قسمت اور مقدر پر میرا اپنا بیانیہ ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

دنیاوی زندگی کے مقابلہ کے اونچ نیچ کو قسمت کہا جاتا ہے اور قدرت کے معاملات کو مقدر ۔ بہت ہی سادہ ، اس سے بہتر شاید ہی کوئی  تعریف ہو ان دونوں کی ۔ جب بھٹو جمہوری طور پر منتخب ہو کر ، ملک توڑ کو وزیراعظم بنا تو بہت خوش قسمت شخص سمجھا گیا جب پھانسی ہوئی  تو بہت بدقسمت ۔ نواز شریف جب ۲۰۱۳ میں تیسری دفعہ وزیراعظم بنا تو ایک دوست نے کہا کہ  رب کو اس سے اتنا پیار  ہے کہ  تیسری دفعہ وزیراعظم ، میں نے کہا جی اتنی نفرت کہ  سزا کے لیے واپس لایا گیا وگرنہ دُھل دھلا کر باہر بیٹھا عیاشیاں کر رہا تھا ۔ ٹرمپ امریکہ میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے ، وہ تبدیلی جو یہ ثابت کرے گی کہ  یہ سارا جمہوری نظام ایک بہت ہی بھونڈی قسم کی کاروباری سیٹھ کی سازش ہے لوگوں کے استحصال کی ۔ ٹرمپ جیسا شخص کہہ رہا ہے کہ  اسقاط حمل حرام ہے ۔ پھر کونسی وومن لبریشن ۔ کل پاکستان میں ایک عورت نے کہا کہ  وہ چائے گرم کر سکتی ہے بستر نہیں ۔ ٹرمپ جیسا شخص واپس قدرت کی طرف جانے کی باتیں کر رہا ہے اور ہم لبریشن کو قدرت سے جنگ کا نام دے کر سوشل میڈیا اسٹار بن رہے ہیں ۔ کمال کی حماقت ۔

لاس ویگاس  میں روز لوگ اپنی مرضی سے جؤا ہارتے اور جیتتے ہیں ۔ پاکستان میں اپنی مرضی سے دھاندلی سے اور حرام کا پیسہ لگا کر قومی اور صوبائی  اسمبلیوں کے ممبر بنتے ہیں اور پھر ممبر بن کر کہتے ہیں کے ان کا تو احتساب ہو ہی نہیں سکتا ۔ ان کا احتساب تو لوگوں نے چُننے کے وقت کر دیا تھا ۔ جی ہم ۲۲ کروڑ بیوقوف ٹھہرے اور یہ چند درجن مسٹنڈے سچے ۔ ہم اپنی مرضی سے سی ایس ایس کا امتحان تین تین بار دیتے ہیں ۔ سارے کے سارے مرضی کے معامالات ہیں ۔ قسمت کا معاملہ  تو سراسر ہے ہی دنیاوی اور اس کے سارے کے سارے ریفرینس پوائنٹ بھی دنیاوی ہیں ۔ پیسہ کتنا ہو گا ، چودھراہٹ ، شہرت ، تھانیداری ، سب کے سب خوش قسمتی کے دنیا کے ریفرینس ۔ بیماری ، تنگدستی ، بھوک ننگ ساری بدقسمتی ۔ محمد بن سلمان بہت خوش قسمت ہے دنیا کے دس طاقتور اشخاص میں گردانا جاتا ہے اور یمن کے دو کروڑ باسی بہت بدقسمت ہیں جو اس کے ہاتھوں موت کے منتظر ۔
مقدر اور قدرتی معاملات میں بھی ہماری چوائس اور مرضی بے تحاشا ہے ۔ ہماری مرضی ہے کہ  ہم نے دل کی سننی ہے یا دماغ کی ماننی ہے ؟ یہ صریحاً ہمارے اوپر ہے ۔ مقدر کا سلسلہ ہے کیا؟ ہم جب بھی کسی اپنی مرضی کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہیں اسے مقدر کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں ۔ مقدر ایک قدرتی عمل ہے ایک اسٹیٹس ہے جس کا فیصلہ قدرت کرتی ہے وہ اچھا برا نہیں ہوتا ۔ جیسے کسی کا امیر ملک میں پیدا ہونا کسی کا غریب میں ۔ کسی کا مسلمان گھر میں پیدا ہونا کسی کا یہودی ۔ جہاں مرضی ختم ہوتی ہے وہاں سے مقدر شروع ہوتا ہے ۔ جیسے میری مرضی تھی ۱۹۸۲ میں امریکہ سے ایل ایل ایم کرنے کی ، داخلہ مل گیا ، فیس جمع ہو گئی  لیکن ویزا نہیں ملا ۔ اور ۲۰۱۶ میں مجھے پلیٹ میں رکھ کر اسی امریکہ کی مستقل امیگریشن دی گئی  ۔ حالات کبھی اچھے  بُرے نہیں ہوتے ہم انہیں ایسا بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر قسمت اور مقدر کے ساتھ خوامخواہ جوڑ کر مزید برباد ہوتے ہیں ۔ جب ہمیں کوئی  دکھ پہنچتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ  غم کے گدوں کا ہماری کھڑکی میں روز کا بسیرا ہے ۔ قدرت کا سارا کھیل ہی کائنات کی ہر چیز اور ہم سب کے لیے بالکل یکسر ہے ، نیوٹرل ہے اس میں اپنی مرضی کے رنگ ہم نے بھرنے ہوتے ہیں ۔ ہمارا خالق کیسے ہمیں مصیبت میں دیکھ سکتا ہے ؟ وہ کیسے ہمیں غم دے کر خوش ہو گا ؟ وہ تو رحمن اور رحیم ہے ۔
یہ سارے ہمارے فعل ، ہماری بدکاریاں ، ہماری چودراہٹیں جو ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتیں ۔ ہم کوڑا کیوں گھر سے باہر پھینکتے ہیں ؟ کیونکہ ہم گھر سے باہر کی دنیا کو اپنی دنیا سمجھتے ہی نہیں ۔ ریل گاڑیوں کے پنکھے اور ٹوٹیاں اتار کر ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ  ہم بہت خوش قسمت ہیں ۔ ایک ارب روپیہ کا گھر بنا کر اس پر ماشاء اللہ لکھ دیں بس نظر نہیں لگے گی حرام کی دولت کو ۔
ہمیں اس دنیا میں صرف اور صرف اپنے خالق سے پیار اور محبت کرنے کے لیے بھیجا گیا صرف یہی ہمارا مقصد تھا ۔ وہ رب بھی ہم میں اسی محبت کے زریعے آشکار ہوتا ہے ۔ ہم سب اس دنیا میں ایک آکائی  سے منسلک ہیں جس میں سب پرند چرند ، نباتات حیوان ، سمندر پہاڑ اور ستارے بندھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا ایک ایک قدم اس آکائی  کی وائبریشن بنتا ہے اس کی فریکوئنسی سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے ۔ یہ آکائی  ایک خاص دُھن پر سیٹ یا ٹیونڈ ہے ۔ اس کی ٹیوننگ کو جب ہم ڈسٹرب کرتے ہیں تو ہم بیمار ہو جاتے ہیں ،ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ  اوہ میرے مقدر ، میری قسمت ۔ ایسا بالکل بھی کچھ نہیں ، یہاں دنیا میں جسم کے  ذریعے روح کا قیام اسی لیے ابدی نہیں رکھا گیا ۔ فانی ہے ، ہماری مرضی کے تابع ہے ۔ روح کی روشنی کا ایندھن صرف پیار اور محبت ہے جبکہ اس روشنی کو مقابلہ ، نفرتیں ، لالچ اور حسد تباہ و برباد کر دیتے ہیں ۔
مجھے اس ساری بحث پر آج سندھی سرائیکی صوفی شاعر سُچل سر مست یاد آ گئے نام تو عبدالوہاب تھا لیکن کیا سچائی  والا لقب پایا ۔ ان کا وحدت الوجود کا نظریہ اور منصور سے والہانہ پیار اسی آکائی  کی نشاندہی کر رہا ہے جس کا اوپر میں نے تذکرہ کیا ۔ کیا خوب فرمایا ؛
“بندھن سب تعظیم کے
توڑ کے چل انسان
نوبت انالحق کی
بجا علی الاعلان”
سچل سر مست کے نزدیک ہمیشہ شریعت کی پیروی جسم تک محدود رہی ہے روح کا معاملہ تو بالکل فرق ۔ روحانی تعلق اور عبادت تو دراصل خالق سے پیار ہے جو مذہب اور مسلک سے بالا تر ہے ۔ فرماتے ہیں ؛
“شعور ِ عام سے الجھے، شعور ِ خاص سے الجھے
ہمارا مسلکِ پرواز کس کس دام سے الجھے
صباجب زلفِ جاناں سے پیامِ مشک بو لائی
کبھی ہم کفر سے الجھے، کبھی اسلام سے الجھے”
کیا زبردست انسانی پیار اور محبت کا فلسفہ ان کے ہاں ملتا ہے ۔ میں لاہور سے کراچی جاتے ہوئے اکثر ان کے مزار پر رُکتا تھا اور بہت دیر تک اس روحانی کیفیت میں رہتا جہاں سب ایک ، سب خالق اور سب محبت ۔ کسی قسم کی تقسیم نہیں ۔
کوئی  قسمت کا دھنی نہیں ، کوئی  مقدر کا اسکندر بھی نہیں ۔ وہی سُکھی ، وہی خوش وہی بادشاہ جو اس آکائی سے جا ملا ۔ یہ وہ آکائی ہے جس کے عشق کی آگ پوری دنیا کو منور کیے ہوئے ہے ؛
میرے من میں آگ عشق کی
تو نے ہی بھڑکائی
آہ و فغان کی صورت میں
تیری یاد لبوں پر آئی۔

پیچھے سے محبوب کو
سجدہ ہے بیکار
سجدہ رو اسی سمت
جس رخ چہرہ یار
آئیں چھوڑیں ، رونا دھونا قسمت اور مقدر کا ، اس خالق کی محبت میں جُت جائیں جس نے تحفتا ہمیں اس دنیا میں بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک ہو جائیں ، صرف اسی رقص میں محو رہیں جو ہماری روح کو تروتازہ رکھے ۔ صرف اُس جسم کی آبیاری کریں جو یہ رقص جانتا ہو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *