فیمینزم اور دیسی فیمینزم کا فرق۔۔۔۔عارف خٹک

فیمینزم کا آغاز 1785 میں یورپ سے ہوا۔ حقوق نسواں کے نام سے شروع کی گئی تحریک کے بانیوں میں لیڈی میری والٹرلے اور میرکوئیس ڈی سرفہرست تھیں۔
حقوق نسواں عورتوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے بنائی گئی تنظیم تھی۔جس نے عورت اور مرد کے یکساں حقوق کا مطالبہ کیا۔ ان مطالبات میں عورتوں کی تنخواہ مردوں کے برابر کرنا، پیداواری حقوق، عورت پر مرد کا تشدد، زچگی کے لئے عورت کو چُھٹیاں دینا، جنسی ہراسمنٹ اور زبردستی کا جنسی تشدد جیسے مسائل سے عورت کو بچانا شامل تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تحریک زور پکڑتی گئی اور بالآخر یورپ اور امریکہ میں کافی شور شرابے کے بعد خواتین کے حقوق کو تسلیم کر لیا گیا۔بالآخر ایشیاء کے قدامت پسند ممالک میں حقوق نسواں کو قانون کی درجہ بندیوں میں شامل کیا گیا۔
یہ سچ ہے کہ ہندوستان، پاکستان، افغانستان، عرب ورلڈ بالخصوص مسلمان ممالک میں عورتوں کا استحصال ابھی بھی ہورہا ہے۔ مگر ہر ملک کا اپنا ایک تمّدن اور معاشرتی اقدار ہوتی ہیں۔جن کو بہرصورت آپ یکساں نافذ نہیں کرسکتے۔


بدقسمتی سے پاکستان میں عورتوں کو یا تو اپنے حقوق کا نہیں معلوم، یا پھر جان بُوجھ کر ان کی حق تلفی کی جاتی ہے۔کیونکہ ستر فی صد سے زیادہ ہمارا معاشرہ مرد اقدار پر قائم ہے۔بطور مسلمان ہم اس بات کے پابند ہیں، کہ ہم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دیں گے۔ جہاں پر ان کی شادیاں کرانی ہیں،وہاں ان سے پسند ناپسند کے حوالے سے پوچھیں گے۔ مگر سوکالڈ معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے ہماری بیٹیاں تعلیم سےمحروم رکھی جاتیں ہیں۔یا سرے سے ان کی جائیداد طلبی جیسے مطالبوں کو ہم نے گالی یا پھر شرم بنا کر رکھا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے اندرون سندھ، بلوچستان، وسطی پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے خواتین کےساتھ یہ ظلم تسلسل سے برتا جارہا ہے۔
میری الحمداللہ ایک بیٹی ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو سختی سے منع کیا ہے کہ بیٹی کے دماغ میں اگر آپ نے یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بھائیوں سے کسی طور کم ہے۔تو بلاشبہ ایک عورت ہی دوسری عورت کےساتھ زیادتی کی مرتکب ہو گی۔ میں نے اگر بیٹوں کے لئے ایک ایک مکان خریدا ہے۔تو بیٹی کیلئے دو خریدے ہیں۔کیوں کہ مُجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی کا مستقبل کیا ہوگا۔ میں نے اپنے بیٹوں کو اس بات کا پابند کیا ہوا ہے کہ میرے بعد میری بیٹی ان کی ذمہ داری نہیں،مگر میرے بعد وہ اپنی بہن کے ہر کام یا پیش بینی ان کی مدد کریں گے۔


میری بیوی پڑھی لکھی ہے۔ بازار سے سودا سلف خود خرید سکتی ہے۔ میرا کام ان کے لئے آسائشات مہیا کرنا ہیں۔ اور بدلے میں میری بیوی نے ایک باشعور خاندان مُجھے دینا ہے۔
لیکن کل کو اگر میری بیوی مُجھ سے یہ بولے، کہ آپ میرا ریپ نہیں کرسکتے۔یا وہ اپنی پسند کے مرد کے ساتھ شب بستری کرنے کی حقدار ہے۔ یا پھر وہ یہ فرمائش کردے۔وہ معاشرتی اقدار کے خلاف جاکر میرے وجود کی نفی کرنا شروع کردے۔اور قمیض اُٹھا کر اپنا وجود اپنی مرضی کا مطالبہ کربیٹھے۔اور فریئر ہال میں ایک کتبہ پکڑ کر اس پر لکھ دے کہ مُجھے مرد کے اعضاء سے نفرت ہےاور وہ طلاق یافتہ ہوکر اپنی زندگی زیادہ بہتر طریقے سے گزار سکتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ میری دو سال کی بیٹی کے دماغ میں یہ بات بٹھا دے کہ معاشرے میں موجود مرد ایک وحشی اور جنسی درندہ ہے۔لہٰذا شادی سے بہتر ہے کہ یا تو ہم جنس پرست بن جاؤ یا پھر مادرپدر آزاد سوسائٹی کی نمائندگی کرو  اور میری بیوی کے پیچھے کھڑے کچھ جنسی مریض مرد تالیاں پیٹیں اور ان کو حوصلہ دیں کہ شاباش اسے کہتے ہیں حقوق کی جنگ۔
تو آپ بتائیں میں کیا کروں گا؟


یا تو انتقاماً میں اس کی بیوی یا بیٹی کو تھپتھپا کر اس کھیل کو جاری و ساری رہنے دوں۔یا پھر ان کو بتا دوں کہ یہ جو دو پیسوں کےلئے آپ ایک مادرپدر آذاد معاشرے کے خواہش مند ہو۔تو کل کلاں کو اس سیلاب میں  آپ کا گھر بھی ڈوب سکتا ہے۔
آپ کا پسندیدہ اور انسانی حقوق کا علمبردار امریکہ ابھی تک ہیلری کلنٹن کو صدر کے روپ میں دیکھنے کا متمنی نہیں ہے۔اور آپ کے چہیتے اسرائیل کے آئین میں یہ درج ہے،کہ کوئی عورت ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ شکر ادا کرو کہ مسلم دنیا میں خواتین سربراہان مملکت بنی ہیں۔

عورت کے بنیادی حقوق تو بہرحال ایک مسلم حقیقت ہے جو ہمیں دینے پڑیں گے۔ مگر فریئر ہال اور اسلام آباد میں جو پرسوں مظاہرے ہوئے۔تو اب آپ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔کہ فیمینزم کے نام جو گند عورت کی ذات پر اچھالا گیا ہے وہ بذات خود عورت کی تذلیل ہے۔اور بطور انسان آپ کو اس کی مذمت کرنی ہوگی۔
یہ مظاہرے نہیں تھے بلکہ لاس ویگاس کے کسی کلب میں خواتین اسٹریپ ٹیز کی جھلکیاں تھی جنہیں آپ نے فقط انجوائے کیا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فیمینزم اور دیسی فیمینزم کا فرق۔۔۔۔عارف خٹک

Leave a Reply to ناصر خان جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *