• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • شی جن پنگ اور کمیونسٹ چین کے بانی ماؤ زے تُنگ کے سامنے ڈٹ جانے والا کمیونسٹ

شی جن پنگ اور کمیونسٹ چین کے بانی ماؤ زے تُنگ کے سامنے ڈٹ جانے والا کمیونسٹ

ہمیں ماضی میں کی گئی غلطیوں کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
لی روئی نے یہ سنہ 2013 میں کہا تھا جب وہ چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ چین کے بانی ماؤ زے تُنگ کی شخصیات میں مماثلت ڈھونڈ رہے تھے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ماؤ کی طرح شی جن پنگ بھی ذاتی خیالات کو دبا کر شخصیت پرستی کروانا چاہ رہے تھے۔ ان دونوں چیزوں کا تجربہ روئی نے ذاتی طور پر کیا تھا۔
لی روئی نے سنہ 1937 میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس وقت چین اور جاپان کے درمیان ظالمانہ جنگ شروع ہونے کو تھی اور جس خانہ جنگی کے ذریعے پارٹی نے اقتدار میں آ کر عوامی جمہوریہ بنایا اُس میں ابھی 12 سال باقی تھے۔ سنہ 1958 میں ماؤ نے لی روئی کو خود چن کر اپنا ذاتی سیکرٹری منتخب کیا۔

لیکن جلد ہی روئی کو ماؤ کے ’گریٹ لیپ فارورڈ‘ منصوبے پر تنقید کرنے کی وجہ سے قید کر دیا گیا۔ یہ جدت کا ایک ایسا ناکام پروگرام تھا جس کے بارے میں اب مانا جاتا ہے کہ اس میں تین سے چھ کروڑ لوگ تشدد اور فاقہ کشی سے ہلاک ہوئے تھے۔

پارٹی کے ساتھ ان اختلافات کے باوجود روئی ابتدائی انقلاب پسند لوگوں میں سے تھے جس کی بدولت ان کی چین میں خاص جگہ تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ ان کے پاس پارٹی کے مسائل پر اپنی رائے دینے کی کچھ آزادی تھی۔

لوگوں کو پرانی غلطیوں پر بات کرنے کی اجازت ہو نہ ہو، روئی نے پھر بھی کی۔ اور ان کے کام کے ذریعے تاریخ دان ماؤ کی زیادتیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
101 سالہ لی روئی گذشتہ سنیچر کو بیجنگ میں وفات پائے۔
روئی یونیورسٹی کے طالب علم تھے جب انھوں نے نظریاتی کمیونسٹ کارکنوں کے ایک گروہ میں شمولیت اختیار کی جو جاپانی قبضے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ہی 20 سال کی عمر میں وہ پارٹی میں بھی شامل ہو گئے تھے۔ ان کی کمیونسٹ سرگرمیوں کی وجہ سے ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

لیکن جب پارٹی سنہ 1949 میں اقتدار میں آئی تو سب کچھ بدل گیا اور روئی سنہ 1958 تک چین کے سب سے کم عمر نائب وزیر بن چکے تھے۔
اسی سال ماؤ سے ایک ملاقات نے ان کی زندگی کو بدل دیا تھا۔ ماؤ نے روئی کو دریائے ’یانگتزی‘ پر ’تھری گورجز ڈیم‘ بنانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے دیکھ کر ان کو اپنا ذاتی سیکرٹری منتخب کیا۔ مگر ان کا تعلق زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

سنہ 1959 میں روئی نے کھُلے عام ماؤ کی ’گریٹ لیپ فارورڈ‘ کی تنقید کی، ایک ایسی پالسی جو کہ چین کے معاشی حالات بہتر کرنے کے بجائے ملک بھر میں قحط کا باعث بنی۔
اس گستاخی کے لیے روئی کو کمیونسٹ پارٹی سے نکال کر آٹھ سال تک چنچنگ کے ایک ایسے سخت حفاظتی انتظامات والے قید خانے میں رکھا گیا جو کہ ایسے پارٹی اراکین کے لیے بنایا گیا تھا جنھوں نے پارٹی کو بے عزت کیا تھا۔

کئی سال بعد گارڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ماؤ کے سوچنے اور حکومت کرنے کا طریقہ خوفناک تھا۔ اُس کو انسانی زندگی کی کوئی قدر نہیں تھی اور دوسروں کی موت سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘

ماؤ کی موت کے بعد سنہ 1978 میں زیادہ حقیقت پسند ڈینگ شیاو پنگ اقتدار میں آئے اور روئی کو بحال کر کے پارٹی میں واپس شامل کر لیا۔ روئی سیاسی اصلاح کی ایک مضبوط آواز بنے اور اپنی زندگی کے آخری سالوں میں چین کو یورپی ممالک کی طرح سوشلسٹ نظام کی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔

انھوں نے ماؤ پر پانچ کتابیں لکھیں جو بیرونِ ملک شائع ہوئیں جبکہ چین میں ان پر پابندی عائد تھی۔ روئی کی آخری کتاب سنہ 2013 میں شائع ہوئی جس میں انھوں نے چین کے موجودہ ’ایک پارٹی، ایک سربراہ، ایک نظریے‘ کی حکومت کو بدلنے کی حمایت کی۔ ان کی بیٹی لی نانیانگ نے کہا ہے کہ بیجنگ کے ائیرپورٹ پر ان سے روئی کی کتاب بھی ضبط کر لی گئی تھی۔

کتابوں سے ہٹ کر روئی نے 1990 کی دہائی تک اصلاح پسند رسالے یانھوانگ چُنچیویا ’چین تاریخ کے تناظر میں‘ کی سرپرستی کی۔

سنہ 2016 میں اس رسالے کو سرکاری سرپرستی میں لے لیا گیا اور اس کی ایڈیٹر وو سی کو نکال دیا گیا۔ جبکہ سابقہ عملے کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ ’یانھوانگ چُنچیو کے نام سے اگر کوئی رسالہ شائع کرتا ہے تو اس کا تعلق ہم سے نہیں ہوگا۔‘

سکول آف آرینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (سویس) کے چینی شعبہ کے ڈائرکٹر پروفیسر سٹیو تسانگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا لی روئی پر گہرا اثر ہوا۔
’روئی کے لیے سب سے اہم چیز یانھوانگ چُنچیو کی سرپرستی تھی۔ یہ ابھی بھی شائع ہوتا ہے لیکن اس کی انتظامیہ اور فوکس بالکل بدل دیا گیا ہے۔ یہ درحقیقت ایک مختلف رسالہ ہے۔‘
اگرچہ روئی کے مضامین سنسر ہوتے تھے مگر اس کے باوجود وہ باغی نہیں بنے اور مرتے دم تک پارٹی کا حصہ رہے۔ ان کا بیجنگ کے اپنے اپارٹمنٹ میں کتابیں لکھنے سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے کہ چین کی موجودہ حکومت پر تنقید کرنے کے باوجود ان کو ملک کے بانی انقلابیوں میں سے ایک ہونے پر عزت دی جاتی ہے۔

لیکن روئی کی وفات کے ساتھ ایک ایسے کارکن کا نظریہ فوت ہو رہا ہے جو اپنی پارٹی میں آٹھ دہائیوں پہلے شامل ہوئے تھے اور اتنے عرصے سے ان سربراہوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے جو اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

پروفیسر تسانگ کہتے ہیں ’وہ اصول پرستوں کی اُس آخری نسل میں سے تھے جو کہ کمیونسٹ پارٹی کے آغاز سے اس کا حصہ تھے اور اس پارٹی کو انھیں اصولوں پر قائم رکھنے کی کوشش کرتے آ رہے تھے۔‘
’شاید اب کوئی ایسا نہیں رہ گیا جو پارٹی کو اس معیار پر پورا اتارنا چاہے جو اس کا ابتدائی فلسفہ تھا۔‘

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *