لڑکیاں جو پڑھ جائیں۔۔۔۔خلیل رونجھو

لسبیلہ یونیورسٹی کے گزشتہ کانوکیشن میں ضلع لسبیلہ کے جہاں سات نوجوان گولڈ میڈل حاصل کر پائے، ان میں قابل فخر بات یہ ہے کہ ان میں تین لڑکیاں شامل ہیں جن کا تعلق اوتھل سے ہے۔ تعلیم کے حوالے سے بدلتے لسبیلہ کی اچھی خبریں یہ ہیں کہ لس بیلہ یونیورسٹی ضلع لسبیلہ میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اب زیر تعلیم ہیں جو لسبیلہ کے مستقبل کا ایک بہترین انسانی اثاثہ ہیں۔ بیلہ، حب اور اوتھل کے گرلز کالج کے علاوہ ہائی اسکول اوتھل کی ہائی سیکنڈری کلاسز میں 123 اور گزلز ہائی اسکول وندر کی ہائیر سیکنڈری کلاسز میں 53 طالبات زیر تعلیم ہیں جو کہ مشن پڑھے گا لسبیلہ، پڑھے گا لسبیلہ کے لیے اچھی خبریں ہیں۔

اس کے علاوہ مجھے زیادہ خوشی تب ہوئی جب میں نے فیلڈ وزٹ کے دوران بوائز ہائی سکول گوٹھ رمضان، لاکھڑا،گوٹھ یونس، عارف والا اور وایارہ کے ہائی اسکول کی کلاسز میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو لڑکوں کے ساتھ پڑھتے دیکھا۔ یقیناًان بچیوں اور ان کے والدین نے گرلز پرائمری و مڈل اسکولوں سے پڑھائی کے بعد اپنی مزید تعلیم کو بوائز اسکول میں جاری رکھنے کو کوئی عیب نہیں سمجھا اور اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ یہ تمام والدین خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنی لڑکیوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق کی فراہمی کو ممکن بنایا۔

tripako tours pakistan

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں سازگار ماحول مہیا کرنے کے لیے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، آج پوری دنیا میں عورتوں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، جس میں تعلیم ایک اہم شعبہ ہے جس میں زیادہ طاقت سے بات کی جا رہی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔

لسبیلہ میں یکم مارچ سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس وقت محکمہ تعلیم کی طرف سے اسکولوں میں داخلہ مہم زور و شور سے جاری ہے جس کو لسبیلہ میں کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے۔ جن میں ایجوکیشن سپورٹ پروگرام، این آر ایس پی، وانگ، او ایس ڈی آئی، این سی ایچ ڈی و دیگر شامل ہیں، جس میں لسبیلہ میں کوئی تیرہ ہزار کا ٹارگٹ سیٹ کیا گیا ہے۔ یقیناً اس میں آدھی تعداد بچیوں کی ہونی چاہیے۔ اس مہم کو بنانے کے لیے والدین ، سول سوسائٹی کے نمائندگان، میڈیا، سیاسی رہنما سمیت اساتذہ کرام بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں دیہی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں نما گوٹھ اور شہری علاقوں میں محلے یا کالونیاں ہیں جہاں پر ہمیں ایک چھوٹے سروے کے ذریعے فوری اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان علاقوں کے کتنے بچے اسکول سے باہر ہیں اور کس کس کے بچے اسکول نہیں جاتے تو ہم فوری طور پر شعور و آگہی کی سرگرمیوں کے ذریعے کسی نہ کسی طرح والدین کو قائل کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کی کسی قریبی اسکول میں داخلہ کروائیں۔

لسبیلہ میں اس وقت 663 سرکاری اسکول ہیں جن میں 459 لڑکوں اور لڑکیوں کے 204 ہیں۔ بلوچستان کے باقی اضلاع کی طرح لسبیلہ میں اس وقت لڑکیوں کی تعلیم کو چیلنجز کا سامنا ضرور ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اسکول دور دراز ہونے کے باعث قریبی علاقوں کی کم سن بچیاں دور تک پیدل نہیں جا سکتی ہیں۔ اگر پرائمری کلاسز پاس بھی کر لیں تو بہت سارے علاقوں میں مڈل سکول نہیں۔ اگر کہیں مڈل اسکول دستیاب ہیں تو پھر ہائی سکول قریب نہیں۔ لسبیلہ کے قصبہ لاکھڑا، سونمیانی، کنراج میں لڑکیوں کے لیے کوئی ہائی اسکول نہیں۔

ضلع میں خواتین اساتذہ کی تعداد پوری نہیں ہے، جو اساتذہ موجود ہیں وہ طلبہ کی اپنی بڑی تعداد پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز نہیں کر پاتی ہیں جس کی بڑی وجہ عرصہ دارز سے آسامیوں کا خالی ہونا ہے۔ لسبیلہ میں بھی بلوچستان بھر کی طرح بہت سارے لڑکیوں کے اسکول میں واش رومز و چاردیواری، صاف پینے کے پانی کی سہولیات کی عدم موجودگی ہے۔ اس کے ساتھ اسکولوں تک رسائی کے لیے ٹرانسپورٹیشن کی عدم فراہمی کے بھی شدید مسائل ہیں جس کی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

لس بیلہ میں لڑکیوں کی تعلیم کو ممکن بنانے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیں اور ان کے لیے تعلیم کی رسائی کو آسان بنائیں۔ ان کو سیکھنے و سکھانے کے مواقع فراہم کریں۔ ان کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر اس اقدام کو ضرور سپورٹ کریں جس میں تعلیم کی بہتری کی گنجائش ہو۔ کیوں کہ کہتے کہ لڑکیاں پڑھ جائیں تو نسلیں سنور جائیں۔ لسبیلہ میں غیرسرکاری تنظیم وانگ گزشتہ کئی سالوں سے بین الاقومی ادارہ برٹش کونسل کے تعاون سے علم پاسبیبل پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے جس میں بچوں کو تعلیمی اداروں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے موبلائیزیشن و ایڈوکیسی کی جاتی ہے۔ بچیوں اور بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے تعلیمی رضاکاروں کا بہت کلیدی کردار ہوتا ہے۔ وانگ بیلہ میں ٹرینڈ نوجوانوں کی ایک بڑی فورس کے ذریعے محکمہ تعلیم لسبیلہ کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ اس سال کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے میں آسانی ہو سکے۔

Advertisements
merkit.pk

علاوہ ازیں داخلہ مہم کے بعد اسکولوں میں بچوں کی دلجمی کے لیے لسبیلہ کے اسکولوں میں اسکول آف لیڈرشپ اور برٹش کونسل کے تعاون سے دوستی پروگرام کے ذریعے کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ اسکولوں کو اس طرح دوستانہ بنایا جائے جہاں کھیل کھیل کے ذریعے تعلیم کا فروغ ممکن ہو سکے، جس میں وانگ نے بیلہ کے منتخب سولہ اسکولوں میں دوستی اسپورٹس کٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ یقنیایہ چھوٹی چھوٹی کوششیں ہیں جن سے لسبیلہ کے اندر ایک ایسے تعلیمی ماحول کو تشکیل دیا جا رہا ہے جہاں کمیونٹی کے افراد، نوجوان، اساتذہ اور دیگر تعلیمی دوست اپنے آپ کو بطور تعلیمی ایمبسیڈر پیش کریں اور تعلیمی بہتری کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply