عالمی یومِ خواتین۔۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

عورت کو کبھی ہیچ سمجھنا نہ خدارا
عورت کبھی مریم، کبھی حوّا، کبھی زہرہ۔۔۔
‌ہم نے کل عالمی یومِ خواتین منایا۔ کوئی   شک نہیں کہ آگہی بہت بڑی نعمت ہے۔ کوئی بھی انسان جو اپنے حقوق اورفرائض سے مکمل طور پر آگاہ ہوتا ہے وہ یقیناً کسی بھی معاشرے کا ایک زیادہ بہتر رکن بن کر سامنے آئے گا۔ آج کا دن عالمی سطح پر خواتین کو ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوئے خود کو درپیش مسائل کو آشکار کریں۔ کسی بھی معاشرے میں، کسی بھی سطح کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سب سے پہلا قدم ان مسائل کی نشاندہی ہوتا ہے۔ ہم بطور پاکستانی خواتین اس دن کو اپنے معاشرے میں عورت کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے ایک بہترین دن کے طور پر منا سکتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی خواتین اس دن ”آگہی مہم“ چلاتی ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا جو طبقہ اس مہم کا مشعل بردار ہے وہ یا تو پاکستانی خواتین کو درپیش حقیقی مسائل سے آگاہ نہیں ہے اور اگر آگاہ ہے تو تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتا ہے کہ اس دن کہیں پر بھی عورت کو درپیش حقیقی مسائل کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔
‌چلے ایک نظر ان مسائل پر ڈالتے ہیں جو وطنِ عزیز میں مختلف طبقات کی عورتوں کو مختلف سطوح پر درپیش ہیں۔ اور پھر جائزہ لیتے ہیں کہ عالمی یومِ خواتین پر پاکستانی عورت کے حقوق سے آگہی اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے جو سرگرمیاں ہوتی ہیں کیا وہ واقعتاً ان مسائل کا احاطہ کرتی ہیں؟؟؟
‌اس وقت وطنِ عزیز میں خواتین کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ ہے تعلیم کی کمی۔ ویسے تو بحیثیتِ مجموعی پاکستان میں شرحِ خواندگی کوئی خاص تسلّی بخش نہیں ہے۔ لیکن خواتین میں یہ شرح مزید کم ہے۔ خواتین کی شرحِ خواندگی مجموعی طور پر 48% ہے، شہروں میں یہ شرح 68% جبکہ دیہات میں 35% ہے جو بلوچستان کے قدیم قبائلی روایات میں جکڑے معاشرے میں محض 25% رہ جاتی ہے۔ اس قدر کم شرحِ خواندگی میں اضافے کیلئے عملی اقدامات تو درکنار اس موقع پر اس مسٕئلے کے حوالے سے شاید ایک آدھ ہی پلے کارڈ نظر سے گزرا ہو۔
‌اسی ضمن میں ایک اور بڑا مسئلہ خواتین کیلئے  علیحدہ تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی ہے۔ اگر اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھائی جائیں تو خواتین کی شرحِ خواندگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
‌ غربت اور کم آمدنی ہمارے معاشرے کا ایک عمومی مسئلہ ہے۔ لیکن اس سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ مرد اگر تعلیم یافتہ نہ بھی ہو تو کوئی نہ کوئی  ہنر سیکھ کر محنت کر کے اپنے وسائل میں اضافہ کی کوشش کر سکتا ہے۔ ہنر مند نہ بھی ہوں تو ہمہ قسم مزدوری، بازاروں اور مارکیٹوں سے لیکر چھوٹے بڑے صنعتی یونٹوں اور ہوٹلوں تک روزگار کے وسیع ذرائع اس کیلئے موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ عورت اگر تو تعلیم یافتہ ہو تب تو بہتری کے امکانات واضح ہوتے ہیں لیکن اگر عورت کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ ہے اور ہنر مند بھی ہے، تب بھی اسے اپنے فن اور ہنر کا معاوضہ اس کی محنت کی نسبت نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ ایسی صورت میں عورت کو سخت مشقت کے باوجود غربت کی چکّی میں پسنا پڑتا ہے۔ اور رہ گئیں غیر تعلیم یافتہ اور غیر ہنر مند خواتین تو ان کے پاس سوائے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے یا گاوٕں دیہات میں فصل کی بوائی یا کپاس کی چنائی وغیرہ جیسے کام کرنے کے کوئی حل موجود نہیں ہوتا۔ اور ان کاموں کی اجرت اتنی معمولی ہوتی ہے کہ اس سے ان کی غربت تو کیا مٹے گی محض ان کی دال روٹی بھی بمشکل چلتی ہے۔
‌قدیم رسوم و رواج عورت کے استحصالی طبقے کے سب سے بڑے ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ چاہے وٹّہ سٹّہ ہو، کاروکاری یا غگ کی قدیم رسم، ہر ایک کا شکار مظلوم عورت ہی بنتی ہے۔ ان رسومات کی تفصیل یا ان کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
‌خواتین کی ایک اور حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی کی ایک اور شکل انہیں ماں باپ کی وراثت سے محروم رکھنا ہے۔ اسلام نے عورت کو آج سے 1400 سال پہلے باپ، شوہر اور بیٹے سبھی کی وراثت میں حصہ دار بنایا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا آج کا جدید معاشرہ اسے یہ حق دلانے میں ناکام ہے۔
‌اسلام نے عورت کو حقِ ملکیت تفویض کر رکھا ہے۔ وہ اپنے حق مہر، اپنے والدین کی طرف سے دئیے گئے تحائف، اپنی آمدن، اس سے خریدی گئی اشیإ اور وراثت میں ملی ہوئی کسی بھی جائیداد کی کلّی مالک ہوتی ہے۔ اس کی ملکیت میں اس کے شوہر سمیت کوئی بھی تصرف نہیں کر سکتا۔ لیکن بدقسمتی سے کم پڑھی لکھی یا غیر تعلیم یافتہ خواتین تو ایک طرف بعض اوقات اعلٰی تعلیم یافتہ خواتین جب شادی کے بعد اپنے شوہر یا سسرال کی اجازت سے ملازمت کرنے باہر نکلتی ہیں تو ان کے شوہر یا سسرال والے اس کی کمائی پر اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یہ عورت کے ساتھ صریح ناانصافی اور ازروئے اسلام بالکل ناجائز عمل ہے۔
‌طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کو ہمارے معاشرے میں گو ناگوں مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ ان کا ایک سادہ سا حل ان کی دوسری شادی میں عجلت برتنا ہے، جس پر اسلام نے بھی بہت زیادہ زور دیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک مطلقہ یا بیوہ کی شادی ناممکن اگر نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے کہ ہمارے یہاں مرد بھلے تیسری شادی کر رہا ہو وہ اپنے لئے کنواری لڑکی ہی ڈھونڈتا ہے۔ دوسری طرف اگر ایک مطلقہ یا بیوہ 5,6 چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں ہو تو ایسی صورت میں وہ خود ہی شادی کا خیال دل سے نکال دیتی ہے کہ بچے بالکل ہی لاوارث ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک تنہا، کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ عورت کیلئے ان بچوں کی کفالت ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ مگر ایسی عورتوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔
‌ہمارے معاشرے میں بحیثیتِ مجموعی عورتوں کی صورتحال بہت بہتر ہے لیکن معاشرے کے جس جس حصے میں مندرجہ بالا مسائل جن جن خواتین کو درپیش ہیں ان کی سنگینی کا اندازہ صرف متاثرہ خواتین ہی لگاسکتی ہیں۔
‌اب آتے ہیں خواتین کے حقوق کے نام پر نکالی گٸی ریلیوں کی طرف۔ ان ریلیوں اور واکس میں خواتین نے اظہارِ رائے کیلئے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہوتے ہیں۔ جن پہ ان کی نظر میں عورت کو درپیش مسائل درج ہوتے ہیں۔ آئیے امسال اور گزشتہ سال کی ان ریلیوں میں خواتین کی طرف سے اٹھائے ہوئے پلے کارڈز کی تحاریر کا جائزہ لیتے ہیں۔
‌اپنا کھانا خود گرم کرو
‌چادر اور چاردیواری گلی سڑی لاشوں کی منزل
‌زہریلی مردانگی
‌شادی کے علاوہ اور بہت سے کام ہیں
‌اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو
‌دیکھ مگر consent سے
‌اکیلی، آوارہ، آزاد
‌کھانا گرم کر دوں گی مگر بستر خود گرم کر لو
‌اور جسے کہتے ہیں ناں last but not the least….
‌Tired of Dic(k)tatorship.
‌Dick pics apny pas rkho.
‌ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔ اوپر میں نے پاکستانی معاشرے میں خواتین کو درپیش چند ایک حقیقی مسائل کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اور بعد میں ان خواتین کے slogans جو بزعمِ خود خواتین کے مسائل اجاگر کرنے گھروں سے نکلی ہیں۔ کیا عورت کو درپیش مسائل کی معمولی سی جھلک بھی ان پلے کارڈز میں آپ کو دکھائی دی۔؟؟؟
‌دراصل اس دن کو مظلوم خواتین کے حقوق کے نام پر ہمارے معاشرے کے اس طبقے نے ہائی جیک کر لیا ہے جنہیں درحقیقت پاکستانی خواتین کے حقیقی مسائل کا نہ تو ادراک ہے اور نہ ہی ان مسائل کا حل ان کامطمعٕ  نظر بلکہ یومِ خواتین کی آڑ میں اس طبقے کا مقصد عورت سے چادر اور چاردیواری کا تقدس چھین کر اسے جنسِ بازار بنا دینا ہے۔ اور مرد اور عورت کے پاکیزہ رشتے کو، جو اس نظامِ کائنات اور نسلِ انسانی کی بقا کی بنیاد ہے، نشانہٕ تضحیک بنا کے معاشرے سے ”شادی، کے ادارے کو بے مقصد قرار دے کر آہستہ آہستہ اس institute کو ہی خاتمے کی طرف لے کے جانا اور بالآخر خاندانی نظام کو ہی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ بے حمیّتی کی انتہا دیکھیں کہ dick pics apny pas rkho جیسا پلے کارڈ ایک نوجوان معصوم بچی کے ہاتھ میں تھما رکھا تھا جو شاید ان الفاظ کے مفہوم سے بھی آشنا نہیں ہو گی۔ خدارا اگر تو اس دن کو پاکستانی عورت کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرکےاور ایک قدم آگے بڑھ کے ان مسائل کے حل کیلئے عملی تجاویز دے کر منایا جا سکتا ہے فبہا ورنہ یومِ خواتین اور عورت آزادی کے نام پر اس طرح کی بے حیائی کا بازار گرم کرنے سے بہتر ہے کہ اس دن کا اہتمام ہی کرنا چھوڑ دیں۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *