آپ بیتی: گیارہ پنکچر اور ہمارا روزہ ۔۔۔ عبداللہ خان چنگیزی

قصہ کچھ یوں ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور گرمی اپنے زوروں پر تھی جس کی وجہ سے پیاس سے بھی بُرا حال ہو چکا تھا۔ پاکستان کی بجلی کی مثال نہیں دوں گا کیونکہ ہم سب اِس قیمتی سرمائے سے شاذ و نادر ہی مستفید ہوتے ہیں، دو گھنٹوں تک ہمارے علاقے میں سالوں سے جاری رواں دواں ایک صاف و شفاف ندی میں نہاتے اور ڈبکیاں لگانے کے باوجود “جس کا پانی بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے گرمائش لئے ہوئے تھا” جب حالت نہ سنبھلی تو ہم اپنے جگری دوست اور کزن کے ساتھ اپنے ایک دور کے رشتہ دار سے ملنے ایک پہاڑی علاقے کو چل پڑے۔ یوں تو سواری کے لئے گاڑی بھی موجود تھی وہ بھی  92 ماڈل مگر ہم نے ہُنڈا کے 70 سی سی والے گھوڑے کا انتخاب کیا۔ گھوڑا بولے تو  موٹرسائیکل جو کہ کم خرچ پر بھی جانے کو راضی ہوجاتا ہے۔ علاقہ ذرا دور تھا مگر مغرب کی اذان میں کافی وقت تھا یعنی افطاری میں یہی کوئی سات گھنٹے۔  بسم اللہ پڑھ کہ بائیک کو کِک ماری اور ہوا ہوئے۔  چلتے چلتے راستے میں سنسناتی ہوا میں نمایاں تبدیلی محسوس ہونے لگی۔  وہ جو حُبس سا تھا اُس کی جگہ ہلکی ہلکی سی خُنکی لینے لگی۔  بلند بلند پہاڑ نگاہوں کے سامنے گزرتے رہے جن کی ہریالی کے نظاروں میں گُم ہو کر ہمیں وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا۔ ایک جگہ  پہنچے تو اردگر کے ماحول میں بارش برسنے کے بعد گیلی مٹی کی مہک محسوس کی اور دل خوش ہوگیا۔ اِسی خوشی میں سرشار ہم آگے بڑھتے گئے۔  پیاس کی تکلیف بھی کچھ کم ہوئی جو شاید موسم اور آب و ہوا میں نمی کی وجہ سے ہوا تھا۔ سڑک کچھ کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اس لئے زیادہ رفتار سے جانا مہنگا پڑ سکتا تھا۔ جو لوگ موٹر سائیکل کے سواری کے شوقین ہیں اُن کو معلوم ہے کہ سڑک کے کھڈوں میں اگر بائیک تیزی کے ساتھ گزاری جائے تو ٹائر پنکچر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔  تقریباً چالیس منٹ کے سفر کے بعد ہم ایک چھوٹے سے دریا یا  تیز رو   ندی کہہ لیجیے، کے قریب پہنچے۔ ہم نے بائیک ایک جانب کھڑی کی اور ظہر کی نماز ادا کرنے کے لئے مناسب جگہ دیکھنے لگے۔ وہاں اِس ندی کے ساتھ ہی سبزازار تھے سو ہمیں نماز ادا کرنے میں کوئی دشواری پیش نا آئی۔  نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہمارا سفر پھر سے شروع ہوگیا۔  کوئی دس منٹ کے بعد ایک چھوٹے سے گاؤں نے ہمارا استقبال کیا۔ گاؤں کیا تھا بس پہاڑیوں کے وسط میں کچھ  گھر تھے  اور سڑک کے کنارے کچھ کریانے اور دوسری دکانیں تھیں۔ ہم نے ایک “پنکچر” والا بھی دیکھا جو کسی ڈاٹسن کے ٹائر کو ریم سے نکالنے میں مشغول تھا۔ چونکہ جدید مشینری اِس علاقے میں ابھی تک نہیں پہنچی تھی لہذا   پنکچر لگانے والا ٹائر کے ساتھ خوب دھینگا مشتی کر رہا تھا۔  ہم نے ایک نظر اُس قابلِ تحسین اور باہمت شخص پر ڈالی اور آگے بڑھ گئے۔
اگر کسی کو اپنی موت کا وقت اور مقام معلوم ہو جائے تو وہ کبھی اُس طرف زندگی میں نا جائے مگر قدرت نے یہ قوت انسان کو نہیں بخشی۔ شاید اِسی وجہ سے انسان  اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے بےخبر ہر سمت بھاگتا دوڑتا رہتا ہے۔  ہم بھی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ بس کچھ ہی فاصلہ رہ گیا تھا جو ہم نے نہایت خوشگوار ماحول میں طے کیا۔  اپنے رشتہ داروں کے پاس پہنچے تو بہت خوشی اور مسرت سے ہر ایک کے ساتھ گلے ملے۔ گلے ملتے ہوئے یہ صاف محسوس ہوا کہ یہاں اِن پہاڑوں میں وہ اُنسیت اور بھائی چارہ و محبت ابھی بھی زندہ ہے جو شہروں میں   قدرے ختم ہو چکا ہے۔ سب لوگ بہت پیار و محبت سے ملے اور خوب گپیں ہانکی گئیں۔ پرانی  سے پرانی  یادوں کو تازہ کیا گیا اور اُن یادوں میں موجود مزاح کو ایک بار پھر جوانی بخشی گئی جو ہمارے لئے اکسیر ثابت ہوا۔  ہمارا موڈ اُس تازہ کمسِن کلی کی طرح کِھل گیا جو ابھی تک غیر کے ہاتھوں سے محفوظ رہی ہو۔ اُن کے ساتھ رہتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نا رہا کہ اچانک میرے دوست کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ وہ محفل سے اُٹھا اور بیٹھک سے باہر چلا گیا۔ اس لمبے  میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی پُرخلوص محفل میں کھو یا ہوا تھا۔  کچھ ہی دیر میں میرا کزن اندر آیا اور کہنے لگا کہ کچھ ضروری کام پیش آیا ہے اور جانا نہایت ضروری ہے۔ ہمارا  واپسی کا دل تو نہیں کر رہا تھا  مگر وہ کیا کہتے ہیں کہ پٹھان کبھی اپنے دوست کے ساتھ غداری نہیں کرتا اسے راستے میں نہیں چھوڑتا۔  اِس فقرے پر ہم نے اُس وقت چار حروف مسلم بھیجے “جو “ل” سے شروع ہو کر “ت”  پر  ختم ہوتے ہیں۔ خیر چار و ناچار ہم نے نہایت افسردہ چہروں کے ساتھ میزبانوں سے رخصت چاہی۔  اُن زندہ دل لوگوں نے نہایت بددلی سے اجازت دی جس کا دورانیہ پندرہ منٹ کے بحث و تکرار پر مشتمل تھا۔ میزبان ہمیں الوداع کہنے پر راضی نہیں تھے۔ شاید اُن کے ذہنوں میں رات کو کسی بکرے یا بکری کے گلے پر چُھری چلانے کا پروگرام تھا۔ تکہ شکہ بننا تھا ضیافت کے مزے اُڑانے تھے مگر افسوس کہ اِس الو کے پٹھے “کزن” کی وجہ سے ہم اُس ضیافت سے محروم ہو گئے۔  میرے دل سے ایک کمینی سی بددُعا نکلی۔ اشکبار آنکھوں سے میں نے میزبانوں سے گلے مل کر  ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔  واپسی پر  ہمارے موٹرسائیکل کے دونوں سیف گارڈوں میں دیسی انڈے، تازہ ساگ، ایک عدد ذبح کیا ہوا جنگلی خرگوش اور تقریباً سو گرام خالص چرس لٹک رہے تھے جو ہمیں اُن لوگوں کی طرف سے مہمان نوازی کی سوغات کے طور پر دیئے گئے۔ بالآخر  ہم چل پڑے۔  مغرب کی اذان میں قریباً   دو گھنٹے رہ گئے تھے۔ ہم نے بھی اپنے بائیک کو ہوا کے دوش پر کھلا چھوڑ رکھا تھا۔ جنگلی علاقہ اور دوسری طرف ایسی سڑک جہاں پر کھڈوں اور کچھ گھنٹوں پہلے برسی ہوئی بارش کی نمی نے کیچڑ زدہ ماحول بنا رکھا تھا جس میں بائیک کو کنٹرول کرنا خاصہ مشکل تھا۔  ایسی جگہوں پر ایک قسم کا چھوٹا سا درخت ملتا ہے جس میں لمبے لمبے کانٹے لگے ہوتے ہیں۔  پشتو میں ہم اُسے “کیکر” کہتے ہیں۔ ہماری  شامت  یوں آئی کہ کمینے کیکر کا کوئی کانٹا سڑک پر پڑا ہوا تھا۔  جونہی ہمارا بائیک وہاں سے گزرا پچھلا ٹائر کیکر کا کانٹا اپنے جسم میں ساتھ لیتا گیا اور ایک دم سے گُڑ گُڑ گُڑ کی آواز آنی لگی۔ناصرف  وہی ہوا جس کا ڈر تھا بلکہ وہ جو میری کمینی سی بددعا تھی وہ بھی شاید پوری ہو گئی تھی جو میں نے بار بی کیو کے چھوٹنے کی وجہ سے دی تھی۔ بائیک رک گئی اور ہم دونوں اُتر گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پچھلا ٹائر مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے اور آگے جانے کے قابل نہیں۔ سُنسان علاقہ دوسرا روزے کا مہینہ، نہ آدم نہ آدم زاد۔ میں نے اپنے اُس کمینے کزن کو خونی نگاہوں سے دیکھا اور آگے کے بارے میں پوچھنے لگا۔ جناب نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا کہ موٹرسائیکل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑو اور پیدل مارچ شروع کردو۔  میں نے اسے قتل کرنے والے انداز سے گھورا اور اُس کو پہلی باری کرنے کو کہا۔ اُس نے بائیک پکڑی اور چلتا بنا۔ میں نے سوچا کہ اگر کچھ بندوبست نہ ہوا تو جو ساتھ میں موجود کچے انڈے میزبانوں نے خلوص سے ہمارے بائک کے ساتھ باندھے تھے اس انڈوں میں سے دو تین کو کچا ہڑپ جاؤں گا کیونکہ روزے کی حالت میں اِس طرح کی دھینگا مشتی نے مجھے آدھ مُوا کرکے رکھ دیا تھا۔ چلتے چلتے جب اُس کزن کے بازو شل ہوئے تو عاجزانہ نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ مجھے بھی کچھ ندامت محسوس ہوئی اور آخر  کو میں بھی بائیک کو ہانکنے لگا۔ مغرب کی اذان کو شاید ایک گھنٹہ ہی رہ گیا تھا۔ گاؤں اور دیہاتوں کے لوگ رمضان کے مہینے میں جلدی گھر چلے جاتے ہیں۔  باہر عموماً وہی لفنگے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں جِن کو کھانے پینے کی بجائے نسوار کی چونڈی لگانے کی زیادہ جلدی ہوتی ہے۔

بہت ہی ذلالت کے بعد ہم اُس چھوٹے سے گاوں کے قریب پہنچے جہاں پر وہ پنکچر لگانے والے کی چھوٹی سی دکان تھی۔ اُمید کی ایک کِرن نظر آئی اور ہم میں نیا جذبہ پیدا ہو گیا۔  رفتار میں تیزی آئی اور قریباً دس منٹ کی مزید   خواری کے بعد ہم  اُس دکان کے سامنے کھڑے سکون کا سانس لے رہے تھے۔ وہ آدمی ابھی بھی کسی دوسرے دیو ہیکل ٹائر کے ساتھ کُشتی میں مصروف تھا۔ ہمارا یہ حال تھا کہ زبان خشک اور سینے کا زیرہ بم ایٹم بم کی طرح دھڑک اٹھا تھا۔  کیا خوب گزرا ہمارا سفر۔  معصوم سی ہماری خواہش جو گرمی سے بھاگنے کی تھی کس جہنم کی نظر ہوگئی۔ پنکچر والے نے جو ہماری  حالت دیکھی ا اُس کے ماتھے پر شِکن پڑ گئے اور ہم سے آنے کی وجہ پوچھی۔  بھر پور خواری چہرے پر موجود ہونے کے باوجود میں نے نہایت شگفتہ انداز میں سلام کیا اور سلام کے بعد عرض کیا کہ حضرت ہماری یہ پنکچر والی مشکل اگر جلدی حل ہو جائے تو صدیوں تک نہایت مشکور و ممنون رہوں گا۔  اُس نے ایک نظر جو ہمارے بائیک پر ڈالی تو ایسے بِدکا جیسے ہم نے اُس سے کسی مگر مچھ کے مُنہ میں ہاتھ ڈالنے کی بات کی ہو۔ جواب آیا:

“ممکن نہیں بھائی، نہیں کر سکتا”

ہم نے جو اُس کا جواب سُنا تو ہمارے چہروں پر ہوائیاں اُڑنی لگیں کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی، ہم اتنے دور سے آئے ہوئے اجنبی اور وہ بھی اِس پردیسی گاؤں میں۔ ہم بھی ماننے والے نہ تھے صاحب سے کہنے لگے کہ دیکھو “بھیا جانی” ایک کانٹا ہی تو گُھسا ہے ناں کمبخت ٹائر میں۔ بس وہ نکال کر پنکچر لگا دو ہم دعائیں دیں گے ساری زندگی۔ مگر وہ  جانے انسان تھا یا ڈھکن، ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ وہی ایک ہی رٹ کہ۔۔

“بھائی اپنا وقت ضائع مت کرو میں پنکچر نہیں لگاؤں گا”

میں نے اپنے کزن کی شکل دیکھی اور اُس سے پوچھا کہ میں تو پہلے آیا نہیں کیا تم نے کوئی عین غین تو نہیں کیا اِس بندے کے ساتھ جو آج اُس نے تمھیں پہچان لیا ہو اور آج بدلہ لے رہا ہو؟  کزن نے اپنی محبوبہ کی قسم کھائی  کہ ایسا کچھ نہیں۔ اب  میں پھر سے متوجہ ہوا جناب پنکچر والے کی طرف۔ آخر منت ترلے تک بات پہنچی اور میں دہائیاں دینے لگا، رمضان کے بابرکت مہینے کا واسطہ بھی عبث گیا جس کے جواب میں اُس نے کہا کہ افطار یہیں کرو میرے ساتھ۔ ایک لمحے کو   سوچا شاید بندے کی نیت میں فتور ہے۔ پھر اپنی صورت دیکھی جو اِس قابل ہی نہیں تھی کہ بانکے پن کی چکناہٹ ظاہر ہوتی۔ کزن کو دیکھا،   اسے تو لوگ ویسے بھی جانی لیور کہتے تھے۔ اُس کی تو گنجائش ہی نہیں بچتی تھی۔ خیر میں ایک بار پھر اُس کی طرف بڑھا اور کہا  بھائی آپ ایسا کرو دو سو روپے لے لو  بس ایک پنکچر لگا دو۔ وہ اُس پر بھی  نہیں مانا۔ اُس وقت میں نے خود کو بہت کوسا کہ کیوں اپنے ساتھ اپنے دادا کی ریوالور   نہیں لایا  جو ہم نے آج تک چیک  ہی نہیں  کی۔  آج شاید اِس پنکچر والے پر اُس کی آزمائش بھی ہو جاتی، مگر ہائے رے قسمت کہ ہاتھ خالی تھے۔ ہم دونوں نے بھر پور اصرار کیا، خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیا کہ بھیا آخر وجہ تو بتاؤ  کیوں ٹھیک نہیں کرسکتے آپ ہمارے بائک کے ٹائر کو۔  اُس نے غضبناک  لہجے میں کہا کہ اب اگر اس سے  زیادہ دماغ خراب کیا تو خیر نہیں۔  ہم سہم گئے کہ کہیں بندہ ہتھوڑا وغیرہ نہ مار دے۔ ہم انہی سوچوں میں گُم تھے کہ وہ بول پڑا  کہ “بھائی میں نے آج صبح ہی ایک بائیک والے کا ٹائر ٹھیک کیا۔ اس میں بارہ سوراخ تھے۔ اِس وجہ سے بارہ ٹانکے لگانے پڑے ٹیوب میں۔  مجھے معلوم ہے کہ تمھارے والے میں بھی دس سوراخ تو ضرور ہوں گے  اور ابھی میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ بارہ ٹانکے لگاتا پھروں”۔  ہم حیران و پریشان اسے دیکھنے لگے، اور پھر  بات ہماری سمجھ میں آگئی۔  اب بجائے اِس کے کہ بندے کہ پاؤں پڑجاتے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ میں اُس کے پاؤں پکڑنے ہی والا تھا کہ کزن نے اُسے کہا   بھائی ہم بھی ایسے ہی ضد نہیں کر رہے ایک ایکسیڈنٹ ہوا ہے ہمارے بھانجے کا جس کی خاطر ہمیں شہر پہنچنا بہت ضروری ہے۔ پنکچر والا بولا بھائی کیوں خود کو ہلکان کر رہے ہو میں نے گھر جانا ہے بیس منٹ باقی ہیں افطار ہونے میں۔ اب کی بار  اُس کے اِس جواب نے میرے اندر کا پٹھان خون یک دم گرم سیسہ کر دیا۔  میں اُس پر جھپٹنے ہی والا تھا کہ وہ کہنے لگا۔۔

” تم جیسوں کا کوئی گھر بار تو ہوتا نہیں بائیک لیا اور نکلے آوارہ گردی کرنے جلدی لاؤ موٹر سائیکل اندر”۔

وہ تو اچھا ہوا کہ میرے تیور اُس نے دیکھے نہیں ورنہ وہ بھی کافی ڈنڈ پھیل پٹھان تھا جو شاید ہماری خوب ٹھکائی اور مرمت کردیتا۔ میں نے شکر ادا کیا۔ میری  آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلملانے لگے اور  میں اُسے ایسے دیکھنے لگا جیسے میرے لئے کترینہ کیف کا رشتہ پکا کر آیا ہو۔ ہم جلدی سے موٹر سائیکل اندر لے کر آئے اور وہ بھلا مانس جلدی جلدی ٹائر کھولنے لگا۔ ٹائر کھلا تو ٹیوب نکلا اور جب ہوا بھر کر دیکھا تو ٹیوب میں  مسلسل کانٹا لگنے سے  گیارہ عدد سوراخ ہو چکے تھے۔ پنکچر والے نے غصیلے انداز میں ہماری طرف دیکھا۔  میں نے کمینے پن سے نگاہیں دوسری طرف پھیر لیں۔  قریباً بیس منٹ میں کام ختم ہوا۔  ہم اُسے سو سو کے دو نوٹ دینے لگے تو  اُس نے لینے سے انکار کیا اور صرف پچاس روپے لیے اور دوبارہ اپنی دکان میں موٹرسائیکل نہ  لانے کی دھمکی دے کر دکان بند کر کے  ایک طرف کو چل پڑا۔ ہم نے بائیک اسٹارٹ کی اور اپنے گھر کی راہ لی، لیکن اِس بار ہمارے موٹرسائیکل کے سیف گارڈوں سے خرگوش اور دیسی انڈے غائب تھے جو ہمارے بہت اسرار کرنے پر پنکچر والے درویش نے قبول کئے تھے۔  چرس البتہ ہم نے اُس کو نہیں دی کیونکہ چرس پینا بہت بری عادت ہے۔

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *