• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حولدار عبدالرب،نائیک خرم اور دوسرا ماڈل۔۔۔محمد اظہار الحق

حولدار عبدالرب،نائیک خرم اور دوسرا ماڈل۔۔۔محمد اظہار الحق

میرے سامنے دو ماڈل ہیں! کس ماڈل کو آئیڈیل قرار دوں؟ کس کو رد کر دوں؟ پاکستان کی آئندہ نسلوں کیلئے ان دو میں سے کون سا ماڈل مشعل راہ ہو گا؟ پہلا ماڈل حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم کا ہے! دونوں کی لاشیں لائن آف کنٹرول سے آئی ہیں! دشمن نے حملہ کیا تو پاک فوج نے بھر پور جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں حوالدار عبدالرب اور نائیک شہید ہو گئے۔ گولیاں انہوں نے سینے پر اس وقت کھائیں جب وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ یہ عجیب سر پھری قوم ہے کہ دونوں شہدا کے والدین نے فخر سے سر اونچا کرتے ہوئے کہا کہ وہ باقی بیٹے بھی وطن پر قربان کر دیں گے۔ بھارت میں میدان جنگ سے لاش آئے تو ردعمل اور طرح کا ہوتا ہے!جس میں جھنجھلاہٹ ہوتی ہے اور غم و غصہ! پاکستانی مائیں ایک اور مٹی کی بنی ہوئی ہیں ! وہ الحمد للہ کہتی ہیں اور باقی بیٹوں کو محاذ جنگ پر بھیجنے کا اعلان کر دیتی ہیں! یہ روایت‘ یہ الحمد للہ کہنے کی ریت‘ یہ باقی بیٹوں کو بھی قربان کرنے کا عزم۔ اس سب کا منبع کہاں ہے؟ یہ روایت‘ یہ ریت‘ یہ عزم۔ مسلمانوں کے خون میں شامل ہے۔ بوسنیا کا یورپ زدہ مسلمان ہو یا عرب کے صحرا کا فرزند یا پاکستان کا سپوت۔ یہ سب مسلمان بیٹوں کی شہادت پر یہ شکوہ نہیں کرتے کہ ہم تباہ ہو گئے۔ یہ کلچر سرحد پار کا ہے۔ سرحد کے اس طرف ایسا نہیں ہوتا اس کا منبع احد کا میدان جنگ ہے۔ جب احد کے میدان میں لڑائی نے پانسہ پلٹا اور مسلمانوں پر کٹھن وقت آیا تو ایک مرحلے میں یہ افواہ اڑ گئی کہ آقائے دوجہاںؐ شہید ہو گئے۔ ایک انصاری صحابیہ یہ سن کر عالم اضطراب میں گھر سے نکلیں اور میدان جنگ کی طرف چل دیں۔ راستے میں باپ کے شہید ہونے کی خبر ملی سن کر‘ اس خبر کو کوئی اہمیت نہ دی۔ بے تابی سے پوچھا اللہ کے رسولؐ کیسے ہیں؟ کچھ اور آگے گئیں تو شوہر کی ‘ پھر بھائی کی شہادت کا سنا مگر سوال ایک ہی پوچھے جا رہی تھیں کہ آپؐ سلامت ہیں یا نہیں؟ میدان جنگ پہنچیں معلوم ہوا آپؐ سلامت ہیں۔ کہا میں نے اپنی آنکھوں سے آپؐ کو سلامت دیکھنا ہے۔ دیکھا تو کہنے لگیں آپ سلامت ہیں تو ہر مصیبت آسان ہے! لائن آف کنٹرول سے جن شہیدوں کے خاکی جسد گھروں کو لائے جاتے ہیں‘ ان کی مائیں اسی انصاری صحابیہ کی بیٹیاں ہیں۔ سرحد پار چھاتیوں پر دو ہتھڑ پڑتے ہیں۔ بین ڈالے جاتے ہیں مگر مسلمان عجیب قوم ہے! دہانے سے آگ اگلنے والا طارق فتح دو دن پہلے ایک بھارتی چینل پر یہی تو رونا رو رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ مصیبت یہ ہے کہ یہ مسلمان مرنے کے بعد‘ دوسری زندگی پر یقین رکھتے ہیں جب کہ تم (یعنی بھارتی) صرف اسی زندگی کو آخری منزل سمجھتے ہو! تم ان سے کیسے لڑو گے؟ طارق فتح یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ ہندو کی پلیٹ سے کوئی غیر ہندو کھانا نہیں کھا سکتا۔ کوئی اور کھائے تو پلیٹ توڑ دیتا ہے۔ وہ الٹ بتا رہا تھا کہ مسلمانوں کو شروع سے بتایا جاتا ہے کہ ہندوئوں کے ساتھ نہیں کھانا! کون سی گالی ہے جو طارق فتح پاکستان کو اور پاکستانیوں کو نہیں دے رہا! بھارتی چینل اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں! مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے فوراً بعد نعوذ باللہ ‘ ذاتِ اقدس کی شان میں بے ادبی کرتا ہے! عجیب ستم ظریفی ہے کہ اس طارق فتح کے ویڈیو کلپ پاکستان میں بھی کچھ ’’دانشور‘ پھیلا رہے ہیں! طارق فتح کے ان مبلغوں میں ایک صاحب ایسے بھی ہیں جو حال ہی میں پاکستان اکادمی ادبیات کے چیئرمین کے منصب پر مکمل معیاد ٹھاٹھ سے گزار کر ریٹائر ہوئے ہیں! جس ملک نے اس عہدے پر فائز کیا‘ اسی ملک کے جانی دشمن کے ویڈیو کلپ ہر اس شخص کو بھیج رہے ہیں جس کے ساتھ سوشل میڈیا پر ان کا رابطہ ہے! اس کالم نگار نے فون کر کے پوچھا کہ یہ کیوں بھیج رہے ہیں۔ جواب تھا For Warded as received پوچھا۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ آپ جس کلپ کو جس پوسٹ کو فارورڈ کرتے ہیں وہ اینٹی پاکستان ہوتا ہے؟ جس ملک نے اونچے مناصب پر پہنچایا اسی ملک کے ساتھ دشمنی! بھارت کے ان نہفتہ عشاق کو کیا معلوم نہیں کہ احسان جعفری کے ساتھ مودی کے گجرات میں کیا ہوا؟ جعفری الیکشن میں مودی کے مقابلے میں کھڑا ہوا تھا۔ بیس ہزار بلوائیوں نے اس کے گھر پر حملہ کیا پہلے اس کے ہاتھ کاٹے‘ پھر بازو ۔ اس کے گھر میں سینکڑوں مسلمان پناہ لئے ہوئے تھے‘ سب کو قتل کیا پھر اس کے گھر کو ایک بار نہیں درجنوں بار جلایا۔ راکھ کی چٹکی لے کر جعفری کے بچوں نے قبرستان میں دفن کی۔ جعفری کی بیٹی کے ویڈیو کلپ اکادمی ادبیات کے سابق چیئرمین کو نہیں نظر آتے مگر طارق فتح کی آگ اور نفرت سے بھری تقریریں وہ پھیلا رہے ہیں۔ قائد اعظم سے لے کر سندھ کے مسلمانوں تک پاکستانی عساکر سے لے کر پاکستانی وزیر اعظم تک۔ طارق فتح سب کو گالیاں دے رہا ہے سب کا تمسخر اڑا رہا ہے اور پاکستان کی چاندنی پاکستان کی دھوپ اور پاکستان کی ہوا میں نشو و نما پانے والے کچھ افراد طارق فتح کے مبلغ بنے ہوئے ہیں۔طارق فتح کے پسندیدہ ملک میں ہوتے تو کیا بھارت کی اکادمی ادبیات کے چیئرمین بنائے جاتے؟ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ان صاحب کو جس سابق حکمران نے اعلیٰ منصب پر بٹھایا‘ اسی سابق حکمران کی بیٹی کے بارے میں طارق فتح کہتا ہے کہ پاکستان میں اگر کوئی بہادر ہے تو وہی ہے! یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ اسی طارق فتح کی پاکستان دشمنی کو یہ صاحب پھیلا رہے ہیں۔ صاحبزادی کی تعریف کرنے کے بعد اسی سانس میں طارق فتح کہتا ہے’’ہمارے لئے ہندوستان زیادہ اہم ہے یہ دس ہزار سال کی تہذیب ہم ایسے نہیں جانے دیں گے‘‘ جسے شک ہو اس آتشیں دہن سے نکلے ہوئے آگ کے شعلے خود دیکھ لے۔ شاید ہی کوئی پاکستانی سننے کی تاب رکھے! ایک ماڈل حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم کا ہے۔ دوسرا ماڈل حسن نوازاور حسین نواز کا ہے جو لندن میں مقیم ہیں! جو ان محلات میں رہ رہے ہیں جن کی منی ٹریل کرپشن کے دھندلکوں میں گم ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک معروف پاکستانی بنک کی نیو یارک برانچ کیوں بند کی گئی؟ کس کی منی لانڈرنگ کے سبب؟ اس مشہور بنک کے کسی بھی سینئر افسر سے پوچھ لیجیے۔ یہ صرف لندن کی جائیداد نہیں! اور بھی بہت کچھ ہے! جس ملک کی بقا کے لئے حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم جیسے سورما سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں‘ اس ملک سے لوٹی ہوئی دولت پر حسن نواز اور حسین نواز لندن میں داد عیش دیتے ہیں! باپ فخر سے سینہ تان کر بتاتا ہے کہ وہ تو پاکستانی شہری ہی نہیں! ان پر تو پاکستانی قوانین کا اطلاق ہی نہیں ہوتا! باپ جیل میں ہو یا ملک جنگ میں ۔ ان کا وطن وہی ہے جہاں ان کا دَھن ہے! ہر پاکستانی کو اختیار ہے کہ دونوں میں سے جو ماڈل چاہتا ہے‘ اپنا آئیڈیل بنا لے۔ حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم والا ماڈل! یا حسن نواز اور حسین نواز والا ماڈل! اور اے اہل پاکستان! ان تیرہ بختوں سے ہوشیار رہو جو اسی تھالی میں چھید کر رہے ہیں جس سے کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ رہے ہیں! آر ایس ایس اور بی جے پی نوجوت سدھو کو پاکستان بھیجیں تو طارق فتح کے ان متوالوں کو اور ان کے حمایتیوں کو تم بھی بدلے میں وہاں بھیج دو جہاں انہیں سارا ہرا نظر آتا ہے ؎ میری وفا فریب تھی میری وفا پہ خاک ڈال تجھ سا ہی تجھ کو باوفا کوئی ملے خدا کرے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *