عظیم و معتبر خواتین۔۔۔۔علینا ظفر

8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں جدو جہد، محنت اور کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئےہمت و حوصلہ افزائی کا جذبہ بیدار کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خواتین کے لیے بہت سے پیغامات موجود ہیں۔ اللہ نے چند خواتین کے کردار کی مثالیں قرآنِ حکیم میں درج فرما کر عورتوں کو تعلیمات دی ہیں۔ قرآن مجید اُن خواتین کا حوالہ دے کر کچھ واقعات بیان فرماتا ہے جن کے کردار کو سمجھ کر ہم نے اپنی زندگیوں میں اپنانا ہے۔ان خواتین کی سیرت و شخصیت کا مطالعہ ہمارے لیے آج کے دور میں بھی مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔اللہ نے قرآن میں دو طرح کی خواتین کا ذکر فرمایا ہے۔ جہاں قرآن میں بڑی عظیم عورتوں کا ذکر ہے وہاں ایسی خواتین کا بھی تذکرہ ملتا ہے جو خسارہ پانے اور نقصان اٹھانے والوں میں تھیں تاکہ ہم اُن سے یہ سیکھ سکیں کہ ہم نے زندگی میں کس طرح اور کن مثبت باتوں کو اختیار کرنا ہےاور کون سے منفی کاموں سے کیسے محفوظ رہنا ہے۔

قرآن حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے جنت سے نکالے جانے کا واقعہ بیان فرماتا ہے۔ جب اماں حواؑ کو شیطان نے ورغلایا تو بہکاوے کی صورت انہیں جنت سے خارج ہو جانے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہاں اللہ تعالی نے یہ واقعہ بیان فرما کر عورت کو تعلیم دی کہ اپنی اور اپنے شوہر کی آبرو، عزت اور گھر کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کسی غیر متعلقہ شخص کو اپنے معاملات میں مدخل ہونے کی اجازت نہیں دینی اور اُلٹے سیدھے مشوروں پہ عمل کر کے اس کا کہنا نہیں ماننا۔ اس واقعہ میں پردے کی بھی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ اللہ سب سے زیادہ پردہ کو پسند فرمانے والا ہے، جو لوگ با پردہ ہیں وہ اللہ کی سنت پر ہیں۔قرآن میں پیغمبر حضرت نوحؑ کی زوج کا ذکر آیا کہ وہ ڈوبنے والوں میں تھی۔پیغمبر حضرت لوطؑ کی بیوی کے لیے فرمایا گیا یہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے کہ جو حق کے بجائے اپنی قوم کے ساتھ جا کھڑی ہو ئی۔ قرآن ہر حال میں حق و سچ پر رہنے کی تاکیدفرماتاہے کہ جو حق کو چھوڑے ہوئے ہو آپ نے اُس کا نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینا ہے۔

ہماری بہت سی بہنیں اور مائیں کٹھن حالات اور اسباب سے گھبرا کر بہت جلد مایوس اور نا امید ہو جاتی ہیں۔ میرے استادِ محترم فرماتے ہیں کہ ہم اسباب پہ نگاہ رکھتے ہیں مگر مسبب الاسباب کو فراموش کر دیتے ہیں۔ جبکہ آپ نے اسباب کو نہیں بلکہ مسبب الاسباب کو دیکھنا اور اُس سے رجوع کرنا ہے۔ قرآن میں پیغمبر حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی زوجہ حضرت سارہ ؑ کا ذکر ہے۔ جب فرشتوں نے ان کو بیٹے کی نوید دی تو فرمایاکہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں اور میرا شوہر بھی، میرےہاں اولاد کیسے ہوگی؟ فرشتوں نے کہاکہ اللہ کے لیے سب کچھ ممکن ہے جیسا چاہے، جب چاہے، وہ کر سکتا ہے۔خواتین کو یہاں اسباب کی وجہ سے بد دل ، مایوس و نامراد نہ ہو نا اور اپنے مالک یعنی اللہ تبارک و تعالی سے جُڑے رہنے،اُس پر توکل اور بھروسہ کرنےاور اُسی سے مانگنے کا سبق دیا گیاہے۔

حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری زوجہ حضرت ہاجرہؑ کا تذکرہ قرآن میں آیاہے جوفرمانبرداری ءاللہ میں بہترین کردار ہیں۔اپنے چھوٹے معصوم بچے کے ساتھ صحرا میں ایک ویران جگہ موجود ہیں، آپؑ کے شوہر فرماتے ہیں اللہ کا حکم ہے کہ میں تمہیں یہاں چھوڑجاؤں جس پر وہ راضی با رضا ہوجاتی ہیں۔وہ ایک مومنہ شخصیت کا کردار بھی ہیں جوبچے کے ساتھ کسی ایسی جگہ موجود ہیں جہاں بیابان ہے ، آبادی نہیں اور نہ پانی دستیاب ہے لیکن اللہ پر کامل یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ انہیں اور اُن کی اولاد کو تنہابے یار و مددگار نہیں چھوڑے گا ۔ وہ اولاد کی خاطر پانی کی تلاش میں دوڑ تی ہیں تو اللہ انہیں بیٹے اسمعیل ؑکی ایڑھیوں سے بطور انعام وہ پانی آبِ زم زم عطا فرما دیتا ہے جو تا قیامت بہتا رہے گا۔اللہ رب العزت کو اپنی اُس محبوب بندی کا یہ فعل اتنا پسند آیا کہ اُسے عبادت کا حصہ بنا دیا، جس کو عمرہ میں سعی کہتے ہیں۔ اللہ نےیہ سمجھایا کہ وہ کبھی کسی کی محنت رائیگاں نہیں کرتا ،محنت کا صلہ لازمی دیتا ہے۔

علامہ اقبال ؒ کا شعر ہے؛

یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیلؑ کو آدابِ فرزندی

جب حضرت ابراہیمؑ بیت المقدس سے لوٹ آئے اور فرمایا کہ اللہ کا حکم ہے اسمعیلؑ کو ذبح کرنا ہےتو اسمعیلؑ نے فرمایا کہ اگر اللہ کی یہ مرضی ہے تو میں حاضر ہوں۔یہ باپ کی فرمانبرداری اور آپؑ کے دل میں باپ کی محبت تھی جو والدہ حضرت ہاجرہؑ نےپیدا کی۔سب سے بڑا مکتب ماں ہوتی ہے، اگر وہ اولاد کی تربیت درست انداز میں کرے تو وہ نیک پاکباز بھی ہو سکتی ہیں ، فرمانبردار اور باپ سے محبت کرنے والی بھی ۔

ہمارے ہاں بہت سی خواتین جب کام کاج کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں تو بے شمار لوگ خواتین پہ معترض ہوتے ہیں۔ خواتین معاشرے کے اس رویے پر احساسِ جرم کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ ان خواتین کا احترام کیجئے کیونکہ یہ اجازت تو انہیں اللہ قرآن میں حضرت موسیؑ کے دور کی خواتین کا واقعہ بیان کر کے دے رہا ہے۔ جب وہ حضرت شعیبؑ کے علاقے میں ایک کنوئیں پہ پہنچے تو دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں جن میں دو لڑکیاں بھی اپنے جانوروں کو پانی پلانے وہاں آئی ہیں لیکن کوئی اُن کے جانوروں کو پانی نہیں پینے دے رہا تو موسیؑ نے اُن کے جانوروں کو پانی پلایا۔اس واقعہ میں خواتین کے لیے رہنمائی موجود ہے کہ ایسی خواتین جن کے نان نفقے کا مکمل طور پہ بندوبست نہیں ہے یا ایسے حالات ہیں کہ گھر کا کوئی مرد کمانے والا نہیں ہے ، باپ بوڑھا ہے ، بھائی نہیں ہے ، اپاہج یا بیمار ہے، وہ باہر نکل کے اپنی روٹی روزی کا بندوبست اور کام کر سکتی ہیں۔وہ لوگوں کے اعتراض کرنے ، ٹانٹنگ سے متاثر ، خوفزدہ مت ہوں اور استقامت کے ساتھ اپنے کام پہ لگی رہیں ۔کسی قسم کی مشکلات پیش آئیں تو نہ گھبرائیں کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ خاتون باہر نکلے اور اُس کو دقتیں اور پریشانیاں نہ آئیں۔موسیؑ کے اس واقعہ میں عورتوں کے لیے ہمت بڑھانے کو یہ پیغام بھی پنہاں ہے کہ جب پانی کے لیے اُن لڑکیوں کی باری نہیں آ رہی تھی تو وہ گھبرائیں اور نہ ہی اپنے جانور لے کر واپس گئیں۔

ہمارے ہاں اگر خدانخواستہ کسی خاتون یا لڑکی پر کوئی الزام یا تہمت لگ جائے تو وہ لمحہ اُس کے لیے انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے ۔ اکثر خواتین تو تنگ آ کر اپنی جان ہی لے لیتی ہیں۔ قرآن میں موجود پیغمبر حضرت عیسیؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کا کردار ایسی خواتین کے لیے بہت حوصلہ افزاء ہےجنہوں نے اپنی پاکیزگی زمانے پر ثابت کی۔ جب آپؑ پر تہمت لگی تو گھبرا کر بے صبر نہیں ہوئیں بلکہ ہمت و استقلال سے زمانے کا سامنا کیا۔ اللہ تعالی نے ہمیں اُن کے قصے کو بیان فرما کر یہ سمجھایا ہے کہ جب اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہو تو دلبرداشتہ ہو کر خود کشی نہیں کر لینی،ڈیپریشن میں نہیں چلے جانا بلکہ اللہ پہ پختہ یقین رکھتے ہوئے حالات اور زمانے کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہ سب مثالیں ہیں جوقرآن میں ہماری ہدایت، تعلیم اور اصلاح کے لیے درج کی گئی ہیں۔اللہ نے خواتین کے قیمتی کردار بیان فرمائے ہیں۔ ان میں ایک بھی ایسا کردار نہیں ہے کہ پروردگارِ عالم نے اس میں ہمارے لیے رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ خواتین کے لیے ان میں فرمانبرداری ء خداوند، فرمانبرداریء شوہر ، بہادری و بے خوفی ، مسائل مصائب سے نہ گھبرانا، مستقل جدوجہدو محنت ، اولاد کی پرورش اور تربیت، اور قربانی کے متعلق تعلیمات موجود ہیں۔ ہمیں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ مشکل ترین مرحلہ میں بھی اللہ کی مرضی پیشِ نظر رکھی جائے تو اللہ اعزازات اور انعامات سے نوازتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں خواتین، ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں اِن عظیم و معتبر مثالی کرداروں کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنا شروع کر دیں تو اخلاق کے اعلی ترین معیار پہ فائز ہو کر سب خواتین فلاح پا لیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *