قرطبہ کی حسینہ۔۔۔۔طارق احمد

ہمیں ابھی تک شک ہے۔ ہمارے قدم اس ہسپانوی حسینہ کو دیکھ کر تھم گئے تھے۔ یا پھر ہم ریسٹورنٹ کی وجہ سے رکے تھے۔ بھوک بہت لگی تھی۔ اور ریسٹورنٹ کے اندر سے ترکی کھانے کی اشتعال انگیز خوشبو آ رہی تھی۔ جبکہ کچھ ایسی ہی اشتعال انگیزی اس حسینہ سے لپٹی معطر سینٹ کی مہک سے پیدا ہو رہی تھی۔ بھوک مزید بڑھ گئی  تھی۔ ہم نے رک کر اس خرافہ کو دیکھا اور اب تک ہم نے ہسپانوی زبان کے جو دو الفاظ سیکھے تھے۔ ان میں سے ایک لفظ کو لچکتے ہوئے بول دیا۔ اولا ۔۔ یعنی ہیلو ، اس پری وش نے کمال بانکپن سے جوابی اولا ہماری جانب پھینکا ۔ جو ہمیں اندر دور تک گھائل کر گیا۔ پھر شستہ انگریزی میں بولی۔ آپ ہمارے ہاں طعام کرنا پسند کریں گے ؟ اک تیر تونے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔ ظالمو نے بھوکے گاہک گھیرنے کے لیے کیسے کیسے نادر اور خطرناک ہتھیار کھلے چھوڑ رکھے ہیں ۔ ایک ہسپانوی نازنین ،اوپر سے انگریزی میں گفتگو، گویا زبان سے بھوک تک تمام مسائل حل ہو گئے۔ ہم نے ہاں میں سر کو زور زور سے یلایا۔ اور یہ کہنے والے ہی تھے  کہ طعام تو طعام ہم تو طویل قیام کے لیے بھی راضی ہیں۔ وہ پری رخ ہمیں کچے دھاگے سے باندھے اندر ریسٹورنٹ میں لے گئی  اور ایک جگہ بٹھا کر بولی۔ میں آپ کے لذت کام و دھن کا اھتمام کرتی ہوں۔ اور یوں وہ قاتلہ ہمیں وہاں چھوڑ کر اگلے گاہکوں کے گلے پر معطر بھری چھری پھیرنے چلی گئی۔
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے۔
اندر ایک کھڑوس ہسپانوی بابا آرڈر لینے آ گیا۔ ایسی بلندی ایسی پستی۔ ہمارا اس کے ساتھ وہی پرانا لسانی فساد چھڑ گیا۔ ایک نقطے سے محرم سے مجرم بن جانے والا معاملہ تھا۔ ہم وفا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے۔ ہم ککڑوں کوں سمجھاتے رہے۔ وہ میاوں میاوں سمجھتے رہے۔ چنانچہ اسی حسینہ کی خدمات لی گئیں۔ آرڈر خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ ہم نے ازراہ تفنن اس خوبصورت جل پری کو کہا۔ آپ کے ہاں اتنے زیادہ سیاح آتے ہیں ۔ آپ اپنے لوگوں کو تھوڑی بہت انگریزی کیوں نہیں سکھا دیتے۔ ہماری بات سن کر وہ ظالم خالی خالی نظروں سے ہمیں دیکھنے لگی۔ اور پھر ایک دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔۔ مجھے سمجھ نہیں آئی  تم کیا کہہ رہے ہو۔ میری انگریزی اتنی اچھی نہیں ۔ ہم نے ہکے بکے ہو کر پہلے اسے دیکھا پھر اپنی فیملی کو دیکھا۔ اور ہسپانوی زبان کا جو دوسرا لفظ ہمیں یاد ہوا تھا،وہ بول دیا۔۔ گارسیا ، یعنی شکریہ   اور سر جھکا کر کھانا کھانے لگے۔ قرطبہ کے المیہ کے بعد یہ دوسری ٹریجڈی تھی۔ جو قرطبہ میں اس مسلمان کے ساتھ ھوئی  تھی  اور جس کا نام طارق تھا۔

ہمارا دل پہلے ہی دکھا ہوا ۔ ہم نے جب سے مسجد قرطبہ کو اندر سے دیکھا تھا۔ ھمارے اپنے اندر کے نازک اور حساس جذبے ٹوٹ پھوٹ گئے تھے ۔ غم یہ نہیں تھا  کہ ایک مسجد کو گرجے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری  ہوئی ہے۔ حب گرجوں، مندروں اور مسجدوں کو ایک دوسرے کے اندر تبدیل کر دیا گیا۔ ھر فاتح قوم یہ کرتی ہے۔ اپنے ساتھ اپنا مذہب ، اپنی زبان ، اپنا کلچر لے کر جاتی ہے  اور مفتوح اقوام انہیں قبول کرتی ہیں ۔ اپنا لیتی ہیں ۔ زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہیں  اور جب فاتح قوم کمزور پڑتی ہے۔ شکست و ریخت کا شکار ہوتی ہے۔ سقوط و زوال ان کے دروازے پر دستک دیتا ہے  تو پھر تاریخ پلٹا کھاتی ہے۔ یہی تاریخ کا سبق ہے۔ یہی ابدی سچائی  ہے۔ جب اندلیسیہ میں مسلمانوں کا زوال ہو رہا تھا۔ ترکی کی سلطنت عثمانیہ عروج کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ تاریخ کے عروج و زوال سے سبق سیکھنا چاہیے۔،نہ کہ آنسو بہائے جائیں۔ یہ سوچ کر رویا جائے۔ کبھی یہ ہماری سلطنت تھی۔ ہماری ملکیت تھی۔ یہاں مسلمان آباد تھے۔ یہاں کی فضاووں میں اذانیں گونجتی تھیں۔ خدا کے بندو ! تاریخ پر رونا دھونا چھوڑو۔ یہ دیکھو آج جن فضاووں میں اذان کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ وہاں کا کیا حال ہے۔ آج دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ کمزور، پسماندہ، غیر ترقی یافتہ، رجعت پسند، رسومات اور توہمات کے غلام ، ملائیت کے شکار، بند ذہن ، بند دماغ ، بند تخیل ، بند تحقیق اور محدود ویژن کے حامل موجود ہیں ۔ تفرقہ بازی، لسانیت ، اور فروعیت پر زندگی بسر ہوتی ہے۔ اور خواب یہ کہ ممولے کو شہباز سے لڑا دے۔
بہرحال ، قرطبہ کی عظیم مسجد مسلمانوں کے شاندار ماضی کی علامت ہے  لیکن ہمارا دکھ یہ تھا۔ آرٹ اور بے مثال خوبصورتی کے نمونے کو بدنما کر دیا گیا تھا۔ بہتر تھا جس طرح غرناطہ، اشبیلیہ اور ملاقہ کے مساجد کو ڈھا کر وھاں گرجے تعمیر کر دیے گئے تھے، مسجد قرطبہ کو بھی ایسے ہی ختم کر دیتے۔ لیکن خوبصورت ستونوں اور پرنور دالانوں کے بیچوں بیچ جس طرح گرجا ایستادہ کیا گیا، جس طرح مسجد کی دیواروں کو تبدیل کیا گیا۔ اس نے اس آرٹ کے معجزے کو گہنا دیا۔ جیسے چاند پر گرہن لگا ہو۔ یار ! کوئی  حس جمال بھی ہوتی ہے۔ ہم تو راہ چلتے خوبصورتی کے مجسموں سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو رہے تھے  تو دربان نے ہمیں  طور پر خاص کہا کہ اندر نماز نہیں پڑھنی۔ ہم نے مسکرا کر کہا ہم علامہ اقبال نہیں ہیں ۔ وہ بڑے آدمی تھے۔ لیکن کافی دیر سوچتے رہے۔ اس دربان کو کیسے معلوم ہوا۔ ہم مسلمان ہیں۔ یہ بات ہمارے لیے کافی حوصلہ افزاء تھی۔ ہم اپنی شکل، رنگ ، بودو باش اور لباس سے مسلمانوں کی طرع نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے باقی لوگوں کی طرح جین کی پینٹ پہن رکھی تھی۔ اور منہ بگاڑ کر انگریزی بول رہے تھے۔ اس دوران ہم ہسپانوی زبان کا تیسرا لفظ بھی سیکھ چکے تھے۔ ہم نے سی یعنی یس کہا۔ اس نے اولا بولا اور ہم نے گارسیا کہہ کر مکالمہ ختم کر دیا۔ لیکن وہ ہسپانوی حسینہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔ جو ہمیں اپنے دام میں پھنسا کر مہنگے طعام پر لے گئی تھی۔ ہم اولا اولا کرتے رہ گئے۔ وہ سی سی کرتی گئی۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *