• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہے۔۔۔نذر محمد چوہان

پاکستان کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہے۔۔۔نذر محمد چوہان

میں کوئی دو سال سے بلاگز لکھ رہا ہوں ۔ سب سے زیادہ پذیرائی پاکستان سے چھوٹی بچیوں سے ملی ۔ وہ میری بیٹیاں ہیں ، میرا نور ، میری کہکشاں ۔ وہی پاکستان کے مستقبل کی معمار ہیں ، ان ہی کی کوکھ سے نئے پاکستان نے جنم لینا ہے وہ پاکستان جو صرف انسانی پیار اور محبت کی بنیاد پر قائم ہو گا نہ کہ  نفرتوں اور مقابلہ والا پرانا پاکستان ۔ مجھے امید ہے وہ بہت خوشی سے مستقبل کی اساتذہ بنیں گی  ۔ دن کو یونیورسٹی ، شام کو گھر اور رات کو اپنے گاؤں کے مدرسہ میں علم کی روشنی پھیلایا کریں گی۔
رات میں نے خواب دیکھا کہ  میں ایک پاکستانی گاؤں میں مدعو ہوں ۔ ایک اسی طرح کی بچی کے گھر ۔ سارا گاؤں اکٹھا ہو جاتا ہے جیسے میں کسی اور دنیا سے آیا ہوں ۔ کیا خاطر تواضع، کیا عزت و احترام ، شدید پیار محبت ۔ سب کو یہ معلوم تھا کہ  سیاست دان اور حکمران ان کا استحصال کرتے رہیں گے وہ چاہیں گے کہ یہ بچیاں سی ایس ایس کے امتحان کے چکر میں مر مُک جائیں ۔ ان سارے استحصالیوں کو ان کی سوشل میڈیا پر سرکار کے دفتروں میں بچوں کو فیڈر منہ میں ڈالے ڈائپر بدلنے کی تصویریں بہت پسند ہیں ۔ ان کو پتہ ہے ملک تو سارے کا سارا آٹو پر چلانا ہے ان کا بس تھانیداری اور پیسہ کمانے کا شوق پورا کرنا ہے لوگوں کے استحصال کے عوض ۔ یہی شوق این جی او ز والے پورا کرتے ہیں ۔ ہم میں سے ہر کوئی  لُوٹنے کا دُھر ڈھونڈتا ہے ۔ کسی نے اختر حمید بن کر گاؤں منتقل ہونے کا نہیں سوچا ۔ کیوں قربانی دیں ؟ پاگل ہیں ؟ کتے نے کاٹا ہے ؟ امجد ثاقب اور راشد باجوہ کا  ذرا جیٹ سیٹ لائف اسٹائل دیکھیں ، جیسے غریبوں کو ہالی وُڈ لانا ہے ۔
وہ گاؤں قرعہ اندازی میں نکلا ہوتا ہے جہاں میں نے اس مشعل کو ان بچیوں کے ہاتھ تھامنا ہوتا ہے ۔ وہاں اپنی ایک لائبریری ہو ، ایک میرا دودھ پتی کا کھوکھا جس کا تذکرہ میں دن کو صائمہ اور کلاسرا سے کر رہا تھا ۔ خواب ہی حقیقت ہوتے ہیں ۔
ایک مزدور کے بیٹے نے پاکستان سے دو سال پہلے کہا کہ  “سر آپ کوئی جاب نہ کرنا بس صرف لائبریری جانا اور بلاگز لکھنا آپکا خرچہ میں چلاؤں گا “ اور اس نے ایسا کر کے دکھایا ،کیونکہ قدرت کو ایسا منظور تھا ۔ اچھی نیت نے جیتنا تھا نہ کہ  مادہ پرستی نے ۔ اور ایک مزدور کی بیٹی نے بھی کہا کہ  “سر میں نے آپ سے مقابلہ کرنا ہے کہ  کس نے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں؟” اور ۲۳ بھی جیت گئی  ، اس نے جس عمر میں جتنی کتابیں پڑھیں میں نے اس عمر میں شاید اس سے آدھی بھی نہیں پڑھی تھیں ۔
ان سب بچیوں کو اگر موقع دیا گیا تو یہ سب یقیناً انقلاب برپا کر دیں گی  وہ انقلاب جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ، جس کا تذکرہ فیض احمد فیض اپنی شاعری میں کرتے تھے ۔ المیہ یہ ہوا کہ  فیض صاحب نے دہقان اور مزدوروں پر تکیہ کیا جو تقلید اور استحصال سے اپنی کمر پہلے ہی اتنی بُری طرح تڑوا چکے تھے کہ اس کے بعد وہ الطاف حسین تو بن سکتے تھے لیکن نیلسن منڈیلا نہیں ۔ یہ میری بچیاں مجھے یقین ہے روشنی کا انقلاب لائیں گی ۔ ایک نے اگلے دن مجھے کہا کہ  “ سر آپ کو آئی  ایس آئی  پاکستان کیوں نہیں آنے دیتی ؟ ہم بات کریں ؟ “ ان کا یہ کہنا ہی میرے لیے بہت ہے ۔ دراصل جب دل سے کوئی  دعا نکلتی ہے پھر آئی ایس آئی  کی پابندیاں تو کیا ، جیل کی سلاخیں بھی پگھل جاتی ہیں ۔ میی  بہنیں اسماء حمید ، صائمہ جام ، نویدہ کوثر ، سعدیہ بی بی وغیرہ جو کالجوں میں پڑھاتی ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کریں گی کہ  بچیوں میں بہت اسپارک ہے بس صرف اگر ڈکٹیٹر پرنسپل اور راشی سیکریٹری تعلیم سے چُھٹکارا مل جائے ۔ ہمیں ان حکمرانوں نے غلط اہداف پر لگا دیا ۔ جہیز اور جہالت ہمارے اوپر نازل کر دیے ، پاناما والوں کو سزائیں نہ دے کر معاشرہ کو تقسیم کر دیا گیا ۔ چوری کو فروغ دیا گیا ۔ اتنی ساری بچیاں گھروں میں بغیر شادی بیٹھی ہیں کاش ان سب کو حکومت کوئی  لائبریریاں اور مدرسے کھول دیں جس سے وہ سب علم کی روشنی پھیلا سکیں ۔ ہم اپنا ٹیلنٹ خوامخواہ حکمرانی اور چودھراہٹ پر ضائع کر رہے ہیں ۔ امریکہ سے ایک پی ایچ ڈی استاد پاکستان جا کر جاہل وزیر اعلی کا مشیر لگ گیا صرف تھانیداری کے شوق میں ۔ نجانے کب ہمارا حکمرانی کا شوق ختم ہو گا ؟ کب یہ colonial mindset بدلے گا ۔ رومی نے کہا تھا ؛
“Don’t you know yet? That it’s your light that lights the world”
ہر شخص ایک اپنی روشنی جلائے ہوئے ہے جو پوری کائنات کو روشن کرتی ہے ۔ اس کو ہرگز نہیں بجھنے دینا ۔ مادہ پرستی اس روشنی کو مدھم کرتی ہے ۔ یہی روشنی کائنات کا حسن ہے کائنات کی انرجی ہے ۔ لارینز ریاضی کا ماسٹر تھا ، اس نے ریاضی میں ایک chaos theory متعارف کروائی  جس سے اس نے ثابت کیا کہ  ہر گونج ، ہر وائبریشن ایک اثر پیدا کرتی ہے اور اکٹھی ہو کر طوفان برپا کر جاتی ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے بُدھا نے کہا تھا کہ  گھاس کا ایک تنکا توڑنے سے بھی زلزلہ آ جاتا ہے اسی طرح لارئنز نے اپنے فلسفہ میں butterfly effect متعارف کروایا ؛
“A butterfly flapping its wings in Brazil can cause a hurricane in Texas .. “
اتنا زیادہ قربت اور جوڑ ہے ہمارا اس کائنات پر ، کہ  کاش ہم اس ساری interconnectedness کو سمجھیں اور اپنے ہر قدم سے پہلے سوچیں کہ ساری کائنات پر اس کا کیا اثر ہو گا ۔ آج میں بہت خوش ہوں کہ  ہم ایک بندھن میں بندھ رہے  ہیں ، میں اور میرے قاری ، میری بیٹیاں ۔ سب کے سب پیار اور محبت کی روشنی جلائے ہوئے ساری کائنات کو منور کرنے کی دَھن میں مگن ۔ دعا ہے کہ  جیتی رہیں سب ۔ ہمارا رشتہ لافانی ہے ، میری اور آپ کے جانے سے صرف چہرے بدلیں گے پیغام نہیں۔ روشنی ایسی ہو کہ  جیسے احساس بھرے شاعر فرحت احساس نے کہا کہ ۔۔
“چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے
عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے
وہ ساری روشنی انشاء اللہ پاکستان کی بچیوں کی ہو گی جو ایک روشن پاکستان کا خواب اپنے دلوں میں سجائے بیٹھی ہیں ۔
پاکستان پائندہ باد۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *