اٹھائے کسی بھی اقدام کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔ اس وقتی ابال کے بعد پھر حالات تبدیل ہو گئے اور اب پھر میڈیا ویسی ہی پابندیوں کا شکار ہونے کی طرف چل پڑا ہے جو جنرل ضیاء دور میں پاکستانی پرنٹ میڈیا پر مسلط تھیں۔ صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جو طریقہء ہائے کار بنائے جا رہے ہیں اُن کی اکثریت کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے دکھائی دیتا یے مگر کوئی شخص اس مسئلہ پر آواز اٹھانے والا نظر نہیں آتا۔ سب سے زیادہ بڑا مسئلہ کو آپریٹو سیکٹر سے ہے جو اس بات کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے کہ کون اور کیسا کالم لکھا جائے گا یا کیسی ڈاکومنٹری بنے گی اور چلائی جائے گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج خبر اشتہار کی پشت پر لکھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافی بھی مختلف لابیوں کاحصّہ بن چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے کوئی کسی سیاسی جماعت سے منسلک نظر آتا ہے تو دوسرا کسی خفیہ ادارہ کے پےرول پر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ان لابیوں میں مختلف سرمایہ داروں جیسے ملک ریاض، میاں منشاء اور دوسرے کئی صنعتکار بھی شامل ہیں۔

کوآپریٹو سیکٹر نہ صرف چھوٹے بلکہ بڑے اخبارات کو بھی مختلف معاشی معاملات پر ڈکٹیٹ کرواتا ہے کہ انہیں اس معاملہ پر کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا۔ ٹیلی ویژن اینکرز کو بھی مکمل ہدایات ملتی ہیں کہ شو میں کیابات کرنی ہے اور کیا نہیں۔ کوآپریٹو سیکٹر کے درمیان مقابلہ بازی بھی میڈیا کو متاثر کرتی ہے۔ کوئی اپنی حمایت میں بات کروانا چاہتا ہے تو کوئی اپنے مخالفین کی کمزوریوں پر میڈیا مہم کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ کے مشہور صحافی لارڈ ناتھ کلف کا کہنا ہے کہ ’’خبر وہ ہے جسے کوئی چھپانا چاہتا ہے، بقیہ تو سب اشتہار ہیں‘‘۔

کوآپریٹو اور شئیر سیکٹرز میں بیرونی کھلاڑی بھی شامل ہوتے ہیں جو بالآخر صحافت میں مداخلت شروع کر دیتے ہیں۔ ایک دو میڈیا گروپ ایسے بھی ہیں جن میں ایک خفیہ ادارہ کی سرمایہ کاری کی خبریں آ رہی ہیں۔ یہ رجحان بہت خطرناک ثابت ہو گا اور ایسا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے ہمارے میڈیا گروپوں کا حشر بھی جھاگ اڑاتے انڈین میڈیا ہاؤسز کی طرح ہو جائے جو ہر وقت حکومتی اور انڈین فوج کے اشارہ پر ناچتے ہیں، انہیں خصوصاًًً  پاکستان کے خلاف بات کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ سرمایہ دار کے لئے صحافت کے قواعد و ضوابط، تہذیب و ثقافت کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ انہیں صرف اس بات میں غرض ہوتی ہے کہ میڈیا اُن کی پراڈکٹ اور ان کےمقاصد کا باڈی گارڈ بنے چاہے اس کے لئے اخلاق و کردار اور تہذیب و ثقافت کی دھجیاں بکھیرنی پڑیں۔

صحافت کی آزادی بھی آزادئ اظہار رائے ہی کی طرح کا اخلاقی تصور ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کا غیر ذمہ دارانہ اور بغیر کسی واضح سوچ والا رویہ ان کے مضامین اور ان کے ڈراموں، ٹیبلوز، ٹاک شوز وغیرہ کی کہانیوں اور ان کے موضوعات سے چھلکتا ہے۔ رپورٹرز، اینکرز بغیر کسی تصدیق کے یک طرفہ مؤقف پر مبنی کہانیاں، نتائج کی پرواہ کئے بغیر بھیج دیتے ہیں۔ اکثر اوقات اہم خبروں کا موزوں فالواپ نہیں ہوتا اور غیر اہم باتیں کور سٹوری یا مین لیڈ بن جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ خبروں میں حقائق کے منافی باتیں بھی ہوتی ہیں جو یقیناًًً کسی کے کہنے پر ہی شامل کی جاتی ہیں ورنہ صحافی اتنا بےخبر نہیں ہوتا کہ اسے صحیح اور غلط خبر کا پتہ ہی نہ چلے۔

ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم کی طرف سے نامور صحافیوں کو وقتاًًً فوقتاًًً بھاری رقوم اور ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ اور گھر دئیے جانے کے انکشافات کے بعد ایک دو صحافی عدالت میں گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے صحافیوں کو منظر عام پر لایا جائے اور ہاؤسنگ سکیم کی طرف سے دئئے جانے والے ’تحفوں‘ کے بارے تحقیقات کی جائیں۔ کچھ دن یہ شور شرابا مچا مگر اس کے بعد یہ جھاگ کی طرح ایسا بیٹھا کہ پھر کسی نے اس پر بات کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ انسداد کرپشن سے متعلق ایک کمیٹی نے اس پر ایک رپورٹ ترتیب دے لی ہے جس میں اس معاملہ پر ایسے نتیجہ دیا گیا ہے کہ:ـ
’’حالیہ برسوں میں پاکستانی میڈیا میں کرپشن نے جڑیں جما لی ہیں۔ انفرادی صحافیوں اور مخصوص میڈیا گروپس کی کرپشن کے ذریعہ مخصوص لوگوں سے رقم یا دیگر مفادات کے بدلہ ان کے نقطہء نظرکے مطابق خبریں دی جاتی ہیں۔ خاص طور پر ایک ادارہ کی حمایت یافتہ سیاسی جماعت اور مخصوص صنعتی اداروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر خاص افراد کی ہدایت کے تحت خبریں شائع اور نشر کی جاتی ہیں۔ صنعتی گروپوں، ایک ادارہ کے افسران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور الیکشن کے امیدواروں سے معاملات طے کر کے ان کے حق میں رائے ہموار کی جاتی ہے‘‘۔

خبر کو ہمیشہ غیر جانبدار، منصفانہ اور ایماندارانہ ہونا چاہئیے مگر ہوتا یہ ہے کہ سرکاری محکموں، اشخاص یا صنعتی گروپوں سے اشتہارات یا دیگر صورت میں معاملات طے کر کے خبر کو تبدیل کر دیا جاتا ہے جبکہ خاص سیاستدان کو ادارتی صفحات فروخت کرتے یا کسی خبر کو گھٹا یا بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح قاری یا ناظر کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ اشتہار کون سا ہے اور نیوز رپورٹ کون سی ہے۔

بدعنوانی صرف سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور صنعتی گروپوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میڈیا نے بھی تو اپنے چہرے پر سیاہی ملی ہوئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ رپورٹرز اور نمائندگان اپنی خبر کو خاص مفاد کے لئے تبدیل کر دیتے ہیں۔ مدیروں کے معاملات میں بہت زیادہ شفافیت ہونی چاہئے۔ اُن کے معاملہ میں ایمانداری بہت اہم ہے مگر اس کے ساتھ ہی اخبار اور چینل چلانے کے لئے یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اخبار میں چھپا ہوا ہر لفظ اور نیوز شوز میں بولا گیا ہر لفظ قاری اور ناظر کے لئے اکثر و بیشتر متبرک سچ کا مقام رکھتا ہے اور اپنے مباحثوں اور مکالموں میں خبروں کے حوالے دے کر اپنی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ایسا یقین رکھنے والے لوگوں کو سچ کی بجائے زہرآلود سچ یا جھوٹ بیان کیا جائے گا تو سوچیں صحافی کتنا ظلم کما رہے ہوں گے۔ راقم ایسے کئی صحافیوں کو جانتا ہے جو صاحب اقتدار طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے حقائق کو توڑموڑ کر ہیش کرتے ہیں اور طاقت کا توازن تبدیل ہوتے ہی یو ٹرن لے لیتے ہیں۔ میں نے ایسے ہی ایک صحافی سے بات کی جو ایک مشہور روزنامہ میں پارلیمنٹ کی ڈائری لکھنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہمارے وزیر اعظم صاحب کئی بیانات اور وعدوں پر یو ٹرن لے سکتے ہیں تو ان کے اپنے مؤقف اور اپنی ہمدردیوں میں لئے جانے والے یوٹرن پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئیے۔ ویسے بھی مختلف سیاسی جماعتیں جب حکومت میں آتی ہیں تو وہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے اشتہارات کا ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی آمدنی کا بڑا حصّہ ان اشتہارات سے ہونے والی آمدنی پر چلتا ہے۔ اس لئے جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو میڈیا مالکان اپنی ہمدردیاں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جب اتنے بڑے ادارے اپنی پالیسی تبدیل کر لیتے ہیں تو ان جیسے عام صحافی پر ہمدردیاں تبدیل کر لینے پر اعتراض کیسا‘‘۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئیے کہ وہ ایسا کوئی خودمختار ادارہ بنائے جو اشتہارات کی تقسیم کار کا کوئی فارمولہ اخذ کرے اور میڈیا ہاؤسز میں اشتہارات کی تقسیم کا نظام تشکیل دے۔ یہ ویسے بھی عوام کے خون پسینہ کی کمائی ہے، اس لئے اس کے خرچ کا طریقہ کار وزیر اطلاعات کی پسند و ناپسند کے زیراثر نہیں بلکہ میرٹ پر ہونا چاہئیے تاکہ کوئی کسی کا زیراحسان نہ رہ سکے اور میڈیا کے ذریعہ صرف سچ کی ہی ترویج ہو سکے۔ سچ بولنا ویسے بھی آپ کے عوام کی طرف رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر میڈیا ہاؤسز عوام دوست ہیں اور آپ حقیقت میں عوام کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ آپ میں واقعی ایسا حوصلہ ہے کہ اُن کی باتیں سن سکیں تو لوگ آپ پر یقین کرنا شروع کر دیں گے۔

سب جانتے ہیں کہ آزادانہ اور غیر جانبداری سے کام کرتے وقت صحافیوں کو گورنمنٹ اور مالکان کی ناراضگی کا خطرہ اٹھانا پڑتا ہے- مالکان کے پاس وہ طاقت ہوتی ہے جس سے وہ صحافیوں کو پریشرائز کر سکتے ہیں اور ہدایات نہ ماننے والے صحافیوں کو برخاست بھی کر سکتے ہیں جبکہ حکومت مالکان کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ صحافیوں کو تنگ کریں تاکہ انہیں ہدایات پر چلنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اداروں کی پالیسیاں بھی صحافیوں پر حملوں کی ایک وجہ بنتی ہیں۔ اگر کسی ادارے کا جھکاؤ کسی سیاسی گروہ یا کسی ایک غیر ریاستی ادارے کی جانب نہیں ہے تو اس کے ورکرز بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 10 برس میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے 100 سے زائد صحافیوں اور میڈیا ملازمین میں سے اب تک صرف 3 کے مقدمات میں قاتلوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف عدم کارروائی پر انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کی جاتی۔ سینئیر صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب تک صحافیوں پر حملوں میں ملوث ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کو بے نقاب کر کے سزا نہیں دی جائے گی، انھیں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مگر ان تمام خدشات اور خطرات کے باوجود ملک کی جامعات میں صحافت کے طالب علم اسی شعبے سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔

خبروں کے حصول میں پائی جانے والی رکاوٹوں کی وجہ سے صورتحال پر مایوسی ظاہر کرنا درست رویہ نہیں ہے۔ پاکستان میں اس کام کی ابتداء پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں آئین میں ترمیم کے ذریعہ ہو چکی ہے۔ فی الحال آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت صرف آزادی اظہار رائے کو بنیادی انسانی حقوق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی سے متعلق مکمل اور جامع قانون سازی خیبر پختونخوا اسمبلی نے شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قانون کی شکل میں 13 اکتوبر2013ء کو کی جو جنرل مشرف دور وفاقی حکومت 2002ء کے قانون کی شکل میں اتنی جامع اور مکمل نہیں تھی جبکہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے 12دسمبر 2013ء کو سرکاری دستاویزات تک رسائی کا قانون منظور کیا جسے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے پورے ملک میں رائج کر دیا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری دستاویزات جیسے ریکارڈ، میمو، معاہدہ، نقشہ، سرکلر، اکاؤنٹینسی، پریس ریلیز، رپورٹ، کتابچے، الیکٹرانک معلومات ای میلز، رپورٹ کسی بھی دستاویز کی سی ڈی، آڈیو ویڈیو سرکاری ریکارڈنگ، اعلانات، تصاویر، نیوز کٹنگ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک عوامی ادارہ معلومات کی ایسی درخواست رد کر سکتا ہے جن کے قبل از وقت افشاء کے نتیجے میں معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ سیکشن 18 کے تحت ایک عوامی ادارہ ایسی معلومات فراہم کر نے کیلئے درخواست رد کر سکتا ہے جس کے افشاء کر نے سے ایک عوامی ادارے میں آزادانہ مشاورت یا تبادلہ خیال کے ذریعے پالیسی مرتب کرنے کے عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس طرح سیکشن 19 کے تحت ادارہ ایسی درخواست کو مسترد کر سکتا ہے جس سے کسی کی ذات کے بارے میں اطلاع لینی ہو۔ ابھی یہ محدود ہے مگر اب یہ تمام صحافی برادری کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ اس قانون کو بڑھاوا دیں اور درست معلومات لے کر عوام تک سچ اور زمینی حقائق پہنچانے کے فریضہ میں اپنا کردار ادا کریں۔

تکلیف دہ صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب صحافی اپنے کیرئیر کو بڑھانے کے چکر میں سمجھوتے کر لیتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اصولوں کو توڑ کر اطاعت گزاری کبھی بھی کامیابی کا مترادف نہیں ہو سکتی۔ اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہو تو صلاحیت سے بھی زیادہ عزم اور حوصلہ مدد دیتا ہے۔ صحافت کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی کامیاب خواتین و حضرات کی زندگی دیکھیں تو ان میں سے اکثریت اسی عزم و حوصلہ والے قبیلہ سے تعلق رکھنے والی تھی۔ نہ وہ کسی کے راستہ پر چلے اور نہ انہوں نے اپنے راستہ کو چھوڑا۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے کسی مشکل کو اپنے لئے مسئلہ نہیں بننے دیا۔ اکثر اوقات انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی اور جب بھی انہیں کوئی بات کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے صرف بامقصد گفتگو ہی کی۔ کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے محفوظ رہ کر کھیلا مگر کسی بھی پیمانے پر پرکھیں تو یہ ثابت ہوگا کہ انہوں نے کامیاب زندگ گزاری اور کامیابیوں کی اونچائیوں کو چھوا۔

آج کل کے صحافی 4 عشروں پرانی اخلاقی و صحافتی اقدار جیسی کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں، اس کے بارے کچھ کہنا مشکل ہے مگر عام خیال یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پر اپنے بارے میں بہت سوچتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہر وقت اخلاقیات اور اصولوں کے بارے میں بات کرتے ہیں مگر اپنے لئے اُن کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کا مادی انعام کیا ہوگا۔ تبدیلی یقینا’’ قانون فطرت ہے اور تبدیلی کے بغیر ترقی بھی ناممکن ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ہر وقت برپا پونے والی یہ تبدیلیاں صحافیوں کی وجہ سے آ رہی ہیں، جو وہ اس کا انعام وصول کرنے کے خواہش مند ہیں؟۔

قابل اعتماد ذرائع سے معلومات لینا یا حکومتی اداروں سے خبر حاصل کرنا انتہائی ذمہ داری کا کام ہے۔ سیاسی رپورٹنگ میں اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ خبر سچی ہے یا سنی سنائی بات، اس کا اندازہ ہی نہ لگایا جا سکے۔ خبر حاصل کرنے کے ذریعہ کی شناخت ظاہر کئے بغیر اسے بھروسہ کے قابل سمجھنا ایک پیشہ وارانہ روایت ہے مگر جہاں خبر کا ذریعہ بالکل واضح نہ ہو یا غیر مستند ہو، وہاں قابل یقین، مستند ذرائع کے مطابق جیسی اصلاحات کا استعمال کر کے (جن میں خبر کا ذریعہ نہیں بتایا جاتا) اُسے اپنے اندازے  کی لمبی شاہراہ پر نمایاں خبر کا درجہ دینا پیشہ وارانہ دیانت نہیں ہے۔ آج کے اخبارات اور نیوز چینل دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ خبروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور فرضی کہانیوں کو سچی خبریں بنا کر پیش کرنا ہر میڈیا ہاؤس کی روایت بن چکی ہے۔ خبروں کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر خبر کو اس کے ذریعہ، خبر دینے والے کے مقام و مرتبہ اور جس حد تک ممکن ہو، اُس کی شناخت کو ظاہر کر کے ہی پیش کیا جائے۔ جہاں پر ذریعہ کو صیغہ راز میں رکھنا مقصود ہو وہاں پر رپورٹر اور کاپی ایڈیٹر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر طرح سے تسلی کر لیں کہ خبر درست ہے۔ ایڈیٹر، سٹاف اور قاری کو ان اصولوں کا پتہ ہونا چاہئے اور اگر ان اصولوں کو توڑا جائے تو جرم کرنے والوں اس کی سزا ملنی چاہئے تاکہ جھوٹی خبروں کو روکا جا سکے۔

میڈیا پر آنے والے زیادہ تر تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ ہر مسئلہ پر حتمی رائے قائم کر لینا اس طبقہ کا فیشن بن چکا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر واقعہ کو مخصوص حقائق پر ہی پرکھتے ہیں اور کبھی بھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس کا ہر زاویہ سے مشاہدہ کریں۔ جس خوشحالی اور سیکورٹی کے حصار میں وہ رہتے ہیں، شاید آزادانہ سوچ ان کے لئیے ممکن ہی نہیں رہی۔ ان کے فلسفہ کا اصول یہ ہے کہ ’’میں اُس نے لئے گاؤں گا جس کی روٹی کھاتا ہوں‘‘۔ وہ اپنے پاس موجود وسائل کو محفوظ رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کی انہیں دوسروں کے مصائب اور قربانیوں کا ادراک نہیں اور وہ انہیں پسند نہیں کرتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دیگ لوگ تو ان اصولوں کی پیروی کریں مگر خود وہ اپنی عیش و عشرت والی زندگی سے باہر نہ نکلیں۔

پاکستانی صحافت نے پچھلے 71 سالوں میں اپنے بےباکانہ کردار سے جنرل ایوب, جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے سخت اور پر آشوب ترین دور کا جوانمردی سے مقابلہ کیا- بےباک, ایماندار, مخلص اور پیشہ ور صحافیوں کی اس فہرست میں کئی درخشاں ستارے ہیں جیسا کہ آرد شیر کاؤس جی, آغا شورش کاشمیری, آغا مسعود حسین, ابوعلیحہ (علی سجاد شاہ), احمد بشیر, ارشاد احمد حقانی, الطاف گوہر, ایاز امیر, ایلس فیض, ایم بی نقوی, باری علیگ, تاج حیدر, جاوید چوہدری, حامد میر, حسن نثار, حمید نظامی, حیدر جاوید سید, خالد حسن, رؤف کلاسرا, رئیس احمد جعفری, رئیس امروہوی, رحیم اللہ یوسفزئی, رضا علی عابدی, زاہدہ حنا, سلیم صافی, سہیل وڑائچ, شاہد مسعود, شیری رحمن, ضیاء الدین احمد سلہری, طاہر مرزا, ظفر علی خان, ظفر اقبال مرزا, عارف نظامی, عطاء الحق قاسمی, علی سفیان آفاقی, فاروق قیصر, مبشر حسن, مبشر لقمان, مجید نظامی, مظہر عباس, منو بھائی, منہاج برنا, مہدی حسن, مہر بخاری (عباسی), میر خلیل الرحمٰن, نجم سیٹھی, احمد ندیم قاسمی, وزیر آغا, یاسر پیر زادہ, سید محمد عامر الحسینی, وجاہت مسعود, عمار کاظمی, مظفر عثمانی, سرل المائڈا, شاہ زیب خانزادہ, عاصمہ شیرازی, پارس خورشید, ارشد شریف, غلام حسین, اظہار الحق, نزیر ناجی, عباس اطہر, نواز رضا, ثقلین امام اور کئی دوسرے صحافی جنہوں نے صحافت میں اپنی کارکردگی سے ایسی مثالیں قائم کیں کہ آج بھی ان کے پڑھنے والے ان کی تحاریر سے منسلک ہیں-

ان تمام بڑے ناموں اور ان کی طرف سے آزادئ صحافت کے لئے دی گئی قربانی کو ذہن نشین کریں اور اس کا موازنہ ملک پاکستان میں رائج صحافت کے اصولوں، آزادی صحافت کی اہمیت، صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں درپیش مشکلات، صحافی بننے کے معیار اور صحافت کی آزادی کی اصل روح کے ساتھ کریں تو ہم ایک دلچسپ صورتحال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ وہ یہ کہ ملک پاکستان میں صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ صحافی اگر آزاد رہ کر کچھ لکھنا یا بولنا چاہے تو اس کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ اخبار اور نیوز چینل مالکان ہیں۔ صحافی حضرات کو اخبار اور چینل کی غیر اعلانیہ، غیر تحریری مگر صاف اور واضح پالیسی پر چلنا پڑتا ہے۔ بعض ادارے سچ لکھنے اور بولنے کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ وہ سچی خبروں اور آئینہ دکھانے والے صحافیوں کا وزن برداشت نہیں کر سکتے۔ ان حالات کے پیش نظر اگر یہ کہنا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے تو یہ یقیناً بہت بڑا جھوٹ ہو گا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے کالموں اور پروگراموں میں سیاسی لوگوں کو گالیاں دینے کو صحافت سمجھ لیا ہے۔ ہم دو پارٹیوں کے رہنماؤں کی لڑائی کروا دینے کو آزادی صحافت سمجھتے ہیں۔ ہم کسی بھی شخص پر بے بنیاد الزام لگا کر اسے بلیک میل کرنے کو صحافت کی خدمت قرار دیتے ہیں۔ ہم اپنے کالموں اور پروگراموں میں کسی بھی ایشو کا یک طرفہ موازنہ کر کے اپنی رائے دوسروں پر تھوپ دینے کو صحافت کا اعلی درجہ قرار دیتے ہیں۔ ہم جسے پسند نہیں کرتے، اُس کی رائے کو توڑ مڑوڑ کر پیش کرنا صحافت کی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ملک پاکستان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ ملک میں صحافی بننے کا کوئی بھی نظام اور معیار موجود نہیں ہے۔ اتنے اہم پیشے کے لئے ٹریننگ اور تعلیم کا کوئی معیار مختص نہیں کیا گیا ہے۔ ان پڑھ، جاہل اور گنوار اور لوگ خود کو صحافی کہتے دکھائی دیتے ہیں اور کسی بھی شخص کی جھوٹی سچی خبر لگا کر یا چلا کر اسے بلیک میل کرنا صحافت کی خدمت سمجھتے ہیں۔ ملک پاکستان میں صحافت کی پہچان صرف ایک اخبار یا چینل کا کارڈ ہوتا ہے اور جو لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ ایک تھرڈ کلاس اخبار کی نمائندگی حاصل کر کے ایک ہی جھٹکے میں معتبر بن جاتے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کارڈ پر لکھا ہوا اپنا نام تک نہیں پڑھ سکتے لیکن خود کو صحافی کہلوانا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اگر یہ دو نمبر اور گھٹیا لوگ کوئی جرم کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو اخبار بڑی سی سرخی لگا کر اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیتے ہیں اور کسی حکومتی اور غیر حکومتی ادارے کی جرات نہیں ہوتی کہ اس پر ہاتھ ڈال سکیں۔

اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے لئے کسی مثالی ضابطہء کار کا سوچنا مشکل کام ہے- اس ضمن میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر ادارہ اپنے لئے ایک سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) وضح کرے جس میں وہ اپنی پالیسی کھل کر بیان کرے- اس میڈیا گروپ میں کام کرنے والے تمام صحافیوں کو تحریری معاہدہ ملازمت کے ذرہعہ پابند کیا جائے کہ وہ اس پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے اور مختلف خبروں کو اپنے مخصوص زاویہ دینے پرہیز کریں گے- اس معاہدہ میں یہ بات بھی یقینی بنائی جائے کہ مالکان صحافیوں کو یک دم برخواست نہ کر سکیں اور اگر کسی صحافی کے خلاف کسی طرح کی شکایت ہو تو اس کے ازالہ کے لئے کوئی تنظیم ہونی چاہئے جو صحافیوں کے لئے ضابطہء اخلاق کی پابندی کروانے میں بااختیار ہو-

فی الوقت صحافیوں کی ملازمت کے تحفظ کے لئے جو معاہدہ ہے وہ ویج بورڈ 7 ہے مگر اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد تو دور کی بات ہے، اسے نافذ ہی نہیں کیا جا سکا۔ صحافیوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لئے تو یہ معاہدہ کوئی کردار ہی ادا نہیں کرتا، اس لئے اسے غیر قانونی ہی تصور کر لیجئے۔ اس صورتحال کو تمام صحافتی تنظیمیں جانتی ہیں مگر کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور اپنی صحافی برادری کے لئے دادرسی طلب کریں۔

آزادئ صحافت کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں، غیر سیاسی تنظیمیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے اس ضمن میں بات کی جائے تو ان سب کا دعوی یہی ہوگا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہرممکن اقدامات کریں گے مگر عملی طور پر بات وہیں کی وہیں ہی کھڑی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ ن کی راہنما مریم نواز شریف، تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات نعیم الحق، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، مسلم لیگ ق کے مونس الہی ہوں یا دوسرے کوئی اور رہنما، پچھلے سال کے عالمی یوم صحافت پر سب نے اپنے بیان میں تقریباًًً  یہی کہا تھا کہ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں بہت سارے صحافی قتل کئے گئے یا انہیں کسی دوسرے طریقے سے نشانہ بنایا گیا لیکن تقریبا ان تمام مقدمات میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس طرح کی بلا روک و ٹوک جرائم کی روک تھام ضروری ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے تو یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی صحافیوں کے مقدمات کی پیروی کے لئے ایک غیرجانبدار اسپیشل پراسیکوٹر جنرل مقرر کرے گی اور اس طرح کے واقعات کے متاثر صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کی امداد کے لئے جرنلسٹس پروٹیکشن فنڈ قائم کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو لوگ صحافیوں پر حملے کرتے یا جرائم میں ملوث ہیں وہ آزادی اظہار اور مثبت خیالات سے خوفزدہ ہیں۔ پیپلز پارٹی ایسے عناصر کو بے نقاب کرے گی اور انہیں قانون کی گرفت میں لائے گی۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ان کی پارٹی نظریئے اور امن امان کے نام پر اظہار آزادی پر لگائی جانے والی دانستہ عائد قدغنیں ہٹا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلومات اور خیالات کی آزادنہ ترسیل شہریوں کو تقویت دیتی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا کے لوگ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں بے خوف و خطر ادا کر سکیں۔

اختتام کرتے ہوئے عرض یہ ہے کہ خود پر پابندی کوئی بھی پابندی نہیں ہے۔ اس کے لئے باضابطہ قانون ہونا چاہئے۔ پابندی کے ذریعہ آپ کسی چیز کو تبدیل نہیں کر سکتے ، صرف اُسے کچھ وقت کے لئے دبا سکتے ہیں۔ لہذا خیالات اور سوچ کو مزید پھیلانا چاہئے جس کے لئے پابند  میڈیا کی بجائے آزاد میڈیا کا ہونا بہت ضروری ہے چاہے اس کے غلط استعمال کا کتنا بھی خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *