ھُنَ لباسُ لَکُم وَانتُم لِباسُ لھُنّ۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

مرد اور عورت اس کائناتِ ارضی کے دو اہم ترین ستون ہیں۔ یہ اللّٰہ پاک کی مشیت ہی تھی کہ جب آدم علیہ السّلام جنت جیسی پر کیف جگہ پر یکسانیت اور بوریت کا شکار ہوئے تو ربِ کائنات نے انہیں امّاں حوّا کی شکل میں ایک ہمدم، ایک دم ساز اور ایک دکھ سکھ کا ساتھی عطا فرمایا۔ باوا آدم اور امّاں حوّا کے وقت سے شروع ہونے والی رفاقت اور ساتھ کروڑ ہإ سال گزرنے کے باوجود آج بھی اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ یہ دونوں اصناف ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ اور قرآنِ مجید نے انہیں ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ لباس کا بنیادی مقصد سب سے پہلے تو ستر پوشی ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ آرائش و زیبائش کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور موسم کے سردو گرم سے بچانا بھی لباس کے مقاصد میں سے ایک ہے۔ یہی تینوں کام بہت زیادہ گہرائی اور گیرائی کے ساتھ مرد اور عورت جب نکاح کےپاکیزہ بندھن میں بندھتے ہیں تو ان کے درمیان موجود رشتہ، سر انجام دیتا ہے۔
ربِ کائنات نے مرد کو فطرتاً مضبوط اعصاب، مضبوط جثّہ، دل کی سختی اور کرختگی عطا فرمائی ہے۔ جبکہ عورت کو نرم و نازک جسم، نرم احساسات حسّاس دل اور نزاکت عطا فرمائی ہے۔ اور یہی وہ صفات کا تضاد ہے جس کی بدولت مرد اور عورت ایک دوسرے کےلئے Compatible بنے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد کی کرختگی کا بالکل درست compliment عورت کی نزاکت ہی ہے۔ کہیں ایک بے حد خوبصورت جملہ پڑھا تھا کہ ”عورت اور مرد ایک دوسرے کے مثنٰی(duplicates) نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکملہ (compliments) ہیں۔“ اور یہی دو اصناف جب نکاح کے پاکیزہ بندھن میں قید ہوتے ہیں تبھی ایک دوسرے کی صحیح معنوں میں تکمیل کرتے ہیں۔
جسمانی ساخت کے اسی فرق کی بدولت ربِ کائنات نے ازل سے مرد کے ذمے وہ کام لگائے جن کی ادائیگی کیلئے اسے موزوں سمجھا۔ کبھی بارِ نبوّت عطا کر کے آزمائشوں اور مشکلات کے طوفان سے گزارا۔ کبھی حکمران بنا کر بڑی بڑی سلطنتوں کے انتظام کی ذمہ داری سونپی۔ جنگیں لڑنے اور دنیا فتح کرنے سے لیکر عائلی زندگی میں بیوی بچوں کی کفالت، ان کے لئے رزق کے ذرائع کی تلاش، ان کی ضروریات پوری کرنا اور انہیں زمانے کے سردو گرم سے بچانا بھی مرد کو سونپی گئی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
ربِ کائنات نے عورت کا میدانِ عمل اس کے گھر کو بنایا۔ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے ساتھ ساتھ تربیت کی کٹھن ذمہ داری جب اس کے نازک کندھوں پر ڈالی تو اسے فکرِ معاش سے مکمل آزادی عطا کر دی۔ اس کے شوہر کو اس کے اور اس کے بچوں کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ تاکہ وہ یکسو ہو کر وہ ذمہ داری نبھائے جس نے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنا ہے یعنی نسلِ نو کی پرورش اور تعلیم و تربیت۔ صدیوں سے نظامِ کائنات انہی خطوط پر استوار رہا اور ماؤں کی تربیت نے انسانیت کو ایسے ایسے نابغے عطا کیے کہ دنیا قیامت تک ان کی ممنونِ احسان رہے گی۔
پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور عورت میں ”شعور“ بیدار ہوا اور اسے اچانک سے یہ ادراک ہوا کہ بچے پیداکرنا، ان کی پرورش اور تربیت کرنا، گھر کے مردوں کیلئے کھانا پکانا انتہائی ارزل اور گھٹیا کام ہیں۔ اور اسے بطورِ ”انسان“ اپنی شناخت بنانے کیلئے گھر کی چاردیواری سے باہر قدم رکھنا چاہیئے۔ گھر والے اپنا گھر خود سنبھالیں کہ اسے تو ہوٹلز، ریسٹورنٹس، ہوائی جہازوں، بسوں، صنعتی اداروں غرضیکہ گھر کی ”قید“ سے نکل کر ہر ہر جگہ مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا ہے اور خود کو مرد کے برابر منوانا ہے۔ یہ دوڑ مغرب میں کافی عرصہ پہلے شروع ہو گئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج امریکہ کی مردم شماری بیورو کے 2009ٕ کے سروے کے مطابق صرف امریکہ میں 13.9 ملین ”سنگل پیرنٹس“ ہیں جو 21.8 ملین بچوں کی تنہا کفالت کرتے ہیں۔ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ان 13.9 ملین سنگل پیرنٹس میں سے 84%عورتیں ہیں۔ جن میں سے 45% طلاق یافتہ اور 34.2% غیر شادی شدہ مائیں ہیں۔ اور جب ماں نے گھر اور بچوں کی تربیت کو پسِ پشت ڈال کر مردوں کی برابری کے شوق میں رزق کے پیچھے خواری اٹھانے کو ترجیح دینا شروع کی تو آج حالات یہ ہیں کہ صرف امریکہ میں سالانہ کم و بیش 750,000 نوعمر بچیاں بغیر شادی کے سکولوں میں ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔ اور کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں عورت اور مرد نے مل کر گھر بنانا ہی چھوڑ دیئے ہیں اور وہاں آبادی اتنی کم ہو گئی ہے کہ اب حکومتوں کو باقاعدہ لوگوں کو گھر بنانے اور بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینا پڑ رہی ہے۔
وطنِ عزیز میں بھی چند سالوں سے ایک خاص طبقے نے خود کو ”حقوقِ نسواں“ کا ٹھیکیدار سمجھ لیا ہے لیکن تحفظِ حقوقِ نسواں کی آڑ میں ان کا نشانہ مرد اور عورت کا پاکیزہ رشتہ ہے جو نظامِ کائنات کی اصل کنجی ہے۔ جو کچھ عورت مارچ میں اس سال ہوا وہ سب( الّا ماشإاللّٰہ) حقوقِ نسواں کی آگہی سے زیادہ مرد کی ذات، گھر، چادر اور چاردیواری، شرم و حیإ اور تہذیب و شائستگی سے نفرت کا مظاہرہ تھا۔ خدارا عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیجئے بالکل کیجئے کہ کوئی بھی معاشرہ اپنے افراد کے درمیان حقوق و فرائض میں توازن پیدا کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن حقوقِ نسواں کی آڑ میں مرد اور عورت کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا بیج نہ بوئیے اور گھر اور خاندان کے ادارے کو نشانہ نہ بنائیے کہ یہ عمل ہماری آنے والی نسلوں کیلئے تباہ کن اثرات لے کر آئے گا۔ ایک صاحب نے اسی قسم کے ایک مارچ میں واضح الفاظ میں نکاح کو ختم کرنی کی خرافات بھی بک دی۔ خدارا مرد اور عورت کے درمیان ربِ کائنات نے نکاح کے رشتے کے ذریعے الفت، محبت، احساس اور دردِ مشترک کی جو دولت عطا فرمائی ہے اس کی حفاظت کیجئے اور وہ جو Divorced but Happy کا نعرہ لگا رہی تھیں کبھی مغربی معاشرے کے خاندانی نظام کے بکھرے ہوئے شیرازے اور اس کے معاشرے پر مرتب شدہ اثرات کا جائزہ لیں اور خود تو اپنی زندگیاں برباد کی ہی ہیں نسلِ نو کے معصوم ذہنوں کو آلودہ مت کیجئے۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس قدر ایک عورت کو معاشرے میں باعزت مقام کیلئے ایک مرد کے سہارے کی ضرورت ہونا ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ جس قدر ایک عورت کو معاشرے میں باعزت مقام کیلئے ایک مرد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر ایک مرد کو اپنا گھر بسانے اور زندگی میں راحت کیلئے ایک عورت کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دونوں اصناف نظامِ ہستی کی بقإ کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں معاشرے میں ظالم مرد اور انتہائی مظلوم عورتیں موجود ہیں وہیں مکّار اور فریبی عورتوں اور فریب خوردہ مردوں کی بھی ہمارے معاشرے میں کوئی کمی نہیں۔ برے کو برا کہیے لیکن کسی ایک صنف پر ظالم، بدکردار اور گھٹیا ہونے کا لیبل نہ لگایئے کہ ہمارے باپ، بھائی اور بیٹے بھی اسی صنف سے تعلق رکھتے ہیں۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *