کیو با کا ایک مرد حر

عصرحاضر کی سیاست کا ایک اہم ستون ، کمیونسٹ پارٹی کے سابق و مشہور انقلابی رہنما اور کیوبا کی ہر دلعزیز شخصیت فیڈل کاسترو کچھ دن ہوئے وفات پا چکے ہیں ۔ کاسترو کاشما ر ان نامور لیڈوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی قوم اور ملک کو بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار اداء کیا بلکہ وہ اپنی گونا گوں خوبیوں کی بناء پر دنیا بھر میں ہر دلعزیز اور پسندیدہ شمار کیے جاتے ہیں ۔ کاسترو تقریبا نصف صدی تک کیوبا ’جو کہ امریکا کے ساتھ ایک جزیرہ ہے ‘ کے رہنما رہے ہیں ۔ ان کی زندگی سچائی سے عبارت تھی ، ان کی سیاست منافقت ،دھوکہ دہی اور دغابازی سے پاک تھی ،ان کے اندر انسانیت سے محبت کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، محروم طبقات کے لیے ان کے دل میں خاصی تڑپ اور درد تھا ، انہوں نے صدر اور وزیر اعظم ہوکر بھی انتہائی سادہ زندگی گزاری اور ساری عمر ایک چھوٹے سے مکان میں رہے ۔ انقلابی نظریات اور سخت جدوجہد ان کی زندگی کی سب سے نمایاں خاصیت ہے ، وہ ایک نڈر اور بے باک لیڈر تھے ۔ اپنے مشن اور نظریات کے لیے بے لوث ہوکر جانفشانی اور عقلمندی کے ساتھ وہ ساری عمر کوشش کرتے رہے ۔
کاسترو کا تعلق کیوبا کے ایک متمول اور جاگیر دار گھرانے سے تھا ۔ وہ چاہتا تو ایک پرسکون اور آرام دہ زندگی گزار سکتاتھا لیکن یونیورسٹی آف ہوانا سے اپنی لاء کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے جب ملک کی حالت زار کو دیکھا توقومی مفاد کی خاطر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس وقت کیوباپر فلجینسیو بتیسیتانامی ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت تھی جو کہ دنیا کے دیگر بہت سے رہنماؤں کی مانند امریکہ کا پالتوو غلام اور اپنی خواہشات ومفادات کااسیرتھا۔ اس کے دور میں بدعنوانی ، تنزلی اور ظلم و ناانصافی کا راج تھا ، جسم فروشی ، جوئے بازی اور سمگلنگ عام تھی ۔ ان حالات میں کاسترو نے جب سیاست میں حصہ لیا تو اولاً ڈکٹیٹر کے خلاف قانونی جنگ لڑی ، لیکن جب قانونی جنگ سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو اس نے مسلح جدو جہد کی۔ ۱۹۵۳ ء میں اس نے بغاوت کی لیکن وہ ناکام ہوگئی ۔ دوسال جیل میں گزارنے پڑے پھر عام معافی کے تحت جیل سے رہا کردیاگیا ۔ اس کے بعد اس نے میکسیکو کا رخ کیا جہاں بغاوت کو نئے سر ے سے منظم کیا اور ۱۹۵۶ء میں واپس کیوبا لوٹا۔ اس مرتبہ بغاوت سے قبل کاسترو نے عوام کو ذہنی طوراپنے نظریات سے ہم آہنگ کر نا ضروری سمجھا ، چنانچہ اس نے عوام میں خوب محنت کی ۔ با لآخر ۱۹۵۹ء میں جب اس نے بغاوت کی تو سارے ملک کے عوام اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اتنی بڑی سطح کی بغاوت کو سنبھالنا حکومت کے لیے ممکن نہ تھا اس لیے سابق ڈکٹیٹر نے راہ فرا رمیں ہی عافیت سمجھی ۔ لیکن کاسترو کا اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا جب اس نے کمیونزم کو اپنے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کی زمینوں اور کاروباروں کو قومیا نے میں لے لیا ۔ اس اعلان سے تاجر اور زمیندار طبقہ متاثر ہوا جس کی بناء پر ملک میں بغاوتیں ہونا شروع ہو گئیں ۔ اس مقام پر کاسترو بھی دیگر کمیونست رہنماؤں سے مختلف نہ نکلا ۔ اس نے اپنے نظریات عوام کے سر تھوپنے کے لیے ظلم و ستم کا سہارالیا اور ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈال دیا ۔ ملک ایک مرتبہ پھر افراتفری کا شکار ہوگیا اور لوگوں کو کاسترو سے جو امیدیں تھیں وہ دم توڑنے لگیں ۔ اس دوران امریکہ جو کہ کمیونزم کا سب سے بڑا حریف تھا ، آزادی فکر کے بلند وبانگ نعروں کے باوجود ساری دنیا سے کمیونسٹوں کو چن چن کر ختم کر رہاتھا ، اس لیے اس کاگھر کے دروازے پر سر مایہ دارانہ نظام کے خلاف بیٹھے کیو با کا دشمن ہو جانا لازمی وفطری عمل تھا ۔ امریکہ نے کیوبا کے خلاف مختلف قسم کی سازشوں کو شروع کردیا ، نتیجۃ کاسترو کا رحجان روس کی طرف زیادہ ہوگیا جو کہ پہلے بھی کمیونسٹ ہونے کی وجہ سے تھا ۔اب کیوبا سرد جنگ کامیدان بن چکا تھا ۔ امریکہ نے اپنی مخصوص روایت کے مطابق کاسترو کے اقتدار کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اسیری کی زندگی گزارنے والے کیوبن باشندوں کو غیر سرکاری فوج میں بھرتی کرنا شروع کردیا ۔ کیوبا کے ساحل بے آف پگز میں امریکی معاونت میں تربیت حاصل کرنے والے کیوبن باشندوں نے حملہ کیالیکن کیوبا کے فوجی دستوں نے اسے ناکام بنادیا ۔ اس لڑائی میں لاتعداد حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک ہزار کے قریب گرفتا ر ہو ئے ۔ فیڈل کاسترو نے اس حملے کوناکام بنا کر امریکہ کو ناکوں چنے چبوادیے ، جسے امریکہ ایک عرصہ تک نہیں بھلا سکا ۔ اس کے بعد امریکہ نے وقتا فوقتا اس کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ہر طرح کے حربے آزمائے ، خود کاستروکو سی آئی اے نے بیسیوں مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ ناکام ہوئے ۔ اس حوالے سے کاسترو کا ایک بیان بڑا دلچسپ ہے ۔کہتاہے ’’ ا گر اولمپکس میں جان لیوا حملوں سے بچ نکلنے کا کوئی مقابلہ ہوتاہے تو اس میں گولڈ میڈل مجھے ملتا ‘‘۔
اس دوران امریکہ نے کیوبا پر معاشی پابندیاں بھی عائد کیں ، کیوبا جو کہ پہلے سے ہی تباہ حال تھا ، ان پابندیوں کا تحمل کسی طور بھی نہیں کر سکتاتھا ،اس لیے کیو با میں بھو ک اور افلاس زوروں پر پہنچ گیا ۔ انسان بھوکوں مرنے لگے لیکن انسانیت کی ہمدرد کسی عالمی طاقت کو ترس نہیں آیا ۔ ان حالات میں بھی کاسترو اپنے مشن سے سر مو پیچھے نہیں ہٹا۔ کاسترو نے معاشی بحران کم کرنے کے لیے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ، لیکن آزادفطرت کے سبب روس بھی زیادہ دیر کاسترو کی مدد نہ کر سکا ۔ کاسترو نے جب سوویت یونین سے اتحاد کے ساتھ کیوبا کو غیر وابستہ ممالک کی تحریک میں شامل کیا اور کچھ دیگر اتحادوں میں بھی معاون بنے تو روس نے کیوبا کی معاشی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ۔ اب کیوبا کا معاشی بحران اپنی آخری حدوں کو چھونے لگا تھا اور لوگوں کے لیے یہ صورت حال ناقابل برداشت ہوچکی تھی ، حتیٰ کہ لوگ ہجرت کرنے لگے ۔ اس عرصے میں کاسترو نے خودی پر انحصا ر کرتے ہوئے ملک میں کچھ اصلاحات کیں ، دو عالمی طاقتوں کا ڈسا ہوا یہ ملک اگر اپنا وجود بھی سنبھال لیتا تو بڑی بات تھی لیکن کاسترو نے اپنی بالغ النظری سے ملک کو بحرانوں سے نکالا اور معیشت کو سنبھالا ۔ اسی دوران اس نے اندرونی سطح پر چند قابل توجہ اہداف حاصل کیے ۔ صحت اور تعلیم دو بنیادی ایسے شعبے ہیں
جن میں دنیا کی بڑی طاقتیں اس وقت بھی کیوبا سے پیچھے ہیں ۔ یونیسیف اور یونیسکو کی رپوٹس بتاتی ہیں کہ کیوبا میں شرح تعلیم ۱۰۰ فیصد ہے جو کہ دنیامیں کہیں بھی نہیں ہے ۔اسی طرح شہریوں کے لیے طبی سہولیات کے حوالے سے بھی کیوبا دنیا بھر میں ممتاز ہے ۔ سب سے زیا دہ میڈیکل کی تعلیم کیوبا میں ہے ۔میڈیکل سائنس میں حیرت انگیز ترقی کی وجہ سے امریکی ڈاکٹر بھی یہاں تربیت کے لیے آتے ہیں ۔ اس وقت ریلیف کی سب سے بڑی ٹیم کیوباکی ہے ۔ ۲۰۱۴ء میں ریلیف کے کاموں میں کیوبا کے ۱۵۰۰ سے زائد افراد نے حصہ لیا ۔ ۴۵۰ سے زائد تربیت یافتہ ڈاکٹروں نے مختلف جگہوں پر خدمات سر انجام دیں ۔ ۲۰۰۵ میں جب پاکستان میں زلزلہ آیاتو کیوبا کے بہت سے ڈاکٹروں نے یہاں امدادی کاروائیاں کیں۔کیوبا نے اسوقت ہزار سے اوپر طلباء کو میڈیکل کی فری تعلیم کے لیے سکالر شپ بھی دی ۔
سب سے اہم خوبی کاسترو کی یہ تھی کہ اس نے انقلاب کے بعد کمیونزم کو عوام کے رگ و ریشہ میں اتار دیا تھا ۔ اولاً اشتراکی نظریات منوانے کے لیے اس نے کچھ سختی سے کام لیا لیکن بعد کے ادوار میں اگر دیکھیں تو خالص عقلی بنیادوں پر اس نے اپنے معاشی افکار کو عوام کے ذھنوں میں اتارا ۔ کیوبن عوام خالص عقلی بنیادوں پر اس کی قائل تھی اس کی ایک تصویر ہمیں اس وقت نظر آتی ہے جب پوپ جا ن پال دوم کو کیوبا میں ایک بہت بڑے مجمع میں برسر عام سوشلزم کے خلاف تقریر کی اجازت دی گئی تو عوام نے اس کی تقریر اور دلائل کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی ۔اسی طرح امریکی صدر جمی کارٹر نے ایک مرتبہ کیوباکے دورے کے دوران جب سوشلزم کے خلاف بات کی تو ایک طالب علم نے اس کو دلائل کے ساتھ چت کردیا ۔ لیکن کاسترو خالص کمیونزم پر ہی نہیں جمے رہے بلکہ ان کو سرمایہ دارانہ نظام کی جن خصوصیات نے متاثر کیا انہوں نے ان کو بھی اپنے نظام کا حصہ بنایا ۔ ان کے دو ر میں ہی ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے سرمایہ کارانہ نظام اور فری مارکیٹ کی اصطلاحا ت بھی استعما ل کیں ۔ نظریات کا صحیح یا درست ہونا اپنی جگہ لیکن کسی بھی قوم کے وجود کا برقرار رہنا اور نشوونما پانااسی پر موقوف ہے کہ عوام اس کے نظریہ حیات پر دل و جان سے یقین رکھتی ہو اور اگر حالات وواقعات کے مطابق افکار میں کوئی تبدیلی بھی کرنی پڑے تو بخوشی اس پر راضی ہو ۔
ٓآج کاسترو تو نہیں رہے لیکن ان کا شمار دنیا کی سو مقبول ترین شخصیات میں ہوتاہے ۔ دوست تو دوست رہے دشمن بھی ان پر سیاسی ، معاشی اور معاشرتی کرپشن کا الزام عائد نہیں کرسکتے ۔ اوباما نے بھی ان کے بارے کہا کہ ’’ تاریخ کاسترو کے بے پناہ اثر کو پرکھے گی اور یاد رکھے گی ‘ ‘ ۔ کاسترو کی زندگی ایک روشن منارہ ہے ان لوگوں کے لیے جو غلامی کی سو سالہ زندگی سے آزادی کی چندگھڑیوں کو بہتر سمجھتے ہیں ۔ان لوگوں کے لیے جو محکم یقین ، سلامت فکر اور کردار کی بلندی کے ساتھ کسی بھی قوم سے مقابلہ کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ بات سچ ہے کہ اگر کوئی شخص یا قوم اپنے مشن سے مخلص ہو کر اس کے لیے جہد مسلسل کرے تو دنیا کی کوئی قوم خواہ وہ سپر پاور کیوں نہ ہو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔کاسترو اس کی ایک زندہ مثال ہے جس نے اپنے دور کی سپر پاور امریکہ کو ناکوں چبوائے اور اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *