ہر بچہ بریلوی پیدا ہوتا ہے

;ہر بچہ بریلوی پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو دیوبندی یا اہل حدیث بنا دیتے ہیں۔یہ حدیث میں نے وضع کی تھی،اور فطری مسلمان کے عنوان سے اس موضوع سے متعلق کوئی ایک ڈیڑھ سال قبل ایک طویل تحریر بھی لکھی تھی ،جسے کسی مناسب موقعے پر شائع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن خوفِ فساد خلق سے تاخیر ہوتی گئی۔ گزشتہ دنوں میں نے ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب کی ایک پوسٹ کے حوالے سے شرارتی کمنٹ والی پوسٹ لگائی، جس میں دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کو بریلویوں کے اندر سے پیدا ہونے والی بدعت قرار دیا گیا تھا، توڈاکٹر زاہد صدیق مغل نے اس پر اپنے کمنٹ میں یہی آئیڈیا پیش کر دیا ( پتہ نہیں انھوں نے میرے شئیر کیے بغیر کیسے اسے چرا لیا، شاید یہ سامنے کی حقیقت ہے، اس لیےفوراً ان کے ذہن میں آ گئی ۔۔۔مسکراہٹ ) میں نے ان کے کمنٹ کے جواب میں کہا کہ اپنی وہ پرانی تحریر کہیں سے ڈھونڈ کر لگاتا ہوں، مگر دیوبندی اور اہل حدیث بھائیوں کی خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ تلاشِ بسیار کے باوصف وہ تحریر میرے ہاتھ نہیں لگی، شاید دوسرے کمپیوٹر میں تھی جس کی ونڈو کرپٹ ہونے کے باعث بہت سی فائلیں کھو گئی ہیں۔ وہ تحریر تو اب بنتی دکھائی نہیں دیتی، البتہ اس تحریر کی کچھ باتیں قلم برداشتہ عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

مجھے یہ جاننے میں دلچسپی رہی ہے کہ میرے ارد گرد جو سادہ مسلمان بریلویوں ، دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کے اختلافات سے ناواقف ہیں، ان کے مذہبی نظریات کس طرح کے ہیں؟ میں نے اس حوالے سے جتنے لوگوں کے خیالات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ، ان میں تقریباً تمام کے نظریات بریلویوں کے سے یا ان سے بہت حد تک مشابہ تھے۔ کچھ کچھ لوگوں کے افکار شیعوں سے مشابہ ملے، لیکن مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا، جس کے مذہبی افکار دیوبندیوں یا اہلِ حدیثوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ پھر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ میرے ارد گرد جو لوگ غالی دیوبندی اور اہلِ حدیث ہیں ، ان کے آبا و اجدا کے مذہبی نظریات کیا تھے؟ تحقیق پر ان میں سے اکثر لوگوں کے آبا و اجدا دبھی اسی مذہب کے نکلے ، جس کو اب وہ شرک قرار دیتے ہیں، ہاں اپنی ضرورت ہو تو اس شرک میں البتہ وہ آرام سے تخفیف کر لیتے ہیں۔ ایک جاننے والے مماتی دیوبندی صاحب جو بریلوی کے نام ہی سے نفرت کرتے ہیں، ان سے بہ طور شرارت یہ بات ہوتی رہی ہے کہ آپ کے آبا اور دادا مشرک تھے، تو شرعاً آپ ان کے وارث نہیں ہو سکتے، ان کی وراثت پر کیوں ناجائز قبضہ کر رکھا ہے آپ نے، ان کی وراثت ان کے مذہب کے لوگوں کا حق نہیں بنتا کیا؟

ایک اور صاحب جو اپنےمشرف بہ اہلِ حدیث ہونے کا قصہ بڑے فخر سے سناتے ہیں، بھی بریلویوں کو مشرک مانتے ہیں، البتہ اپنے بریلوی والدین کو رعایت دیتے ہیں،ان کو مشرک ماننے سے انکاری ہیں۔ لوگ بریلویوں سے کیسے دیوبندی اوراہلِ حدیث ہوتے آئے ہیں؟ مسجدیں کیسے بریلویوں سے اہلِ حدیث اور دیوبندی بنتی رہی ہیں، یہ قصہ بھی بڑا دل چسپ ہے۔ مثالیں تو یقیناً موجود ہوں گی ، لیکن میں اپنے مشاہدے کی بات کر رہا ہوں۔

میں ایسے کسی ایک بھی شخص کو نہیں جانتا، جو دیوبندی یا اہل ِحدیث سے بریلوی بنا ہو، لیکن ایسے بیسیوں لوگوں کو جانتا ہوں جو بریلویوں سے دیوبندی یا اہلِ حدیث ہوئے، ایسی بیسیوں مسجدوں سے بھی واقف ہوں، جو بریلوی سے دیوبندی یا اہلِ حدیث بن گئیں، اور ایک بھی ایسی مسجد سے واقف نہیں ہوں ، جو اہلِ حدیث سے دیوبندی یا بریلوی بنی ہو۔ کئی مسجدوں کے آثار تو پکار پکار کر ان کے بریلوی ہونے کی گواہی دیتے ہیں، لیکن ان بے چاریوں کو مشرف بہ دیوبندیت یا اہلِ حدیثیت کرلیا گیا ہے۔ مثلاً ہمارے آبائی علاقے گکھڑ (گوجرانوالہ) میں جی ٹی روڈ پر ایک مسجد ،مسجد شاہ جمال کے نام سے ہے،اب یہ مولانا سرفراز صفدرمرحوم کے اخلاف کے پاس ہے۔ اس مسجد کا نام اور اس کے ساتھ کسی بابے شاہ جمال کا دربار( جس پر آج بھی ایسے ہی بریلوی میلہ لگتا ہے، جیسے عام دیہاتی نوعیت کے بریلوی درباروں پر لگتا ہے) اس کے بریلوی ہونے کی ناطق شہادت ہے۔۔گکھڑ، وزیر آباد ، گوجرانوالہ کی بہت سی مسجدوں کی ایسی ہی تاریخ میں دکھا سکتا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ برصغیر کے لوگوں کا عمومی یا فطری مذہب بریلوی یا بریلویوں جیسا ہی ہے، اس لیے عرض کیا تھا کہ دیوبندی اور اہل حدیث مذاہب اس فطری مذہب سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ (ویسے مجھے ذاتی طور پر برصغیر کے اس نوعیت کے سنیوں کے خود کو بریلوی کہلانے پر تحفظات ہیں، اس طرح انھوں نے خود کو محدود کیا اور اپنے اوپر ظلم کیا ہے، جس کی بنا پر دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کو ان کے بندے توڑکر اپنے مذاہب میں داخل کرنے میں زیادہ کامیابی ملی ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *